Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 10
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 10
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
یہ سب کہنے کے بعد سالار نے ساری بات عالیہ کو بتائی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ ساری تحقیق کر چکا تھا۔۔۔
یہ تو تم نے بہت اچھا کیا بیٹا کہ اس لڑکی کو یہاں لے آئے۔۔۔۔!! ورنہ وہ کسی مصیبت میں پر جاتی۔۔۔۔!!
عالیہ نے زونی کی فکر کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
بھائی کیا میں اس سے مل سکتی ہوں۔۔۔۔!! انائیرہ نے سالار سے سوال کیا تھا۔۔۔۔!!
جی۔۔۔!! انائیرہ مل لو آپ جا کر۔۔۔ بلکہ ایک کام کرنا کھانا بھی لے جاؤ۔۔۔ پتہ نہیں کچھ کھایا بھی ہوگا صبح سے کہ نہیں۔۔۔۔!!
سالار نے اسے تاکید کی تھی۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔ بھ
ائی۔۔ !! یہ کر انائیرہ چلی گئی تھی۔۔۔ پھر سالار نے عالیہ سے بات کرنا شروع کی تھی۔۔۔
آج انائیرہ کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے تھے۔۔۔۔ کیا بنا۔۔ ؟؟ میں آ نہیں سکا۔۔۔!! سالار نے عالیہ سے سوال کیا تھا۔۔۔
ہاں رشتہ پکا کر دیا۔۔۔۔ عالیہ نے کہا تو سالار اسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔
کیا۔۔۔؟؟ اتنی جلدی۔۔۔۔!! ابھی مجھے اور دارب بھائی کو تو آ لینے دیتی آپ۔۔۔۔ سالار نے خفگی سے کہا تھا۔۔۔۔
آخر اس کی بہن کا معاملہ تھا کوئی فضول بات نہیں تھی۔۔۔ جو وہ یوں ہی مان جاتا۔۔۔۔
بیٹا۔۔۔!! تمھارے بابا اس وقت گھر ہی تھے۔۔۔ ان کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ اور ویسے بھی انائیرہ اس لڑکی کو پسند کرتی ہے۔۔۔
عالیہ نے اسے ریزن دیا تھا۔۔۔۔
تو مما۔۔۔!! اگر انائیرہ اسے پسند کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کی شادی کردیں۔۔۔ وہ بھی اسی مہینے۔۔۔!! سالار چڑ کر بولا تھا۔۔۔
بیٹا۔۔۔!! تم سمجھ نہیں رہے ہو ہم لڑکی والے ہیں۔۔۔ ہمیں پھر بھی ان کی بات ماننی چاہئیے۔۔۔۔
عالیہ کی یہ بات سنتے ہی وہ اور زیادہ چڑ گیا۔۔۔
مما۔۔۔!! اگر ہم لڑکی والے ہیں۔۔۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی ساری باتیں مانے۔۔۔
وہ غصے سے کہتا ہوا اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ عالیہ چپ کر کے بیٹھ گئی اور سوچ میں پڑ گئی تھی۔۔۔۔
انائیرہ کھانے کی ٹرے لے کر اس کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ جس کمرے میں زونی تھی۔۔۔۔!!
زونی نے ایک نظر اسے دیکھا تھا جو مسکرا رہی تھی۔۔۔ آپ۔۔۔!! کون۔۔؟ زونی نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔
میں۔۔۔!! میں ان کی بہن ہوں۔۔۔ جو آپ کو یہاں لائے ہیں۔۔۔۔! انائیرہ نے اسے اپنا تعارف کروایا تھا۔۔۔۔
ہمم۔۔۔!! وہ اتنا ہی کہہ کر چپ کر گئی تھی۔۔۔۔۔!! جس پر انائیرہ نے اس کے سامنے کھانا رکھا تھا۔۔۔۔۔
مجھے پتہ ہے آپ کو بھوک لگی ہوں گی۔۔۔۔!! یہ کھانا لائی ہوں میں آپ کھا لیں۔۔۔!! یہ سن کر زونی نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔۔
شک۔۔۔ شکریہ۔۔۔ !! زونی کو یوں لگ رہا تھا کہ اس کے گلے سے آواز ہی نہیں نکلے گی۔۔۔۔ وہ کہاں پھنس گئی تھی۔۔۔ ؟؟
آپ کو نام کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟ انائیرہ تو چپ کرنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔ ایک سوال کے بعد ایک سوال اور زونی بس خاموش سی بیٹھی ہوں ہاں میں جواب دیتی۔۔۔۔
ز۔۔۔ زونی۔۔ وہ جھجک جھجک کر اس کے سوالات کے جواب دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
آپ اتنا جھجک کیوں رہی ہیں۔۔۔۔؟؟ مجھ سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو۔۔۔۔۔!! انائیرہ نے اس سے کہا تھا۔۔۔۔۔
ن۔۔ نہیں مجھ۔۔ مجھے آپ سے کیوں ڈر لگے گا۔۔۔۔۔!! زونی پھر سے جھجکی تھی۔۔۔۔
ڈرنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟ آپ مجھے اپنی دوست ہی سمجھے۔۔۔۔۔!! اچھا حیر میں زیادہ تنگ نہیں کروں گی آپ کو۔۔۔۔ آپ کھانا کھا لیں بھوک لگی ہوگی آپ کو۔۔۔۔
مسکرا کر کہتے ہوئے انائیرہ کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ زونی سوچ میں پڑ گئی تھی کہ جتنا اسے لانے والا اچھا ہے اس سے زیادہ اچھے اس کے گھر والے ہیں۔۔۔۔۔۔
سوچتے ہوئے ہی زونی کی نظر کھانے پر گئی تھی۔۔۔۔ جو چیخ چیخ اسے کہہ رہا ہوں کہ مجھے کھا لو۔۔۔۔۔!!
اسے بھوک بھی بہت لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس نے کھانا شروع کیا۔۔۔۔
ب
کیسے۔۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟! تو نے اس لڑکی کو جانے دیا۔۔۔۔ ایک لڑکی بھی تمھیں سے سنبھالی نہ گئی۔۔۔۔۔!!
اس کا گریبان پکڑتے ہوئے اس شخص نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اس کا خزر نشر وہ پہلے ہی بیکار چکا تھا۔۔۔۔۔
نمک حرام۔۔۔۔۔۔۔۔ تجھے میں نے کہا تھا کہ اس لڑکی کو میرے حوالے کردے۔۔۔۔!! پر نہیں اس وقت تو تیری وہ سو کالڈ بیوی وہاں پہنچ گئی تھی۔۔۔۔ جی نہیں زونی کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔۔
اس وقت تو میں چپ کر گیا تھا۔۔۔۔ پر اب بس۔۔۔۔ بہت ہو گیا ہے۔۔۔۔۔ مجھے وہ لڑکی کسی بھی حال میں چاہئیے۔۔۔۔۔
تو نے مجھے سے وعدہ کیا تھا کہ جب زونی بائیس سال کی ہو جائے گی تو تو اسے میرے حوالے کردے گا۔۔۔۔۔ لیکن اب تو مجھے یہ کہہ رہا کہ وہ لڑکی بھاگ گئی۔۔۔۔۔؟؟
اس نے غصے میں کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ سامنے والا (زونی کا خالو) اپنی ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔۔۔۔ وہ ناجانے حود کو کیسے اس کے چنگل سے بچاتا۔۔۔۔۔۔
شہر کا چلا چپا چھان مارو۔۔۔۔۔!! اس زونی کو ڈھونڈ نکالو۔۔۔۔۔ اور اگر نہ ملے تو اس یاور کو مار دو۔۔۔۔۔!!
اس نے سامنے کھڑے دو لوگوں کو حکم دیا تھا۔۔۔۔۔ اور خود کرسی پر بیٹھ کر کسی کو فون کرنے لگا۔۔۔
اس کے پاپا کی سرجری سٹارٹ ہوچکی تھی۔۔۔۔ وہ آپریشن تھیٹر کے سامنے چکر لگا رہی تھی۔۔۔۔۔ میرب کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ اس کی خالہ اسے دلاسا دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔!!
میرب بیٹا۔۔۔۔!! فکر نہیں کرو دیکھنا بھائی بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔!! انھوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
آنٹی فکر کیسے نہ کرو میں۔۔۔۔۔۔!! میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ابھی بند ہو جائے گا۔۔۔۔۔ اللہ جی پلیز میرے بابا کو کچھ نہ ہو۔۔۔۔!!
وہ بالکل ٹھیک ہو جائے۔۔۔۔۔
اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے میرب نے دیا کی تھی۔۔۔۔ آمین۔۔۔!!
اس کی آنٹی نے جواباً کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
جب ہی اس کے فون کی گھنٹی بجی تھی۔۔۔۔۔ اس نے دیکھا تو باس لکھا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ دارب کا فون ہے۔۔۔۔۔
اس نے کال اٹھائی۔۔۔۔ اسلام علیکم سر۔۔۔!! اٹھاتے ہی میرب نے سلام لیا تھا۔۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔!! جواباً کہا گیا تھا۔۔۔۔
مس میرب۔۔۔۔۔۔!! آپ کے بابا کی سرجری تھی کیسی طبعیت ہے اب ان کی۔۔۔۔!! دارب نے میرب سے اس کے بابا کی حیرت دریافت کی تھی۔۔۔۔
سر۔۔۔!! ابھی سرجری چل رہی ہے۔۔۔۔۔ ابھی کچھ بھی نہیں پتہ۔۔۔۔۔ !!
میرب نے اس سے کہا تھا۔۔۔۔
چلیں آپ فکر مت کریں۔۔۔۔۔۔ وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گے۔۔۔۔۔ اللہ انھیں صحت دے گا۔۔۔۔!! آمین۔۔۔!! دارب نے دعا کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
آمین۔۔۔۔!! میرب نے کہا تھا۔۔۔
مس میرب میں آپ سے بعد میں بات کروں گا میٹینگ ہے ابھی۔۔۔۔۔!! دارب نے اسے فون بند کرنے کی وجہ بتائی تھی۔۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے سر۔۔۔۔ اللہ خافظ۔۔۔۔!! یہ کہہ کر میرب نے فون بند کیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور اپنے بابا کے لیے دعا کرنا شروع کی تھی۔۔۔۔۔
