Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 2 (Part - 2)

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

میرب صبح سے یک جان ہو کر کام لگی ہوئی تھی،،،، وہ اس نوکری سے پوری ایمانداری کرنا چاہتی تھی،،،،، اجالا نے اسے کچھ فائلز چوس کے آفس میں لے کر جانے کے لیے کہا تھا،،،،،

اسے بوس کے روم کا پتہ تھا،،،، لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ باس کون ہے؟؟ وہ فائلز دیکھتے ہوئے بڑھ رہی تھی،،،،،جب ہی وہ اس لمبے چوڑے قد والے آدمی،،،، سے ٹکڑا گئی اور اس کی فائلز نیچے گر گئی تھی،،،،،

آہ,,, کیا تم اندھے ہو تمھیں نظر نہیں آتا ہے کہ میں جارہی ہوں،،،،، اس نے غصے سے ابھرتے ہوئے اسے کہا تھا،،،، جبکہ وہ اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا،،،،

مس آر یو ان یور سینسز،،، تم مجھ سے کس لہجے میں بات کررہی ہو،،،،، اس نے نہایت ہی نرم لہجے میں طنزیہ کہا تھا،،،، جبکہ وہ بالکل بھی نہیں سمجھی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے،،،؟

یس آئم ان مائی سینسز،،،، اور میں تم سے تمیز سے کیوں بات کرو ہمم،،، ہٹو مجھے باس کے روم میں جانا ہے،،،،، اسے پیچھے کرتے ہوئے وہ کمرے کی طرف بڑھی تھی،،،،،

وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ہی یہاں کا باس ہے،،،،، دارب ماہر خان،،،،

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ گھر میں داخل ہوا تو بریانی کی ایک شاندار خوشبو نے اس کا استقبال کیا تھا،،،،، ہمم لگتا ہے کہ بیگم نے آج میری پسندیدہ بریانی بنائی ہے،،،، چلو دیکھتے ہیں،،،

خوشبو کے مزے لیتے ہوئے وہ کچن کی طرف بڑھا تھا،،،،، میری جان کیا بنایا ہے،،،، نہایت ہی محبت سے اس نے کہا تھا،،،،

بڈھے ہوگئے ہیں،،،، لیکن ابھی تک جان جان نہیں گیا آپ کا،،،، ایلف نے شرارت سے کہا تھا،،،،، جس پر واسم نے اسے گھورا تھا،،،،،

جی نہیں بڈھی ہوگئی ہو تم میں تو ابھی بھی جوان ہو بلکہ دوسری شادی کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں،،،،، اس نے نہایت ہی شرارت سے کہا تھا،،،، پہلے تو ایلف کو برا لگا پھر اس نے طنزیہ کہا تھا،،،،،

کر لیں ویسے بھی آپ جیسے بڈھے دو بچوں کے باپ کو کوئی اپنی بیٹی نہیں دے گا،،،،، ایلف نے کہا تو اس نے اسے گھورا تھا،،،،،

جان تم تو ناراض ہوگئی ہو،،،، مجھے بہت بھوک لگی ہے پلیز کھانا ڈال دو،،،،، اس نے پیٹ ملتے ہوئے کہا تھا،،،،،

اچھا اچھا !! دینے لگی ہوں،،،، بیٹھ جائے،،، ایلف نے ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا،،،،،

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وہ اپنے باس کے روم میں داخل ہوئی تھی،،،، میرب اندر آئی تو کوئی بھی نہیں تھا،،،،، اس نے ادھر دیکھا تو بھی کہیں اسے کوئی نظر نہ آیا،،،،اور نا ہی بالکنی میں،،،،

پتہ نہیں کدھر چلے گئے ہیں ؟؟ تھوڑی دیر ویٹ کرلیتی ہوں،،،،، یہ کہہ کر میرب خاموش ہوئی،،،،،جب ہی دروازے پر دستک ہوئی،،،،، اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے وہی لڑکا کھڑا تھا،،،،

اسے دیکھتے ہی اس کا میٹر شارٹ ہوا تھا،،،،، تم یہاں کیا کر رہے ہو،،،،، اس نے غصے سے کہا تھا،،،،،

میں یہاں جو بھی کر رہا ہوں پہلے تم بتاؤ کہ تم یہاں کیا کر رہی ہوں،،،، اس کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس نے کہا تھا،،،،،

میں یہاں یہ فائلز باس کو دینے آئی ہوں،،،، اس نے فائلز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا،،،،،، ہمم تو ٹھیک ہے دو مجھے،،،،، اس نے کہا تو میرب نے اسے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھا تھا،،،،،،

دو بھی باس کو دینی تھی نا،،،،، اس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا،،،،،

کیوں میں تمھیں کیوں دو،،،،، میں خود باس کو دے دو گی،،،،،، اسے ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ ہی باس ہے،،،،، یہ سنتے ہی وہ سامنے باس کی کرسی پر بیٹھ گیا تھا،،،،،

جسے دیکھتے ہی وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ باس ہے اور اس نے پتہ نہیں اسے غصے میں کیا کیا کہا تھا ؟ اسے تو خود بھی یاد نہیں تھا،،،،،

مطلب آپ ہی باس ہیں،،،،، اس نے لب بھینجے ہوئے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تھا،،،،،، جی مس میں ہی باس ہوں،،،، لائیں یہ فائلز مجھے دے دیں،،،،، اس نے فائرنگ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا،،،،،،

اس نے فائلز اسے پکڑائی اور میرب نے وہاں سے نکلنی کی تھی،،،،، آنکھیں بند کرتے ہوئے وہ وہاں سے نکلی تھی،،،،، جبکہ وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا گیا تھا،،،،، اور فائلز دیکھنے لگا تھا،،،،،،

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بابا،،،، مجھے بہت غصہ آرہا ہے،،،، اس گھٹیا لڑکے کی اتنی ہمت کہ اس نے مجھے تھپڑ مارا،،،،، شہزاد کاظمی کو،،،،، میں اسے نہیں چھوڑو گا،،،،، کافی دیر سے چکر لگاتے ہوئے اس نے کہا تھا،،،،

جبکہ اس کے والد اس کی ہر بات میں شہ دے رہے تھے،،،،،، دو دو لوگوں سے تھپڑ کھا کر آئے شہزاد کاظمی دو دو لوگوں شرم کھاؤ،،،، تمھاری تو تماشہ بن گیا سب کے سامنے،،،،

اس کے والد نے اسے تھوڑی سی شرم دیکھائی تھی،،،،،

بابا آپ فکر مت کریں اس لڑکے کو میں نہیں چھوڑو گا وہ میرے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا ہے،،،،، اسے معلوم نہیں کہ اس نے کس سے پنگا لیا ہے،،،،،

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *