Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 15 (Part - 1)

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt


بابا۔۔۔!! مجھے وہ لڑکی کسی بھی صورت میں چاہئیے۔۔۔۔!! چاہے اسکے لیے آپ کسی کی جان لیں یا جو بھی کریں۔۔۔۔!!

وہ اپنے باپ سے ضد کر رہا تھا۔۔۔۔!! جبکہ وہ خاموش کھڑے اس کی بات سن رہے تھے۔۔۔۔!!

میری جان۔۔۔!! میرے بیٹے۔۔۔۔!! میں نے اس آدمی کو کام پر لگایا ہے۔۔۔!! تم فکر مت کرو۔۔۔۔!!

انھوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔!!

ٹھیک ہے بابا۔۔۔۔!!

یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکل چکا تھا۔۔۔۔!! جبکہ اس کے بابا نے کسی کو فون کیا تھا۔۔۔

جلدی کام کرو۔۔۔۔ وقت ختم ہورہا ہے۔۔۔۔!!

انھوں نے فون اٹھاتے ہی کہا تھا۔۔۔۔

جی سر بس کچھ دیر اور وہ لڑکی پھر مل جائے گی آپ کو۔۔۔۔

اس نے انھیں خوشخبری سنائی تھی۔۔۔۔۔!!

ٹھیک ہے۔۔۔۔!!

یہ کہہ کر انھوں نے فون بند کردیا تھا مگر وہ۔یہ نہیں جانتے تھے کہ اب کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔

کیا وہ زونی کو پا پائے گے۔۔۔۔؟؟

اسلام علیکم سر۔۔۔۔!!

آفس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔۔!! بیٹھو عمر۔۔۔۔ اور ساری ڈیٹلیز بتاؤ مجھے۔۔۔۔!!

سامنے بیٹھے ہوئے سالار نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔ دوسری طرف عمر بیٹھتے ہوئے اسے ساری باتیں اسے بتانا شروع کی تھی۔۔۔۔!!

سر دراصل بات یہ ہے کہ زونی کے خالو جواد گینگ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔۔۔۔ !! وہ انھیں ان کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔

ایک معاہدے کے تحت جو انھوں نے آج سے اٹھارہ سال پہلے کیا تھا۔۔۔۔۔!!

یہ سن کر سالار کو بالکل یقین نہ آیا کہ کیا واقع یہ اس کے رشتے دار ہیں۔۔۔۔!! جو اس کا سودا کر رہے ہیں۔۔۔

مجھے معلوم ہے کہ اب مجھے کیا کرنا ہے۔۔۔۔!! یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔!!

زونی کمرے میں بیٹھی بیٹھی بور ہی ہو رہی تھی جب ہی اسے کمرے کا دروازا کھلنے کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔

کیا میں اندر آجاؤ۔۔۔۔!!!؟؟

سالار نے دروازہ کھولتے ہوئے باہر سے ہی سوال کیا تھا۔۔۔۔!! جس پر زونی نے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔

جی آجائیں۔۔۔۔!!

اس کا جواب سن کر سالار کمرے میں کے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔!!

مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔!! اس کے بالکل سامنے آتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔

جی کہیں۔۔۔۔!!

اس کی بات سن کر زونی نے فوراً جواب دیا تھا۔۔۔۔

ہمیں نکاح کرنا کرنا ہوگا۔۔۔۔!! یہ بات سنتے ہی جیسے تو زونی کے ہوش اڑ گئے تھے۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ کہیں یہ پاگل تو نہیں ہو گیا۔۔۔۔

میں جانتا ہوں کہ تمھیں بتا لگا ہو گا۔۔۔۔۔ لیکن یہ کرنا ہو گا ہمیں۔۔۔۔۔ کیونکہ اگر تم میرے نکاح میں ہو گی تو ہی تمھارا وہ خالو تمھیں یہاں سے لے جانے میں رکے گا۔۔۔۔۔

ورنہ وہ تمھیں بیچ دے گا۔۔۔۔۔ اور جو نہ میں چاہتا ہوں اور نہ تم۔۔۔۔!!

یہ کہتے ہوئے اس نے بات مکمل کی تھی۔۔۔۔ جبکہ زونی سوچ میں پڑ گئی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *