Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 2 (Part - 1)
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 2 (Part - 1)
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
اپنے چہرے پر اس کے ہاتھ سے پڑے ہوئے تھپڑ کی تپش محسوس کرتا وہ بھی رہا تھا،،،، اور اسے غصے کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے وہ اس کی طرف بڑھا تھا،،،،،
تیری اتنی جرات کہ تو مجھ پر ہاتھ اٹھائے گی،،،،، رک ابھی بتاتا ہو تجھے،،،،، یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس کی طرف بڑھایا،،،، اسی وقت دعا نے اپنی آنکھیں بند کی تھی،،،،،
لیکن کسی نے اس کا ہاتھ ہوا میں ہی روک دیا تھا،،،، زاکوان نے دعا کے سامنے آتے ہوئے اس لڑکے کا ہاتھ جھٹک دیا تھا،،،،، اس کی دعا کی طرف پشت تھی،،،،،
دعا نے آنکھیں کھولتے ہی اسے اپنے سامنے کھڑا پایا تھا،،،،،، اس نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا،،،،،
اس کی تو جرات ہے وہ ہے،،، پر تیری اتنی ہمت کیسے ہوگئی تو نے اسے ہاتھ لگایا،،،،، اس کے منھ پر ایک زوردار مکا مارتے ہوئے اس نے غصے سے کہا تھا،،،،،
مکا اتنا زور سے مارا تھا،،،، کہ اس لڑکے کے ہونٹ کے کنارے سے خون بہنے لگا تھا،،،،، وہ بھی اس کی طرف بڑھا تھا،،،،، اور زاکوان کا مارنے کے لیے اس نے ہوا میں ہاتھ اٹھایا تھا،،،،، جو اس کا ہوا میں ہی رہ گیا،،،،،
زاکوان نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے دو چار مکے اس کے پیٹ میں بھی مارے تھے،،،، وہاں کھڑے سب لوگ یہ سارا تماشہ دیکھ رہے تھے،،،،،، جبکہ دعا کی آنکھوں سے آنسو بہے جا رہے تھے،،،،،،،
زاکوان اسے مکمل طور پر ہرا چکا تھا،،،،، زاکوان نے دعا ہاتھ تھاما اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا،،،،، جبکہ وہاں کھڑے تمام لوگوں نے ویڈیو بنائی تھی,,,, اور کوئی شک نہ تھا کہ یہ قصہ اب پوری دنیا میں وائرل ہونا تھا،،،،،،
گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر دعا کو بیٹھاتے ہوئے خود زاکوان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا،،،،، جبکہ دعا مسلسل روئے جارہی تھی،،،،،
زاکوان کو اس کی عقل پر غصہ تھا جب وہ یہ بات جانتی ہے کہ اس کی یونی کے باہر ایسے گھٹیا لڑکے کھڑے ہوتے ہیں تو پھر اسے وہاں سے نکلنے کی کیا ضرورت تھی،،،،،،
وہ مسلسل روئے جارہی تھی،،،،، زاکوان کو بھی کافی تکلیف ہورہی تھی،،،،، لیکن بت بنا چپ کر کے بیٹھا ہوا تھا،،،، جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو جیب سے رومال نکالتے ہوئے اسے دیا،،،،،
یہ لو آنسو صاف کرو اور چپ کرو،،،، اب رونے کی آواز نہ آئے مجھے،،،،،، لہجہ نہایت ہی سرد تھا اس کا،،،، دعا نے بھی چپ چاپ رومال پکڑ لیا تھا،،،،، اور آنسو صاف کرتے ہوئے چپ کرکے بیٹھ گئی تھی،،،،،
وہ جانتی تھی کہ اس کی غلطی بھی تھی،،،،، اسے زاکوان کا تھوڑا سا انتظار کر لینا چاہئیے تھا،،،،،، پر جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا تھا،،،،،
وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ واقعہ ان کی زندگی کو کس موڑ پر لانے والا تھا،،،،،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سر کو مکمل ڈھانپتے ہوئے برکا پہنتے ہوئے خود کو مکمل طور پر ڈھانپ کر وہ مکمل طور پر تیار ہوچکی تھی،،،،،، آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا،،،،،
وہ آپنے بلبوتے پر کچھ کرنا چاہتی تھی جو وہ کرنے والی تھی،،،،،، آج اس کی جاب کا پہلا دن تھا،،،،،،، اسے ایک بہت ہی اچھی آرکیٹیکٹ کمپنی میں جاب ملی تھی،،،،،
حیر پھر وہ دبے دبے قدم لیتے ہوئے اپنے بابا کے کمرے میں داخل ہوئی تھی،،،،،وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے اخبار پر نظریں جمائے بیٹھے تھے،،،،،
بابا میں اندر آجاؤ،،،،، اس نے دھیمی سی آواز میں اجازت طلب کی تھی,,,جس پر انھوں نے اسے مسکرا کر دیکھا تھا،،،،،
جی آجاؤ بیٹا،،،، پوچھنے والی کیا بات ہے،،،،، انھوں نے نہایت نرمی اور شفقت سے کہا تھا،،،،، جس پر وہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تھی،،،،،،
بابا آج میری جاب کا پہلا دن ہے،،،،، آج میں خود کچھ کرنے جارہی ہوں،،،، نہایت ہی فخر سے بتاتے ہوئے اس نے کہا تھا،،،،،
مجھے پتہ ہے،،،، اللہ تمھیں تمھارے ہر کام میں کامیاب کرے،،،،، انھوں نے پیار سے کہا تھا،،،،، ٹھیک ہے بابا میں جارہی ہوں،،، پھوپھو آجائیں گی تو میڈیسن لے لیجئے گا،،،،، یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکلی تھی،،،،،،
اس کے بابا معزور تھے،،،، چل پھر نہیں سکتے تھے،،،، اس لیے وہ انھیں گھر پر اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی،،،،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
میرب گھر سے نکلی تو سڑک پر آکر کھڑی ہوئی،،،، تا کہ رکشہ لے کر آفس پہنچ سکے،،،،، کچھ دیر تک کھڑی۔رکی تو اسے رکشہ مل ہی گیا،،،،،
اس نے رکشے والے کو ایڈریس بتا دیا تھا،،،،،، تو وہ اسے اس کی مقصود جگہ پر چھوڑ آیا تھا،،،،،،
رکشے سے اترتے ہوئے جیسے ہی اس نے نظر اٹھائی تو دوبارہ جھکا نا سکی،،،، سامنے بڑا سا ہی اس کا نام لکھا ہوا تھا،،،
وہ ایک بہت ہی بڑی کمپنی تھی،،،،، حیر اب وہ یہاں پر کام کرنی آئی تھی اسے ان سب باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہئے تھا،،،،،،
وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھی تھی کہ کہیں لیٹ ہی نہ ہو جائے،،،،،، بڑھتی بڑھتی وہ اکاؤٹینٹ کی پاس پہنچی تھی،،،،،،
سر میں یہاں نیو ہوں کیا آپ بتا دیں گے کہ مجھے کیا کام کرنا ہے؟؟ اس نے اس سدھیر عمر کے شخص کو دیکھتے ہوئے کہا تھا،،،،،
بیٹا،،، یہاں سے سیدھا جا کر لیفٹ پر چلی جاؤ،،،، وہاں مس اجالا ہوں گی وہ تمہیں سارا کام سمجھا دیں گی،،،،، اس شخص نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا،،،،،،،،،
جس پر میرب مسکراتے ہوئے اس طرف بڑھ گئی تھی،،،،، میرب اجالا کے پاس پہنچی تو اس نے اسے سارا کام سمجھا دیا تھا،،،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زاکوان نے گاڑی دعا کے گھر کے سامنے روکی تھی،،،،، گھر کو دیکھتے ہوئے وہ گاڑی سے اتری تھی،،،،، اور گھر کی طرف بڑھی تھی،،،،،
جب ہی وہ بھی گاڑی سے اترا تھا،،،،،، رکو،،،،، اس کی آواز سنتے ہی اس کے قدم رک گئے تھے،،،،،، اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ اس کے بالکل پیچھے ہی کھڑا تھا،،،،،،
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ تم صرف میری ہو،،،، صرف زاکوان شاہ،،،، کوئی اور تمھیں ہاتھ لگائے مجھے پسند نہیں،،،، اس لیے اس چیز کا خیال رکھا کرو،،،،، اور آج کو غصہ کیا اس کے لیے سوری،،،
وہاں پر موجود لوگوں کی پرواہ کیے بغیر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اس نے دعا سے معافی مانگی تھی،،،،، دعا کو وہ بہت فنی لگ رہا تھا،،،، وہ مسکرا گئی تھی،،،،
ایسا نہیں کرو منی لگ رہے ہو,,, اس نے مسکرا کر کہا تھا،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
