Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 29

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

”یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ مسٹر دارب خان۔۔۔۔!!“

اس کی بات سن کر میرب کو طیش آئی تھی۔۔۔۔!! ہاں یہ سچ تھا کہ وہ اسے پسند کرنے لگی تھی۔۔۔۔ پر اسے یہ امید نہ تھی۔۔۔

”یہ حقیقت ہے میرب۔۔۔۔!! میں تمھیں پسند کرنے لگا ہوں۔۔۔۔“

اس نے ایک بار پھر سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ میرب کی آنکھوں سے آفس کے کمرے والا منظر نہیں بلایا جا رہا تھا۔۔۔!!

”پر اندر کا منظر تو کچھ اور ہی بتا رہا ہے۔۔۔۔۔!!“

اس نے دارب کے آفس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ دارب کو شدید ندامت کوئی تھی کہ اس نے کومل کو اندر آنے ہی کیوں دیا۔۔۔؟؟ جبکہ وہ اس کی فطرت سے واقف تھا۔۔۔۔

”میرب۔۔۔۔!! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔!! وہ لڑکی جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔!!“

اس نے کومل کی کہی ہوئی بات کو صاف طور پر جھٹک دیا تھا۔۔۔۔!!

”مسٹر دارب خانزادہ وہ لڑکی پاغل تھی۔۔۔۔ جو آپ کے اتنے قریب کھڑی تھی۔۔۔۔۔!!”

غصے سے کہتے ہوئے وہ جا چکی تھی۔۔۔۔ دارب نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ رکنے والوں میں سے نہیں تھی۔۔۔۔!!

دعا اور زاکوان کی شادی کو ایک دن ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔!! زاکوان ناشتہ کرکے کسی کام سے باہر گیا تھا۔۔۔۔!! جس کی وجہ سے فلحال دعا گھر پر ہی تھی۔۔۔۔ وہ مہرین سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔ مہریں بھی آج فری تھی کیونکہ آج سنڈے تھا۔۔۔۔۔۔ آج اس کی چچی بھی گھر پر نہیں ہی تھی۔۔۔۔لیکن افنان گھر پر ہی موجود تھا۔۔۔۔ اور مہرین بھی اپنے کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔

”یار بہت ک طو ضام ہوتا ہے آفس میں ، بہت تھک جاتی ہوں۔۔۔۔!!“

مہرین نے کام کرکے متعلق بتاتے ہوئے دعا سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ دعا مسکرا گئی تھی۔۔۔۔ لیکن مہرین کو دعا پر شدید غصہ آیا تھا۔۔۔ کہ وہ اسے اپنے مسائل کے متعلق بتا رہی ہے۔۔۔۔! اور وہ میڈم ہنس رہی ہے۔۔۔۔!!

”بہت ہنس رہ۔۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔!!“

مہرین نے اپنا آدھا جملہ ادا کیا تھا۔۔۔۔ جب ہی کسی نے اس کے ہاتھ سے فون چھینا تھا۔۔۔۔!! اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو وہ ، کوئی اور نہیں بلکہ افنان ہی تھا۔۔۔۔ پھر آدھا جملہ اس نے افنان سے مخاطب ہوتے ہوئے ادا کیا تھا۔۔۔۔

افنان نے اس کا فون دور پھینکا تھا۔۔۔۔ جو کہ بیڈ پر گرا تھا۔۔۔۔ اپنی طرف سے وہ فون بند کرچکا تھا۔۔۔۔ لیکن فون ابھی بھی جاری تھا۔۔۔۔ دعا نے جب اس کی یہ باتیں سنی تو وہ گھبرا سی گئی تھی۔۔۔۔!!

وہ اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اسے کچھ بھی ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔ لیکن جب اس نے غور سے سنا ، تو اسے کچھ یہ آوازیں سنائی دی تھی۔۔۔۔

”افنان یہ کیا حرکت ہے۔۔۔۔!! اور تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟“

مہرین اس پر چلائی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ اسے کوئی فرق نہ پڑا تھا۔۔۔۔

”دیکھو اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔!! ؟؟, میں تمھارا ہونے والا شوہر ہوں اگر کچھ لمحے تمھارے ساتھ گزار کو گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔!!“

اس نے نہایت ہی نرمی سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ مہرین کو اس پر شدید غصہ چڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔!!

”یہ کیا بک رہے ہو تم۔۔۔۔!! کچھ اندازہ بھی ہے تمھیں کہ کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟“

مہرین ایک بار پھر سے اس پر چلائی تھی جبکہ اس پر تو کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

”اگر تم یہاں کنفرٹیبل نہیں ہو تو میرے روم میں چلتے ہیں۔۔۔۔!!“

یہ کہتے ہوئے افنان نے بے غیرتی کی ساری حدیں پار کی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اس دفعہ مہریں خود کو نہیں روک پائی تھی۔۔۔۔!!

”چٹاخ۔۔۔ !!”

ایک زوردار تھپڑ مارا تھا اس نے اسے ، جبکہ اس چیز کو بالکل بھی برداشت نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔!!

”تمھاری اتنی جرات کہ تم نے مجھے تھپڑ مارا سود سمیت تمھیں واپس کروں گا۔۔۔۔!! ”

افنان نے شدید غصے سے کہتے ہوئے اس کے چہرے پر تھپڑ مارنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔ جب ہی مہریں نے پاس پڑا گلدان اس کے سر پر دے مارا تھا۔۔۔۔ اس کے سر سے خود بہنے لگا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔۔

دعا یہ سب سن رہی تھی اور سمجھ بھی گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ مکمل طور پر گھبرا رہی تھی۔۔۔۔ اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا کہ کہیں مہریں کے ساتھ کچھ برا نہ ہو جائے۔۔۔۔ اب آوازیں آنا بھی مکمل طور پر بند ہو چکی تھی۔۔۔۔!! اسی وقت زاکوان اور حسن گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔ جب کہ زاکوان دعا کو پریشان دیکھ کر خود بھی پریشان ہو گیا تھا۔۔۔۔

”دعا۔۔۔۔!! کیا ہوا ہے پریشان کیوں ہو۔۔۔۔؟؟“

اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے اس نے ایک سوال پوچھا تھا۔۔۔۔!!

”زاکوان۔۔۔۔!! وہ میری دوست مہ۔۔۔ مہرین۔۔۔۔!! وہ گھر میں اکیلی۔۔۔ اور اس کا وہ کزن۔۔۔۔!“

وہ اتنا گھبرا گئی تھی کہ اس کی آواز نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ جبکہ حسن مہریں اور پھر یہ بات سنتے ہی تپ اٹھا تھا۔۔۔۔

”تو بھابھی۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں جا کر اس کی مدد کرنی چاہیے۔۔۔۔!!“

حسن نے ان سے کہا تھا۔۔۔۔ جس پر زاکوان نے بھی سر ہلایا تھا۔۔۔۔ اور وہ گاڑی میں وہاں سے نکلے تھے۔۔۔۔۔!!

مہرین اس وقت گھر کے ہی کسی کمرے میں تھی۔۔۔۔!! جبکہ افنان پر اس زخم کا کوئی خاص اثر نہ ہوا تھا۔۔۔۔ وہ دروازے کے باہر کسی شکاری کتے کی طرح اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔

”کب تک بچو گی مجھ سے مہرین۔۔۔۔!! کبھی نہ کبھی تو باہر آو گی ہی نہ تو پھر میں دیکھو گا کہ تم کہا ں جاتی ہو۔۔۔۔ !!“

اس نے شیطانی مسکراہٹ لیے چہرے پر بہت ہی گھٹیا سے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔!!

جبکہ وہ ننھی سے کلی اندر سہمی سی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ دروازہ لاک تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ دروازہ توڑ ہی کہ دے۔۔۔۔ اس کے لیے یہ کوئی مشکل بات نہ تھی۔۔۔۔ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی ، وہ اس کی نیت کو جانتی تھی پھر بھی اسے اس گھٹیا پن کی امید نہ تھی ، جو وہ کرچکا تھا۔۔۔۔۔

” دیکھو مہرین۔۔۔۔! میں کہہ رہا ہوں کہ دروازہ کھول دو ورنہ تمھارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔!!“

اس نے ایک آخری دفعہ کہتے ہوئے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔۔۔ جس پر وہ ایک دفعہ پھر سے کانپ اٹھی تھی۔۔۔۔

لیکن یہ اس کا آخری جملہ تھا۔۔۔ کیونکہ حسن وہاں پہنچ چکا تھا۔۔۔۔۔ اور اس کی ساری باتیں بھی سن چکا تھا۔۔۔۔ اس کا تن بدن جل رہا تھا۔۔۔۔

حسن نے اس کے قریب پہنچتے ہوئے اسے کارلر سے پکڑتے ہوئے اس کے منھ پر ایک زور دار مکا مارا تھا۔۔۔۔!!

جس سے اس کا کب کا کنارہ پھٹا تھا۔۔۔۔۔ اور خون بہا تھا۔۔۔۔ لیکن افنان تو ابھی بھی شاک میں تھا۔۔۔۔ کہ یہ لڑکا کون ہے جو اس کے گھر میں گھس کر اسے مار رہا ہے۔۔۔۔!! اتنی ہی دیر میں وہاں دعا اور زاکوان بھی پہنچ گئے تھے۔۔۔۔!!

دعا نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔۔۔۔۔ جس پر مہریں نے دروازہ کھولا تو وہ انھیں اپنے سامنے پا کر دعا کے گلے سے لگ کر رونے لگی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ یہ آنسو حسن کے دل پر گر رہے تھے۔۔۔۔۔

کچھ ہی لمحوں بعد نیلم بھی گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔

”ہائے میرے بچے کو کیوں مار رہے ہو۔۔۔۔؟؟“

گھر داخل ہوتے ہی اس نے ان سب کو وہاں پایا تھا لیکن جب حسن کے ہاتھوں افنان کو پٹتے دیکھا اس کی جیسے جان ہی نکل گئی۔۔۔۔!!

”آپ کے بیٹے نے مہریں کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔!!!“

اس کو دیکھتے ہوئے دعا نے نہایت ہی کرہت لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ یہ سب سن کر نیلم بہت گھبرائی تھی۔۔۔۔۔ اور افنان کو گھورا تھا۔۔۔۔۔

”امی۔۔۔۔! ایسی کوئی بات نہیں ہے اس مہریں نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا۔۔۔۔!!“

وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں اس کی بات پر ہی یقین کرے گی اسی وجہ سے اس نے سارا الزام مہرین پر ڈال دیا ، جبکہ باقی سب نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔۔

”یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم۔۔۔۔ میں نے خود تمھیں مہریں سے یہ گھٹیا باتیں کرتے سنا ہے۔۔۔۔۔!!!“

اس کی یہ گھٹیا بات سنتے ہی حسن تپ اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور فوراً سے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ نیلم نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔

”دیکھو میاں۔۔۔۔ میری بات سنو تم کون ہو ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے والے۔۔۔۔۔!! اور اگر میرا بیٹا کہہ رہا ہے تو ضرور اس گھٹیا لڑکی نے ہی کچھ ایسا کیا ہوگا۔۔۔۔!!“

نیلم نے صاف طور پر اس کی بات کو رد کیا تھا۔۔۔۔ جبکہ مہریں حیران تھی کی آج بھی وہ اپنے بیٹے کا ہی ساتھ دے رہی ہے۔۔۔۔؟؟

”اور ویسے بھی اس لڑکی سے شادی کون کرے گا؟ میرا بیٹا اور کون کرے گا جس کا نہ ہی کوئی گھر میں کوئی ماں نہ باپ کچھ اتا پتہ نہیں۔۔۔۔ کون کرے گا اس سے نکاح کیا تم کرو گے۔۔۔۔۔!!“

اس کی ماں نے جتایا تھا لیکن حسن کا دیا ہوا جواب اس کا منھ بند کروا گیا تھا۔۔۔۔۔!!

”میں کرو گا مہریں سے نکاح۔۔۔۔!!“

حسن نے بہت ہی ہمت سے کہا تھا۔۔۔۔۔ دعا اور مہرین اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ زاکوان مسکرایا تھا۔۔۔۔

”آج ہی کرو گے نکاح۔۔۔؟؟۔!!“

نیلم نے اس سے سوالیہ انداز میں پوچھا تھا۔۔۔۔!!

”جی آج ہی کرو گا می یہں یہ نکاح لیکن اس سے پہلے میں اپنے گھر والوں کو بتانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔!!“

حسن نے اس سے کہا تو اس کے ماتھے پر بل آئے تھے۔۔۔۔۔

”دیکھ لینا میاں کہ بعد میں کہیں انکار نہ کردینا۔۔۔۔!!“

نیلم نے آئیبرو اچکاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

”نہیں کرو گا میں انکار۔۔۔۔!!!“

اس نے سر کو ناں میں ہلاتے ہوئے کہا تھا جبکہ مہرین یہ سب صرف دیکھ کر ہی رہ گئی تھی۔۔۔۔

کہ کچھ ہی لمحوں میں اس کا نکاح طہ ہو گیا تھا۔۔۔۔ایک ایسے شخص سے جسے وہ مکمل طور پر جانتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔

وہ لوگ گھر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔۔۔۔

کوئی ایسے کیسے کرسکتا ہے۔۔۔۔؟؟ اپنی ہی گھر کی عزت کو برباد کرنے کے بارے میں کوئی کیسے سوچ سکتا ہے۔۔۔۔؟؟ حسن کے ذہن میں یہ خیالات کھلبلی مچا رہے تھے۔۔۔۔۔! جبکہ دوسری طرف وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔۔ دعا اور زاکوان بھی اپنی گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ گھر پہنچے تھے۔۔۔۔

وہ تینوں گھر میں داخل ہوئے تو سامنے ہی سب بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ حسن کو یوں ہی لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی ہی بات سننے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں وہ لوگ۔۔۔۔!! شانزے دعا اور زاکوان کو ایک ساتھ دیکھ کر اندر تک جل چکی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اب اس کے ارادے بھی نیک نہ تھے۔۔۔۔۔ حسن نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا تو سب نے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔

”میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔!!“

یہ سنتے ہی سب نے اسے حیرانگی سے دیکھا تھا کہ جسے کوئی لڑکی پسند نہ آتی تھی اب وہ ہزار لڑکیوں کو ریجیکٹ کر چکا تھا۔۔۔۔ اس نے کیسے یہ بات اپنے منھ سے نکال لی تھی۔۔۔۔!!

”یہ تو بہت خو اجہشی کی بات ہے کہ تم شادی کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔!!“

دانیال نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ اس شادی پر تو شانزے بھی خوب مسکرائی تھی۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ اس کے بھائی کی شادی جو تھی۔۔۔۔۔

”بابا۔۔۔!! آپ شائید میری بات سمجھے نہیں ہیں۔۔۔۔۔ مجھے آج ہی شادی کرنی ہے ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔۔!!!“

اس نے یہ کہا تو سب نے ایک بار پھر سے اسے حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔ کہ وہ تو آج ان سب کے سروں پر بم ہی پھوڑ رہا تھا۔۔۔

”کیا کسی لڑکی کو پسند کرتے ہوئے تم۔۔۔۔!!“

دانیال نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔۔!!

”کسی کی عزت بچانے کے لیے۔۔۔۔۔!!“

دو ٹوک انداز میں اس نے جواب دیا تھا۔۔۔۔ جس پر دانیال نے سر ہاں میں ہلا دیا تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ کسی کی عزت بچانا کوئی غلط بات نہ تھی۔۔۔۔۔ اور وہ تو اس سے نکاح کررہا تھا۔۔۔۔۔ ایک پاکیزہ رشتے میں اسے اپنے ساتھ باندھ رہا تھا۔۔۔۔۔!!

تو یہ غلط کیسے ہوتا اور وہ لوگ کیوں نہ مانتے۔۔۔۔!! وہ لوگ خود بھی ایسے ہی حالات سے گزر چکے ہیں۔۔۔۔۔!!

کچھ ہی لمحوں میں واسم نے مولوی صاحب کو فون کر کے بتایا تھا اور ڈرائیور کو انھیں پک کرنے کے لیے بھیجا تھا۔۔۔۔۔

ان سب کے لیے یہ بات بھی کافی تھی کہ وہ شادی کررہا ہے۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ لوگ تیار ہوتے ہوئے شاہ مینشن سے نکلے تھے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *