Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 17
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 17
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
ناشتہ کرنے کے بعد انائیرہ کمرے میں آگئی تھی۔۔۔اور سوہم آفس چلا گیا تھا۔۔۔۔
وہ کمرے میں ہی موبائل بھول گئی تھی۔۔۔!! لیکن جب کمرے میں پہنچی تو فون زور و شور سے بج رہا تھا۔۔۔۔
وہ اس کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ اور دیکھا تو عالیہ کا تھا۔۔۔ اس نے اٹھایا اور سلام لیا۔۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔!! امی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔؟؟
سلام لینے کے بعد اس نے عالیہ سے حال پوچھا تھا۔۔۔۔
بیٹا۔۔۔۔!! میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تم سناؤ بیٹا کیسی ہو۔۔۔؟؟؟
وہ جانتی تھی کہ جو بھی کل ہوا اس کے بعد وہ ٹھیک تو نہیں ہو گی لیکن پھر بھی اس سے پوچھ لیا۔۔۔۔
جی امی۔۔۔۔!! میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔
اس نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس کی بات کا جواب دیا تھا۔۔۔۔ لیکن اگلی بات جو انھوں نے کہی تھی وہ اس کے ہوش اڑا گئی تھی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میری بات سنو۔۔۔ آج زاکوان کا نکاح ہے۔۔۔۔!!
یہ سنتے ہی اس کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا یہ ایک مزاق ہے یا حقیقت۔۔۔؟
کیا۔۔۔۔۔۔؟؟ امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔؟؟
اس نے نہایت ہی حیرانگی سے کہا تھا۔۔۔ اور وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!
اس کی حیرانگی و پریشانی کو دیکھتے ہوئے انھوں نے ساری حقیقت سے اسے بتا دی تھی۔۔۔۔۔۔!!
باقی سب سے بات ہوگئی ہے۔۔۔۔ سوہم کے ساتھ تم بھی آجاؤ۔۔۔۔ سادگی سے ہی نکاح ہوگا۔۔۔۔۔!!
عالیہ نے انائیرہ سے کہا تھا۔۔۔۔!! جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔
ساری تیاریاں مکمل ہوچکی تھی۔۔۔۔ مولوی صاحب بھی پہنچ چکے تھے۔۔۔۔!! نکاح میں صرف دونوں گھروں کے لوگ ہی شامل ہوئے تھے۔۔۔۔!!
سالار اور زونی نے بھی ہلکے رنگ کے جوڑے پہنے تھے۔۔۔۔ لیکن سالار سفید رنگ کے کرتے پاجامے میں بھی بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔
اور اگر کریں بات ہم زونی کی تو وہ بھی بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
سب لوگ پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔ نکاح شروع کروایا گیا تھا۔۔۔۔!!
سالار بنت ماہر خان آپ کا نکاح بعوض حق مہر شرعی زونی بنت اشفاق سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔؟؟
قبول ہے۔۔۔۔۔!!!
مولوی صاحب کے پوچھنے پر ایک نظر زونی پر ڈالتے ہوئے اس نے اس نکاح کو قبول کیا تھا۔۔۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔؟؟
قبول ہے۔۔۔۔!!
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔؟؟
قبول ہے۔۔۔!!
سالار کے بعد مولوی صاحب زونی سے متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔۔
زونی بنت اشفاق آپ کا نکاح بعوض حق مہر شرعی سالار بنت ماہر خان سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔!!
ق۔۔ قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔!!
ایک نظر سالار پر ڈالتے ہوئے جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے جھجک کر کہا تھا۔۔۔۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔؟؟
قبول ہے۔۔۔۔!!
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔؟؟
قبول ہے۔۔۔!!
نکاح نامے پر دستخط کے بعد دعا مانگی گئی تھی۔۔۔۔۔!! سالار کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کیونکہ اب کوئی بھی زونی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا تھا۔۔۔ کوئی اسے اس سے دور نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اب وہ اس کی شریک حیات تھی۔۔۔۔۔ کوئی چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا اب کچھ۔۔۔۔۔۔!!!
حسن آفس میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔ سوہم تو پہلے ہی آفس آگیا تھا۔۔۔۔ ویسے تو حسن زیادہ تر ملک سے باہر ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کمپنی میں سوہم اور زاکوان کے ساتھ اس کے بھی شئیر تھے۔۔۔۔۔۔۔ جو اس نے سوہم کے حوالے کیے ہوئے تھے۔۔۔۔ اور جب خود پاکستان آتا تو وہ خود انھیں سنبھال لیتا۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ایک لڑکی تیز رفتار میں اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!
آف آج تو لیٹ ہوگئی۔۔۔۔!!
اس کی یہ بات سن کر وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اندر کی طرف بھی بڑھا تھا۔۔۔۔
