Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 27
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 27
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
میرب کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔آج سنڈے تھا۔۔۔۔ وہ مکمل طور پر فری تھی۔۔۔۔ کوئی کام نہ تھا۔۔۔ بابا بھی سوئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
گھر کا دروازہ کھڑکا تھا۔۔۔ جب ہی وہ اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ اس نے پوچھا کہ کون ہے۔۔۔۔؟؟
لیکن باہر کی طرف سے کوئی بھی جواب موصول نہ ہوا تھا۔۔۔۔۔!! لیکن دو سے تین دفعہ بیل بجی چکی تھی۔۔۔۔۔ اس نے چڑھ کر دروازہ کھولا تھا۔۔۔ کہ کہیں اس کے بابا ہی نہ اٹھ جائیں۔۔۔۔
”بولو کون ہ۔۔۔۔؟؟“
اس نے اتنا ہی کہا تھا دروازہ کھول کر لیکن سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ مکمل طور پر حیران رہ گئی تھی۔۔۔۔ اسے اس شخص کی بالکل بھی توقع نہ تھی۔۔۔۔
”بھائی۔۔۔۔۔!!! آپ یہاں۔۔۔۔“
میرب نے سامنے کھڑے اپنے بھائی کو دیکھا تھا ”شاہزیب“ نام تھا اس کا۔۔۔۔ میرب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
”جی بالکل میں۔۔۔۔!!“
اس کی خوشی کو دیکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔
”بھائی کیسے ہیں آپ۔۔۔۔۔؟؟؟“
اس نے مسکرا کر اس سے سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ شاہزیب بھی مسکرا گیا تھا۔۔۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔!! کیا ساری باتیں یہی باہر کی کرو گی۔۔۔۔۔!!!“
اس نے مسکراتے ہوئے میرب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
”او سوری۔۔۔ اندر آنے کا تو میں نے کہا ہی نہیں۔۔۔۔۔!! آئیں نہ اندر۔۔۔!!“
راستے سے پیچھے ہٹتے ہوئے اس نے شاہزیب کو اندر داخل ہونے کا کہا تھا۔۔۔۔
”بابا۔۔۔ کہاں ہیں۔۔۔۔؟؟”
اندر آکر شاہزیب نے میرب سے سوال پوچھا تھا۔۔۔۔!!
”بابا۔۔۔ سوئیں ہوئے ہیں۔۔۔۔۔!! کچھ دیر تک آٹھ جائیں گے۔۔۔۔ آپ بھی اگر ریسٹ کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں۔۔۔۔!!“
میرب نے اس کا سوال سن کر جواب دینے کے ساتھ ساتھ اسے آرام کرنے کی بھی تاکید کی تھی۔۔۔۔
”ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!! جب بابا اٹھ گئے تو مجھے بتا دینا۔۔۔۔!!“
یہ کہتے ہوئے وہ صوفے سے اٹھتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔
”بھائی اگر کہیں تو چائے بنا دو۔۔۔۔۔!!“
میرب نے شاہزیب سے سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ اس نے رک کر واں دیا تھا۔۔۔۔
”ہاں بنا لو چائے میرب۔۔۔۔!! پھر بیٹھ کر باتیں کرتے میں میں بھی فریش ہو جاتا ہو۔۔۔۔۔!!!“
اس نے کہا تو میرب مسکرا سی گئی۔۔۔۔
”جی ٹھیک ہے بھائی۔۔۔”
آج زاکوان اور دعا کا نکاح تھا۔۔۔ لیکن دو دل اور بھی جڑنے جا رہے تھے۔۔۔۔۔!!
زونی کمرے میں شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔ بال سنوار رہی تھی۔۔۔۔ جب ہی سالار کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
اس دن کے بعد وہ بہت کم گھر آیا تھا۔۔۔ مصروفیات کافی زیادہ تھی۔۔۔۔۔۔ لیکن اس دن جو باتیں اس نے زونی سے کی تھی۔۔۔ زونی کو کچھ معلوم نہ تھا۔۔۔۔
”زونی مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔۔۔!!!“
اس کی بات سن کر زونی اس کی طرف مڑی تھی۔۔۔۔ جبکہ سالار نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے اپنی بات کرنا شروع کی تھی۔۔۔۔
”میں نہیں جانتا کہ کیسے کب۔۔۔۔؟؟ کس وقت ؟؟ کیوں۔۔۔۔؟؟ لیکن میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔!!
تم دور ہوتی ہو نہ تو میرا سانس رکنے لگتا ہے۔۔۔۔ تم میرے دل میں بسنے لگی ہو۔۔۔۔ میرے جینے کی وجہ بن گئی ہو تم زونی سالار خان۔۔۔
تمھارے بغیر میں جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ اس دن جب تمھیں گولی۔لگی تھی۔۔۔۔ تو میں بہت گھبرا سا گیا تھا۔۔۔۔ مجھے لگا میں نے تمھیں کھو دیا ہے۔۔۔
میرا سانس رکنے کو تھا۔۔۔۔ اگر اس دن تمھیں کچھ ہو تمھیں کچھ ہو جاتا تو شائید ہی میں زندہ رہتا۔۔۔۔ میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں۔۔۔۔!!
اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان جو کنٹریکٹ میرج ہے اسے ختم کرکے میں ایک نئے رشتے کی شروعات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔!!
مجھے امید ہے کہ اس میں تم میرا ساتھ دو گی۔۔۔۔۔!!“
زونی اس کی باتیں بہت غور سے سن رہی تھی۔۔۔۔۔ شائید وہ یہی سننا چاہتی تھی۔۔۔۔
کیونکہ وہ بھی بہت محبت کرتی تھی اس سے۔۔۔۔۔ اتنی محبت ہونے لگی تھی زونی کو سالار سے جتنی اس نے کبھی بھی کسی سے بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔!!!!
”حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے بھی آپ اچ۔۔ اچھے لگنے لگے ہیں۔۔۔۔نکاح کے رشتے میں اتنی طاقت ہوتی ہے جو دو دلوں کو جوڑ دیتی ہے۔۔۔۔۔ چاہے وہ ایک دوسرے سے کتنے ہی دور کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔
میں بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔۔!! تو آپ کہ پیشکش قبول کرتی ہوں میں۔۔۔۔ اور اس کنٹریکٹ میرج کو حقیقت کی شادی میں بدل دیتے ہیں ہم۔۔۔۔!!“
یہ سنتے ہی وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ یہی سننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔!!
”میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ تمھارا بہت خیال رکھو گا۔۔۔۔ اور کبھی بھی تمھاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دو گا۔۔۔۔۔!!“
اس کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے سالار نے اس سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ سالار کے ہونٹوں کے لمس کو اپنے ہاتھوں پر محسوس کرتے ہوئے زونی کا دل زور زور سے دھڑکا تھا۔۔۔۔۔!!
”میں چاہتا ہوں کہ تم میرے اتنے قریب آجاؤ۔۔۔ میرے اتنا قریب کہ کبھی چاہ کر بھی دور نہ جا سکو۔۔۔۔!! میں تمھیں اپنے اندر قید کر لو۔۔۔۔۔!!“
یہ کہتے ہوئے سالار بے ساختہ اس کے لبوں پر جھکا تھا اور اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے گیا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ زونی کو اس کی بالکل بھی امید نہ تھی۔۔۔۔ زونی کا چہرہ مکمل طور پر سرخ ہوچکا تھا۔۔۔۔ چند لمحوں کے بعد جب سالار کو محسوس ہوا کہ زونی کو سانس لینے میں دشواری محسوس ہورہی ہے تو وہ آہستگی سے اس کے لبوں کو آزاد کرتا پیچھے ہوا تھا۔۔۔
”تمھاری لپ سٹک کا ٹیسٹ بہت اچھا ہے۔۔۔۔یہی بڑینڈ یوز کیا کرو۔۔۔ کونسا بینڈس ہے یہ۔۔۔۔؟؟“
وہ جو پہلے ہی اس کے اس عمل سے مکمل طور پر شرما چکی تھی۔۔۔۔۔ سالار کی یہ بات سن کر وہ اور شرمائی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ اسے اپنے سینے میں بھیج گیا تھا۔۔۔۔۔
آج ان کی رنجشیں ختم ہوگئی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں جانتے تھے وہ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔۔۔ اب انھیں کوئی الگ نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اب انھیں راہ محبت پر ایک ساتھ چلنا تھا۔۔۔۔۔!!
”یہ کیا حرکت کی تھی تم نے۔۔۔۔؟؟ اور اس کے بعد ایک ماہ کے بعد کہاں غائب رہے ہو تم۔۔۔۔ کچھ اندازہ ہے کہ میں کتنا پریشان ہوگیا تھی تمھارے لیے۔۔۔۔!!!“
جواد نے سامنے کھڑے دارم سے سوال کیا تھا۔۔۔۔ جو ایک ماہ بعد گھر کی طرف آیا تھا۔۔۔
ناجانے وہ ایک ماہ سے کہاں تھا۔۔۔۔؟؟؟ نا ہی اس نے کسی کو بتایا تھا۔۔۔۔ اور نہ ہی وہ بتانے والا تھا۔۔۔۔
امجد نے بھی کئی بار کوشش کی تھی اسے ڈھونڈنے کی لیکن امجد کو کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔۔۔۔
”ڈیڈ۔۔۔۔!! وہ میں کچھ عرصے کے لیے یہاں سے دور گیا تھا۔۔۔ خود کو ریلیکس کرنے کے لیے۔۔۔۔۔!!!“
اس کی بات سن کر جواد کو مزید اس پر غصہ آیا تھا۔۔۔۔!!
”اس لڑکی کو گولی ماری کے۔۔۔!! یہاں سے تم چلے گئے۔۔۔۔!! بولو۔۔۔!!!“
زونی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا۔۔۔۔
”یہی تو دکھ ہے مجھے کہ جس لڑکی کو میں اتنے سالوں سے چاہا جس کا میں نے اتنی دیر سے انتظار کیا۔۔۔ اس کو میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے مار دیا۔۔۔۔!!“
اس نے اپنے ہاتھوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ انھیں ہاتھوں سے اس نے زونی کو گولی ماری تھی۔۔۔۔!!!
”سر۔۔۔۔!! وہ لڑکی زندہ ہے۔۔۔ مری نہیں ہے۔۔۔۔!!!“
امجد نے اس کی بات سنتے ہوئے نہایت ہی ادب سے کہا تھا۔۔۔۔۔ جس پر دارم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔۔۔۔
”کیا تم سچ کہہ رہے ہو زونی زندہ ہے۔۔۔۔!!!“
اس نے بے یقینی سے ایک بار پھر سے امجد سے پوچھا تھا۔۔۔۔ اسے اپنے ہی کانوں سے سنی ہوئی سچ نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔
”جی سر بالکل۔۔۔۔۔!!“
یہ سنتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
”تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ اب تو اسے میرا ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔۔۔۔!!“
وہ یہ کہتا ہوا آگے کی طرف بڑھا تھا جیسے جواد نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
”چٹاخ۔۔۔۔۔!!“
اس نے ایک زوردار تھپڑ مارا تھا اس کے چہرے پر۔۔۔
”خبردار جو تو نے ایک اور قدم نکالا تو جان سے مار دو گا۔۔۔ پہلے انجام نہیں دیکھا تو نے۔۔۔۔!!“
جواد دارم پر چلایا تھا۔۔۔۔
”تو کیا کرو خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!!! “
وہ بھی قریباً چلایا ہی تھا جبکہ امجد انھیں بس دیکھی ہی جا رہا تھا۔۔۔۔!!!
”میں نے کب کہا کہ بیٹھ جا اس لڑکی کی بہت بڑی قیمت بھری ہے ہم نے۔۔۔۔ یوں جانے تو نہیں نہ دے سکتے ہیں ہم۔۔۔۔!!! اس لیے جلدبازی سے نہیں بلکہ عقل سے کام لینا چاہئیے۔۔۔ ہمیں۔۔۔۔!!“
جواد نے اسے عقل سے کام لینے کا کہا تھا جبکہ وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اور آخر میں اس کی بات سمجھ بھی گیا تھا۔۔۔۔!!
”ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں کر لیتا ہوں انتظار پر مجھے زونی کسی بھی قیمت پر چاہئیے۔۔۔ طلاق یافتہ یا پھر بیوہ۔۔۔۔!! کسی بھی حال میں۔۔۔۔۔“
صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔۔
”ٹھیک ہے۔۔۔ وہ لڑکی تمھیں مل جائے گی۔۔۔۔!!“
جواد نے اس کی بات سن کر خامی بھری تھی۔۔۔۔۔ اور اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔
”امجد۔۔۔۔!! زونی پر پل پل نظر رکھ۔۔۔۔!! مجھے پل پل کی رپورٹس چاہئیے۔۔۔۔۔!!“
دارم نے امجد کو ایک حکم دیا تھا۔۔۔۔!! جس پر اس نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔۔!!
”اگئی میڈم صاحبہ۔۔۔۔۔ آفس سے۔۔۔ ویسے میں پوچھ سکتا ہو کہ میڈم صاحبہ کیوں جلدی آئی ہیں گھر۔۔۔۔؟؟“
مہریں جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی سامنے سے ہی وہ شیطان نازل ہوا تھا۔۔۔۔
” میں جہاں بھی جاؤ۔۔۔۔۔ تمھیں اس سے کیا۔۔۔۔۔؟؟؟“
مہریں نے بھی اسے جواب دیا تھا۔۔۔۔ جبکہ سامنے سے ہی اس کی چچی آئی تھی۔۔۔۔
”مہرین۔۔۔۔۔!! تیری سمجھ میں نہیں آتا کہ تجھے کتنی ہی بار کہا ہے کہ افنان سے اس رویے میں بات نے کیا کر۔۔۔ تیرے بیجے میں بات نہیں پڑتی۔۔۔۔!! وہ تیرا ہونے والا شوہر ہے۔۔۔“
اس کی چچی نیلم اس پر چلائی تھی۔۔۔۔!!
”نہیں۔۔۔۔ نہیں نا ہی وہ میرا شوہر ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔۔۔ یہ آپ لوگوں کی بھول ہے کہ میں اس سے شادی کرو گی۔۔۔۔!!!“
وہ غصے سے کہتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔
”نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔۔!! ارے بھئی کان پک گئے ہیں میرے یہ سن سن کے۔۔۔۔ محترمہ کوئی راجا نہیں آئے گا تمھیں بیانے۔۔۔۔۔ افنان سے ہی شادی کرنی ہوگی تجھے میڈم صاحبہ۔۔۔۔!!!“
اسے جاتا ہوا دیکھ کر اس کی چچی نیلم نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔
”اماں چھوڑ دے ابھی کچھ وقت لگے گا نیا نیا رشتہ طہ ہوا ہے۔۔۔ سمجھ بھی جا شادی تو اس کی مجھ سے ہی ہوگی۔۔۔۔!!“
اس کی بات سنتے ہوئے افنان نے مسکرا کر نیلم کو تسلی دی تھی۔۔۔۔۔!!
”ٹھیک کہہ رہا ہے تو آخر میں جو بھی ہو گا اس کی شادی تو تجھ سے ہی ہوگی نہ۔۔۔۔!!“
نیلم نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔۔۔۔۔!!
مہرین کے ماں باپ کی وفات اس کے بچپن میں ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔ اس کی والدہ تو اسے جنم دیتے ہوئے ہی وفات پاگئیں تھی۔۔۔۔ جبکہ کچھ ہی سالوں بعد باپ بھی وفات پا گئے تھے۔۔۔۔۔!!
اس کے شفیق چچا نے اس کی پرورش کی تھی۔۔۔۔ اس کا بہت خیال رکھا تھا۔۔۔!! لیکن دو سال پہلے وہ بھی وفات پاگئے تھے۔۔۔ اس کے چچا کا ایک بیٹا تھا افنان جو بہت ہی گھٹیا صفت کا تھا۔۔۔۔۔ مہریں مکمل طور پر جانتی تھی کہ اس کی صحبت کیسی ہے۔۔۔
پہلے وہ اپنے چچا کو بتاتی تو وہ اس کی خوب کلاس لگاتے تھے لیکن جب سے ان کی وفات ہوئی تو اس نے ایک سے دو دفعہ اپنی چچی کو بھی اس بارے میں بتایا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ اسے ہی دانٹ دیتی۔۔۔۔ آخر کار وہ اس معاملے میں خاموش ہو گئی تھی۔۔۔
کچھ ہی دنوں پہلے اس کی چچی نے اسے بتایا کہ اس کا رشتہ انھوں نے افنان سے طہ کردیا ہے۔۔۔۔!! وہ کیسے اس پراپڑٹی کی مسلک کو اپنے ہاتھوں کسی اور دی سکتی تھی۔۔۔ ؟؟
وہ ایک تیر سے دو شکار کرنے کے ارادے رکھتی تھی۔۔۔۔ پہلا کہ پراپڑٹی بھی اس کے پاس ہی رہے گی اور دوسرا یہ کہ وہ گھر ہوگی اور سارے کام اسی سے کروائے گی۔۔۔!!
لیکن اس معاملے میں مہرین نے اسے صاف انکار کردیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ اس کے ارادے سمجھتی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنی گری ہوئی حرکت کرنے کا بھی سوچ سکتی ہے۔۔۔۔!!!
لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں کون آنے والا ہے۔۔۔۔؟؟؟ جو اس سے کتنا ہی پیار کرے گا۔۔۔۔۔ وہ اس سے انجان تھی۔۔۔۔
