Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 18
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 18
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
وہ جیسے ہی داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ایک لڑکی تیز رفتار میں اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!
آف آج تو لیٹ ہوگئی۔۔۔۔!!
اس کی یہ بات سن کر وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اندر کی طرف بھی بڑھا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر تک حسن آفس میں ہی کام کرتا رہا۔۔۔۔ جبکہ کسی کام کی وجہ سے وہ آفس کے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔!!
جیسے ہی وہ کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔ سامنے ہی وہ حسن کی ملکہ بیٹھ ہوئی تھی۔۔۔!! اسے دیکھ کر وہ اس میں ہی کھو سا گیا تھا۔۔۔۔
صاف شفاف چہرہ۔۔۔۔!! میک اپ سے بالکل پاک۔۔!! یا شائید اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔۔۔!! دوپٹہ جو اس کے ماتھے تک آرہا تھا۔۔۔۔ نہایت ہی خوبصورت۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں کوئی لڑکی نہیں آئی تھی۔۔۔۔ لیکن اس میں تو کچھ اور ہی بات تھی۔۔۔۔ جو اسے کسی اور میں نظر نہیں آئی تھی۔۔۔۔!!
مہرین۔۔۔۔!! یہ دیکھو۔۔۔!! فائلز میں نے سر کو دیکھانی ہے۔۔۔۔!!
مہرین۔۔۔!! نائس نیم۔۔۔۔!! آؤ تو حس کے ساتھ ساتھ کام میں بھی کافی ماہر تھی۔۔۔۔ یا شائید اسے اپنے کام سے لگاؤ کافی تھا۔۔۔
وہ اسی کی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ جب ہی اسے پتہ بھی نہیں چلا تھا کہ کب وہ اس کے سامنے سے وہ کب آٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔
اچانک ہی وہ ہوش میں آیا تو سامنے سے دیکھا کہ وہ وہاں نہیں تھی۔۔۔۔ پھر اپنی سوچوں پر وہ خود ہی مسکرا سا گیا تھا۔۔۔۔!! اور کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔
آج میرب کو کچھ زیادہ ہی کام تھا آفس میں۔۔۔۔!! وہ جلد از جلد کام ختم کر کے گھر جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
لیکن پھر بھی کام اس قدر زیادہ تھا کہ اسے شام کے سات بج چکے تھے۔۔۔۔!! وہ کام ختم ہوتے ہی اپنا بیگ پیک کرتے ہوئے آفس سے نکلی تھی۔۔۔۔
جبکہ باہر تو رات ڈھل چکی تھی۔۔۔۔ اندھیرا چھا چکا تھا۔۔۔۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔۔۔۔ کالے بادل بھی چھا گئے تھے۔۔۔۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ بارش شروع ہونے والی ہے۔۔۔۔!!
اس موسم میں اسے کوئی کیب بھی نہیں ملی تھی۔۔۔۔ مجبوراً اسے چل کر ہی گھر جانا پڑا تھا۔۔۔ لیکن وہ ابھی بھی کوشش کر رہی تھی کہ اسے کیب مل جائے۔۔۔۔!!
چلتے چلتے ہی اس کے قدم رک گئے تھے۔۔۔۔ جب اس نے سامنے کچھ لڑکوں کو دیکھا تھا۔۔۔۔ جو سگریٹ پی رہے تھے۔۔۔۔!! دیکھنے سے بھی اوباش قسم کے لگتے تھے۔۔۔۔
میرب چپ چاپ وہاں سے منھ پر نقاب کیے ہوئے وہاں سے جا رہی تھی۔۔۔۔ جب ہی اسے ایک سیٹی بجانے کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔
وہ اسے مکمل طور پر اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ اسے ان سے خوف سا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔ لیکن اصل ڈر تو اسے اس وقت لگا تھا جب وہ اس کے سامنے آئے تھے۔۔۔۔
کیا بات ہے حسینہ۔۔۔۔؟؟ تم آج اکیلے۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔ ورنہ چل چل کر کہیں زخم نہ ہو جائیں تمھارے پاؤں میں۔۔۔۔!!
سامنے آتے ہوئے اس گھٹیا شخص نے اسے گھٹیا نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ میرب پر خوف طاری ہوچکا تھا۔۔۔!!
اس نے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ وہ چار ہیں۔۔۔۔!! جنھیں وہ مکمل طور پر سہم گئی تھی۔۔۔۔۔
دیکھو۔۔۔۔۔!! ہٹو میرے راستے سے۔۔۔۔!!
اسے نے سہمے ہوئے ہی بڑی ہمت کر کے اس کی نگاہوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
ارے تم تو برا مان گئی۔۔۔۔!! دیکھو میں کہہ رہا ہوں کہ میں چھوڑ دیتا ہوں تمھیں۔۔۔۔۔!!
اس نے ایک دفعہ پھر سے گھٹیا الفاظ استعمال کیے تھے۔۔۔۔ جو اب شائید میرب کی برداشت سے باہر ہوگئے تھے۔۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔!!
میرب نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منھ پر مارا تھا۔۔۔۔۔
تمھاری اتنی ہمت کہ تم اسے تھپڑ مارو۔۔۔۔ !!
اس کے پیچھے کھڑا ہوا لڑکا اس پر گرجا تھا۔۔۔۔ جبکہ میرب نے اس کی اس بات پر اسے بھی ایک تھپڑ دے مارا تھا۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔!!
یہ لو اب تمھیں بھی مار لیا ہے۔۔۔۔ کیا کرو گے۔۔۔۔!!
وہ تو اس کے تیور دیکھ کر حیران ہی رہ گئے تھے۔۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے تک ڈری سہمی تھی۔۔۔۔ اب کیسے شیرنی بن بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
جب ہی وہ انھیں دھکا دیتے ہوئے وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔۔ لیکن اسی وقت وہاں پر ایک بڑی سے گاڑی آ رکی تھی۔۔۔۔
جسے دیکھتے ہی میرب رکی تھی۔۔۔۔ شائید تھوڑا سا وہ اور بھاگتی تو اس سے ٹکڑا جاتی۔۔۔۔!! وہ تمام لڑکے بھی اسے دیکھ کر رکے تھے۔۔۔۔
دروازہ کھلتے ہی ایک ہینڈسم سا لڑکا گاڑی سے نکلا تھا۔۔۔۔۔!!! جسے دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ یہ کون ہے۔۔۔۔؟؟
لیکن میرب اسے پہنچانے چکی تھی۔۔۔۔۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ”دراب“ تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ کر میرب مسکرائی تھی۔۔۔۔۔
د۔۔۔ دار۔۔۔ دراب س۔۔ سر۔۔۔۔!!
اس کے الفاظ لڑکھڑا سے گئے تھے۔۔۔۔!! لیکن وہ سب تو اسے دیکھتے ہی پہلے ہی بھاگ چکے تھے۔۔۔۔۔۔
مس میرب۔۔۔۔۔!! آپ یہاں۔۔۔۔۔
وہ اس کے پاس آتے ہی اس سے پوچھتا ہے۔۔۔۔ جب کہ ہلکی ہلکی سی بارش شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
درا۔۔۔۔ دارب سر۔۔۔۔ و۔۔ وہ لڑ۔۔۔
وہ لڑکھڑاتے ہوئے الفاظوں سے اسے سب کچھ بتانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔ جب ہی وہ پیچھے مڑی تو اس نے دیکھا کہ وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
جو دیکھتے ہی وہ حیران سی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔!!
میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔!!!
اس نے یہ کہا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ سب کچھ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
لیکن آپ یہاں کر کیا رہی ہیں۔۔۔۔ اور اب تک گھر کیوں نہیں گئی۔۔۔۔؟؟
اسے دیکھتے ہوئے دارب سے اس سے سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔
و۔۔۔ وہ د۔۔ دراصل مجھے ک۔۔ کیب نی۔۔ نہیں م۔۔ ملی۔۔۔۔
روتے روتے ہی لڑکھڑاتے ہوئے الفاظوں سے اس نے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ بارش پورے زور و شور سے ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔!!
ٹھیک ہے۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ آپ ایک کام کریں کہ میرے ساتھ چلے میں آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کر دیتی ہوں۔۔۔۔۔!!
وہ دونوں بارش میں بھیگنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔ اور وہ اسے ایسے تھوڑی چھوڑ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!
موسم کی حالت کو دیکھتے ہوئے میرب بھی اس کی بات مان گئی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ اس کے بابا اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
اس لیے وہ اس کے ساتھ اس کی گاڑی کی طرف چل دی تھی۔۔۔۔۔!!
تم نے اچھا کیا جو میرے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔۔۔۔۔ اس سے ہم دونوں فائدے میں رہے گے۔۔۔۔۔!!
اس نے فون کو کان لگائے ہوئے کہا تھا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف سے وہ مسکرا گئی تھی۔۔۔۔!!
بالکل ٹھیک کہا تم نے شہزاد کاظمی۔۔۔۔!! میں اکیلے جو کچھ بھی کر لیتی میں ان دونوں کو کبھی الگ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
اس نے بھی مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔!!
تم نے بالکل ٹھیک کہا شانزے۔۔۔!! نا ہی تم اکیلے دعا اور زاکوان کو الگ کر پاتی اور نہ ہی میں۔۔۔۔۔۔!! اب ہم مل کر ان دونوں کو الگ کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔
شہزاد نے شانزے کو اپنے سے ہاتھ ملانے کے فائدے بتائے تھے۔۔۔۔!!
اب بس کچھ دن پھر زاکوان میرا اور دعا تمھاری ہو گی۔۔۔۔۔!!
شانزے کی یہ بات سن ان دونوں نے ایک شیطانی قہقہہ لگایا تھا۔۔۔۔۔!! اور پھر شہزاد نے فون بند کیا۔۔۔۔۔
ہاں بالکل۔۔۔۔ !! ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔ وہ لڑکی کسی اور کی نہیں ہوسکتی ہے۔۔۔۔ جس نے میرے منھ پر تھپڑ مارا ہو۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے اندر لگی اس تھپڑ کی آگ کو محسوس کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔!! ماجد یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔؟؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ ؟؟ ان دونوں کا نکاح۔۔۔۔۔!!
دارم نے شدید غصے میں ماجد سے کہا تھا۔۔۔۔۔!!
سر۔۔۔۔۔۔!! میں کچھ بھی غلط نہیں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔!! سالار خان اور زونی کا نکاح ہو چکا ہے۔۔۔۔۔!!
اب وہ قانوناً اس کی بیوی ہے۔۔۔۔۔ اور آپ اسے یہاں نہیں لا سکتے۔۔۔۔۔۔!!
ماجد نے اسے ساری حقیقت سے آگاہ کیا تھا۔۔۔۔۔!! جبکہ جواد بھی یہ سب خاموشی سے سن رہا تھا۔۔۔
اس کے خالو کا کیا کیا۔۔۔۔۔؟؟
وادی نے کچھ سوچتے ہوئے ماجد سے یہ سوال کیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ دارم نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے حکم کے مطابق اسے مار دیا۔۔۔۔۔۔
ماجد نے نظریں جھکائے ہوئے اسے اس کا حکم یاد دلایا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ دارم اپنے آپے سے باہر ہورہا تھا۔۔۔۔۔
بس اب بہت ہوگیا ہے۔۔۔۔!! اس لڑکی کو اٹھا لو۔۔۔۔!! مجھے کچھ معلوم نہیں ہے۔۔۔۔۔!!
دارم غصے سے کہتا ہوا اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔!! جبکہ نے ماجد نے ہاں میں جواب دیا۔۔۔۔
