Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 26
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 26
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
دوپٹہ سر پر رکھتے ہوئے اس نے اپنی آخری تیاری بھی مکمل کی تھی۔۔۔۔۔ وہ بہت ہی حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
جیسے کوئی آسمان سے اتری ہوئی پری تھی۔۔۔۔۔ شانزے اور ایلف اسے پارلر سے پک کرنے آئی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ پارلر سے نکلتے ہوئے ان کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔!!! جبکہ شانزے پورے راستے میں ہی اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کہ ایسا کیا ہے اس لڑکی میں جو زاکوان کو وہ لڑکی پسند آئی ہے۔۔۔۔۔!!!!
کچھ ہی لمحوں میں گھر آگیا تھا۔۔۔۔۔ وہ اترتے ہوئے اندر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ اور پھر دعا کو اس کے کمرے میں بیٹھایا گیا تھا۔۔۔
کچھ ہی لمحوں میں کچھ لڑکیاں آئی تھی۔۔۔۔۔ اس کے پاس تا کہ اسے مہندی کی رسومات کے لیے باہر لے جایا جا سکے۔۔۔۔
وہ بھی ان کے ساتھ چلتے ہوئے قدم بڑھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ جبکہ کب گارڈن آگیا تھا اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا۔۔۔۔۔
مہندی کے لیے سارے انتظامات گھر کے گارڈن میں ہی کیے گئے تھے۔۔۔۔۔!! سامنے ہی زاکوان اس حسن کی ملکہ کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ دعا کو دیکھتے ہوئے زاکوان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ زاکوان پلک جھپکنا ہی بھول گیا تھا۔۔۔۔
وہ بہت شدت سے چاہتا تھا اسے اور اس کا ثبوت وہ کئی بار دے چکا تھا۔۔۔۔۔!! حسن اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔۔۔ جبکہ شانزے نے انھیں ترچھی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
”منا کو منا لو۔۔۔۔!! جتنی خوشی منانی ہے منا لو زاکوان شاہ۔۔۔۔ کیونکہ اب تم اور تمھاری محبوبہ دونوں ہی کچھ دن کے مہمان ہو اس دنیا میں۔۔۔۔۔!!“
شانزے نے دل میں سوچتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
جبکہ اب وہ سٹیج کے بہت قریب تھی۔۔۔۔ زاکوان اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ یہ عمل بھی شانزے کو اندر تک جلا گیا تھا۔۔۔۔
اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے ساتھ سٹیج پر کھڑا کرتے ہوئے پھر وہ دونوں نیچے پڑے صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔
”نائیس۔۔۔۔!!!“
اسے اپنے ساتھ بیٹھاتے ہوئے زاکوان نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں مہندی کی رسمیں شروع کی گئی تھی۔۔۔۔ ایک ایک کر کے سب نے مہندی کی رسومات ادا کی تھی۔۔۔۔۔۔۔
انائیرہ اور دعا میں بھی کافی دوستی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ جبکہ حسن اس بات سے انجان تھا کہ مہرین دعا کی دوست ہے۔۔۔۔۔!!!
وہ فون کو یوز کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا جب ہی اس کی نظروں کے سامنے سے وہ حسین بلا گزری تھی۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر نیچے کرتے ہوئے دوبارہ فورا نظریں اٹھائی تھی۔۔۔۔۔
”یہ۔۔۔۔!! یہ۔۔۔!! تو وہی ہے نا ہاں مہرین۔۔۔۔۔!!!“
حسن کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی تھی۔۔۔۔۔ اس کے دل نے بے ساختہ سا کہا تھا۔۔۔۔۔۔!!
”ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔۔۔!!!“
اس نے اپنے قدم اس کی۔طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ مڑتی ہوئی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
”کیا آپ نے مجھے کہا۔۔۔۔؟؟“
مہرین نے سوالیہ سے انداز میں اس سے کہا تھا۔۔۔۔۔!!
”جی آپ ہی۔۔۔۔!! آپ سوہم اینڈ حسن کمپنی میں کام کرتی ہیں نا۔۔۔۔؟؟“
حسن نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے مہرین سے ایک اور سوال پوچھ لیا تھا۔۔۔۔
”جی۔۔۔۔ بالکل۔۔۔۔ لیکن آپ کون۔۔۔۔۔؟؟“
مہرین نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا اور حسن سے پوچھا کہ وہ کون ہے کیونکہ وہ اسے جانتی ہی نہیں تھی۔۔۔۔ اسے وہاں کام کرتے ہوئے چار ماہ ہوئے تھے۔۔۔۔ اور حسن دو سال بعد پاکستان واپس آیا تھا۔۔۔۔۔!!
”میں حسن شاہ۔۔۔۔!!!“
یہ سن کی کہ یہ وہی حسن ہے جو اس کمپنی کے پچاس فیصد شئیرز کا مالک ہے۔۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔!!
”آر یو سریس۔۔۔۔!!!“
مہرین کے منھ سے بے ساختہ سوال نکلا تھا۔۔۔۔
“یس آئم سریس۔۔۔۔!! ویسے آپ یہاں کیسے۔۔۔۔۔!!!“
حسن نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے ایک اور سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔!!
“میں یہاں اپنی دوست کی مہندی میں آئی ہوں۔۔۔۔!!“
اس نے دعا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ حسن یہ سن کر مسکرا گیا تھا۔۔۔۔
“اوو تو آپ ہماری ہونے والی بھابھی کی دوست ہیں۔۔۔۔!!“
حسن نے کہا تو وہ بھی مسکرا گئی۔۔۔۔!
”کیا میں اس سے مل سکتی ہوں۔۔۔!!“
وہ مزید اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ اس لیے جانے کا کہا۔۔۔۔
”جی جی بالکل۔۔۔۔۔!!!!“
حسن نے کہا تو وہ فوراً وہاں سے نکلی تھی جبکہ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔
وہ عام سی لڑکی اس کے دل میں گھر کر گئی تھی۔۔۔۔ جو آج سے ایک ماہ پہلے کی بات ہے۔۔۔۔!!
انائیرہ بھی کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔!! اس نے منگیا رنگ کا جوڑا پہنا تھا جو اس پر کافی جج رہا تھا۔۔۔
جبکہ سوہم کی نظریں بھی اس پر سے نہیں ہٹ رہی تھی۔۔۔۔۔
لیکن ایک بات اس کے خون کو اندر تک جلا رہی تھی۔۔۔۔ انائیرہ کا دوپٹہ اس کے سر سے نیچے تھا اور اس کے سوٹ سے اس کے بازو مکمل طور پر واضح ہورہے تھے۔۔۔۔
جبکہ اس کے سوٹ کے مکمل بازو تھے۔۔۔۔!! وہ کسی کام تحت گھر کے اندر گئی تھی۔۔۔۔ سوہم بھی اس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔۔
”آج کافی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔!!“
اندر پہنچتے ہی وہ کچن کی طرف بڑھی تھی جبکہ وہ بھی اس کے پیچھے آیا تھا۔۔۔ اور سوہم نے آتے ہی کہا تھا۔۔۔۔
”ش۔۔۔۔ ک۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔!!!“
اس کی آواز سنتے ہی انائیرہ۔کے الفاظ تک لڑکھڑا سے گئے تھے۔۔۔۔۔!!!
“شکریہ۔۔۔ نہیں اپنا دوپٹہ سیٹ کرو۔۔۔۔۔!!!“
اس کے پاس آتے ہوئے اس کا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔
”ک۔۔۔ کیا مطلب…..؟؟“
انائیرہ نے اس کی بات سن کر اس نے حیرانگی سے کہا تھا۔۔۔۔!!
”مطلب یہ کہ تمھارا دوپٹہ تمھارے سر سے نیچے ہے اسے سیٹ کرو۔۔۔!! میں نہیں چاہتا کہ تمھارے بالوں پر کسی بھی غیر مرد کی نظر پڑے۔۔۔۔۔!!!!“
اس کا دوپٹہ سیٹ کر کے سوہم نے اسے مطلب سمجھایا تھا۔۔۔۔
”ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!!!“
اس کی بات سن کر انائیرہ نے سر کو ہاں میں ہلاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
”اور نیکسٹ ایسا سوٹ بھی مت پہننا جس میں تمھارے بازو واضح ہوں۔۔۔۔۔!!“
وہ دوپٹے کو بارش بھی کرتے ہوئے تاکید کررہا تھا۔۔۔۔ جبکہ انائیرہ اب چڑ گئی تھی۔۔۔۔
”آپ ہوتے کون ہیں مجھ پر حکم چلانے والے۔۔۔۔۔!!!“
انائیرہ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
”تمھارا شوہر۔۔۔۔!!“
اس کی بات سنتے ہی سوہم نے ایک منٹ سے پہلے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا۔۔۔۔!!!
”میں آپ کی وہی بیوی ہو جس سے آپ کی شادی زبردستی ہوئی ہے۔۔۔۔!!“
انائیرہ نے اسے یاد کروایا تھا۔۔۔۔۔
”زبردستی ہو یا من پسند ہو تو تم میری بیوی ہی نہ۔۔۔۔۔!! میں نے جو کہا آئیندہ اس کا دھیان رکھنا بیٹر فار یو۔۔۔۔۔!!!“
یہ کہہ کر سوہم جا چکا تھا۔۔۔۔ جبکہ انائیرہ کچن میں جو کام کرنے آئی تھی وہ تو وہ بھول ہی گئی تھی۔۔۔۔۔!!!
کچھ ہی دیر بعد مہندی کا فنکشن ختم ہوا تھا۔۔۔۔۔!! سب نے خوب انجوائے کیا تھا۔۔۔۔
