Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 12

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

دعا۔۔۔۔!! کیسی ہو۔۔۔۔۔؟

فون اٹھاتے ہی دعا کو دوسری طرف سے آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔۔!!

ہممم۔۔۔!! ٹھیک ہی ہوں۔۔۔۔!! آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔؟؟

اس کا جواب سن کر اسے کچھ اچھا تو نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اس کے منھ سے اپنے لیے آپ کا لفظ سن کر وہ حیران رہ گیا تھا۔۔۔۔۔!!

ماشاءاللہ۔۔۔۔!! پریکٹس ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ کہ شادی کے بعد آپ کہنا ہے۔۔۔۔!!

زاکوان نے نہایت ہی شرارت سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ دعا کو اس کی اس بات پر شدید غصہ آیا تھا۔۔۔۔۔

جی نہیں۔۔۔۔!! بالکل بھی نہیں۔۔۔۔!! میں تو بس رشتے کے لحاظ سے عزت دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔!! لیکن شائید تمھیں عزت راس نہیں ہے۔۔۔۔۔!! میں فون بند کر رہی ہوں۔۔۔۔!!

ارے۔۔۔ ارے۔۔۔۔!! رکو زرا۔۔۔۔۔ میں تو مذاق کررہا تھا یار تم تو سریس ہی ہو گئی ہو۔۔۔۔۔ ہممم بہت غصے والی ہو۔۔۔۔۔ لگتا ہے شادی کے بعد کافی لڑائیاں ہونگی ہماری۔۔۔۔۔!!

اس کی بات سنتے ہی زاکوان نے ایک اور بات شرارت سے کی تھی۔۔۔۔۔ جس پر دعا بھی مسکرا گئی تھی۔۔۔۔۔!!

مجھے بھی ایسا ل ہی لگتا ہے۔۔۔۔!! میں تو کہتی ہوں کہ سوچ لو کچھ اپنا چھوڑو گی نہیں۔۔۔۔۔۔ !!

دعا نے دھمکی دینے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔!!

سوچ لیا۔۔۔۔!! اور ویسے بھی میں یہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے نہ چھوڑو۔۔۔۔ کس کر پکڑ لو۔۔۔۔۔ اتنی زور سے کہ کبھی نہ چھوڑو۔۔۔۔!!

زاکوان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ جس پر دعا بھی مسکرا گئی تھی۔۔۔

وہ لان میں بیٹھے ہوئے موبائل یوز کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔!! اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنی محبت کو کیسے اپنے قریب لائے کیسے وہ یہ سب کچھ کرے۔۔۔۔؟؟ کس کے ساتھ کرے۔۔۔۔!!

شانزے انھی سوچوں میں گم تھی جب اس کی آنکھوں پر کسی نے ہاتھ رکھے تھے۔۔۔۔۔۔ وہ کسی لڑکی کے نہیں تھے۔۔۔۔۔!! کسی جوان لڑکے کے ہاتھ تھے۔۔۔۔!!

وہ ان ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے سمجھ گئی تھی کہ یہ ہاتھ کس کے ہیں۔۔۔۔۔؟؟

بھائی۔۔۔۔!! اس نے حیرانگی سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ اسے بالکل بھی امید نہ تھی کہ اس کا بھائی حسن فرانس آج واپس آرہا ہے۔۔۔۔!!

یہ اس کے لیے بہت بڑا سرپرائز تھا۔۔۔۔۔!! پھر کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوتی ہوئی اس کو اپنے سامنے دیکھ اسے اپنی ہی آنکھوں پر یقین نہ آیا تھا۔۔۔۔

پھر اس کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ اس نے بھی اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔!!

کیسی ہے میری پیاری سی گڑیا۔۔۔۔۔!! ہمم بھائی کو مس کیا۔۔۔۔۔!!

اس نے اس کے سر میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نہایت ہی پیار سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ جس پر شانزے مسکرا گئی تھی۔۔۔۔ اور اس سے الگ ہوئی تھی۔۔۔۔۔

جی بھائی میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔!! اور میں نے آپ کو بہت مس کیا۔۔۔۔۔ اور آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔؟؟

شانزے نے مسکرا کر پوچھا تھا۔۔۔۔۔!!

میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ گڑیا۔۔۔۔!! آجاؤ۔۔۔ اندر بابا کو بھی تو سرپرائز کرنا ہے۔۔۔۔

حسن کی بات سن کر شانزے نے اپنے ہی سر پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔۔

افف۔۔۔!! میں بھی کتنی بھلکڑ ہوں۔۔۔۔۔ چلیں بابا سے ملنے چلتے ہیں۔۔۔۔۔!!

یہ کہتے ہوئے وہ دونوں اندر کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔۔۔۔!!!

اندر سب بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔!! جب ہی وہ دونوں وہاں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔ اور حسن کو دیکھ کر سب حیران ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔

دانیال اٹھ کر اسے ملا تھا۔۔۔۔۔۔ اور باقی سب بھی۔۔۔۔۔!!!

زاکوان۔۔۔!! بہت بہت مبارک ہو منگنی کی۔۔۔۔۔!!

حسن نے زاکوان کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔۔ جس پر وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔!!! جبکہ شانزے نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔!!

اسی طرح وہ سب بیٹھ کر باتیں کرنے لگے تھے۔۔۔۔!!

اسے طرح ہستے کھیلتے ہوئے ایک ماہ گزر گیا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ انائیرہ کی آج بارات تھی۔۔۔۔۔۔ مہندی کا فنکشن کافی اچھے سے گزر گیا تھا۔۔۔۔!!

دعا بھی پڑھائی من لگا کر کر رہی تھی۔۔۔۔۔ اور اگر بات کریں ہم میرب کی تو وہ بھی اپنے اور اپنے بابا کی دیکھ بھال کے ساتھ بیت سینسئر تھی۔۔۔۔۔!!

خان مینشن میں پھولوں کی مہک ڈور رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اس کے علاؤہ۔۔۔۔۔ ہلا گلا تھا۔۔۔۔۔!! ماہر اور عالیہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ ایک وقت تھا جب انھوں نے انائیرہ کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا تھا۔۔۔۔

اور آج۔۔۔۔!! وہ اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ اس کی شادی ہے آج۔۔۔۔؟؟ آج وہ رخصت ہو رہی ہے ان کے گھر سے۔۔۔۔!!

بارات آچکی تھی۔۔۔۔!! اور وہاں پر سب موجود تھے۔۔۔۔!! ایلف واسم اور ان کی پوری فیملی بھی موجود تھے۔۔۔۔۔!! سب بہت خوش تھے۔۔۔۔۔!! لیکن کسی کو کیا پتہ کہ کب کیا ہو جائے۔۔۔۔۔!!

نکاح کا وقت آیا تھا۔۔۔۔۔ اور احمد اور انائیرہ کا نکاح آمنے سامنے بیٹھا کر اور درمیان میں پھولوں کی لڑیاں گرا کر کروایا جانا تھا۔۔۔۔۔۔

احمد اپنی جگہ پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔!! انائیرہ بھی کچھ لڑکیوں کے جھرمٹ میں آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔!!!

دونوں آمنے سامنے بیٹھ چکے تھے۔۔۔۔!!! مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانے کی اجازت طلب کی تھی۔۔۔۔۔!! جو اجازت ملتے ہی انھوں نے شروع کیا تھا۔۔۔۔

انائیرہ بنت ماہر آپ کا نکاح احمد بنت جواد سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔!! مولوی صاحب کے سوال پر اس سے پہلے کہ انائیرہ کچھ بولتی۔۔۔۔

ایک آواز نے سب کو حیران کیا تھا۔۔۔۔!!!

یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!! یہ سنتے ہی احمد اور انائیرہ اپنی اپنی جگہوں سے کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔

یہ آواز ایک لڑکی تھی۔۔۔۔۔!! جسے دیکھتے ہی احمد لب بھینج گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!

جبکہ وہاں کھڑے ہوئے حسن نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *