Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 33

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

رات کی سیاہی ہر طرف پھیل گئی تھی۔۔۔۔۔ پوہ جو کچھ لمحات پہلے انائیرہ کے گالوں پر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ اب پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔ انائیرہ مکمل طور پر سرخ ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ اس کے ساتھ کچھ لمحات پہلے کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔

”س۔۔ ہ۔۔م ی۔۔ ہ۔۔ کی۔۔کیا ت۔۔ تھا۔۔۔۔۔ذ؟؟“

اس کے کپکپاتے ہوئے لہجے ہی وجہ سے اس کے الفاظ بھی لڑکھڑا گئے تھے۔۔۔۔۔

”کیا تھا ؟ مطلب ، کس کی ہے اپنی بیوی کو، “

سوہم کے بے باک الفاظ سنتے ہی انائیرہ نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ کہ جو اتنا کرہت ہوتا تھا۔۔۔ آج وہ اتنا مہربان کیسے،،،

”تو کیا میں اپنی بیوی کو چھو نہیں سکتا،،،؟“

اس کے نرم گالوں پر اپنے سخت ہاتھوں کو پھیرتے ہوئے سوہم نے کہا تو وہ پھر سے حیران رہ گئی تھی۔۔۔۔۔

”اور ہاں اگر کوئی آئیندہ تمھیں تنگ کرے تو فوراً مجھے بتانا ، اور اگر تم نے مجھے نہ بتایا تو سزا ملے گی۔۔۔۔“

آنکھوں میں شرارت لیے پرسکون سے لہجے میں اس نے کہا تھا۔۔۔۔

”سزا۔۔۔؟؟“

انائیرہ کو سمجھ نہ آئی کہ کونسی اور کیسی سزا ملے گی۔۔۔۔

”ہاں سزا۔۔۔ اور بہت سخت دیتا ہوں میں۔۔۔۔!!“

سوہم نے ایک مرتبہ پھر سے شرارتی لہجے میں کہا جبکہ وہ اس کی سنجیدگی محسوس کرتے ہوئے سہم سی گئی تھی۔۔۔۔

”ارے میں تو مزاق کررہا ہوں۔۔۔۔۔ !!“

اسے سہمتا ہوا دیکھ کر سوہم نے ایک قہوہ لگایا تھا۔۔۔۔ اور اسی لمحے اسے اپنے سینے میں بھینج گیا تھا۔۔۔۔

”جن سے محبت کی جاتی ہے نہ ، انھیں سزائیں نہیں دی جاتی،،“

اس کے بالوں میں پھار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے بہت ہی پیار سے کہا تھا۔۔۔ جبکہ وہ اس کی بات کو سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ پیار۔۔۔ ؟ کیا وہ اس سے پیار کرتا تھا، جو یہ لفظ استعمال کیا۔۔۔۔ پر سوہم کی اگلی ہی بات نے اس کے سارے سوالوں کا جواب دے دیا تھا۔۔۔۔۔

”ہاں یہ حقیقت ہے کہ تم میرے دل میں بس گئی ہو ، ہاں یہ حقیقت ہے کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ، میں تمھارے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ، اور میں یہی چاہوں گا کہ تم مجھے کبھی بھی نہ چھوڑ کر جاؤں۔۔ “

آخری جملے پر سوہم نے خاصا زور دیا تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ پہلے بھی ایک بار محبت میں دھوکا کھا چکا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اسے انائیرہ کی محبت اور اس کی معصومیت پر پورا یقین۔تھا۔۔۔۔ جبکہ آج تو وہ انائیرہ کے سر پر بن ہی پھوڑ رہا تھا۔۔۔۔۔

”م۔۔ مجھے کم۔ ک۔۔ کام ہ۔۔ ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!“

اس سے پہلے کہ۔سوہم کچھ کرتا وہ اس سینے سے دور ہوتی دروازے کی طرف مڑی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی سوہم نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف دھکیلا تھا۔۔۔۔ جس سے وہ اس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔

”مجھے نہیں اس وقت تمھارے لیے تمھارے اوپر سے زیادہ کوئی اہم کام ہونا چاہئیے۔۔۔۔!!“

سوہم نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ تو اس سے جان چھڑانے کے ارادے سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔

”ب۔۔ بہ۔۔ بہت۔۔ ک۔۔ کام۔ہیں۔۔۔۔!!“

انائیرہ نے ایک بار پھر سے اپنی جان چھڑوانے چاہی۔۔۔۔۔ لیکن آج تو یہ ممکن نہیں تھا۔۔۔۔

”گھر میں بہت زیادہ ملازم ہیں جو یہ کام کرلیں گے۔۔۔۔!! تم یہاں میرے پاس رہو۔۔۔۔!!“

یہ کہتے ہوئے سوہم نے اس کی کمر پر اپنی گرفت کو مظبوط کیا تھا۔۔ اور وہ اس کے لبوں پر جھکنے ہی لگا تھا۔۔۔۔ جب ہی انائیرہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے روکا تھا۔۔۔۔۔ اور اسے پیچھے کی طرف دھکیلا تھا۔۔۔۔

”یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔!!“

حیرت کے مارے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔۔۔۔

”رومینس۔۔۔۔!!“

اس کا جواب سنتے ہی انائیرہ کا چہرہ کانوں تک سرخ پڑا تھا۔۔۔۔ اس وقت سوہم اسے بہت ہی اعلیٰ قسم کا چھچھورا لگ رہا تھا۔۔۔۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اس نے اپنا منھ اس کی بالوں میں چھپایا تھا۔۔۔۔ اور اس کی مہک کو اپنے اندر اتارنے لگا تھا۔۔۔۔

”کونسا کنڈیشنر استعمال کرتی ہوں۔۔۔ بہت ہی اچھی خوشبو ہے۔۔۔۔!!“

منھ باہر کی طرف کرتے ہوئے اس نے خوشبو سونگھنے والے انداز میں کہا تھا۔۔۔۔

”ج۔۔ جی۔۔۔!!”

اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی سوہم اس کے لبوں پر جھکا تھا۔۔۔۔ جو اس کے لیے بہت حیران کن عمل تھا۔۔۔ وہ مکمل طور پر سرخ ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ باہر رات ڈھلتی جارہی تھی۔۔۔۔ اور اس میں دو لوگ بالآخر مل کر ایک ہوئے تھے۔۔۔۔

لاؤ نی لاؤ انھوں شگنا دی مہندی

لاؤ نی لاؤ انھوں شگنا دی مہندی

مہندی دا رنگ گھوڑا لال تیرے بنڑے تے

آج دارب اور میرب کی مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔۔۔! خان ہاؤس میں خوشی کا سماع تھا۔۔۔ ہر طرف پھول ہی پھول تھے۔۔۔ پھولوں کی مہک ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!!

وہ کمرے میں شیشے کے سامنے کھڑا اپنے اوپر پرفیوم کی بوتل انڈیل رہا تھا۔۔۔۔ جب ہی سالار کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔

”بھائی اتنی پرفیوم لگتا ہے بھابھی کو امریش کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔!!“

سالار نے شرارتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

”کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔۔!!“

مسکرا کر بالوں پر ہاتھ مارتے ہوئے دارب نے اس کی بات سے ایگری کیا تھا۔۔۔۔ جب ہی سالار نے اس کو آنکھ آچکا کر دیکھا تھا۔۔۔۔۔

”جو بھی ہے۔۔۔۔ اب نیچے چلو بھابھی انتظار کر رہی ہوگی تمھارا۔۔۔۔!!”

اس نے کہا تو دارب کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔ جسے دیکھ وہ مسکرا گیا۔۔۔۔

اور سالار اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔!!!

کمرے میں داخل ہوتے ہی جیسے ہی سالار کی نظر سامنے پڑی تو وہ نظریں ہٹا نا سکا۔۔۔۔ بلکہ پلکیں جھپکنا بھی بھول گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔ اور اس کے گرد حصار بناتے ہوئے اپنی ٹھوڑی اس کے کندھے پر رکھی تھی۔۔۔۔

”بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ کہیں مجھے قتل کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے۔۔۔۔؟؟“

زونی کی سالار کی طرف پشت تھی۔۔۔۔ وہ پیلے رنگ کے لہنگے اور میک اپ کے ساتھ کسی حسین پری سے کم نہ لگ رہی تھی۔۔۔ سالار تو اس کی تیاریاں دیکھ کر حیران ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔۔

”نہیں۔۔۔ میں تو تیار ہوئی ہوں۔۔۔۔!!“

اس نے شرارت سے کہا تھا۔۔۔ جبکہ سالار نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔۔

”مجھے تو تم تیار لگ رہی ہو۔۔۔۔!! لیکن بس تیار کا کیا مطلب۔۔۔۔؟؟“

اس نے ماتھے پر بل لاتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔

”محترمہ آپ بہت تیار ہیں اور مجھ بچارے پر ظلم کر رہی ہیں۔۔۔۔!!“

اس نے زونی کو آئینے کے سامنے کھڑے کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔۔۔ سالار نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف کیا اور اس کے لبوں پر جھکا گیا تھا۔۔۔۔ زونی کو اس عمل کی بالکل بھی توقع نہ تھی۔۔۔۔۔!!! جبکہ کچھ لمحوں بعد وہ پیچھے ہوا تو زونی نے اسے ایک گھوری سے نوازہ تھا۔۔۔۔

”تم نے جو آج کہ اسٹک لگائی ہے بالکل بھی اچھا ٹیسٹ نہیں ہے۔۔۔ چینج کرو اسے۔۔۔ یہ نہ تمھیں سوٹ کیا ہے اور نہ ہی مجھے۔۔۔۔!!“

سالار نے شرارتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

”سالار میں آپ کو چھوڑو گی نہیں۔۔۔۔ میرا میک اپ آپ خراب کردیا آپ نے۔۔۔۔!!“

زونی نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

”بیوی۔۔۔ تم مجھے بھڑکا رہی ہوں کہ میں تمھارا میک اپ روز خراب کرو تاکہ تم مجھے کبھی بھی نہ چھوڑو۔۔۔۔!!“

سالار نے اس کی گال کو چومتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اپنی لپ اسٹک ٹھیک کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔

”تو اب کیا کرو گی۔۔۔۔؟؟“

نسرین نے سامنے کھڑی شانزے سے پوچھا تھا۔۔۔۔

”کیا کرو گی اب میں اس نوکرانی کو پتہ لگ گیا ہے۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔!!“

اس نے پریشانی کے عالم میں کہا تھا۔۔۔۔ جب ہی وہاں گفتگو سے گزرتے ہوئے زاکوان نے جب یہ سنا کہ ”اس نوکرانی کو پتہ لگ گیا ہے۔۔۔“ تو وہ رک کر سننے لگا کہ ایسی کیا بات ہے۔۔۔؟

”مطلب وہ سب جانتی ہے۔۔۔۔!! تو اسے کام سے نکال دو۔۔۔!!“

نسرین نے اسے ایک مشورہ دیا تھا۔۔۔

”یار اس ساجدہ کی بچی کو پتہ لگ گیا ہے کہ دعا زاکوان کا ایکسیڈینٹ میں نے کروایا ہے ، اور نسرین میں اسے کام سے نہیں نکال سکتی ہوں کوئی وجہ تو ہو نہ۔۔۔۔!!!“

یہ سنتے ہی زاکوان کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔۔۔کہ اس کی جان کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ اپنے ہی گھر میں سے وہ شخص تھا جسے اس نے سب سے زیادہ پیار دیا تھا۔۔۔۔ اسے اپنی سگی بہن مانا تھا۔۔۔۔

اپنی جان کی تو پرواہ اسے نہ تھی۔۔۔۔ لیکن اس کی وجہ سے جو دعا کا حال ہوا تھا وہ بھول نہ سکا تھا۔۔۔ اس کو جو تکلیف ہوئی تھی۔۔۔ وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑتی رہی تھی۔۔۔۔۔ یہ سوچ کر کہ ہی اسے بہت دکھ پہنچا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ موقع محل کا لخاظ کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ جبکہ شانزے پر بہت بڑی آفت آنے والی تھی۔۔۔۔

سب لوگ مل بیٹھے تھے اور مہندی کی رسومات شروع کی گئی تھی۔۔۔ جو رات کے دو بجے تک جاری رہی تھی۔۔۔۔ سن نے خوب لطف اٹھایا تھا۔۔۔ اور خوب مزہ کیا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *