Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 21

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

واسم اور ایلف دعا کے پاپا کے پاس آئے تھے۔۔۔زاکوان کی خوائش پر۔۔۔۔ لیکن کیا واقع وہ راضی ہونگے۔۔۔۔

وہ سارے اکٹھے ہوکر بیٹھے تھے۔۔۔۔ دعا ان کے لیے کھانے کے کچھ اور ساتھ چائے لائی تھی۔۔۔۔ اس کے بعد واسم نے بولنا شروع کیا تھا۔۔۔۔

”بھائی صاحب۔۔۔!! ہم آپ سے آج اپنی امانت مانگنے آئے ہیں۔۔۔۔ آپ دعا کو اب ہمیں دے دیں۔۔۔۔ ہم ان دونوں کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔!!“

واسم نے بات مکمل کی تو دعا اور اس کے بابا دونوں کو ہی کچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔۔

”لیکن واسم صاحب۔۔۔!! اتنی جلدی۔۔۔۔ کیسے۔۔۔ تیاری کیسے ہو گی۔۔۔۔“

دعا کے بابا نے انھیں وجہ بتائی تھی۔۔۔۔ جبکہ دعا تو پہلے ہی کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔ ایلف اس کی کیفیت کو سمجھ گئی تھی۔۔۔۔

”دیکھیں بھائی صاحب۔۔۔۔!! ہمیں صرف دعا چاہئیے۔۔۔ نہ کہ کوئی جہیز وغیرہ کچھ بھی نہیں چاہئیے۔۔۔۔!!“

ایلف نے ان کی بات سن کر کہا کہ انھیں جہیز وغیرہ سے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی انھیں چاہئیے۔۔۔۔

دعا کمرے میں آگئی تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ زاکوان نے ایسا کیوں کیا ہے۔۔۔۔؟؟ جب ہی اس کا فون بجا تھا۔۔۔ اس نے دیکھا تو زاکوان کا تھا۔۔۔ اس نے فوراً فون اٹھایا۔۔۔۔

”اسلام علیکم دعا کیسی ہو۔۔۔۔؟؟ “

فون اٹھاتے ہی دوسری طرف سے اس کا حال پوچھا گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ لب بھینج گئی تھی کہ وہ جانتا ہے کہ اسے ابھی شادی نہیں کرنی پھر بھی یہ سب کیوں۔۔۔۔؟؟

”وعلیکم اسلام۔۔۔ !! یہ سب کیا ہے۔۔۔۔؟؟ تم نے انکل آنٹی کو کیوں بھیجا ہے۔۔۔۔؟؟“

اس نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔!!

”ہماری شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کے کیے۔۔۔۔۔!!“

اس نے ایک منٹ لگائے بغیر یکا یک اس کی بات کا جواب دیا تھا۔۔۔۔!! جبکہ دعا حیران رہ گئی تھی۔۔۔۔!!!

”لیکن تمھیں اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔۔؟؟“

دعا نے اس کی بات سن کر غصے سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔ اور پھر سے بولا۔۔۔

”وہ کہتے ہیں نہ کہ کل کرے سو آج کر آج کرے سو اب کر۔۔۔۔“

یہ سنتے ہی دعا کا میٹر شارٹ ہوگیا کہ اس بندے کو اتنی جلدی کیا پڑی ہوئی ہے۔۔۔ اس نے غصے سے فون بند کردیا۔۔۔ اور باہر کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔

وہ باہر اپنے بابا کی طرف آئی تھی۔۔۔۔ اس نے اپنے بابا کو بات کرنے کے لیے علیحدہ سے بلایا تھا۔۔۔۔ اور وہ اس کے ساتھ آئے تھے۔۔۔

”دعا۔۔۔ بیٹا۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ اس طرح کیوں لائی ہو یہاں۔۔۔۔۔!!“

دعا کے بابا نے اسے اپنے ساتھ لانے پر وجہ پوچھتی تھی۔۔۔ جبکہ دعا جو بات کرنے جا رہی تھی اس میں جھجک رہی تھی۔۔۔۔

”بابا۔۔۔۔!! آپ انھیں شادی کے لیے ہاں کہہ دیں۔۔۔۔“

دعا کی بات سن کر انھیں سمجھ نہیں آیا کہ یہ سب کو شادی کا کیا بھوت چڑھا ہوا تھا۔۔۔۔

”کیا۔۔۔۔؟؟ یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹا۔۔۔۔؟؟“

اس کی بات سن کر انھوں نے حیرانگی سے کہا تھا۔۔۔ جبکہ وہ خاموش سی تھی۔۔۔۔ وہ کیوں راضی ہوئی تھی اس شادی کے لیے۔۔۔۔

”اچھا۔۔۔۔!! ٹھیک ہے میں جا کر بات کرتا ہوں۔۔۔ وہ لوگ انتظار کر رہے ہو گے۔۔۔۔۔!!!“

یہ کہتے ہوئے اس کے بابا وہاں سے گئے تھے۔۔۔۔۔ جبکہ وہ چپ چاپ سی کھڑی تھی۔۔۔۔۔!!

 سالار اور زونی ان کے فارم ہاؤس پر آئے تھے۔۔۔۔!! جبکہ دارم اور جواد جانتے تھے کہ وہ لوگ فارم ہاؤس گئے ہوئے ہیں۔۔۔ ان کا تو زونی کو وہاں سے لے جانے کا بھی ارادہ تھا۔۔۔۔

لیکن سالار نہیں جانتا تھا کہ وہ لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔۔۔۔ لیکن پھر بھی فارم ہاؤس پر سیکیورٹی بہت ٹائٹ تھی۔۔۔۔۔۔!!

دارم اور جواد نے اپنے کچھ لوگ بھیجے تھے۔۔۔۔ ان کے فارم ہاؤس پر لیکن سیکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے وہ لوگ پکڑے گئے تھے۔۔۔۔!!

زونی کمرے میں تھی۔۔۔۔ سفر کافی طویل تھا۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ کافی تھک گئی تھی۔۔۔ اور رات میں بھی صحیح طریقے سے نہیں سوئی تھی۔۔۔۔ جس وجہ سے وہ گہری نیند کی وادیوں میں تھی۔۔۔۔

سالار بھی اسے پریشاں نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ کیونکہ شام کے چھ بج چکے تھے۔۔۔۔۔!! اس لیے اس نے اسے سونے دیا تھا۔۔۔۔۔

وہ باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ اور باہر پڑی کرسی پر وہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس کے آدمیوں نے دو لوگوں کو اس کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھایا تھا۔۔۔۔

”سر۔۔۔۔!! یہ لوگ ناجانے کون ہیں۔۔۔۔ چوری چھپے اندر داخل ہورہے تھے۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کس ارادے سے آئے ہیں۔۔۔۔!!“

اس کے ایک آدمی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ سالار نے ان دونوں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔

”ہاں بھئی کون ہو تم لوگ اور بتاو یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔ جس ارادے سے آئے ہو۔۔۔۔؟؟؟؟؟“

سالار نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے ان دونوں سے پوچھا کہ ان کا کیا ارادہ کس کے کہنے پر یہاں چوری چھپے داخل ہونے کی جرات کی۔تھی ان دونوں نے۔۔۔۔۔!!!

”ہم یہاں جواد کے کہنے پر آئے ہیں۔۔۔۔ اور اس لڑکی زونی کو یہاں سے کر جائے گے۔۔۔۔۔!!!!“

زونی کا نام ان کے منھ سے سن کر اسے اس قدر غصہ آیا تھا کہ اس نے فوراً اٹھتے ہوئے اس کے منھ پر ایک زور دار مکا مارا تھا۔۔۔۔۔

جس سے اس کا پھٹ گیا اور خون کی کچھ بوندیں زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!! جبکہ وہاں موجود سب لوگ اس کی اس حرکت پر حیران رہ گئے تھے۔۔۔۔۔!!

”اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا نام مت لینا۔۔۔۔۔ ورنہ ابھی صرف ہونٹ پھٹا ہے اگلی دفعہ تیرا جسم پھٹ جائے گا۔۔۔۔۔۔!!!!“

اس نے شدید غصے سے کہتے ہوئے اسے وارن کیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ مکمل طور پر خاموش ہو چکا تھا۔۔۔۔۔!!!

”جاؤ جا کر کہہ اپنے باس کو۔۔۔ جس کی تلاش میں ہے نہ وہ سالار خان کی بیوی ہے۔۔۔۔!!!“

وہ ایک لخاظ سے ان پر گرجا ہی تھا۔۔۔۔ جبکہ اس کے اشارے پر اس کے آدمیوں نے ان دونوں کو فارم ہاؤس سے اٹھا کر باہر پھینک دیا تھا۔۔۔۔ اور وہ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔

 واسم اور ایلف دعا کے گھر تھے۔۔۔۔!! جبکہ زاکوان، شانزے حسن دانیال میں سے بھی گھر پر کوئی موجود نہ تھا۔۔۔۔۔!!

صرف انائیرہ ہی تھی۔۔۔۔ جو سو گئی تھی۔۔۔۔ شائید تھک گئی تھی۔۔۔۔ (کرتی تو وہ کچھ بھی نہیں ہے)۔۔۔۔!!

سوہم بھی ابھی ہی گھر آیا تھا۔۔۔۔!! گھر میں کسی کو بھی نا پا کر وہ سیدھا کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔

کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ لائٹ آف تھی۔۔۔ صرف ایک کیمپ کی روشنی تھی۔۔۔۔ جس میں انائیرہ کا خوبصورت چہرہ صاف نظر آرہا تھا۔۔۔۔ اور صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ سوئی ہوئی ہے۔۔۔

وہ کپڑے لیے فریش ہونے کے لیے چلا گیا تھا۔۔۔۔!! باہر نکلا تو وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔

وہ کرسی آگے کرتا ہوا اس کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔۔۔!! اس کے چہرے پر الگ سا سرور تھا۔۔۔ سوہم کو حود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے پاس کیوں بیٹھا ہے۔۔۔؟؟

اس کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ انیس سال کی ننھی سی کلی اور وہ چھبیس سال کا بھرپور مرد تھا۔۔۔۔ کیا وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا۔۔۔۔؟؟

نکاح کا رشتہ ہوتا ہی اتنا پاک ہے۔۔۔ کہ دو لوگوں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں کو بھی جوڑ دیتا ہے۔۔۔۔!!!!

اس کے چہرے پر کھلے بالوں کو وہ دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو اس کے حسن کو دیکھ چھپا رہے تھے۔۔۔۔!! جو اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ اسی وجہ سے انھیں پیچھے کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔!!

لیکن پھر ہاتھ اس کے منھ کے قریب لے جا کر اس نے روک دیا۔۔۔۔۔!!! شائید اسے اپنے ماضی سے ایک بے وفائی یاد آگئی۔۔۔۔ جس نے عورت پر سے اس کے اعتبار کو اٹھا دیا۔۔۔۔

وہ دوکھا اس کی زندگی کے سارے رنگ چھین گیا تھا۔۔۔ لیکن کیا انائیرہ یہ رنگ اس کی زندگی میں واپس لے کر اسکے گی۔۔۔۔۔؟؟؟؟

 ”کیا۔۔۔۔؟؟ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ماجد۔۔۔۔!! ایک کام دیا تھا۔۔۔ وہ بھی تم سے نہ ہوسکا۔۔۔۔۔!!!“

ماجد نے دارم کو ساری حقیقت بتائی تھی۔۔۔۔ کہ سالار نے بندوں اور اس نے اس کے بندوں کی درگت بنا دی ہے۔۔۔۔۔!!!

لیکن اب دارم کا غصہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ ماجد کی درگت بننے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!

”صبح کا سورج اگتے ہی ہم وہاں جائے گے اور اس لڑکی کو لے کر آئے گے۔۔۔۔۔۔ اور اس لڑکی کو لے کر آئیں گے۔۔۔ چاہیں پھر اس سالار کو موت ہی کیوں نہ دینی پڑے۔۔۔ سمجھے۔۔۔“

حکم دیتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔ جبکہ ماجد سر ہاں میں ہلا گیا اور اپنی سلامتی کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *