Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 22
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 22
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
واسم اور ایلف تاریخ طے کر کے گھر پہنچے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔!!! اور سب کو یہ خوشخبری سنائی تھی جو سب لوگ سن کر خوش ہوئے تھے۔۔۔۔ جبکہ قنائیرہ بھی اٹھ گئی تھی۔۔۔۔
اور باقی سب بھی گھر پہنچ گئے تھے۔۔۔۔۔
شانزے یہ سن کر ڈر سی گئی تھی کہ کہیں اس سے زاکوان کو چھین نہ لیا جائے۔۔۔۔!!! وہ چپ چاپ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی تھی شہزاد سے بات کرنے کے لیے۔۔۔۔!!!
اس نے جا کر اپنا فون پکڑا اور اس کا نمبر ملایا۔۔۔۔۔۔۔!! جیسے ہی اس نے فون اٹھایا وہ اس پر برس پڑی۔۔۔۔
”تمھیں کچھ کرنا بھی آتا ہے یا صرف باتیں بنانی آتی ہیں۔۔۔۔۔!!!“
اس کی۔یہ بات سن شہزاد کو شدید غصہ آیا تھا۔۔۔۔ ایک تو زاکوان نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا اور پھر اب یہ۔۔۔
”میڈم۔۔۔۔!! میں نے کیا تھا۔۔۔۔ پر آپ کے اس کزن نے یقین ہی نہیں کیا۔۔۔ بہت زیادہ یقین ہے اسے دعا پر۔۔۔۔۔!!!!“
یہ سنتے ہی شانزے کو شدید غصہ آیا تھا۔۔۔۔!! جبکہ وہ یقین نہیں کر رہی تھی کہ ان کا پلین فلاپ ہو گیا ہے۔۔۔۔!!
پھر شہزاد کاظمی نے اسے ساری بات تفصیل سے بتانا شروع کی۔۔۔ جب اس نے زاکوان کو فون کیا تھا۔۔۔۔۔!!!
(فون بند ہونے کے بعد جب وہ تصویریں زاکوان نے دیکھی تو وہ اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ یہ نقلی ہیں۔۔۔۔!!!! اس کے بعد شہزاد نے زاکوان کو فون کیا تھا۔۔۔۔۔)
(”ہاں تو دیکھی تصویریں۔۔۔۔!!“ فون اٹھاتے ہی دوسری طرف سے شہزاد نے مسکراتے ہوئے زاکوان سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔)
(”بکواس بند کر اپنی بے غیرت شخص۔۔۔۔۔!! میں جانتا ہوں کہ تو شہزاد کاظمی ہے اور یہ تصویریں بھی جھوٹی ہیں۔۔۔۔۔!! تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے میری بیوی سے بد گمان کرنے کی۔۔۔۔۔!! آج کے بعد اس کے آس پاس بھی بھٹکے تو جان گئی تمھاری۔۔۔۔۔۔!!!!“ غصے سے کہتے ہوئے شہزاد کو بنا کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر اس نے فون بند کردیا تھا۔۔۔۔۔!!!)
یہ سب سن کر شانزے پریشان سی ہو گئی تھی۔۔۔ کہ کہیں وہ یہ بازی ہار نہ جائے۔۔۔۔
زاکوان اٹھ کر کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔!!!! اور ہلکا سا مسکرا گیا تھا۔۔۔۔
”اب تک تو یہ خبر شہزاد کاظمی تک پہنچ ہی گئی ہونی ہے۔۔۔۔۔۔!!!!“
اس نے مسکراتے ہوئے سوچا تھا جیسے اس نے اس شادی کے لیے دعا کو منایا تھا۔۔۔۔۔!!!
(دعا نے غصے سے فون۔ بند کیا اور باہر کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔!!! لیکن جیسے ہی دو قدم چلی ایک بار پھر سے فون بجا۔۔۔ اس نے دیکھا تو اوپر نام لکھا ہوا تھا ”زاکوان“اس نے غصے سے فون اٹھایا تھا۔۔۔۔۔!!!!)
(”اب کیا ہے۔۔۔۔ ؟؟“دعا نے فون اٹھاتے ہی غصے سے اس سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔!!!)
(“ارے ارے۔۔۔۔!! اتنا غصہ۔۔۔۔ تمھیں نہیں پتہ کہ شوہر پر غصہ نہیں کرتے۔۔۔۔!!“ اس نے تھوڑا سا اپنا حق یاد دلایا تھا دعا کو۔۔۔۔)
(”نہیں۔۔۔۔۔اور ویسے بھی میں اس وقت مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔۔!!!!“ دعا نے زاکوان کی بات کو مکمل طور پر جھٹکتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔!!!)
(”دعا۔۔۔۔!! دیکھو پلیز شادی کے لیے ہاں کردو۔۔۔۔!!“ اب کی بار وہ سریس ہوا تھا اور اس نے ایک التجا کی تھی۔۔۔۔۔)
(”لیکن زاکوان کیوں۔۔۔۔۔؟؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟“ دعا نے اب اس سے جلد شادی کی وجہ معلوم کی تھی۔۔۔۔۔)
(”دعا۔۔۔۔!! میں تمھیں بتانا تو نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان کوئی بات راز بھی نہ رہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! تو میری بات غور سے سنو۔۔۔۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ”شہزاد کاظمی“ ہے۔۔۔۔ دیکھو دعا وہ مجھے تم سے بد گمان کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔۔۔۔ لیکن اس میں وہ نا کام ہو گیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ ضرور تمھیں اور مجھے ایک بار پھر سے الگ کرنے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔۔!!! اور اس میں وہ تمھیں بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔۔ جو میں کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔!! اسی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ ہم شادی کر لیں۔۔۔۔۔!!!“
زاکوان ۔ے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔۔ جبکہ دعا یہ سن کر ساکت رہ گئی تھی۔۔۔۔)
(”ٹھیک ہے ہم کر لیتے ہیں شادی۔۔۔۔!!!“دعا کا جواب سن کر وہ مسکرا سا گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اپنے بابا کو دیکھ کر دعا نے فون بند کیا تھا۔۔۔۔)
یہ سب سوچتے ہوئے زاکوان حال میں واپس آیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور مسکراتے ہوئے بستر پر لیٹتے ہوئے کنفرٹڑ اوڑھ کر سو گیا تھا۔۔۔۔۔!!!
رات کا گھپ اندھیرا تھا۔۔۔۔!! کمرے کی لائٹ آف تھی۔۔۔۔۔!!! چاند کی چاندنی اس کے چہرے پر جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کا سفید رنگ کا چہرہ چاند کی چاندنی میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
