Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 32
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 32
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
حسن کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی وہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!! ایک نظر اسے دیکھا تو اس سے نظر ہٹا نہ سکا مہریں لائٹ پنک کلر کے سوٹ میں نہایت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ حسن کو تو یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ آج تک اس نے اس سے زیادہ خوبصورت کوئی اور دیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔!!
جب اپنے وجود پر مہرین کو حسن کی گہری نظریں محسوس ہوئی تو مہرین نے اسے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔ جس پر اس نے نظریں فوراً گھمائی تھی۔۔۔۔۔۔ اور کچھ ہی لمحات بعد وہ واش روم میں بند ہوگیا تھا۔۔۔۔ جب واش روم سے باہر نکلا تو وہ اسی جگہ پر موجود تھی۔۔۔۔۔!!
”مجھے آ۔۔ آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔!!!“
اس کے الفاظ سنتے ہی وہ اپنی جگہ پر رکا تھا جبکہ وہ اس کے پاس آئی تھی۔۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ جو بات وہ اس سے کرنے جارہی ہے کیا وہ صحیح ہے یا نہیں۔۔۔۔۔!!
”ہمم۔۔۔!! کہو میں سن رہا ہوں۔۔۔!!“
اس کی بات کو سنتے ہوئے اس نے نرمی سے بات کی تھی۔۔۔۔۔ کئی دن گزر گئے تھے لیکن ابھی تک ان کے درمیان کوئی صحیح طریقے سے بات تک نہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!! پہلے یوں اچانک نکاح اور پھر دعا اور زاکوان کا ایکسیڈینٹ۔۔۔۔!!
”د۔۔ دیکھیں میں جانتی ہوں کہ یہ نکاح جن حالات میں ہوا ہے۔۔۔۔ آپ بھی یہ نہیں چاہتے تھے۔۔۔ اور نہ ہی میں ایسا کچھ چاہتی تھی۔۔۔۔ تو اب اس لیے میں چاہتی ہوں کہ ہم علیحدہ ہو۔۔۔۔!!!“
حسن اس کی بات پہلے بہت ہی اطمینان سے ضبط کیے ہوئے سنتا جارہا تھا۔۔۔۔ لیکن جب ہی مہرین نے اس سے علیحدگی کی بات کی تو وہ لب بھینج گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اسے ہاتھ سے چپ کرنے کا اشارہ کیا تو وہ بولتی ہی چپ ہوگئی۔۔۔۔
”آج تو یہ بات کردی ہے۔۔۔۔ پر آئیندہ مت کہنا۔۔۔۔!!“
خود پر بڑی ہی مشکل سے قابو پاتے ہوئے خود پر ضبط کرتے ہوئے اس نے پرسکون لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔!!
”لیکن مجھے یہ زبرستی کا رشتہ نہیں رکھنا۔۔۔۔ !! “
حسن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس نے بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا۔۔۔۔
”اور کا نے کہا کہ یہ رشتہ زبردستی کا ہے ۔۔۔ ؟؟“
اپنے آئیبرو کا اچکاتے ہوئے حسن نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔۔!!
”میرے لیے یہ رشتہ تو زبردستی کا ہی ہے۔۔۔۔!!“
مہرین کا جواب سنتے ہی وہ سختی سے لب بھینج گیا تھا۔۔۔۔
”میں اس رشتے کا دل سے نبھا رہا ہوں۔۔۔۔۔!!“
اس کی یہ بات ہوئے مہرین نے آخری سے ہاتھ بھینجے تھے ، وہ بس اس رشتے رہائی چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
”آپ کیوں نہیں سمجھ رہے مجھے نہیں رکھنا کوئی تعلق آپ سے۔۔۔۔!!“
مہرین نے اس سے یہ کہتے ہوئے اپنا رخ موڑا تھا۔۔۔۔ جب ہی حسن نے اس کے بازو کو ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔۔
”آج تو یہ بات کردی ہے۔۔۔۔ پر آئیںدہ کے کرنا۔۔۔۔ میں تمھیں کبھی بھی نہیں چھوڑو گا۔۔۔ مر بھی گیا نا تو تب بھی تم صرف میری ہی رہو گی۔۔۔۔ اپنے ذہن سے خیال نکال دو اور آئیندہ یہ بات کی تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا سمجھی۔۔۔! تم صرف حسن شاہ کی ہو صرف حسن شاہ کی۔۔۔۔!!“
اس کے بازوؤں کو پر شدید گرفت بنائے اپنی آنکھوں میں لال خون لیے اس نے کہا تو وہ سہم سی گئی۔۔۔۔ جبکہ اسے سہمتا ہوا دیکھ کر حسن نے ایک دم سے گرفت ڈھیلی چھوڑی تو اس نے پیچھے ہٹنا چاہا۔۔۔۔ لیکن حسن نے مہرین کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اپنے طرف کھینچا تھا۔۔۔۔ جس سے وہ اس کے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔ جبکہ حسن کے اس عمل سے وہ اس کے بہت قریب پہنچ چکی تھی۔۔۔۔ جبکہ حسن نے اس کی کمر پر اپنی گرفت سخت کی تھی۔۔۔۔
”پیار سے سمجھا رہا ہوں کہ مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت پوری زندگی میرے ساتھ ہی گزارنی ہے تمھیں چاہے ہنس کے گزارا یا رو کے۔۔۔۔!!“
حسن نے رمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نہایت ہی پیار سے کہا تھا۔۔۔۔!! جبکہ وہ مکمل طور پر ڈر گئی تھی اس کا یہ روپ بھی دیکھ کر۔۔۔۔! کچھ لمحات بعد اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا وہ کمرے سے نکلا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ وہی بیڈ پر خود میں ہی سمیٹتی ہوئی بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
انائیرہ کمرے میں پہنچی تھی۔۔۔۔ وہ اب اکثر دعا کے پاس ہی رہتی تھی۔۔۔۔ ان دونوں میں کافی دوستی ہوگئی تھی۔۔۔۔ جبکہ اس کی دوستی مہرین سے کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔۔۔۔ لیکن جب وہ کمرے میں آئی تو اس وقت سوہم کمرے میں موجود نہ تھا۔۔۔۔!! وہ اس سے دور دور رہنے کی ہی کوشش کرتی تھی۔۔۔ جسے سوہم محسوس کررہا تھا۔۔۔ پر وہ بھی کاموں میں کافی بیزی تھا۔۔۔ جس وجہ سے اس سے کھل کر بات نہیں کر پارہا تھا۔۔۔۔۔!! وہ کمرے میں جیسے ہی آئی تو اس کے فون پر کئی میسیجز آئے ہوئے تھے۔۔۔ اس نے دیکھا تو وہ مسیجز احمد کے تھے۔۔۔
ہائے۔۔۔!! کیسی ہو۔۔ ؟ مجھے بھول تو نہیں گئی۔۔۔؟ میں احمد یاد ہوں گا کوئی محبت ایسے نہیں بھولتا۔۔۔۔!!
اس کے یہ مسیجز پڑھ کر انائیرہ کو شدید غصہ آیا تھا۔۔۔ جبکہ ایسا وہ دو سے تین سے کررہا تھا۔۔۔ لیکن انائیرہ نے کسی سے بھی کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔ حتی کہ سوہم سے بھی کچھ نہ کہا تھا۔۔۔۔!! جو شائید اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔۔۔!!
وہ ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ حیران ہوئی تھی۔۔۔۔ اور فوراً فون سائیڈ پر رکھا تھا۔۔۔ لیکن جیسے ہی وہ مڑی تو سامنے ہی سوہم کھڑا تھا۔۔۔ اس کا یہ عمل سوہم کی آنکھوں سے نہیں بچا تھا۔۔۔۔
جب کہ وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ لیکن انائیرہ کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
”کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔؟؟“
اس کو جاتا ہوا دیکھ کر سوہم نے ایک گرجتی آواز سے کہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ انائیرہ کا اسے خود کو یوں اگنور کرنا پسند نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔
”و۔۔ وہ م۔ مجھے کام ہے کچھ دیر تک آتی ہوں۔۔۔۔“
یہ کہتے ہوئے وہ سوہم کو کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر وہ کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔ جبکہ سوہم اس کی سپیڈ ہی دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔۔
وہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔ اس کا فون بجا تھا۔۔۔۔ سوہم نے دیکھا تو ایک ان ناؤن نمبر تھا۔۔۔ اس نے فون بند کردیا لیکن وہ پھر سے بجنے لگا تھا۔۔۔ اس نے اٹھایا تو جس شخص کی آواز اس نے آگے سنی وہ اس کے ماتھے پر بل ڈال گیا تھا۔۔۔۔۔۔
”ارے انائیرہ ڈئیر۔۔۔ شکر ہے تم نے فون تو اٹھایا ورنہ تم نے مجھے بلاک ہی کردیا تھا۔۔۔۔ بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے کیا۔۔۔؟؟؟ ہیلو انائیرہ۔۔ سن رہی ہو نہ۔۔۔۔!!“
وہ بولتا جارہا تھا۔۔۔۔۔ جب ہی اسے محسوس ہوا کہ انائیرہ کچھ بھی ریکٹ نہیں کر رہی تو اس نے فوراََ کہا تھا۔۔۔۔
”تیری ہمت کیسے ہوئی ، کہ تو نے اپنی زبان سے میری بیوی کا نام لیا۔۔۔۔!!“
سوہم کی بھاری آواز سنتے ہی احمد جو پتہ نہیں کیا کیا بول گیا تھا۔۔۔ اس کی ٹانگیں تک کانپ گئی تھی۔۔۔۔ اس نے فوراً فون بند کردیا تھا لیکن دوسری طرف سے ہی انائیرہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ سوہم کے ہاتھ میں اپنا موبائل دیکھ کر وہ ڈر سی گئی تھی۔۔۔۔۔ سوہم اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ وہ بھی دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔ اور دروازے سے جا لگی تھی۔۔۔۔۔
”یہ حسن تمھیں بار کالز کر کے تنگ کررہا ہے۔۔۔۔!!“
سوہم اس کے قریب ہوتے اس سے سوال پوچھتا ہے جب کہ اسے جس چیز کا ڈر وہی ہوا تھا۔۔۔۔۔
”و۔۔ وہ۔۔۔!!“
اس کے الفاظ گلے میں ہی اٹک گئے تھے۔۔۔۔۔ جب ہی اسے غصہ آیا تھا۔۔۔۔
”جواب دو۔۔۔۔۔!!!“
اس کی آواز کی دھاڑ سے وہ کانپ اٹھی تھی۔۔۔۔۔ اور فوراً جواب دیا تھا۔۔۔
”جی۔۔۔۔!!!“
یہ سنتے ہی سوہم اپنی مٹھیاں اور لب سختی سے بھینج گیا تھا۔۔۔۔۔
”کب سے۔۔۔۔۔۔؟؟“
ایک اور سوال اس سے پوچھا گیا تھا۔۔۔۔۔
” د۔۔ دو دن۔۔ سے۔۔۔۔!!“
یہ سنتے ہی سوہم نے حیرانگی سے انائیرہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔ جو نظریں جھکائے کھڑی تھی کہ وہ گھٹیا لڑکا اسے دو دن سے تنگ کررہا ہے اور اس نے اتنی زخمت نہ کی اپنے شوہر کو ہی بتا دے۔۔۔۔!!
”اور تم نے مجھے بتانا بھی گوارہ نہیں کیا۔۔۔۔؟؟“
اس نے ایک بار پھر سے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ ایک مرتبہ پھر سے وہ گھبرائی تھی۔۔۔۔
”آ۔۔ آپ گ۔۔ گر نہیں تھے۔۔۔۔!!“
اس نے نا بتانے کی وجہ بتائی تو وہ سر ہاتھوں میں دے گیا تھا۔۔۔۔
”تو تم مجھے فون کرکے بتا سکتی تھی۔۔۔۔!!“
اس نے کہا تھا۔۔۔۔ جب ہی اس نے اگلی بات کی تھی۔۔۔۔
”میں نے آپ کو فون کیا تھا۔۔۔ ل۔۔لیکن آپ نے ن۔۔ نہیں ا۔۔اٹ۔۔ اٹھایا۔۔۔۔!!“
اس نے جھجھکتے ہوئے لہجے میں اسے بتایا کہ انائیرہ نے سوہم کو فون کیا تھا۔۔۔ لیکن اس نے اٹھایا نہ تھا۔۔۔۔
”ٹھیک ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔۔!! لیکن اگر آئیندہ یہ تمھیں تنگ کرے تو تم نے مجھے بتانا ہے۔۔۔ میں شوہر ہو تمھارا اور تم میری بیوی۔۔۔ مجھے تمھارے بارے میں سب معلوم ہونا چاہئے۔۔۔ آئیندہ یہ گستاخی معاف نہ ہوگی۔۔۔۔!!“
اسکے تھوڑی جو نرمی سے پکڑتے ہوئے اس نے بڑی ہی عقیدت سے کہا تھا۔۔۔۔ انائیرہ کی پشت دروازے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ اور وہ ایک ہاتھ دروازے سے لگائے ایک ہاتھ سے اس کی تھوڑی پکڑے ہوئے کھڑا تھا۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ اس کے نازک گالوں پر اپنے لب رکھ گیا تھا۔۔۔۔ جب کہ اس کا یہ عمل انائیرہ کو حیران کرگیا تھا۔۔۔۔ وہ مکمل طور پر سرخ ہوئی تھی۔۔۔۔
