Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 34 (2nd Last Episode) Part - 1

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

رات کے تین بج چکے تھے۔۔۔۔ زاکوان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے اور کیا کرے۔۔ جب ہی اس کے پاس حسن آیا تھا۔۔۔ اس نے زاکوان کے چہرے پر پریشانی کو خوب پہچانا تھا،،،

”زاکوان۔۔۔! کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہا ہے،،، “

حسن نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ کیا جواب دیتا ؟ کیا کہتا ؟ کہ اس کی ہی بہن نے اس کی جان لینے کہ کوشش کی،، اس کی محبت کو ختم کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ ابھی یہ بات کسی کو بھی نہیں بتانا چاہتا تھا۔۔۔

”نہیں۔۔۔ نہیں۔۔ میں بالکل بھی پریشان نہیں ہوں۔۔۔!!“

سر جھٹکتے ہوئے زاکوان نے چہرے پر سرکاری سی مسکراہٹ لاتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔ حسن بھی خاموش ہوگیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر بتانے والی بات ہوتی تو وہ اسے ضرور بتاتا پھر وہ کچھ باتیں کر کے اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔۔

حسن کمرے میں آیا تھا۔۔۔ کمرے میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مہرین سو چکی تھی۔۔۔ لیکن یہ وہ سوئی نہ تھی۔۔۔ وہ صرف سونے کا ناٹک کر رہی تھی،،،

حسن ایک نظر اس پر ڈالتا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ اور دوسری طرف منھ کر کے حود پر کنفڑٹڑ اوڑھ کر لیٹ گیا تھا،، جیسے ہی مہرین کو لگا کہ وہ سو گیا ہے اس نے فوراً آنکھیں کھولیں ہیں،،، اور کنفڑڑ سے باہر نکلی تھی۔۔۔ وہ روز رات یہی کرتی تھی اس کو سوتا دیکھ کر کمرے سے چلی جاتی اور اس کے اٹھنے سے پہلے کمرے میں واپس آجاتی۔۔۔ اسے لگا تھا کہ حسن کو معلوم نہیں ہے۔۔ لیکن وہ بھی حسن ہے،،، وہ بھی سونے کا ناٹک کررہا تھا،،،

وہ اٹھتے ہی کمرے سے باہر نکلی تھی،، لیکن جیسے ہی اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔۔ تو پورے کمرے میں چڑا کی آواز پھیلی تھی،،،

”کہاں جارہی ہو۔۔۔؟؟“

ایک اور بھاری سی آواز نے اس کا تعاقب کیا تھا۔۔۔۔ جس پر مہرین نے آنکھیں زور سے میچ کی تھی۔۔ اب کیا جواب دیتی وہ۔۔۔؟؟؟

”و۔۔ و۔ وہ۔۔۔!!“

اب حسن بستر سے اٹھتے ہوئے اس کے پاس آیا تھا۔۔۔ جب ہی اس کی جان منھ کو آئی تھی۔۔۔

”ہمم۔۔ کیا وہ۔۔ کیا۔۔؟؟“

حسن بول ہی رہا تھا جب اس کی نظر اپنی سائیڈ ٹیبل پر پڑے ہوئے جب پر گئی تھی،،،،

”وہ۔ م۔ میں پانی پینے جارہی تھی،،،“

حسن سمجھ گیا تھا کہ وہ پانی پینے نہیں جارہی ہے ، اس کی نظریں اس کا تعاقب پہلے ہی کر چکی تھی،،،،

”لیکن جگ میں تو بہت پانی ہے۔۔۔۔!!“

حسن نے اپنے پڑے ہوئے جگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو کہ پورا بھرا ہوا تھا،،، اس نے مہرین کا یہ بہانہ رد کردیا تھا۔۔

”وہ م۔۔ مج۔۔ مجھے ٹھنڈا پانی پینا ہے،،،“

مہرین نے اس سے کہا تو حسن نے اسے گھورا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ اتنی ٹھنڈ میں بھی اسے ٹھنڈا پانی پینا ہے،،،،

”اتنی ٹھنڈ میں تو ویسے ہی پانی بہت ٹھنڈا ہوگا۔۔۔ باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے،،، “

حسن نے اسے باہر جانے سے صاف انکار کردیا تھا۔۔۔۔!! جس پر مہرین نے ایک آخری تیر ہوا میں پھینکا تھا،،،

”مجھے کام ہے۔۔ مجھے جانا ہے۔۔۔۔!!“

یہ کہتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ حسن نے اپنا بھاری ہاتھ دروازے پر رکھتے ہوئے دروازہ بند کردیا تھا۔۔۔۔

”ایسا بھی کیا کام ہے تمھیں زرا مجھے بھی تو بتاؤ۔۔۔ ہنی۔۔۔!!“

حسن نے دو قدم آگے بڑھائے تھے،،، لیکن میرب دو قدم پیچھے ہٹیں تھی۔۔۔

”تم مجھ سے دور بھاگ رہی ہو۔۔ مجھے اگنور کر رہی ہو۔۔۔۔۔!!! “

حسن نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ جبکہ مہرین کی تو بولتی ہی بند ہوگئی تھی،،،

”ن۔۔ نہیں نہیں۔۔۔!!“

اس نے اکھڑتے ہوئے لہجے میں لڑکھڑاتے الفاظ ادا کیے تھے۔۔۔

”تو پھر روز رات کو تم کیوں کمرے سے دور چلی جاتی ہو۔۔۔ آج پورا دن تم مجھ سے ملی نہیں۔۔ بات تک نہیں کی مجھ سے تو اس لہجے کو میں کیا سمجھو۔۔۔۔!!“

حسن نے مہرین کو اس کے رویے کے متعلق بتایا اور پوچھا کہ وہ اس رویے کو کیا سمجھے۔۔۔؟ جس پر مہریں نے کوئی حاصا جواب نہ دیا تھا۔۔۔۔

”بولو بتاؤ۔۔۔۔ کیا مجھ سے نفرت ہے تمھیں۔۔۔۔ اگر تم مجھ سے نفرت کرتی ہو تو بتاؤ کہ ، میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو،، مسسز حسن شاہ۔۔۔۔ “

حسن نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ مہریں اس کا چہرہ دیکھتے ہی رہ گئی تھی، کیا مہرین کو اس سے واقع ہی نفرت کرتی تھی،، کیا یہ حقیقت تھی۔۔۔

”دیکھو۔۔ میری آنکھوں میں اور بتاؤ مجھے۔۔۔۔“

حسن نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے اس اوپر کیا تھا۔۔۔ جبکہ وہ نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔

”نہیں میں نہیں کرتی ہوں آپ سے نفرت،،، “

مہرین نے کہا تو اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہی تھا لیکن جملہ تبدیل تھا۔۔۔ جس پر حسن نے اسے آنکھیں آچکا کر دیکھا تھا۔۔۔

”مطلب تمھیں مجھ سے محبت ہے۔۔!!“

حسن نے کہا تو وہ نظریں جھکا گئی تھی,,

”میں نے کہا مجھے آپ سے نفرت نہیں ہے،، اس کا مطلب یہ تو نہیں مجھے آپ سے محبت ہے،،، “

نظریں جھکاتے ہی مہرین نے فوراً یہ الفاظ ادا کیے تھے،،،، جبکہ حسن نے اسے گھورا تھا۔۔۔

”اگر نفرت نہ ہو تو محبت کی ہوتی ہے۔۔۔۔!!“

حسن نے اس سے کہا تو اس نے جھمائی لی وہ مزید بات نہیں کرسکتی تھی۔۔۔

”مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔ “

یہ کہتے ہوئے وہ جاکر بیڈ بیڈ گئی تھی۔۔۔ جبکہ حسن بھی اسکے دوسری سائیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔

”نہیں۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ میں ایسا بالکل بھی نہیں کر سکتی ہوں۔۔۔۔!!“

ساجدہ کچن میں کھڑے ہوئے خود سے کہہ رہی تھی۔۔۔ سب لوگ سو چکے تھے۔۔۔۔

”میں کیسے اتنی بڑی صاحب کی سے چھپا سکتی ہوں۔۔۔۔ کیسے۔۔۔ میں نے ان کا نمک کھایا ہے۔۔۔ میں نمک حرام نہیں ہوں۔۔۔ جو آپ لوگو سے غداری کرو۔۔ میں سب کو سب کچھ سچ بتا دو گی کہ یہ سب کچھ کیا دھرا شانزے بی بی کا ہے۔۔۔ وہی چھوٹے صاحب اور بہو بی بی کی جانی دشمن ہیں۔۔۔ میں کل ہی سب کو سب کچھ بتاو گی۔۔۔۔ چاہے میری نوکری ہی کیوں نہ چلی جائے۔۔۔۔!!“

ساجدہ نے خود سے ہی ایک عزم کیا تھا۔۔۔ کہ وہ کل ہی سارے گھر والوں کو سب حقیقت بتا دے گی۔۔۔۔ نمک حرام نہیں ہے وہ۔۔۔۔!!

کیا اس کی بات کا کوئی یقین کرے گا ؟ یا شانزے سب کو اپنے باتوں میں پھنسا لے گی۔۔۔؟؟

مہندی کے بعد آج ان کا نکاح تھا۔۔۔ دارب آج اسے اپنی دسترس میں لینے جارہا تھا۔۔۔ آج اسے خود سے جوڑنے جا رہا تھا وہ۔۔۔ اتنا قریب کرنے جارہا تھا کہ اسے کوئی بھی الگ نہ کرسکے اس سے۔۔۔

اس نے وائٹ کلر کہ شیروانی پہنی ہوئی تھی۔۔۔ جبکہ وہ لال رنگ کے جوڑے میں ملبوس تھی۔۔۔۔ دونوں کی جوڑی چاند سورج کی جوڑی لگ رہی تھی،،

سب لوگ جمع ہوچکے تھے۔۔۔۔!! نکاح شروع کروایا گیا تھا۔۔۔

”میرب بنت مبشر احمد آپ کا نکاح دارب بنت ماہر خان سے بعوض حق مہر پچاس لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے،، “

”قبول ہے۔۔۔۔!!“

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟

قبول ہے۔۔۔۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟

قبول ہے۔۔۔

اب مولوی صاحب دارب سے متوجہ ہوئے تھے۔۔۔

دارب بنت ماہر خان آپ کا نکاح میرب بنت مبشر احمد سے بعوض حق مہر پچاس لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے،، “

بنا ایک منٹ لگائے دارب نے مولوی صاحب کا جواب دیا تھا۔۔۔

”قبول ہے۔۔۔۔!!“

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟

قبول ہے۔۔۔۔

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟

قبول ہے۔۔۔

آخر میں نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے اور دعا مانگتے کے بعد وہ میرب مبشر احمد سے وہ مبشر دارب خان بن گئی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *