Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 8

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

بھائی نیکی کے کام میں دیر ہی کیسی۔۔۔؟؟ جو کام کل کرنا ہے وہ آج ہی کر لیتے ہیں۔۔۔!! راشدہ کو جب دعا کے بابا نے نکاح کا کہا تو اس نے فوراً کہا۔۔۔

پر راشدہ آج کیسے۔۔۔؟ کچھ تو تیاری کرنی ہوگی نہ مجھے۔۔۔۔!! آج کیسے ہوسکتا ہے یہ۔۔۔؟؟ اس بات پر انھوں نے اعتراض کیا تو راشدہ۔کو غصہ آیا۔۔۔ لیکن نرمی سے ہی بولی تھی۔۔۔۔

بھائی صاحب نہ کون سا ہم نے آپ سے جہیز مانگا ہے۔۔۔؟؟ نکاح کا ہی کہا ہے نہ آج ہی کروا دیتے ہیں۔۔۔۔ بس۔۔۔ مجھے آپ کا اس بات پر اعتراض کرنا بنتا تو نہیں۔۔۔!! راشدہ نے منھ پھلائے ہوئے فون کی دوسری طرف سے کہا تھا۔۔۔۔

لیکن راشدہ وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن تمھیں اپنے سسرال میں بھی تو بات کرنی ہوگی نہ۔۔؟؟ صدیق نے کہا تھا۔۔۔۔

بھائی۔۔۔!! آپ اس کی فکر مت کریں۔۔۔!! وہ میں کر چکی ہوں۔۔۔۔ اور انھیں اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ آپ آج ہی نکاح کی تیاری کریں۔۔ویسے بھی آج جمعے کا پاک دن ہے۔۔۔۔ اور اس سے جان چھڑائے اپنی۔۔۔۔۔!!

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔۔ اور اس کے علاؤہ وہ اپنی بات منوا چکی تھی۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے شام چار بجے کا وقت رکھتے ہیں۔۔۔۔!! یہ کہتے ہوئے انھوں نے فون بند کیا تھا۔۔۔۔ اور دعا کے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔۔۔۔

وہ اس کے کمرے میں پہنچے تو دعا سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔ انھوں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ کافی دیر تک روتی رہی ہے۔۔۔۔

لیکن انھوں نے اس بات کو مکمل طور پر اگنور کیا تھا۔۔۔۔ تب ہی ان کی نظر دعا کے فون پر پڑی جو مسلسل بج رہا تھا۔۔۔۔

انھوں نے اس کا فون پکڑا اور دیکھا تو اوپر زاکوان کا نام لکھا ہوا تھا۔۔۔۔!! یہ دیکھتے ہی اس کا خون کھول اٹھا تھا۔۔۔۔ یہ لڑکا۔۔۔۔!! دعا کو کیوں فون کر رہا ہے۔۔۔؟؟

حود سے ہی کہتے ہوئے انھوں نے فون اٹھایا تھا۔۔۔۔ دعا۔۔۔!! زاکوان نے اتنا ہی کہا تھا۔۔۔۔ جب صدیقی صاحب نے اپنی بات شروع کی تھی۔۔۔۔

تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کو فون کرنے کی۔۔۔۔۔ اس کی زندگی برباد کر کے تمھیں سمجھ نہیں آئی آئیندہ یہاں فون مت کرنا۔۔۔۔ اور ہاں ایک اور خوشخبری سن لو کہ آج دعا کا نکاح ہے۔۔۔!!

کیا۔۔!!

یہ سنتے ہی زاکوان کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا صدیق صاحب فون بند کر چکے تھے۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔!! دعا صرف میری ہے اور اگر آج اس کا نکاح کسی سے ہوگا تو وہ کوئی اور نہیں بس زاکوان شاہ ہے۔۔۔!!

یہ کہتے ہوئے وہ آفس کے روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔

وہی دوسری طرف اپنی بابا کی آواز سن کر دعا اٹھ چکی تھی۔۔۔۔ اس نے یہ بات بھی سن لی تھی کہ آج ہی اس کا نکاح ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے دل کو بہت ٹھیس پہنچی تھی۔۔۔۔

کہ اس کے بابا کو اتنی بھی کیا جلدی ہے اسے سر سے اتارنے کی۔۔۔۔ وہ باپ جس نے آج تک اپنی بیٹی سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی۔۔۔۔ آج وہ اسے رخصت کرنے چلا تھا۔۔۔۔

یہ لڑکا تمھیں کیوں فون کرتا ہے بار بار۔۔۔۔ ؟ صدیق صاحب کی بات سن کر دعا اپنے خیالوں کی دنیا سے واپس آئی تھی۔۔۔۔!!

بابا۔۔۔!! مجھ۔۔۔ اتنا ہی کہا تھا دعا نے کہ صدیق صاحب بولے تھے۔۔۔۔۔

حیر مجھے کیا۔۔۔ ویسے بھی آج تمھارا نکاح ہے۔۔۔۔ یہی بتانا تھا سن تو لیا ہے نہ۔۔۔۔!!

یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئے جبکہ دعا ان کے لاپرواہی پر حیران ہوگئی تھی۔۔۔۔

وہ تیزی سے گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ اور واسم کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ جہاں پر صرف ایلف موجود تھی۔۔۔۔

مما۔۔۔!! بابا کہاں ہیں۔۔۔؟؟ اس نے پریشانی کے عالم میں کہا تھا۔۔۔۔

وہ سٹڈی میں ہیں۔۔۔ لیکن ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ ایلف نے زاکوان سے پوچھا تھا۔۔۔۔

مما۔۔۔!! دعا کا نکاح کل نہیں آج ہے اور کچھ ہی دیر میں ہونے والا ہے۔۔۔۔ مما میں نہیں چاہتا کہ اس کی زندگی میری وجہ سے برباد ہو۔۔۔۔ پلیز مما ہمیں ابھی اور اسی وقت جانا ہوگا۔۔۔۔

زاکوان کی بات سن کر انھیں افسوس ہوا تھا۔۔۔۔

ٹھیک ہے ہم ایک کام کرتے ہیں۔۔۔۔ تم جاؤ میں تمھارے پاپا کے ساتھ آتی ہوں۔۔۔یہ سنتے ہی وہ وہاں سے بہت تیزی میں باہر کی طرف بھاگا تھا۔۔۔۔

اور گاڑی میں بیٹھتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔ جبکہ ایلف واسم کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!!

اسلام علیکم۔۔۔!! بھائی صاحب۔۔۔ راشدہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔۔ جبکہ وہ اپنے ساتھ اپنے دیور اور شوہر کو بھی لائی تھی۔۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔ صدیق صاحب نے ان کے پاس آتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ بھائی اب وقت آگیا ہے آپ میری امانت مجھے سونپ دیں۔۔۔۔ راشدہ نے کہا۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔!!! صدیق نے کہا تھا۔۔۔۔ ویسے بھائی دعا ہے کہاں۔۔۔؟؟ راشدہ نے ان سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔

دعا۔۔۔۔!! وہ اندر کمرے میں ہے۔۔۔۔!! جاؤ مل لو۔۔۔ کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدیق صاحب نے کہا تھا۔۔۔۔ جی ٹھیک ہے بھائی۔۔۔!! یہ کہتے ہوئے مسکرا کر اندر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

راشدہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔ سامنے ہی دعا غصے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ ارے دعا۔۔!! بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔ راشدہ نے اسے دیکھتے ہوئے خوشی کا دکھاوا کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

میں اچھی لگو یا بری۔۔۔ اس سے آپ کو کچھ نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔۔!!

دعا نے لب بھینجتتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ راشدہ نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔۔

دیکھو بھئی۔۔۔!! اب تم میری بھتیجی نہیں بلکہ دیورانی بننے والی ہو۔۔۔۔ سو مجھ سے تمیز سے بات کرنا۔۔۔ آکے۔۔۔!!

راشدہ نے منھ بناتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

تمیز ان کے ساتھ کی جاتی ہے جو تمیز کے قابل ہوتا ہے۔۔۔۔ اور آپ میری نظر میں کسی بھی قابل نہیں ہے۔۔۔۔ تمیز تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔۔!!

اسے بھسم کرتے ہوئے یہ کہ کر دعا کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ تو اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔۔۔۔

دعا۔۔۔!! چلو آؤ نکاح خواہ آ چکے ہیں۔۔۔۔ نکاح پڑھوانے کے لیے۔۔۔۔۔!!

دعا جیسے ہی باہر نکلی تھی۔۔۔۔ اس کے بابا سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔ جنھوں نے اسے دیکھ کر یہ کہا تھا۔۔۔۔

ج۔۔۔ جی ب۔۔ بابا۔۔۔ !! یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے سے راشدہ کمرے سے نکلی تھی۔۔۔۔۔۔

بس ایک دفعہ یہ نکاح ہو جانے دے۔۔۔۔!! پھر تو دیکھ دعا یہ راشدہ تیرے ساتھ کرتی کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟ اسے جاتا دیکھ کر راشدہ نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔۔۔۔

دعا اس شخص سے شادی کر رہی تھی۔۔۔۔ جسے اس نے پہلے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ !! یہ کیا کر رہی تھی وہ۔۔۔؟؟

اسے دیکھتے ہی اسے اپنی قسمت پر رونا آیا تھا۔۔۔۔ پر اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔ اب وہی اس کی قسمت تھی۔۔۔۔۔!!

مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔۔۔۔!! راشدہ نے کہا تھا۔۔۔۔ یہ سنتے ہی دعا نے راشدہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔ کہ اسے اتنی جلدی کیا ہے؟؟ اس شادی کی۔۔۔۔۔

دعا بنت صدیق احمد آپ کا نکاح جواد بنت ساحر بعوض حق مہر پچاس لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔ ؟؟

مولوی صاحب کے پوچھنے پر بھی وہ چپ رہی۔۔۔۔

اس نے اپنے بابا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔ جو ناگواری سے منھ موڑے ہوئے کھڑے تھے۔۔۔۔!!

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟ مولوی صاحب نے ایک بار پھر سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔ ارے دعا۔۔۔۔ جواب بھی دے دو۔۔۔ راشدہ نے اسے یوں دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔!! یہ جواب سن کر سب حیران ہوئے تھے۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ آواز دعا کی نہیں تھی۔۔۔۔۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ زاکوان کی تھی۔۔۔۔۔۔

یہ نکاح نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ سب کے سامنے آتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔۔ اسے دیکھ کر سب حیران ہوئے تھے۔۔۔۔ دعا اور جواد اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔

اے لڑکے تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔!! راشدہ غصے سے بولی تھی۔۔۔۔۔۔ جسے زاکوان کے جواب نے حیران کیا تھا۔۔۔۔۔

یہ گھر آپ کا نہیں ہے۔۔۔ تو آپ مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتی ہیں۔۔۔۔۔ !!

یہ سنتے ہی راشدہ کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔۔۔۔۔

انکل۔۔۔ آپ ایسا نہیں۔ کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔ آپ یوں اپنی بیٹی کو دلدل میں نہیں جھونک سکتے ہیں۔۔۔۔۔!! آپ کو کچھ سوچنا چاہئیے اس بارے میں۔۔۔۔

زاکوان نے صدیق صاحب سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ چل رہے تھے۔۔۔۔ اور راشدہ حیرانگی سے سب چھ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *