Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 19

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt


انائیرہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ جب ہی وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔!! کئی دن گزر چکے تھے ان کی شادی کو۔۔۔

لیکن ان دنوں میں بہت ہی کم بات ہوئی تھی ان دونوں کی۔۔۔۔!! انائیرہ تو جیسے اس سے بات کرنے میں کتراتی تھی۔۔۔۔۔

لیکن وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی۔۔۔۔!! اس لیے اس نے ایلف سے بھی بات کی تھی۔۔۔۔!! لیکن ایلف نے اس کی بات مانتے ہوئے اس سے کہا تھا کہ وہ سوہم سے پوچھ لے۔۔۔!!

اگر وہ اجازت دے تو ہی ٹھیک ہے۔۔۔۔!! انائیرہ تو بس سر ہاں میں ہی ہلا گئی تھی۔۔۔۔ وہ جو اس سے سیدھے منھ بات تک نہ کرتا تھا۔۔۔ کیا وہ اسے اجازت دیتا۔۔۔۔؟؟

و۔۔۔ وہ مجھے آپ سے ا۔۔ ایک بات کرنی تھی۔۔۔۔۔!!

اس نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔ جب ہی اس کے الفاظ لڑکھڑا سے گئے تھے۔۔۔۔۔!!

ہمممم۔۔۔۔۔!!! بولو کیا بات ہے۔۔۔۔؟؟ میں سن رہا ہوں۔۔۔۔۔

اپنا کوٹ اتارتے ہوئے بیڈ پر رکھتے موبائل بھی بیڈ پر پھینکتے ڈریسنگ سے کپڑے نکالتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔

وہ۔۔۔ وہ م۔۔ میں سٹیڈیز کنٹنیو کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔!!

اس نے بڑی ہمت کر کے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس کی بات پر سوہم نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔!! کر لو۔۔۔!! مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ تمھارا جو دل کرے تم کر سکتی ہو۔۔۔ میں نے تم پر پابندی نہیں لگائی۔۔۔۔!!.

اسے کہتا ہوا وہ واش روم میں بند ہوگیا تھا۔۔۔ جبکہ انائیرہ اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔

کھڑوس کہیں کا۔۔۔۔۔!!

اس کے جاتے ہی انائیرہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔!!

 میرب گھر میں داخل ہوئی تو دیکھا سامنے ہی اس کے بابا اس کی راہ تک رہے تھے۔۔۔۔۔!! وہ ان کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ میرب مکمل طور پر بھیگ چکی تھی۔۔۔۔

بابا۔۔۔۔!! آپ کی طبعیت کیسی ہے۔۔۔۔؟؟

اس نے اندر آتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس کے بابا مسکرا گئے تھے۔۔۔۔ باہر بارش بہت تیز تھی۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ بھیگ گئی۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔۔!! میں تو ٹھیک ہوں۔۔۔۔ آپ آج آفس سے لیٹ ہو گئی۔۔۔۔؟

اس کے بابا نے مسکرا کر میرب سے سوال پوچھا تھا کہ آج اتنی دیر کیوں ہوگئی۔۔۔۔۔

وہ بابا۔۔۔۔۔ آج کام کافی زیادہ تھا اسی وجہ سے۔۔۔۔

میرب نے اپنے بابا جو لیٹ آنے کی وجہ بتائی کہ آفس میں کام زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ لیٹ ہوگئی۔۔۔

اچھا کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔!! جاؤ جا کر چینج کر لو ورنہ کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے۔۔۔۔۔!!

انھوں نے اس کی فکر کرتے ہوئے اسے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ فوراً اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!!

وہ اندر آئی تو اسے ایک دفعہ پھر سے وہ سارا واقعی یاد آگیا۔۔۔۔۔ وہ دروازہ بند کرکے وہی بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔

آج سے پہلے اس کی زندگی میں کوئی ایسا واقعی پیش نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن آج۔۔۔!! آج اگر دارب وہاں وقت پر نہ پہنچتا تو کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔

یہی سوچتے ہوئے وہ رو رہی تھی۔۔۔۔ جب ہی اٹھ کر کپڑے بدلنے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

 دعا یونیورسٹی کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی اس کا پاؤں ایک بھاری سے پتھر سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔۔

وہ لڑکھڑاتے ہوئی گرنے کے مقام پر تھی۔۔۔۔۔۔!! جب ہی کسی کی باہوں میں جھول گئی۔۔۔۔ دعا کو تو ایک دم کے لیے لگا جیسے وہ گر گئی ہو۔۔۔۔۔!!

لیکن جب اس نے اس شخص کا چہرہ دیکھا تو وہ دھنک رہ گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ وہی تھا۔۔۔۔ ”شہزاد کاظمی“

وہ فوراً اس کی باہوں سے اٹھی تھی۔۔۔۔ اور غصے کی نگاہ سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔

تم۔۔۔۔!! تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟ اور تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی بھی۔۔۔۔!!

وہ ایک لحاظ سے چلائی ہی تھی۔۔۔۔ لیکن اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑھنے والا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ اپنا کام کر چکا تھا۔۔۔۔

سو سوری۔۔۔۔ اگر میں تمھیں نہ پکڑتا تو تم گر جاتی۔۔۔۔!!

اس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کسی بچے کی طرح کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ دعا کو اس پر شدید غصہ آیا تھا۔۔۔۔۔

ہاں تو گر جاتی۔۔۔۔۔ تمھیں اس سے کیا۔۔۔۔؟؟

وہ غصے سے کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔ کیونکہ اسے جو کرنا تھا وہ کرچکا۔۔۔۔

وہ یہی مسکراہٹ لیے ہوئے اس کے پاس آیا تھا۔۔۔ ”شانزے شاہ“

بن گئی ہے پک۔۔۔۔!!!

اس کے پاس آتے ہوئے اس نے چہرے پر مسکراہٹ لیے اس سے سوال پوچھا تھا کہ ان کا کام ہوگیا۔۔۔۔؟.

ہاں بن گئی ہے۔۔۔۔۔۔!!

اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ بھی مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔

اب بس اس تصویر کا جانا باقی ہے زاکوان کے پاس۔۔۔۔۔۔!!!

اس نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لیے کہا تھا۔۔۔۔۔ لیکن کیا واقع یہ تصویر دعا اور زاکوان کو الگ کرنے کی وجہ بن سکتی ہے۔۔۔۔۔؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *