Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 1
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 1
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
پچھلی دفعہ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے واسم ایلف ، ماہر اور عالیہ،،، ایک ہوئے تھے،،، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان کی زندگی سے تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی،،،،،
مشکلات کا سامنا تو سب کو ہی کرنا پڑتا اور اسی طرح انھیں بھی کرنا پڑا،،،، اللہ کے کرم سے واسم اور ایلف کو خدا نے دو بیٹے اور عطا کیے تھے،،،، اور اگر بات کرتے ہیں ہم ماہر اور عالیہ کی تو انھیں خدا نے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی دی تھی،،،،،
سفینہ کی موت کے کچھ عرصہ بعد ہی زاویار بھی ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا،،،،، دانیال فرانس سے واپس آگیا تھا،،،،، اور وہی کسی سے شادی کرکے اسے ساتھ بھی لایا تھا،،،،،
اس کی بھی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا،،،، دونوں گھروں میں اچھی رونق لگی رہتی تھی،،،، پر افسوس کہ اب ایلف اور واسم کی پیار کرنے والی دادی ، نانی رخسار اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی،،،،،
اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ایلف کے نہایت شفیق چچا بھی وفات پا گئے تھے،،،،،، اور اس کے والد بھی،،،،،، انھیں کافی دکھوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب وہ ایک خوشخال زندگی گزار رہے تھے،،،،،،
بائیس سال بعد،،،، !!
امی،،، امی،،،، وہ ماں کو آواز لگاتے ہوئے بہت تیزی سے بڑھ رہا تھا،،،، آر بھائی کیا ہو گیا ہے،،، کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے،،،،،، وہ ناشتہ بناتے ہوئے اس سے پوچھتی ہے،،،،
میری پیاری امی جان،،،، آپ نے ٹائم دیکھا ہے،،،، ابو میری چمڑی ادھیڑ دے گے اگر آفس وقت پر نہ پہنچا تو،،،،، پلیز جلدی سے بنا دے،،،،، اس نے ماں کے سر پر عقیدت سے بوسہ دیتے ہوئے پیار سے کہا تھا،،،،،،
پتہ ہے مجھے لیکن اتنے بھی غصے والے نہیں ہیں جتنا تم انھیں سمجھتے ہو،،،،، اس کی ماں نے اسے باپ کی طرف سے بدگمان ہونے سے روکا تھا،،،،، اور پھر اس کے سامنے ناشتہ رکھتی ہوئی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی،،،،،
زاکوان،،،، سوہم کہاں ہے،،،، ؟؟ سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے اس سے کہا تھا،،،،، پتہ نہیں امی،،،، میں صبح ان کے کمرے میں گیا تھا،،،،، لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے،،،،، شائید آفس چلے گئے ہو،،،،، اس نے ناشتہ کرتے ہوئے ہی کہا تھا،،،،،
سوہم ، زاکوان واسم کے بیٹے تھے،،،،،، سوہم بڑا اور زاکوان چھوٹا تھا،،،،،، اور اس کی امی وہ کوئی اور نہیں بلکہ ایلف ہی تھی،،،،،،،،
اچھا آج جلدی چلا گیا،،،، بتہ ہی نہیں لگا مجھے،،،، ایلف نے سوچ میں پڑتے ہوئے کہا تھا،،،،، اچھا امی آپ بھی آرام کریں میں بھی آفس کے لیے نکل رہا ہوں،،،،،
چلو ٹھیک ہے حیریت سے جاؤ،،،، ایلف نے اسے دعا دی تھی،،،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ یونیورسٹی کی سطح پر قدم رکھتے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے،،، ہاتھوں میں کتابیں پکڑے،،، سر کو ڈوپٹے سے مکمل ڈھکے ہوئے،،،، اندر داخل ہوئی تھی،،،،،
دعا،،،، ایک نرم آواز پر اس نے اپنے قدم روکے اور مڑ کر دیکھا،،،، تو سامنے ہی اس کی دوست مہرین کھڑی تھی،،،،، مل گئی میڈم کو فرست کہ یونیورسٹی بھی آتے ہیں،،،، اس نے آتے ہی شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا،،،
یار کیا بتاؤ تجھے امی تو آنے ہی نہیں دے رہی تھی،،،، بہت مشکل سے منا کر آئی ہوں،،،، کہہ رہی تھی کہ میری طبعیت پھر سے نہ خراب ہو جائے،،،،، اس نے کہا تو مہرین نے اسے گھورا،،،،،
یہ آنٹی کا بہانہ تو نہیں کررہی نہ تم،،،،، ہمم بولو،،،، اس نے کہا تو دعا نے اسے غصے کی نگاہ سے دیکھا تھا،،،،، تمھیں میں کوئی بہانے باز لگتی ہوں،،،، اس نے غصے سے کہا تھا،،،،
نہیں ایک ایکٹر لگتی ہوں،،، اب چلو کلاس ہونے والی ہے،،،،، اسے بازو سے پکڑتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئی،،،،،
یقین مانو تو وہ لڑکی حسن کی مورت تھی،،،،، تبھی تو زاکوان شاہ کی پسند تھی،،،،،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
انائیرہ،،، !! انائیرہ،،، !! اٹھ جاؤ بیٹا،،،، صبح کے نو بج رہے ہیں،،،،، عالیہ اس کی طرف نہایت ہی پیار سے کہتی ہوئی بڑھی تھی،،،،،، یہ سنتے ہی کہ نو بج گئے ہیں وہ فوراً سے اٹھ کھڑی ہوئی،،،،،،
کیا،، ؟ نو بج گئے اور آپ نے مجھے اٹھایا بھی نہیں،،،، کیوں،،،، اس نے منھ بناتے ہوئے کہا تھا،،،،، اب ایک چھٹی ہوگئی یونی سے،،،، اسی لہجے میں یہ کہا گیا تھا،،،،،،
تو میں نے شوق سے تو نہیں کروائی چھٹی،،،، میں تو تمھیں صبح سات بجے سے اٹھانے کے لیے آرہی ہوں،،،، تم ہی نہیں اٹھتی،،،،،، عالیہ نے غصے سے کہا تھا،،،،
ہاں تو کیا ہوا مجھے نیند آئی ہوئی تھی،،،،، کچھ دیر اگر زیادہ سو بھی لیا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوا،،،،،، اور اگر ایک دن میں نے چھٹی کر لی تو کچھ نہیں ہوا،،،،،، اس نے نہایت ہی معصومانہ منھ بنا کر کہا تھا،،،،،، جبکہ عالیہ اس کی ساری ناٹک بازیاں جانتی تھی،،،،،،
جی بالکل،،،، مجھے پتہ ہے کہ آج ٹیسٹ تھا،،،،،، اور تمھیں بالکل بھی تیاری نہیں تھی،،،،، یہ سنتے ہی اس انائیرہ کے ہوش اڑ گئے،،،،،
لیکن یہ آپ کو کیسے پتہ،،،،، اس نے ماتھے پر بل ڈالٹے ہوئے کہا تھا،،،،، ماں یو میں تمھاری میرا بیٹا،،،،، اتنا تو تمھیں میں بھی جانتی ہو،،،، اب اٹھ کر فریش ہو جاؤ اور نیچے آؤ ناشتہ کرنے کے لیے،،،،، یہ کہتے ہوئے عالیہ کمرے سے نکل گئی تھی،،،، جبکہ وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی،،،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یونیورسٹی کا ٹائم ختم ہوچکا تھا،،،،،،، دعا کو اکثر اس کے بابا ہی لینے آتے تھے،،،،،، لیکن آج انھیں کچھ کام تھا آفس میں،،،، اسی وجہ سے اسے لینے کے لیے زاکوان خود آیا تھا،،،،،
وہ مہرین کے ساتھ چلی جاتی لیکن زاکوان کو یہ بالکل پسند نہ تھا کہ وہ کسی اور کے ساتھ جائے،،،،، اس کے یا اپنے بابا کے،،،،،،
وہ مہرین کے ساتھ ہی قدم باہر کی طرف بڑھاتے ہوئے یونیورسٹی سے باہر نکلی تھی،،،، وہی پر کچھ اوباش لڑکے کھڑے تھے،،،،،، دعا کا پالا ایسے لڑکوں سے پہلے کبھی نہیں پڑھا تھا،،،،،،
وہ اپنے دھیان میں ہی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی،،،،، کہ جب اسے پیچھے سے کچھ گھٹیا آواز سنائی دی،،،،،
حسینہ جانم،،،، کہاں چلی،،، اس نے یہ آواز سن تو لی تھی،،،، مگر مکمل طور پر اسے اگنور کیا تھا،،،،، جبکہ وہ اس بات سے بالکل انجان تھی کہ زاکوان اسے لینے آچکا ہے،،،،، اور وہ یہ سب دیکھ رہا تھا،،،، وہ دعا کا ریکشن دیکھنا چاہتا تھا،،،،،
دعا ہلکا سا آگے بڑھی تھی،،،، جب وہ اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا،،،، کہاں چلی،،،، دعا اس کی ڈھٹائی پر حیران تھی،،،،، کیسے وہ یہ سب کچھ کیے جا رہا تھا,,,,
ہٹو میرے راستے سے،،،،،، وہ غصے میں چلائی تھی،،،،، اور پیچھے کی طرف مڑی تھی،،،، جب اس گھٹیا شخص نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا،،،،،، بس اتنا ہی دیکھ سکتا تھا زاکوان,,, وہ اس کی طرف بڑھا تھا،،،،،،
چٹاخ،،،، جیسے ہی اس نے اپنے گھٹیا پن کی آخری حد کی اس نے اس کی چہرے پر اپنے ہاتھ کی چھاپ چھوڑ دی،،،،
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
