Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 25

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

وہ اندر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ روم کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔!! سامنے ہی وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔

اس کے چہرے پر آکسیجن کا ماسک تھا۔۔۔۔!!! سالار اس کی طرف بڑھا اور پاس پڑی ہوئی کرسی کو اس نے اپنی طرف کھینچا اور اس کے قریب کرتے ہوئے اس کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔۔!!

”زونی۔۔۔۔۔!! زونی۔۔۔۔!! دیکھو میں سالار ہوں۔۔۔۔ آنکھیں کھولو پلیز دیکھو مجھے پلیز آنکھیں کھولو۔۔۔۔!!“

اس کے ہاتھ کو نہایت ہی نرمی سے اپنے ہاتھ لیتے ہوئے اس نے نرم سی آوازیں کہا تھا۔۔۔۔

جبکہ زونی میں بالکل بھی ہل چل تھی۔۔۔۔۔

”زونی۔۔۔۔ دیکھو میرا دل دھڑک رہا ہے۔۔۔۔ صرف تمھارے لیے دھڑک رہا ہے۔۔۔۔!!!!“

اس کے لہجے میں بہت زیادہ دکھ تھا۔۔۔۔ اس کے ہاتھ کو اپنے دل کے مقام پر رکھتے ہوئے اس نے زونی کو باورا کروایا تھا۔۔۔۔

”پلیز بس ایک دفعہ۔۔۔۔ ایک دفعہ۔۔۔۔ میرے لیے یہ آنکھیں کھول لو۔۔۔۔!! میں تمھارے بغیر نہیں جا سکتا ہے۔۔۔۔۔!! “

اس کی آنکھیں سرخ تھی۔۔۔ اور آنکھوں میں اس کے لیے محبت صاف ظاہر تھی۔۔۔۔!!

”دیکھو۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔۔ میری طرف دیکھو۔۔۔۔ پلیز زونی۔۔۔۔!!!“

اب کی بار سالار نے اپنے دہکتے لب اس کی پیشانی پر رکھے تھے۔۔۔۔ اس کے لمس کو اپنی پیشانی پر محسوس بھی نہیں کر پا رہی تھی وہ۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا کہ اسے ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات یاد آگئی کہ زیادہ انھیں تنگ مت کریں۔۔۔ اسی لیے وہ چلخاموش ہو گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ کب یوں ہی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے سو گیا تھا۔۔۔۔ اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔۔۔۔

صبح زونی کے کراہنے سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔۔ وہ ہوش میں آگئی ہے یہ دیکھ کر وہ بہت زیادہ خوش ہوا تھا۔۔۔۔

“زونی۔۔۔۔!! زونی۔۔۔۔!! تم اٹھ گئی۔۔۔۔۔!!“

سالار نے کسی بچے کی طرح اس سے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اس کی چاہت اس کی محبت ایک دفعہ پھر سے اٹھ گئی تھی۔۔۔ اس کی زندگی میں واپس آگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

“س۔۔۔ س۔۔۔ سل۔۔ ا۔۔۔ ر۔۔۔“

زونی کے جسم میں شدید درد لہریں اٹھ رہی تھی۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے وہ سہی سے بول بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔

جبکہ سالار نے اسے خاموش رہنے کا کہا تھا۔۔۔۔!!! تا کہ اسے مزید درد نہ ہو۔۔۔

کچھ ہی دنوں میں زونی ہوسپٹل سے ڈسچارج ہو گئی تھی۔۔۔۔۔!!! جبکہ ان کچھ دنوں میں سالار نے اس کا بہت زیادہ خیال رکھا تھا۔۔۔۔!!!

میرب کی دارب میں اور دارب کی میرب میں دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کے خزبات رکھتے تھے۔۔۔۔ جبکہ اگر کسی چیز کی کمی تھی تو وہ تھا اظہار۔۔۔۔۔!!!!!!

حسن کی بھی راہیں مہرین کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ ابھی اس احساس کو محسوس نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔

جبکہ سوہم اور انائیرہ کے درمیان بھی سب کچھ ٹھیک ہونے لگا تھا۔۔۔ سوہم اس کا خیال رکھنے لگا تھا۔۔۔ وہ دل سے اس رشتے کو قبول کر چکا تھا۔۔۔۔۔

دعا اور زاکوان بھی ایک ہونے ہی والے تھے۔۔۔ کیونکہ تین دن ہی رہ گئے تھے ان کی شادی میں۔۔۔۔۔ دونوں گھروں میں فنکشنز ہونا سٹارٹ ہوگئے تھے۔۔۔۔ ہلا گلا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔

شاہ مینشن میں ہر طرف پھول ہی پھول سجے ہوئے تھے۔۔۔۔۔

ہر طرف کا نظارہ نہایت ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ یہ سب تیاریاں انائیرہ کروا رہی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اسے یہ سب خود کرنا بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔۔

لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سارے کا سارا شاہ مینشن میں پھولوں میں لاد دیا گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ آج کئی سالوں بعد تو وہاں شادی کا فنکشن ہونے لگا تھا۔۔۔

“واؤ بھابھی۔۔۔۔!! بیت ہی زیادہ اچھا ڈیکوڑیٹ کیا ہے۔۔۔!!“

زاکوان نے انائیرہ کے پاس آتے ہوئے مینشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔۔

“آپ کی شادی ہے بھائی۔۔۔۔۔ اتنا تو میں کر ہی سکتی ہوں۔۔۔۔“

اس نے زاکوان کی بات سن کر کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرا سا گیا تھا۔۔۔۔۔

“تھینک یو سو مچ بھابھی۔۔۔۔۔۔!!!“

زاکوان نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔!!! جبکہ وہ مسکرا گئی تھی۔۔۔۔

“بھائی اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔!!!“

اس نے کہا تو وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔۔۔ اور پھر کسی کا فون بجا تھا اس نے دیکھا تو آفس سے فون تھا۔۔۔۔ وہ فون اٹھاتے ہوئے پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔۔۔

جبکہ وہ بھی اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔!!!

آج اس کی مہندی تھی۔۔۔۔۔ واسم اور ایلف کے کہنے پر دعا اور زاکوان کی منگنی شاہ مینشن میں اکھٹی کی جارہی تھی۔۔۔۔۔!!!!

لیکن وہ ابھی پارلر میں تھی وہ تیار ہونے کے لیے یہاں پر آئی تھی۔۔۔۔۔!!!

پیلے رنگ کا لہنگا پہنے ہوئے پیلے رنگ کی ہی کرتی اور میک اپ لیے ہوئے گہنوں کے ساتھ وہ بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔!!!

بس ایک دن تھا۔۔۔۔۔ ایک دن اس کے بعد اس نے رخصت ہونا تھا۔۔۔۔۔!! اپنے باپ سے اس نے دور چلے جانا تھا۔۔۔۔۔

انگلی پکڑ کے رونے چلنا سکھایا تھا نہ

دہلیز یہ پار کر دے

بابا میں تیری ملکہ ٹکڑا ہو تیرے من کا

اک بار پھر سے دہلیز پار کرا دے

مڑ کے دیکھو نہ دلبروں دلبروں

مڑ کے دیکھو نہ دلبروں

وہ ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ کسی نے یہ گانا لگایا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ ایک بار سے روئی تھی۔۔۔۔ باپ سے دور ہونے کا غم کوئی چھوٹی بات نہ تھی۔۔۔۔۔

ماں تو اس کی تھی نہیں۔۔۔۔۔ بابا نے ہی ماں اور باپ دونوں بن کر پالا تھا۔۔۔۔۔ اب یہ اس کے لیے آسان نہ تھا۔۔۔۔

لیکن ہر لڑکی کو ایک نہ ایک دن تو رخصت ہونا ہوتا ہی نہ تو اب یہی ہوگا۔۔۔۔

”نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا میں یہ کیسے ہونے دو۔۔۔۔ زاکوان کی شادی دعا سے ہورہی ہے۔۔۔ اور میں کچھ بھی نہیں کرپارہی ہوں اور وہ شہزاد کاظمی بھی کسی کام کا نہیں نکلا۔۔۔۔“

شانزے کو شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔۔۔اسی غصے میں وہ پہلے بھی پورے کمرے کا خشر نشر کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔!!!

”زاکوان کو میرا ہونا ہوگا۔۔۔۔۔ اگر وہ میرا نہیں ہوسکتا تو اسے اس دنیا سے جانا ہوگا۔۔۔۔۔!!! کیونکہ جو چیز شانزے کو پسند ہو اور وہ کسی اور کے پاس ہو تو اس کا نام ونشان نہیں رہتا اس دنیا میں۔۔۔۔۔“

اس نے خوں آلود آنکھیں لیے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ زاکوان کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں دروازے کھٹکھٹائے کی آواز سنائی دی اسے۔۔۔۔

”کون۔۔۔۔؟؟؟“

اس نے سوال پوچھا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔؟؟ تو باہر سے اسے ملازمہ کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔

“بی بی جی۔۔۔۔!! وہ بڑی بی بی جی کہہ رہی ہیں کہ آپ آجائیں پارلر جانا ہے۔۔۔۔!!!“

”ٹھیک ہے تم جاؤ میں آتی ہوں۔۔۔۔!!!“

اسے وہ کمرے میں داخل نہیں ہونے دے سکتی تھی کیونکہ کمرے کا جو خشر تھا وہ دیکھنے کے بھی قابل نہ تھا۔۔۔۔۔!!

جبکہ وہ کپڑے لیتے ہوئے کمرہ لاک کر کے نیچے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *