Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 35 (Last Episode)

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

میرب کی صبح آنکھ کھلی اور جیسے ہی اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو اس کے بالکل ساتھ ہی دارب لیٹا ہوا تھا۔ وہ اس کی آغوش میں تھی۔میرب نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔

اور آگے کی طرف بڑھی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے ماتھے پر پیار سے اپنے لب رکھتی وک گئی تھی۔ یہ سوچ کہ کہیں وہ جاگ نہ جائے۔وہ پیچھے ہٹیں تھی۔

”بیگم کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑتے۔“

جیسے ہی وہ تھوڑا سا پیچھے ہوئے تھی۔ اسی وقت دارب نے آنکھ کھولی تھی۔ اور دارب نے اسے اپنے حصر میں لیتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ جبکہ میرب یہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ وہ جاگ رہا ہے۔

“ک۔۔ کونسا ک۔۔ کام۔۔!!“

میرب کے الفاظ ہی لڑکھڑا گئے تھے۔ جب ہی دارب نے ایک زوردار قہقہ لگایا تھا۔

”مارننگ کس کا کام۔۔۔!!“

دارب نے آنکھ کو ونک کرتے ہوئے کہا تو وہ اس کی فرمائش سن کر ہی رہ گئی۔

”میں کوئی کس نہیں کرنے والے ہوں۔۔۔!!“

وہ اس کا حصار توڑتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی۔ لیکن دارب بھی اپنی بات کا ایک تھا۔ وہ جیسے ہی پیچھے ہوئی اس کو بیڈ کراؤن کے ساتھ لگاتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کے گرد حصار بنایا تھا۔

”جان جہاں کس نہ کی تو یہاں سے ہلنے بھی نہ دو گا۔ پھر چاہے سارے گھر والے ہی کیوں نہ آ جائے۔“

دارب کی دھمکی کا میرب پر کافی اثر ہوا تھا۔ جبکہ اس کی بات سن کر میرب کا چہرہ لال ہو گیا تھا۔ پھر آہستگی سے اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے لگایا تھا۔ میرب کا نرم وملائم لمس اپنے گالوں پر محسوس کرتے ہوئے وہ مسکرا گیا تھا۔ میرب بھی مسکرائی تھی۔ جبکہ اگلے ہی لمحے وہ اس کی مسکراہٹ کو اپنے لبوں میں چن گیا تھا۔

ولیمے کے رسومات کے بعد وہ سب لوگ گھر میں آئے تھے۔ جبکہ پورے فنکشن ہر کسی نے بھی شانزے کو نہ بلایا تھا۔ جبکہ دانیال بھی اس سے بہت زیادہ خفا تھا۔

شانزے کمرے میں آئی تھی۔ اور شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک وقت تھا جب وہ بہت زیادہ چہکتی تھی۔ لیکن اب اس نے خود کو شیشے میں دیکھا تو اپنا آپ بہت ویران نظر آیا تھا۔

اکیلا پن محسوس ہوا تھا۔ وہ شیشے میں خود کو تکتی جا رہی تھی۔ کہ اس نے کتنے گناہ کیے تھے جس کی وجہ سے آج کوئی اسے معاف کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔

”میں کتنی بری ہوں۔ زاکوان میرا پیار نہیں بلکہ میری ضد بن گیا تھا۔ اور میں نے کتنا پاگل پن دکھایا۔ اس معاملے میں نے دعا کی جان لینی تک کی کوشش کی۔ جبکہ وہ یہ جانتی بھی نہیں تھی کہ میں زاکوان کو پسند کرتی ہوں تو پھر وہ قصوروار کیسے ہوئی۔ میں نے کتنا غلط کیا اس کے ساتھ۔ “

وہ جیسے جیسے بول رہی تھی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ زمین میں بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔ کیا اسے معافی ملے گی۔؟

انائیرہ کمرے میں داخل ہوئی تو کمرے میں سوہم موجود نہیں تھا۔ اسے لگا تھا کہ کمرے میں ہوگا لیکن وہ وہاں پر نہیں تھا۔ وہ کپڑے لیے واش روم میں چلی گئی تھی۔

آج وہ بہت تھک گئی تھی۔ اس لیے سونا چاہتی تھی۔ وہ کپڑے بدل کر کمرے میں جب واپس آئی تو وہ تب بھی کمرے میں نہیں تھا۔ انائیرہ اس کے اس رویے سے بہت بے چین ہورہی تھی۔

ویسے تو وہ کبھی بھی اس کے لیے اتنی بے چین نہیں ہوئی تھی۔ لیکن آج وہ اس کی غیر موجودگی میں بہت پریشان ہو رہی تھی۔ وہ کافی تھک گئی تھی۔ اور صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔

اور اس کی آنکھ کب لگ گئی اسے خود بھی معلوم نہ تھا۔ رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔ وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو کمرے کی لائٹس چل رہی تھی۔

لیکن جیسے ہی اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی وہ حسن پری صوفے پر لیٹی ہوئی سو رہی تھی۔ اس کا انتظار کرتے ہوئے اور شائید تھک بھی گئی تھی۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

سوہم اس کی طرف بڑھا تھا۔ اور اس کے پاس جا کہ بیٹھا تھا۔ اس کے بال اس کے چہرے کی خوبصورتی کو چھپا رہے تھے۔ سوہم نے اپنے ہاتھ سے اس کے بالوں کو پیچھے کیا تھا۔

سوہم کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے انائیرہ فوراً اٹھی تھی۔ اس کو سامنے دیکھتے ہوئے انائیرہ نے اسے ایک گھوری سے نوازہ تھا۔

”کیوں گھور رہی ہو۔۔!!“

اس کو گھورتا ہوا دیکھ کر اس نے سوہم سے سوال کیا تھا۔

”میں نے آپ سے بات نہیں کرنی۔۔!!“

غصے سے کہتے ہوئے وہ رخ موڑ گئی تھی۔ جبکہ سوہم کو اس کے انداز پر شدید غصہ آیا تھا۔

”کیوں۔ کیوں بات نہیں کرنی ہے تم نے مجھ سے۔“

سوہم نے انائیرہ کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔ جبکہ وہ پھر سے رخ موڑ گئی تھی۔

”اچھا بتاؤ۔۔!! کہ میری مانو بلی کیوں پریشان ہے۔۔“

سوہم نے پیار سے اس کا منھ اپنی طرف کیا اور اس کے گالوں کو چومتے ہوئے اس سے سوال پوچھا تھا۔

”آپ کہاں تھے اتنی دیر سے میں آپ کا انتظار کر رہی تھی۔“

اس کی آنکھ سے ایک آنسو بہہ کر اس کی گیا تھا۔ سوہم اس کی ناراضگی پر مسکراتے ہوئے اس کے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چن گیا تھا۔

”بس اس لیے۔ میں ایک ضروری کام سے باہر گیا تھا۔اور میری بیوی انتظار کر رہی تھی۔ “

پہلے دو جملے اس نے مسکرا کر کہے تھے جبکہ آخری جملے پر اس نے آنکھ ونک کرتے ہوئے اپنا منھ اس کی گردن میں چھپایا اور اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا تھا۔

زونی کمرے میں اپنا میک اتار رہی تھی۔ جب ہی سالار کمرے میں داخل ہوا تھا۔ جب سالار نے اسے دیکھا تو منھ بسورتے ہوئے اس کی طرف بڑھا اور اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا اور اپنی ٹھوڑی اس کے کندھے پر ٹکائی۔

”ڈارلنگ۔۔ اتنی جلدی چینج کرلیا میں نے تو تمھیں ابھی جی بھر کر دیکھا بھی نہیں۔ “

اس نے منھ بناتے ہوئے کہا تو زونی اسے گھور کر رہ گئی تھی۔

”پورا دن آپ مجھے ہی دیکھتے رہیں آپ کا جی نہیں بھرہا۔ “

زونینے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا تو سالار مسکرا گیا۔۔

”دل جانم۔۔!! تمھیں میں جتنا بھی دیکھو میرا جی ہی نہیں بھرتا۔۔!!“

سالار مسکرا کر کہتا ہوا اس کا رخ اپنی طرف کرتا اس کے لبوں پر جھکا تھا۔ جبکہ زونی یہ دیکھ حیران رہ گئی تھی۔

”اس لپ اسٹک کا ٹیسٹ اچھا ہے۔۔۔”

سالار نے شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ تو زونی کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔

دعا اور زاکوان اس وقت کمرے میں موجود تھے۔ دعا فریش ہوکر ابھی ہی باہر نکلی تھی۔ زاکوان اس سے ناراض تھا کیونکہ پورا دن دعا کاموں میں مصروف رہی تھی۔ اور پورے دن میں صرف صبح اس نے جب اسے اٹھایا صرف اس وقت ہی بلایا تھا۔

”زاکوان۔۔۔!!“

دعا نے زاکوان کو بلایا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔ اس نے ایک بار سے اسے بلایا تھا۔ لیکن پھر جواب ندارد۔

وہ بھی غصے سے منھ بناتی ہوئی کنفڑٹڑ میں منھ چھپاتے ہوئے سو گئی تھی۔

زاکوان کو اس کے اس عمل پر شدید غصہ آیا تھا۔ اس نے فون کو سائیڈ پر رکھا تھا۔ اور کنفڑڑ خود پر لیا تھا۔ جب کہ دعا نے پھر بھی کوئی حرکت نہیں کی تھی۔

کچھ ہی لمحات میں اسے اپنے چہرے پر کسی کا لمس محسوس ہوا تھا۔ جبکہ دعا نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ زاکوان کو ایک پھر سے غصہ چڑھا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف کیا اور اس کے لبوں پر جھکا تھا۔

”ناراض میں ہو اور نکھرے تم دکھا رہی ہو۔ “

آہستگی سے اس کے لبوں کو آزادی بخشتے ہوئے اس نے کہا تو اس نے منھ بنایا۔

”ہاں تو میں نے بلایا نا۔ “

اس نے آہستگی اور اس قدر نرمی سے کہا کہ وہ اس کی معصومیت پر مسکرا گیا تھا۔ جبکہ اگلے ہی لمحے اس کے گال کو چومتے ہوئے وہ اس پر جھکا تھا۔

حسن اس وقت کمرے میں داخل ہوا تو وقت ساڑھے گیارہ کا تھا۔ کمرہ سارا تاریک میں ڈوبا ہوا تھا۔

جس میں سے مہریں کا چہرہ صاف نظر آرہا تھا۔ مہرین کو دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ سونے کا ناٹک کررہی تھی۔ حسن اس کی سونے کی ناکام کوششوں کو دیکھ کر مسکرا گیا تھا۔

”اگر نیند نہیں آ رہی تو کیوں ناٹک کر رہی ہو۔۔۔؟“

اس کی بھاری آواز جیسے ہی کمرے میں گونجی تھی مہرین کی ایکٹنگ ہوا ہوگئی تھی۔

”میں سو نہیں رہی۔“

کنفڑٹر سے باہر نکلتے ہوئے اس کے سامنے کھڑے ہوتے اس نے نرمی سے کہا تھا۔۔

”میرا انتظار کر رہی ہو جانم۔۔“

دوبدہ جواب دیا گیا تو اس کو چپ لگ گئی۔

”ن۔ نہیں۔ ایسا ک۔ کچھ بھی ن۔ نہیں ہے۔۔“

اس کی جواب سنتے ہی اس نے لڑکھڑاتے الفاظ سے اس سے کہا تھا۔ جبکہ اس نے آبرو آچکا کر اسے دیکھا تھا۔

”اچھا چلو کبھی نہ کبھی تو کرو گی ہی نہ۔۔ “

حسن نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب کر کہا تو وہ اس کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے وہ بوکھلا سی گئی تھی۔ جبکہ حسن مسکرا گیا تھا۔ وہ اس کی گرفت سے نکلنے کے لیے مچل رہی تھی۔ پر اس کی گرفت بہت سخت تھی۔ جس کی وجہ سے وہ نکل ہی نہ پائی اور اگلے ہی لمحے وہ اس کے لبوں پر جھکا گیا تھا۔ اور وہ اس کے پیار میں گھلتی اپنا آپ اسے سونپ گئی تھی۔

~ کچھ عرصہ بعد ~

وہ سب ہوسپٹل کے کمرے کے سامنے کھڑے تھے۔ سوہم پریشان سے کھڑا تھا۔ کیونکہ آپریشن تھیٹر میں انائیرہ تھی۔ آج اس کا آپریشن تھا۔ سوہم خوش بھی اور تھوڑا سا خوف بھی۔ کیونکہ انائیرہ ٹھوڑی چھوٹی تھی اس میں پریگنینسی اور پھر ٹوینز۔ اس کا دل زور و شور سے ڈھڑک رہا تھا۔ وہ سب وہی تھے کہ جب ڈاکٹر چہرے پر مسکان لیے آپریشن تھیٹر سے باہر نکلی۔

”مبارک ہو۔۔ اللہ نے آپ کو ایک بیٹے اور بیٹی سے نوازہ۔“

یہ خبر سنتے ہی سب کے چہرے مسکراہٹ سے کھل اٹھے تھے۔ جبکہ سوہم ایک بار مسکرایا اور پھر اسے سب سے پہلا خیال انائیرہ کا آیا تھا۔

”ڈاکٹر۔۔ میری وائف۔۔ “

اس نے داکٹر کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ جب کہ ڈاکٹر مسکرا گئی تھی۔

”شی از فائن۔ بلکہ بچے اور ماں دونوں ہی بالکل ٹھیک ہیں۔۔“

ڈاکٹر نے کہا تو سب مسکرا گئے تھے۔ سوہم ڈاکٹر سے پوچھتے ہوئے انائیرہ کے پاس کمرے میں گیا تھا۔

زونی کا بھی ایک بیٹا تھا۔ جبکہ مہرین کنسیو کر چکی تھی۔ زاکوان کو بھی اللہ نے بیٹے سے نوازہ تھا۔ جبکہ دارب اور میرب کے گھر بھی کچھ دن پہلے ہی ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ جبکہ شانزے نے بھی سب سے معافی مانگ لی تھی۔ اور دعا نے اسے معاف کردیا تھا اور جب دعا نے معاف کردیا تھا تو زاکوان اور باقی سب کیسے نہ معاف کرتے۔۔؟ سب ٹھیک ہوگیا تھا۔ سب خوش تھے۔ کوئی غمی باقی نہ رہی تھی۔ لیکن کیایہ واقعی حقیقت تھی۔

~ حتم شد ❤️~

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *