Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 16

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt


کیا۔۔۔!! سالار بیٹا پر تم یہ کہہ کیا رہے ہو۔۔۔۔!! کہ تم زونی سے نکاح کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔!!

عالیہ نے سالار کی طرف حیرانگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ چپ چاپ سا بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔

امی۔۔۔!! میں کوئی اس سے پسند کی شادی نہیں کر رہا ہوں۔۔۔!! بلکہ اسے مجبوری ہی سمجھے۔۔۔۔ اگر اس لڑکی کی جان خطرے میں نہ ہوتی تو میں کبھی بھی ایسا نہ سوچتا۔۔۔!!

زاکوان نے اس سے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا۔۔۔

کیا مطلب ہے تمھارا کہ اس کی۔جان خطرے میں ہے۔۔۔؟؟

اس کی بات سن کر عالیہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ زونی کو کس سے خطرہ ہے۔۔۔۔!!

عالیہ کا یہ سوال سنتے ہی اس نے ساری بات عالیہ کو بتا دی تھی۔۔۔۔ جس پر عالیہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔ ماہر کو پہلے ہی سب کچھ بتا چکا تھا۔۔۔

اب عالیہ سے بات کرنا رہ گئی تھی اب وہ اس سے بات کرنے آیا تھا۔۔۔۔ اسے بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔۔۔۔ زونی ایک اچھی لڑکی تھی۔۔۔۔ پڑھیں لکھی۔۔۔۔

وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسی وقت کمرے میں ماہر آیا تھا۔۔۔۔۔!!

زاکوان بیٹا۔۔۔۔!! مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔ انھوں نے نہایت ہی عقیدت سے کہا تھا۔۔۔۔۔!!

جی بابا۔۔۔۔ بولیں میں سن رہا ہوں۔۔۔۔!!

دروازے کھلنے کی آواز پیچھے مڑ کر انھیں آتا دیکھ ان کی بات کو سن کر اس نے جواب دیا تھا۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔۔۔!! نکاح کوئی کھیل نہیں ہے۔۔۔۔!! بلکہ ایک پاک رشتہ ہے۔۔۔ اور تم اگر زونی سے نکاح کر رہے ہو تو اسے نبھانا بھی۔۔۔۔!!

ماہر نے اسے نہایت ہی پیار سے سمجھایا تھا۔۔۔۔ جس پر اس نے سر ہاں میں ہلا دیا اور عالیہ بھی مسکرا گئی تھی۔۔۔۔

دارب آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔۔۔۔ میرب تین دن سے آفس نہیں آئی تھی۔۔۔۔ اسے بہت ہی عجیب لگ رہا تھا۔۔۔۔

ناجانے کیوں وہ اس کے لیے پریشان سا تھا۔۔۔۔۔!! اسے اس کی فکر تھی کہ وہ اتنے دنوں سے کیوں نہیں آئی آفس۔۔۔۔۔!!

کیوں اسے اس کی اتنی پرواہ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔؟؟ یہ احساس اسے پہلے تو کبھی بھی نہیں ہوا۔۔۔۔ اس نے ایسا پہلے کبھی بھی کسی بھی لڑکی کے بارے میں نہیں سوچا۔۔۔۔

تو پھر میرب ہی کیوں۔۔۔؟؟؟ کیوں وہ اس کے بارے میں اتنا سوچ رہا ہے کیوں۔۔۔۔؟؟

وہ انھی سوچوں میں گم تھا۔۔۔۔ جب اسے سامنے آتی ہوئی وہ دیکھائی۔۔۔۔ پہلے تو اسے لگا کہ جیسے کوئی خواب ہے۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی دروازے کھٹکا تو وہ ہوش میں آیا اور اسے معلوم ہوا کہ وہ واقع ہی آج آفس آئی ہے۔۔۔۔۔!!

وہ آہستگی سے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ اور اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ دارب نے اسے بیٹھنے کا کہا تھا۔۔۔

مس میرب کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ اتنے دن چھٹی پر کیوں رہی۔۔۔۔؟ آپ جانتی ہیں نہ کہ آپ کی نیو جاب ہے۔۔۔۔۔ پھر بھی اتنی چھٹیاں۔۔۔!!

اسے سامنے بیٹھتا ہوا دیکھ کر دارب اس پر برہم ہوا تھا۔۔۔۔۔

سر میں جانتی ہوں۔۔۔۔ لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ میرے بابا کا آپریشن ہے۔۔۔۔!!

نظریں جھکائے ہی اس کی بات سن کر نظریں جھکائے ہوئے ہی میرب نے اسے جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

یہ۔سنتے ہی دارب کو یاد آیا تھا کہ کچھ دن پہلے اس کے بابا کا آپریشن تھا۔۔۔۔ اور اسی وجہ سے اس نے چھٹی لی تھی۔۔۔۔۔ لیکن آفس کے کاموں اور گھر کے مسئلے مسائل میں وہ یہ بھول گیا تھا۔۔۔۔

جی مجھے یاد ہے۔۔۔۔!! اب کیسے ہیں آپ کے بابا۔۔۔۔؟؟

اس کی بات سنتے ہی دارب نے اسے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ خاموش سی بیٹھی رہی اور کچھ دیر بعد جواب دیا۔۔۔۔

و۔۔۔ وہ ان کا آپریشن کامیاب نہیں ہوا۔۔۔۔

بہت ہمت کرکے میرب نے یہ بات اپنے منھ سے نکالی تھی۔۔۔۔ لیکن اس کا دل کٹ سا گیا تھا۔۔۔۔ وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔ جو اس کی زندگی میں ہو چکا تھا۔۔۔۔۔!!

او آئم سو سوری۔۔۔۔۔

یہ سنتے ہی اس نے نہایت ہی پریشانی و افسوس سے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ خاموش سی بیٹھی رہی تھی۔۔۔۔

اسی وجہ سے کچھ زیادہ چھٹیاں ہوگئی۔۔۔۔۔

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد انھوں نے چھٹیوں کی وجہ بتائی تھی۔۔۔۔

نونو۔۔۔!! اٹس اوکے۔۔۔۔ کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔!!

اس نے اس کی بات سن کر دارب نے فوراً جواب دیا تھا۔۔۔ جبکہ وہ سر ہاں میں ہلا گئی تھی۔۔۔۔۔

میں کام کر لیتی ہوں۔۔۔۔۔ کافی پینڈینگ ورک ہے۔۔۔۔!! یہ کہہ کر وہ اٹھ کر کمرے سے نکل گئی تھی۔۔۔۔

بات کرتے ہوئے میرب کی آنکھ سے ایک آنسو نکل گیا تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر دارب کو بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔

شائید وہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔!!! شائید وہ اسے چاہنے لگا تھا۔۔۔۔

سر۔۔۔۔۔!! وہ شخص کسی بھی کام کا نہیں ہے۔۔۔۔!! اسے یہ کام دیے ہوئے ہفتے سے زیادہ وقت ہوگیا ہے۔۔۔۔۔!!

لیکن اس نکمے کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ زونی اس شہر میں ہے بھی کہ نہیں۔۔۔۔!! لیکن میں نے اس کی سب معلومات نکلوا لی ہے۔۔۔۔!!

اپنی تعریف کرتے ہوئے اس نے یہ کہا تھا۔۔۔ جبکہ یہ سنتے ہی جواد اور اس کا بیٹا دارم خوش ہوئے تھے۔۔۔۔

یہ تو تم نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے۔۔۔۔!! چلو اب بتانا شروع کرو۔۔۔۔۔

یہ سنتے ہی دارم کے چہرے سے مسکراہٹ چھلکی تھی۔۔۔۔ جس کے لیے اس نے چھ سال انتظار کیا تھا۔۔۔ اب وہ انتظار مکمل ہونے جارہا تھا۔۔۔۔۔

لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ ہی لمحے باقی ہیں پھر وہ ہمیشہ کے لیے اسے کھو دے گا۔۔۔۔

سر۔۔۔۔!! زونی اس وقت ماہر خان کے بیٹے سالار خان کے گھر ہے۔۔۔۔۔!! ان کے گھر میں پناہ لی ہے اس نے۔۔۔۔۔!! اور ابھی ان کا وہاں سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔۔

ناجانے اسے ساری بات بتائی تھی۔۔۔ جب ہی جواد کو دو سال پہلے ہوا واقع یاد آیا تھا۔۔۔۔۔۔جبکہ دارم اس واقع سے نا واقف ہے۔۔۔

وہ وہاں سے اس لیے نہیں جا رہی ہے کیونکہ وہ سیدھا یہاں آئے گی۔۔۔۔۔!! دارم نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا تھا۔۔۔۔

سالار خان۔۔۔۔!! کیا تم نے یہی نام لیا ہے نہ ماجد۔۔۔؟؟

جواد نے سوالیہ نظروں سے ماجد کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔ جس پر دارم نے اسے دیکھا تھا۔۔۔

یس سر۔۔۔۔!!

اس کے کہنے پر جواد ہلکا سا مسکرا گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ دارم نے اپنے باپ گھورا تھا کہ اسے کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔؟؟؟

سالار خان سے تو پچھلا حساب بھی پورا کرنا ہے۔۔۔۔!!

انھوں نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔ جب کہ دارم نے اس سے اس جملے کے متعلق سوال کیا تھا۔۔۔۔

بابا۔۔۔۔۔ اس بات کا کیا مطلب ہے۔۔۔۔۔؟؟ کونسا حساب لینا ہے آپ نے زاکوان خان سے۔۔۔!!

دارم نے جواد کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔

دو سال پہلےکی بات ہے۔۔۔۔۔!! میرا ایک بہت ہی قیمتی آڈر تھا۔۔۔۔ !! جواد نے انھیں ساری بات بتانا شروع کی تھی۔۔۔۔ وہ لوگ ڈرگز سپلائی کا کام کرتے تھے۔۔۔۔۔!!

میرا وہ آڈر میرے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا۔۔۔۔ اس آدر سے ہم بہت پیسے کما سکتے تھے۔۔۔۔۔ لیکن راہ کی رکاوٹ بنا وہ سالار اس نے نہ صرف میرے آدمیوں کو مارا پیٹا۔۔۔

بلکہ اس نے میرے تینوں ٹڑکس جلا کر راکھ کر دیے۔۔۔۔۔!! اس وقت تو میں خاموش رہا۔۔۔۔ لیکن اب میرے پاس موقع بھی ہے اور وقت بھی اب اسے میں نہیں چھوڑو گا۔۔۔۔

اس کی بات سن کر کوئی بھی ایسا واقع درم کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔۔۔۔ بلکہ اس نے تو زاکوان کا نام پہلی بار سنا تھا۔۔۔۔۔۔!!

بابا۔۔۔!! لیکن ایسا کوئی بھی واقع میرے ذہن میں نہیں آتا۔۔۔۔!! دارم نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔۔۔۔ جس پر جواد نے اسے جواب دیا تھا۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔!! اس وقت تم کسی کام کی وجہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ میں نے تمھیں یہ بات بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔۔۔۔!!

یہ سنتے ہی دارم کو شدید غصہ آیا تھا۔۔۔۔

بابا۔۔۔۔!! کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا۔۔۔۔!! کہ آپ نے مجھے بتانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔؟؟ دارم اس پر برہم ہوا تھا۔۔۔

اب تو پتہ چل گیا ہے نہ۔۔۔۔؟؟ ایسے اوور ریکٹ مت کرو۔۔۔۔

جواد نے نہایت ہی لاپرواہی سے دارم کو کہا تھا۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے ایک دو دن تک اپنے آدمی بھیجنا اور اس لڑکی کو اٹھا لانا۔۔۔۔ جواد نے انھیں حکم دیا تھا۔۔۔۔۔ جس پر ماجد نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔۔

سر۔۔۔۔ اس کے خالو کا کیا کرے۔۔۔۔؟؟

جاتے جاتے ماجد رکا اور پیچھے مرتے ہی ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔۔

اسے مار کر کہیں پھینک دو۔۔۔۔۔!!

اس کی بات سنتے ہی دارم نے فوراً جواب دیا تھا۔۔۔۔۔!! جب کہ ماجد سر ہاں میں ہلاتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔

سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں پر پڑ رہی تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے انائیرہ نے سٹپٹا کر آنکھیں کھولی۔۔۔۔ اٹھ کر بیٹھی تو سامنے ہی وہ آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

رات کو روتے روتے وہ کب سو گئی اسے حود معلوم نہیں تھا۔۔۔۔ اور کب سوہم روم میں آیا تھا۔۔۔۔

اٹھ گئی تم۔۔۔۔!!! اس کا لہجہ نرم تھا جس کی امید بالکل بھی نہیں تھی اسے۔۔۔۔ کیونکہ جن حالات میں ان کا نکاح ہوا تھا۔۔۔۔ اس کے بعد تو اسے بالکل بھی اس رویے کی امید نہ تھی۔۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔!!

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے جواب دیا تھا۔۔۔۔ انائیرہ کے منھ سے تو جیسے الفاظ ہی نہیں نکل رہے تھے۔۔۔۔۔ اس نے با مشکل ہی یہ کہا تھا۔۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔ کپڑے چینج کر لو۔۔۔ پھر نیچے چلیں ناشتے کے لیے سب ہمارا ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔!!

اس نے اپنا کالر سیٹ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ چپ چاپ اٹھ کر اپنے کپڑے لیے واش روم کی طرف چلدی تھی۔۔۔۔

جاتے ہوئے اس کی نظر صوفے پر پڑے ہوئے تکیے پر پڑی تھی۔۔۔۔۔ یہ دیکھتے ہوئے واش روم میں چلی گئی تھی۔۔۔۔

یہ دیکھ کر اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ رات کو صوفے پر سویا تھا۔۔۔۔۔

تیار ہوکر کچھ ہی دیر میں وہ کمرے سے نکلی تھی۔۔۔۔ اور پھر وہ شیشے کے سامنے جاکر بال سنوارنے لگی تھی۔۔۔۔

اس میں اس کی نظر سوہم سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔ بلیک کلر کی شرٹ نیچے ڈارک بلو پینٹ میں وہ بہت ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ سوہم نے اسے دیکھا تو وہ بھی کم حسین نہ تھی۔۔۔۔ چہرہ میک اپ سے پاک ہی بہت خوبصورت شفاف تھا۔۔۔۔ بلیک کلر کی فراک اور نیچے پاجامے میں وہ اور بھی حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *