Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 4
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 4
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
بولو بھی دعا۔۔۔۔ !! کیا ہے یہ،،، یہ لڑکا کون ہے ؟؟ جس نے تمھارا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ دعا سے نہایت ہی سرد مہری میں سوال کیا گیا تھا۔۔۔۔۔
پر وہ تو اس قدر سہم گئی تھی کہ کچھ بھی بولنے سے قاصر تھی۔۔۔۔۔ تو اس بات کا جواب وہ کیسے دیتی۔۔۔۔۔۔۔
ارے بھائی صاحب یہ آپ کا کیا بتائے گی۔۔۔۔!! اس کی اصل حقیقت تو میں آپ کو بتاتی ہوں۔۔۔۔ یہ اس لڑکے کو پسند کرتی ہے جس وجہ سے اس نے اس کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔۔۔۔۔ !! اور رہی بات وہ لڑکا جو نیچے گرا ہوا ہے۔۔۔۔ اس کے چہرے پر دعا نے ایک زور دار تھپڑ مارا ہے جس کی وجہ سے اس نے اسے بھی تھپڑ مارنے کی کوشش کی تھی،،، پر راہ میں وہ لڑکا آگیا جس نے اسے بچایا۔۔۔۔۔۔
راشدہ نے آگ لگا دینے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ دعا اسے دیکھتی رہ گئی تھی کہ اسے یہ سب کیسے معلوم ہوا؟؟
دعا۔۔۔!! کیا یہ بات سچ ہے کہ تم اس لڑکے کو پسند کرتی ہو۔۔۔۔۔ انھوں نے اس سے پوچھا تو دعا چپ رہی۔۔۔۔
اب بولو بھی۔۔۔۔۔ اب کی بار لہجہ نہایت ہی سخت تھا۔۔۔۔۔ جس سے وہ مزید سہمی ہوئی ہاں میں سر ہلا گئی تھی۔۔۔۔۔
اب بول بھی دے۔۔۔۔ راشدہ نے کہا تو وہ بولی۔۔۔۔۔
ج۔۔۔ جی۔۔۔۔ اتنا ہی کہا تھا اس نے۔۔۔۔ اس کے بابا یہ بھی برداشت نہیں کرسکے تھے کہ ان کی بیٹی اور یہ سب ؟؟ کیسے۔۔۔ ؟؟ اور غصے میں ان کا ہاتھ اس پر آٹھ گیا۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔ انھوں نے دعا کے چہرے پر تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔ جس پر راشدہ اور دعا دونوں نے انھیں حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔
راشدہ کو خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔ لیکن اسے اپنے بھائی سے بالکل بھی امید نہیں تھی کہ وہ دعا کو تھپڑ مار دیں گے۔۔۔۔۔
دفع ہو جاؤ۔۔۔۔ میری نظروں سے۔۔۔۔ انھوں نے نظریں اس سے ہٹاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ اور کل سے تم کالج نہیں جاؤ گی۔۔۔۔ ہر چیز کی طرح اس پر یہ پابندی بھی لگ گئی تھی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ شہزاد کے گھر کے سامنے گاڑی روکتا ہوا گاڑی سے نیچے اترا تھا…… آج تو اس شہزاد کی میرے ہاتھوں موت ہوگی……. سوچتے ہوئے کسی طوفان کی طرح وہ دروازے کی طرف بڑھا تھا……
اس نے بیل بجائی تھی….. جس پر گاڑد نے دروازہ کھولا تھا…..جی سر آپ کو ک۔۔۔ گاڑد نے اتنا ہی کہا تھا کہ وہ اسے دھکا دیتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔
اسے یوں دیکھ گارڈ گھبرا سا گیا۔۔۔۔ وہ اس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔۔
سر سر۔۔۔۔ رکیں آپ کدھر اندر چلے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔ آپ یوں اندر نہیں جاسکتے۔۔۔۔ رکیں۔۔۔۔ وہ کب سے اس کے پیچھے چلتا جارہا تھا۔۔۔۔ جبکہ زاکوان نے اسے مکمل طور پر اگنور کیا تھا۔۔۔۔۔
اندر پہنچا تو سامنے ہی وہ دونوں باپ بیٹا بیٹھے دکھائی دیے تھے۔۔۔۔۔ شہزاد کو دیکھتے ہی اس کا خون کھولا تھا۔۔۔۔۔
اس کی طرف بڑھتے ہوئے زاکوان نے اس کے منھ پر ایک مکا مارا تھا۔۔۔۔ جس سے شہزاد کے ہونٹ کے کنارے سے خون نکلا تھا۔۔۔۔
جو زاکوان کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے صاف کیا تھا۔۔۔۔ تیری اتنی ہمت کہ تو مجھے میرے ہی گھر میں گھس کر مارے۔۔۔۔
شہزاد نے شدید غصے میں کہا تھا۔۔۔۔ اور اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس کے والد ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اس کے بعد ان دونوں میں اچھی خاصی لڑائی ہوئی۔۔۔۔ جو شہزاد کے والد نے رکوائی تھی۔۔۔
کیا ہوا ہے تم کیوں لڑ رہے ہو اس طرح؟؟ انھوں نے زاکوان سے سوال کیا تھا۔۔۔۔ اپنے بیٹے سے ہی پوچھیں۔۔۔۔ پہلے اس نے اس لڑکی کو چھیڑا اور پھر وی ویڈیو وائرل کی۔۔۔۔ اس نے وخشت زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
یہ کام میرے بیٹے شہزاد کا نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کے حق میں بولے تھے۔۔۔۔۔ ارے اگر اس نے نہیں کیا ہے تو یہ کام کس نے کیا ہے ؟؟ زاکوان نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے نہیں کیا تم پہلے اس کی تشویش کرو۔۔۔ پھر آنا۔۔۔ انھوں نے کہا۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اگر یہ کام۔تیرا ہوا تو تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ غصے سے کہتے ہوئے وہ وہاں سے نکلا تھا۔۔۔
بابا۔۔!! آپ نے اسے کیوں جانے دیا۔۔۔۔ اس نے غصے سے کہا۔۔۔۔ چپ رہو تم کمرے میں جاؤ۔۔۔۔ اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زونی زونی۔۔۔۔ ؟؟ زونی کہاں ہو تم۔۔۔۔ مدھم سی آواز میں کہتا ہوا دبے قدم رکھتا ہوا وہ گھٹیا شخص آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ وہ ڈری سہمی سی صوفے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ اس کی خالہ کا شوہر ہے جو اس کی خالہ کی وفات کے بعد اس کی جان کا دشمن بنا گیا تھا۔۔۔۔
اس کی سسکیاں نکل رہی تھی۔۔۔۔۔ اور ان کی آواز اس پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔
زونی بچے باہر نکلو۔۔۔۔ کوئی ملنے آیا ہے۔۔۔۔۔ شیطانی سے آواز میں اس نے کہا تھا۔۔۔۔ مطلب انھوں نے میرا سودا کردیا۔۔۔۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔
جب وہ اس کی سامنے آیا تھا۔۔۔۔ وہ ایک دم ڈری تھی۔۔۔۔
زونی کی طرف اس کی پشت تھی۔۔۔۔۔ جب ہی زونی کی نظر سائیڈ پر پڑے ہوئے کانچ کے گلدان پر پڑی۔۔۔۔
وہ آہستگی سی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ تاکہ اس پتہ نہ چلے کہ وہ اس کے پیچھے کھڑی ہے۔۔۔۔
اس نے وہ گلدان اٹھایا اور اس کی سر میں دے مارا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا وہ بے ہوش ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
وہ فوراً وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔۔۔ اپنا موبائل لیتے ہوئے وہ وہاں سے نکلی تھی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
میرب آفس میں بیٹھ کر کام کر رہی تھی۔۔۔۔ جب ہی اجالا اس کے پاس آئی تھی۔۔۔۔۔
میرب جاؤ یہ فائلز باس کو دے آؤ اپنے روم میں ہی ہوں گے۔۔۔۔۔۔ اجالا نے کہا تو اسے پچھلا سارا واقعی یاد آیا تھا۔۔۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکا اور اپنی غلطی پر ندامت ہوئی۔۔۔
میں۔۔۔۔!! کیا تم نہیں دے سکتی؟؟ میرب اس کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔۔ اس لیے اجالا کو کہا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ مجھے کام ہے۔۔۔! اس نے صاف صاف کہا تھا۔۔۔۔ اچھا دو دے آتی ہوں۔۔۔۔ میرب نے کہا فائلز پکڑی اور اس کے روم کی طرف بڑھی۔۔۔۔
وہ اس کے کمرے کے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔ لیکن پہلے اجازت طلب کی۔۔۔اجازت ملتے ہی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
