Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 31

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔۔۔۔! لیکن نہ ہی ابھی تک نہ ہی دعا کو ہوش آیا تھا اور نہ ہی ابھی تک زاکوان کو ہوش آیا تھا ، ایلف ہوسپٹل میں ہی بیٹھ کر اپنے بچوں کے لیے خدا سے گڑگڑا کر دعائیں مانگ رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ سوہن دارب اور سالار بھی وہی موجود تھے۔۔۔۔ حسن بھی یہی تھا۔۔۔۔ لیکن کسی کام کے عوض گھر گیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ ماہر اور عالیہ اور باقی سب لڑکیاں بھی گھر میں ہی موجود تھی۔۔۔۔!! کچھ ہی لمحات بعد ڈاکٹر وہاں پہنچا تھا۔۔۔۔ اس نے ان کو ایک خوشخبری سنائی تھی۔۔۔۔۔

”زاکوان کو ہوش آگیا ہے۔۔۔۔!!“

یہ سنتے ہی وہ سب مسکرا گئے تھے۔۔۔۔ جبکہ واسم نے ان سے دعا کے متعلق پوچھا تھا۔۔۔۔

”ڈاکٹر صاحب۔۔۔!! دعا کیسی ہے اب۔۔۔ !!“

دعا کے متعلق سن کر جو ڈاکٹر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ غائب ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!!

”آپ ان کے لیے دعا کریں۔۔۔۔ اللہ بہتر کرے گا۔۔۔۔!!“

یہ سن کر وہ سب ایک دفعہ پھر سے پریشان ہوئے تھے۔۔۔۔

”ڈاکٹڑ صاحب۔۔۔۔!! کیا ہم زاکوان سے مل سکتے ہیں۔۔۔۔!!“

واسم کے سوال پر ڈاکٹر نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے انھیں زاکوان سے ملنے کی اجازت دی تھی۔۔۔۔ واسم اور ایلف زاکوان کے روم کی طرف بڑھے تھے۔۔۔

وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تو کمرے کو روشن پایا۔۔۔۔۔ جیسے ہی ان کی نظر سامنے والے وجود سے ٹکرائی تو دیکھا کہ وہ ابھی مکمل طور پر جاگا نہ تھا۔۔۔۔۔

وہ اس کی پاگئے تو سنا کہ وہ کچھ بول رہا تھا۔۔۔۔ جیسے وہ گنگنا رہا ہو۔۔۔۔ ان دونوں کو اس کی آواز کلیئر سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی انھوں نے غور سے سنا تو وہ دعا کو پکار رہا تھا۔۔۔۔

”دعا۔۔۔۔ دعا۔۔۔“

یہ اس کے پیار کی شدت تھی جو وہ خود مرگ کے بستر پر پڑا ہوا تھا لیکن اسے اپنے پیار کی فکر تھی۔۔۔۔ اسے ہی تو کہتے ہیں عشق جو خود اگر آپ تکلیف میں ہوں اور آپ کا پیار بھی اسی تکلیف سے گزر رہا ہو تو آپ کو اپنی تکلیف سے زیادہ اس کی تکلیف کی پرواہ ہوتی ہے اور یہی کرنے کی کوشش ہوتی ہے اس کی تکلیف جلد از جلد ختم ہو جائے۔۔۔۔ لیکن کیا دعا کی تکلیف ختم ہو پائے گی۔۔۔۔۔!!

”میرے پیارے بچے۔۔۔۔!! واسم دیکھیں نہ یہ کہا ہوگیا ہے ان کے ساتھ۔۔۔۔ !!!“

ایلف نے روتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ واسم نے اسے خود میں بھیجنا تھا۔۔۔۔!!

”یہ ایکسیڈینٹ کوئی عام حادثہ نہیں ہے۔۔۔۔۔!!“

اس کے وسط میں کھڑے ہوئے باقی کھڑے ہوئے ان تینوں سے سالار نے کہا تھا۔۔۔۔!!

”مجھے بھی یہی لگتا ہے کیوں کہ جس راہ پر وہ دونوں جارہے تھے۔۔۔۔ وہاں ایسے واقعات کبھی بھی نہیں ہوئے تھے۔۔۔۔ اس جگہ پر تو ٹریفک کا مسئلہ ہی نہیں ہوتا ۔۔۔ اور ان کا یہ اتنا سریس ایکسیڈینٹ۔۔۔۔؟؟ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟“

وہی اس کے پاس کھڑے ہوئے سوہم نے سالار کو جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

”تو تم لوگ یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ یہ ایکسیڈینٹ کسی کی سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔۔۔!! “

ان دونوں کی رائے ایک کرتے ہوئے حسن نے کہا تھا۔۔۔۔۔

”ہاں بالکل۔۔۔۔!!”

دارب نے حسن کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔

”لیکن ایسا کر کون سکتا ہے۔۔۔۔ کسی کو کچھ معلوم ہے کیا۔۔۔۔؟“

سالار نے ان سب کی بات کو سنتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔!!جس پر کسی نے کوئی خاطر خواہ جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

”مطلب کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔۔۔۔۔!!“

سالار نے ایک نظر سب کے سپاٹ چہروں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جس پر اسے سوہم نے جواب دیا تھا۔۔۔۔

”نہیں کسی کو بھی نہیں پتا کہ ایسی حرکت کر کون سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟لیکن ہمیں پتہ کرنا ہوگا کہ ایسا کون کررہا ہے۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور قدم اٹھائے۔۔۔۔!!“

سوہم نے ان سب سے کہا تو سب نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔

”ٹھیک ہے۔۔۔۔!!“

دارب نے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ سب کمرے سے نکلے تھے۔۔۔۔ سوہم اور دارب ہاسپٹل گئے تھے۔۔۔۔ جبکہ حسن اور سالار گھر میں ہی رکے تھے۔۔۔۔

کمرے میں پڑے بستر وہ مکمل طور پر دنیا سے فراموش ہوئی پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ دعا کی سانسیں بھی اکھڑ اکھڑ کر چل رہی تھی۔۔۔۔۔ ایسے میں اس کے لیے بچنا بہت مشکل تھا۔۔۔۔ لیکن شائید خدا بھی دو پیار کرنے والوں کو الگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ یا دعا کی زندگی ابھی باقی تھی۔۔۔ دو دن بعد دعا کے جسم میں ہلکی سی مومینٹ پائی گئی تھی۔۔۔۔ لیکن اس کے جسم پر ذخم ابھی بھی بہت گہرے تھے۔۔۔۔۔ لیکن ڈاکٹر نے انھیں امید دلا دی تھی کہ وہ جلد ریکوری کر جائے گی۔۔۔۔ دعا کے بابا کو زاکوان کے گھر والوں نے کچھ بھی نہ بتایا تھا۔۔۔۔ کیونکہ یہ سن کر وہ بہت پریشان ہو جاتے۔۔۔۔ یا شائید کوئی برا اثر بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔!!

اور ویسے بھی وہ کسی کام کے عوض لاہور گئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ان کے آنے تک بھی مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔

دعا کو ہلکا ہلکا سا ہوش آنے لگا تھا۔۔۔۔ اس نے ہلکی ہلکی سی آنکھیں کھولنا شروع کی تھی۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے ہی واسم اور ایلف کو اپنے پاس پایا۔۔۔ لیکن سب سے پہلے اسے زاکوان کا خیال آیا تھا۔۔۔۔

”ز۔۔۔ زا۔۔۔ زاکوان۔۔۔۔“

یہ الفاظ ان کے پیار کی نشانی تھے کہ وہ ایک دوسرے سے کس قدر پیار کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ جب کہ اس کی آواز سنتے ہی ایلف کی آنکھوں سے خوشی کے مارے آنسو بہنے لگے تھے۔۔۔۔۔

زاکوان بھی کافی بہتر ہوچکا تھا اب۔۔۔۔۔ اور دعا کی حالت سے بھی خوب واقف تھا۔۔۔۔ وہ دونوں دن با دن ریکوری کر رہے تھے۔۔۔۔ دو ہفتے گزر گئے تھے دعا ہوسپٹل میں ہی ایڈمٹ تھی۔۔۔۔۔ جبکہ زاکوان کو کچھ ہی دنوں بعد ڈسچارج کردیا گیا تھا۔۔۔۔

شانزے کو شدید غصہ تھا۔۔۔۔ کہ اس نے اتنا بڑا پلین بنایا تھا اور اس کے نتیجے میں کیا ہوا۔۔۔۔؟؟ سب دھرا کا دھرا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔!!!

دو ہفتوں کے بعد دعا کو بھی ڈسچارج کردیا گیا تھا۔۔۔۔!! جبکہ گھر پر ان کا کافی شاندار استقبال ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

سب نے دعا اور زاکوان کو بہت دعائیں دی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ شانزے نے جھوٹے منھ اس سے حال بھی نہ پوچھا تھا۔۔۔۔ جسے کسی نے بھی اتنا نوٹس نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

جبکہ کچھ دیر سب کے ساتھ بیٹھنے کے بعد زاکوان اسے کمرے میں لے گیا تھا کیونکہ ڈاکٹر نے اسے ریسٹ کی تاکید سختی سے کی تھی۔۔۔۔

میرب اس کے بعد تین سے چار دن آفس نہیں گئی تھی۔۔۔۔ لیکن اس کے بعد اس نے جانا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔ اس کا دارب سے سامنا تو بہت کم ہوتا تھا۔۔۔ اور اگر کبھی سامنا ہوتا بھی تو صرف کام کے تحت ہی بات ہوتی تھی۔۔۔۔۔ دارب نے بھی خاموشی اپنائی تھی۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ خاموشی اس کی زندگی میں آنے والے طوفان کی ہے۔۔۔۔

اتوار کا دن تھا اور چھٹی جس کی وجہ سے میرب گھر پر ہی موجود تھی۔۔۔۔۔ وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی باہر سے دروازہ کھٹکھنے کی آواز سنائی دی تھی اسے۔۔۔۔۔ اس کا بھائی اور اس کے بابا گھر پر ہی موجود تھے۔۔۔۔!!

اس کا بھائی شاہزیب دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی دارب کھڑا تھا۔۔۔۔۔ وہ دارب کو نہیں پہنچاتا تھا۔۔۔۔۔ اور نہ ہی یہ جانتا تھا کہ دارب میرب کے آفس کا باس ہے۔۔۔۔!!

”اسلام علیکم۔۔۔۔۔!!!“

شاہزیب نے اسے دیکھتے ہوئے سلام میں پہل کی تھی۔۔۔۔ جبکہ اس نے جواب دیا تھا۔۔۔۔

”وعلیکم اسلام ہمیں مبشر صاحب سے ملنا ہے۔۔۔۔۔!!“

دارب نے سلام کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ اسے یہاں آنے کی وجہ بھی بتائی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ ماہر اور عالیہ بھی اس کے ساتھ یہاں آئے تھے۔۔۔۔۔۔اپنے بابا کا نام سن کر اس نے انھیں اندر آنے کی دعوت دی تھی۔۔۔۔۔ اور ڈرائنگ روم میں بیٹھایا تھا۔۔۔۔!! اور پھر جا کر اپنے بابا کو ان کے آنے کی خبر سنائی تھی۔۔۔۔۔!! شازیب نے بابا کے کہنے پر میرب کو چائے بنانے کا کہا تھا۔۔۔۔۔!شاہزیب اور مبشر صاحب ڈرائینگ روم کی طرف بڑھے تھے جبکہ میرب کچن کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔!!!

مبشر صاحب جیسے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی ان کی نگاہیں ماہر سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔ اور جیسے ہی اس کی نظریں مبشر سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔ ان کی بچپن سے لے کر کالج اور یونیورسٹی کے بعد ایک ہی آفس میں کام کرنے تک کی ساری یادیں سارے لمحات ان کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلے تھے۔۔۔۔۔ جبکہ ماہر جو صوفے پر بیٹھا ہوا تھا اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا مبشر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔

”ماہر۔۔۔۔۔!! میرے دوست۔۔۔۔!!!“

مبشر نے کہا تھا جبکہ اسے ویل چیئر پر دیکھ کر ماہر کو بہت برا لگا تھا۔۔۔۔ اور ساکت سا ہوگیا تھا۔۔۔۔ یہ سارا منظر دیکھ کر نہ صرف عالیہ اور شازیب حیران ہوئے تھے۔۔۔۔ بلکہ دارب بھی اس سب سے بے خبر تھا۔۔۔۔

”کیسے ہو تم مبشر۔۔۔۔ اور یہ ویل چئیر یہ۔سب کیسے۔۔۔۔؟؟“

ماہر اس کے گلے سے تھوڑا سا دور ہوتے ہوئے اس سے پوچھتا ہے جبکہ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔!!

”میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔!! کچھ ماہ پہلے ایکسیڈینٹ کی وجہ سے یہ سب ہوگیا اور تو بتا کہ کہاں تھا اتنے سالوں بعد کیسے یہاں۔۔۔؟؟“

مبشر نے اپنا حال بتاتے ہوئے اتنی دیر نہ ملنے پر اس سے ناراض ہوا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ ماہر مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔

”یار بس کاموں میں ایسا مصروف ہوئے ماما بابا کے جانے کے بعد ملنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔!! لیکن اب تو مل گئے ہیں۔۔۔۔۔!!“

ماہر نے اسے اتنی دیر نہ ملنے کی وجہ بتائی تھی۔۔۔۔۔!!.جبکہ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔ پھر ماہر نے اسے دارب اور عالیہ کا تعارف کروایا تھا۔۔۔۔

”مبشر۔۔۔۔!! یہ میرا بیٹا ہے دارب۔۔۔۔۔!! اور یہ میری وائف عالیہ۔۔اس کے علاؤہ ایک بیٹا اور بیٹی بھی ہے لیکن وہ مصروف تھے اسی وجہ سے ہمارے ساتھ نا آسکے تھے۔۔۔۔۔!!“

دارب نے مبشر سے سلام لیا تھا۔۔۔۔ جبکہ مبشر نے عالیہ سے سلام لیا تھا۔۔۔۔۔

”ماہر۔۔۔۔ یہ میرا بیٹا ہے شازیب۔۔۔۔ ویسے تو اس کا بزنس باہر کے ملک ہے لیکن کچھ دیر کے لیے یہاں ملنے آیا ہے۔۔۔۔ !! “

ماہر کے بعد مبشر نے اپنے بیٹے کا تعارف کروایا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ لوگ صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔ اسی وقت میرب روم میں میرب چائے لے کر داخل ہوا تھا۔۔۔ لیکن جیسے ہی اس کی نظریں دارب سے ٹکرائی تو وہ شاکڈ رہ گئی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔!!!

”ماہر۔۔۔ یہ میری بیٹی ہے میرب۔۔۔۔ اور میرب بیٹا۔۔۔۔ یہ میرے دوست ہیں۔۔۔۔ ماہر۔۔۔۔!!“

اس نے ان دونوں کو مخاطب کیا تھا۔۔۔۔۔

“ماشاءاللہ بہت ہی پیاری بچی ہے۔۔۔۔۔!!“

ماہر نے میرب کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے پیار دیا تھا۔۔۔۔ جبکہ میرب نے سب کو چائے دی تھی۔۔۔۔ دارب کو اس نے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اس کا گھورنا مکمل طور پر پہچان گیا تھا۔۔۔۔

”اور بیٹا۔۔۔۔ آپ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔!!“

مبشر دارب سے مخاطب ہوا تھا۔۔جس پر اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔

”انکل۔۔۔ میرا اپنا بزنس ہے۔۔۔۔!!“

اس کی بات سن کر مبشر مسکرایا تھا۔۔۔۔

”اللہ تمھیں کامیاب کرے۔۔۔۔!!“

مبشر نے اسے دعا دی تھی۔۔۔۔ جس پر دارب مسکرا گیا تھا۔۔۔۔

میرب نے جب سب کو چائے دے دی تو وہ کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔!!

”مبشر۔۔۔۔ یہاں ہم ایک خاص مقصد سے آئیں ہیں۔۔۔۔۔!!“

ماہر کی یہ بات سنتے ہی مبشر مسکرایا تھا اور اسے آگے بولنے کا کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ میرب روم کے باہر ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

”دراصل ہم تمھاری بیٹی بیٹی میرب کا رشتہ اپنے بیٹے دارب کے لیے لینا چاہتے ہیں۔۔۔۔ مجھے امید ہے کہ تمھیں اس رشتے سے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔۔۔۔۔!!“

ماہر کے کہنے پر میرب ساکت ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ اسے جس بات کا ڈر تھا وہی سب ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

”ماہر۔۔۔۔۔!! تمھارے بیٹے میں کوئی کمی نہیں لیکن آخری فیصلہ میری بیٹی کا ہی ہوگا۔۔۔۔ اگر وہ ہاں کہے گی تو ہی ہم بھی اس شادی کے لیے رضامندی دے گے۔۔۔۔!!“

مبشر نے کہا تھا۔۔۔۔ جب ہی دارب کا فون بجنا شروع ہوا تھا۔۔۔۔ اور وہ روم سے نکل کر گارڈن کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔

میرب بھی اس کے پیچھے بڑھی تھی۔۔۔۔۔ اور اس کے پاس جا کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ دارب کی اس کی طرف پشت تھی ، وہ جیسے ہی مڑا ایک لمحے کے لیے ڈر سا گیا تھا۔۔۔ لیکن پھر اس نے میرب کو مسکرا کر دیکھا تھا ، جبکہ وہ اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔

”اچھا میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔!!“

مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے فون بند کیا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس کے فون بند کرتے ہی میرب بولی تھی۔۔۔۔

”یہ سب کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟“

اس نے اندر کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ دارب نے ایک اندر کی طرف دیکھا اور پھر اسے۔۔۔۔

”پرپوزل ہے جو تمھیں ایکسیپٹ کرنا ہو گا۔۔۔ ۔۔۔۔۔!!“

اس کی بات سنتے ہی میرب لب بھینج گئی تھی۔۔۔۔۔!

”اور اگر میں اس پرپوزل کو ایکسیپٹ نہ کرو تو۔۔۔۔۔“

اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے میرب نے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ دارب نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔

”دیکھو کبھی نہ کبھی تو تم نے شادی کرنی ہی نا تو پھر اب اور مجھ سے کیوں نہیں۔۔۔۔۔؟؟“

اس نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ میرب نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔

”چلو ایک کام کرو تین ایسی وجوہات بتاؤ جس کی وجہ سے تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔!!!“

دارب نے اس سے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئی اور وجوہات ڈھونڈھنے لگی۔۔۔۔ لیکن اسے ایسی کوئی بھی وجہ نہ ملی تھی کہ وہ اسے ریجیکٹ کرے۔۔۔۔۔!

”ہاں ٹھیک ہے ایسی کوئی وجہ نہیں۔۔۔۔ لیکن اس دن آفس میں وہ لڑکی۔۔۔۔!!!“

وہ روہانسی ہوتے ہوئے کہہ گئی تھی جبکہ دارب مسکرا گیا تھا۔۔۔۔

”وہ لڑکی تم سے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔۔ دراصل وہ مجھے پسند کرتی تھی۔۔۔۔ اور میں اسے بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس نے اس دن یہ الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔۔!!“

میرب کو اس کی باتوں پر پورا یقین تھا اور حقیقت تو یہی تھی کہ وہ اسے چاہتی ہے۔۔۔۔!!

”ٹھیک ہے۔۔۔۔۔!!“

میرب نے کہا تو وہ خوشی سے مسکرا گیا تھا۔۔۔۔ اور اس کے ہاتھ تھامے تھے۔۔۔۔

”میں وعدہ کرتا ہو تم سے کہ کبھی بھی تمھیں کوئی دکھ نہ پہنچاؤ گا۔۔۔۔ اور نہ ہی کبھی تمھاری آنکھوں میں آنسو آنے دو گا۔۔۔۔!!“

دارب نے میرب سے پیار کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے وعدہ کیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اپنے ہاتھ چھڑواتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ اور وہ اسے دیکھ کر مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔

میرب کمرے میں آگئی تھی۔۔۔۔ جب ہی کچھ لمحوں کے بعد اس کے بابا کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔!

”میرب بیٹا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔!!“

انھوں نے بہت ہی پیار سے کہا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کیا بات کرنے والے ہیں۔۔۔۔

”جی بابا کیا بات ہے۔۔۔۔؟؟“

اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔ جس پر انھوں نے اپنی بات شروع کی تھی۔۔۔۔۔

”بیٹا۔۔۔۔ میرے دوست ماہر نے تمھارا رشتہ اپنے بیٹے کے لیے مانگا اگر تمھیں کوئی عتراض نہ ہو تو میں ہاں کہہ دو۔۔۔ !!“

انھوں نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ مسکرائی تھی۔۔۔۔

”بابا اگر یہ رشتہ آپ کو منظور ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔ !! “

اس نے کہا تو مبشر صاحب مسکرا گئے تھے۔۔۔۔

”مجھے وہ لڑکا بہت پسند ہے بیٹا اس لیے میں انھیں ہاں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔!!“

یہ کہتے ہوئے وہ وہ اپنی ویل چئیر لیے ڈرائیونگ روم میں گئے اور ماہر کو یہ خوشخبری دی کہ اسے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔ سب مسکرا گئے تھے۔۔۔۔ جبکہ عالیہ میرب سے ملنے آئی تھی۔۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *