Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 14

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

ایلف سوہم کے پاس آکر رکی تھی۔۔۔۔۔!! وہ موبائل پر کچھ کام کررہا تھا۔۔۔۔!!

بیٹا۔۔۔!! مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔!!

ایلف نے بہت ہی ہمت کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔۔

جی امی۔۔۔۔!! کہیں میں سن رہا ہوں۔۔۔۔۔

ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے پھر موبائل کی طرف دیکھ کر اس نے کہا تھا۔۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔۔!! تم انائیرہ سے نکاح کرلو۔۔۔۔۔!!

ایلف نے ہمت کرکے اس سے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ یہ سنتے ہی اس کے ہوش اڑے تھے۔۔۔۔۔!!

کیا۔۔۔۔۔۔!! امی۔۔۔۔!! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔۔ امی میں کیسے نکاح۔۔۔۔۔؟

اس نے حیرانگی سے اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔۔!! میں جانتی ہوں کہ تمھارے لیے یہ مشکل ہے لیکن بیٹا خاندان کی عزت کا سوال ہے۔۔۔۔۔

بیٹا۔۔۔۔!! پلیز آج انائیرہ سے نکاح کرلو۔۔۔۔ وہ بہت اچھی ہے۔۔۔۔۔

ایلف اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔ لیکن یہ سب باتیں اس کے اوپر سے گزر کر جا رہی تھی۔۔۔۔۔

امی۔۔۔۔۔!! میں نے کب کہا ہے کہ انائیرہ بری لڑکی ہے۔۔۔۔۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔۔!! لیکن میں نے کبھی اس نظر سے اسے دیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔!!

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے گا۔۔۔۔۔

میں کبھی تمھیں یوں پریشر نہیں کرتے میرے بچے۔۔۔۔ لیکن آج وقت کی قلت کی وجہ سے میں تمھیں مجبور کررہی ہوں۔۔۔۔

ایلف نے اس کو اصل وجہ بتائی تھی۔۔۔۔۔۔

اب واسم بھی وہاں آگیا تھا۔۔۔۔!!

بیٹا۔۔۔۔!!! تمھاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔ پر تمھیں پتہ ہے کہ ہماری شادی بھی کچھ انھی حالات میں ہوئی تھی۔۔۔۔ لیکن آج ہم ایک ساتھ خوش ہیں۔۔۔۔۔!!

ٹھیک ہے بابا۔۔۔۔!! ماما۔۔۔۔!! میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔۔

سوہم کے ہاں کرتے ہی ایلف مسکرا گئی تھی۔۔۔۔۔۔ بہت شکریہ بیٹا تمھارا۔۔۔۔۔ اسے کہتے ہوئے ماہر اور عالیہ کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔

اب باقی سب بھی پولیس اسٹیشن سے واپس آگئے تھے۔۔۔۔۔ عالیہ نے سالار اور دارب کو سمجھا دیا تھا۔۔۔۔۔ اور وہ بھی مان گئے تھے۔۔۔۔

سوہم کو وہ اچھے سے جانتے تھے۔۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ انائیرہ کے لیے اس سے اچھا لڑکا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔

مولوی صاحب نے ایک بار پھر نکاح کی اجازت مانگی تھی۔۔۔۔۔ جو انھی جیسے ہی دی گئی تو انھوں نے نکاح پڑھوانا شروع کیا گیا۔۔۔۔

انائیرہ بنت ماہر خان آپ کا نکاح سوہم بنت واسم شاہ سے بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔

ق۔۔ قبول ہے۔۔۔!!

قبول ہے۔۔۔!!

قبول ہے۔۔۔۔۔!!!

پہلی بار جھجکنے کے بعد انائیرہ نے مولوی صاحب کے پوچھنے پر نکاح قبول کیا تھا۔۔۔۔۔

سوہم بنت واسم شاہ آپ کا نکاح انائیرہ بنت ماہر خان سے بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔

قبول ہے۔۔۔۔!!

قبول ہے۔۔۔۔!!

قبول ہے۔۔۔۔!!

اب وہ دونوں ایک رشتے میں بندھ چکے تھے۔۔۔۔۔۔!! نکاح کے بعد دعا پڑھائی گئی تھی۔۔۔۔۔ سالار نے جیسے کی دعا مانگنے کے بعد آنکھ کھولی تو سامنے ہی نظر زونی پر گئی۔۔۔۔

جس کر بازو میں شدید درد تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھا اور اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔ وہاں کافی ہجوم تھا۔۔۔۔ کسی کی بھی نظر ان کی طرف نہیں تھی۔۔۔۔

میرے ساتھ آؤ۔۔۔۔۔!!

اس کے پاس جا کر سالار حکم دینے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔

کہاں۔۔۔۔!!

اس کے سوال پر وہ کھڑی ہوئی اور پوچھا تھا۔۔۔۔۔

چلو پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔!! اس نے سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ گھبراتی ہوئی چل دی تھی۔۔۔۔۔

وہ دونوں زونی کے ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔ زونی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔۔۔!!

وہاں بیٹھ جاؤ۔۔۔۔!!

اسے سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔

لیکن۔۔۔۔!! زونی نے سوال کرنا چاہا تھا لیکن اس نے پھر صوفے کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔۔ اور خود الماری کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

الماری سے فرسٹ ایڈ کا باکس نکال اس کے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔۔!!

زخم دیکھاؤ۔۔۔۔ اس کے کہنے پر جو سالار نے اس کے بازو پر کوٹ ڈالا تھا اس نے اتارا تو۔۔۔۔

سالار نے دیکھا کہ۔کٹ کافی گہرا تھا۔۔۔۔۔ لیکن خون رک چکا تھا۔۔۔۔ اور خون کا لوتھڑا بن کیا تھا۔۔۔۔۔

اس نے ہلکا ہلکا سا صاف کرنا شروع کیا تھا۔۔۔۔ لیکن زخم گہرا ہونے کی وجہ سے زونی کو کافی شدید درد تھا۔۔۔۔۔!!

اسے درد میں دیکھ کر سالار کو خود پر ہی غصہ آرہا تھا کہ کیسے وہ اتنی کا پرواہی برتے سکتا ہے۔۔۔۔۔

کیا ضرورت تھی تمھیں بیچ میں آنے کی۔۔۔۔!!

سالار نے اس کا زخم صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ زونی نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔۔

جی نہیں میں نہیں۔ آئی تھی۔۔۔۔۔ وہ میری طرف آیا تھا۔۔۔۔۔

سوچنے پر سالار کو بھی یاد آیا تھا کہ وہ تو بیچ میں نہیں آئی۔۔۔۔۔ اس کی گردن پر چھری تو احمد نے رکھی تھی۔۔۔۔

پھر سالار کی نظر اس کی گردن پر گئی جہاں سے بھی خون بہنا رک گیا تھا۔۔۔۔۔!!

اس کے زخموں کی مرہم پٹی کرکے اسے آرام کرنے کا کہہ کر وہ جانے لگا تھا۔۔۔۔ جب اس کی آواز سن کر وہ رک گیا۔۔۔۔

تھینکس۔۔۔۔!! زونی نے اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔۔۔

یور ویلکم۔۔۔۔۔!! یہ کہہ مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ زونی بھی مسکرا گئی تھی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *