Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 23
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 23
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
رات کی چاندنی کھڑکی سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔۔۔ جو منظر کو مزید دلکش بنا رہی تھی۔۔۔۔
دوسری کچن سے برتنوں کی کھڑ کھڑ زور و شور سے ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ ناجانے کون تھا۔۔۔۔۔۔۔!!
وہ کھڑ کھڑ اس کے کانوں میں کافی دیر سے ہو رہی تھی۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ ایک جمائی لیتے ہوئے سیدھی ہوئی۔۔۔۔۔
”یہ کون ہے کچن میں۔۔۔۔۔۔!!!”
سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے اس نے شائید خود سے ہی سوال پوچھا تھا۔۔۔۔ کیونکہ کمرے میں تو کوئی تھا نہیں۔۔۔۔!!
”سالار بھی یہاں نہیں ہیں۔۔۔۔!! انھوں نے کہا تھا کسی کام سے جارہے ہیں۔۔۔۔ لیٹ بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔۔ تو اب یہ کون ہے۔۔۔۔۔!!!“
اس نے نظر چاروں اوڑھ بنائی تو اسے یاد آیا کہ سالار کو کسی کام سے جانا تھا۔۔۔
”کہیں کوئی چور یا ڈاکو تو نہیں آگیا اتنی رات کو۔۔۔۔ میں نے اکثر فلموں میں دیکھا۔۔۔۔ جو چور یا ڈاکو آتے ہیں۔۔۔۔ وہ سب سے پہلے کچن سے جا کر کھا نا کھاتے ہیں۔۔۔۔۔“
زونی نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں نو بج چکے تھے۔۔۔۔۔!!!!
”چل بھئی زونی اٹھ اب تجھے ہی جانا ہوگا۔۔۔۔ ڈرنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔!!!“
وہ اٹھتے ہوئے کمرے سے باہر نکلنے ہی لگی تھی۔۔۔۔ کہ اسے کمرے میں ہی ایک ڈنڈا دکھائی دیا۔۔۔ جو شائید اسی کام کے لیے رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے وہ ڈنڈا بھی اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ اور ہلکے ہلکے قدم کچن کی طرف بڑھانے لگی۔۔۔۔۔!!
جیسے جیسے وہ کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ ویسے ویسے ہی اسے مزید آوازیں سنائی دینا شروع ہوئی۔۔۔۔۔ اس نے پھر بھی اپنے قدم نہیں روکے تھے۔۔۔۔۔
اسے کچھ پکنے کی بھی سمل آنے لگی تھی۔۔۔۔۔!! جس پر وہ چونک گئی تھی۔۔۔۔
”استغفراللہ یہ چور ہے یا کوئی بھوکا۔۔۔۔۔!!!“
اس نے آہستہ سے کہا تھا۔۔۔ جب کہ اب وہ کچن کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
اس نے قدم اندر رکھے اور آگے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ اس نے دیکھا تو وہ اس کی طرف کمر کر کے کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔!!!
وہ اس کی طرف ڈنڈا لے کر بڑھی تھی۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس پر حملہ کرتی وہ اس کی طرف مڑا تھا۔۔۔۔
جسے دیکھ کر وہ دنک رہ گئی تھی۔۔۔۔ ڈنڈا تو اس نے ہوا میں ہی روک لیا تھا۔۔۔۔
”سالار۔۔۔۔!!! آپ۔۔۔۔۔۔!!!!!“
اس نے سالار کی طرف حیرانگی سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ سالار اسے حیرانگی سے دیکھ رہا تھا کہ یہ لڑکی کر کیا رہی تھی۔۔۔۔۔!!!
”میڈم یہ سب آپ کیا کر رہی تھی۔۔۔۔ بتائے گی آپ۔۔۔۔!!“
”وہ آپ نے اتنا شور مچایا ہوا تھا۔۔۔۔ میری آنکھ کھل گئی۔۔۔ اور میں سمجھی کہ آپ کسی کام سے گئے ہیں تو کوئی چور ہوگا۔۔۔۔ میں نے تو اسی لیے ڈنڈا پکڑا تھا۔۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ سامنے سے آپ نکل آئے گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
سالار کے سوال پوچھنے پر زونی نے معصومانہ شکل بناتے ہوئے اسے جواب دیا تھا۔۔۔۔
”ویسے میڈم جی۔۔۔۔۔ میں آپ کا کس اینگل سے چور لگتا ہوں۔۔۔۔کیا آپ بتانا پسند کرے گی۔۔۔۔۔۔“
اس ے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
”میں نے کہا نہ کہ مجھے لگا مجھے کیا پتہ تھا کہ۔آگے سے آپ نکل آئے گے۔۔۔۔۔!!!!“
اس نے پھر سے ایک دفعہ نہایت ہی معصومانہ منھ بنایا تھا۔۔۔۔ جس پر سالار بھی مسکرا گیا تھا۔۔۔۔۔
”اچھا ٹھیک ہے بیٹھ میں کھانا بنا رہا تھا کیا کھاؤ گی۔۔۔۔۔“
اس نے کہا تو زونی نے اسے دیکھا کہ کیا انھیں کھانا بھی بنانا آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
”آپ کو کھانا بھی بنانا آتا ہے۔۔۔۔۔!!!
یہ سوال اس کے دل میں آیا تھا۔۔۔۔ جو وہ اس سے پوچھے بغیر رہ نہیں سکی تھی۔۔۔۔۔!!!
”جی آتا ہے تو بنا رہا ہو نہ ایسے ہی کوئی بھی نہیں بناتا۔۔۔۔۔۔“
اس نے بھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ زونی ہلکا سا مسکرا گئی تھی۔۔۔۔۔۔
”کیا بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟“
چپ تو اس سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس نے ایک اور سوال اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
”بریانی بنا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔!!!“
اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ جبکہ بریانی سن کر وہ مسکرائی تھی۔۔۔ کیونکہ اسے بریانی کافی پسند تھی۔۔۔۔۔
”اچھا کیا بنا رہے ہیں۔۔۔۔!! مجھے کافی بھوک لگی تھی۔۔۔ اور کافی پسند بھی ہے بریانی مجھے۔۔۔۔۔!!!!!“
زونی نے مسکرا کر سالار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
”مجھے بھی۔۔۔۔۔۔!!!!”
اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر سامان ڑیڈی کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرا گئی تھی۔۔۔۔ اور یوں ہی اس سے باتیں کرتی رہی۔۔۔۔
”چلو۔۔۔۔۔!!!”
وہ کچھ لوگوں کو گاڑی میں بیٹھائے ہوئے سالار کے فارم ہاؤس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ جبکہ صبح کے نو بج چکے تھے۔۔۔
اس کے باپ نے اسے ایسا کرنے سے بہت روکا تھا لیکن وہ نا مانا۔۔۔۔۔!!!!
کچھ ہی دیر میں وہ فارم ہاؤس پہنچ گئے تھے۔۔۔۔۔سالار کو امید تو تھی کہ وہ لوگ اس کی طرف ضرور آئے گے لیکن اتنی جلدی یہ اسے معلوم نہیں تھا۔۔۔
سالار اور زونی ناشتہ کرکے کہیں جانے والے تھے۔۔۔۔۔!! اسی وجہ سے وہ دونوں فارم ہاؤس سے باہر تھے۔۔۔۔
لیکن۔ اسی وقت ان کی گاڑی ان کے سامنے آکر رکی تھی۔۔۔۔۔!!! اور وہ تین سو ساتھ کی سپیڈ پر گاڑی سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔
جبکہ سالار اسے پہچان گیا تھا کہ وہ جواد کا بیٹا دارم ہے۔۔۔۔۔ اور اس کے ارادے کیا ہیں۔۔۔۔؟؟ لیکن زونی انھیں دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس نے سالار کا ہاتھ زور سے تھاما تھا۔۔۔۔۔
”جاؤ اس کو لے کر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!“
دارم نے ایک حکم اسے دیا تھا جس پر امجد زونی کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ زونی کے قریب پہنچتا تھا۔۔۔ سالار نے اس کے قدم وی روک دیے تھے۔۔۔۔!!!
”وہی رک جا۔۔۔!!! اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو جان سے جائے گا۔۔۔۔!!!“
سالار نے پینٹ سے گن نکالتے ہوئے اس پر تانی تھی۔۔۔۔ اور اس کے قدم وہی روک دیے تھے۔۔۔
جبکہ یہ عمل دیکھتے ہوئے فارم نے بھی گن نکالی تھی۔۔۔ اور سالار پر تانی تھی۔۔
”دیکھ لڑکے۔۔۔۔ میری تجھ سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔۔۔۔۔!! میں تجھے نہیں مارنا چاہتا۔۔۔ چپ چاپ اسے ہمارے حوالے کردیں۔۔۔ ورنہ تیری موت تو پکی ہے۔۔۔۔“
دارم نے سالار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ زونی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ لوگ اسے کیوں لے جانا چاہتے ہیں۔۔۔۔
”کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔!! تم میری بیوی کو کبھی بھی یہاں سے نہیں لے کر جا سکتے تمھیں جو کرنا ہے تم کر لو۔۔۔۔۔ دارم۔۔۔۔۔!!!!“
زونی یہ سب دیکھ کر شدید گھبرا گئی تھی۔۔۔۔ ابھی تو اس کی زندگی کچھ لائن پر آنا شروع ہوئی تھی اور اب یہ سب۔۔۔۔!!
اس نے سالار کے ہاتھ کو بہت زور سے تھاما ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے سالار نے اسے اپنے پیچھے چھپایا تھا۔۔۔۔۔۔!!!.
”چل ٹھیک ہے تو اب تو مرنے کے لئے تیار ہو جا۔۔۔۔۔۔!!!!!“
دارم نے بندوق سالار کے سینے کے انگل پری تھی۔۔۔۔ جبکہ زونی یہ سب دیکھ کر بہت پریشان ہو چکی تھی۔۔۔ کسی کی جان کو اس کی وجہ سے خطرہ تھا۔۔۔۔
”ٹھاہ۔۔۔۔۔!!“
دارم نے فائر کیا تھا۔۔۔ پر اس کی بد قسمتی تھی یہ کہ جس کے لیے اس نے گولی چلائی تھی۔۔۔۔ وہ اسے ہی جاکر لگی تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ گولی سالار کے سینے کو چیرتی زونی اس کے سامنے آگئی۔۔۔۔ وہ کسی کی جان اپنے لیے کیسے جانے دے سکتی تھی۔۔۔۔ وہ کیسے خود غرض بن سکتی تھی۔۔۔۔
اسی وجہ وہ گولی زونی کے سینے کو چیر گئی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکھڑا گئی تھی۔۔۔۔ اس سے پہلے کے زمین بوس ہوتی وہ سالار کی باہوں میں گری تھی۔۔۔۔۔ جبکہ سامنے والا ساکت سا تھا۔۔۔۔۔
”سر ابھی ہمیں چلنا چاہئیے۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ پولیس آ جائے۔۔۔۔۔“
امجد فوراً اس کی طرف بھاگا تھا۔۔۔۔۔!!! جبکہ دارم چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
زونی کو شدید درد تھی اس قدر درد تھی کہ اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ سالار کی سانس سوکھ گئی تھی۔۔۔۔ اس کی یہ حالت یکھ کر۔۔۔۔
”زونی۔۔۔۔۔ زونی۔۔۔۔ دیکھو آنکھیں مت بند کرنا۔۔۔۔ دیکھو پلیز آنکھیں مت بند کرنا میں تمھیں کچھ بھی نہیں ہونے دو گا۔۔۔۔ پلیز آنکھیں مت بند کرنا۔۔۔۔“
وہ اس کی گال کا تھپھاتے ہوئے اسے گاڑی میں بیٹھاتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔!!!
جبکہ گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا اور وہ ہوسپٹل کی منزل پر رواں دواں تھی۔۔۔۔
