Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 28

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

وہ لال رنگ کے جوڑے میں نہایت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔!! دعا مکمل طور پر تیار ہو چکی تھی۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف زاکوان کی تیاری بھی مکمل ہو چکی تھی۔۔۔۔!! اب وقت تھا نکاح کا۔۔۔۔!!

وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔۔ جبکہ ان کے درمیان کچھ پھول کی لڑیوں سے پردہ حائل کیا گیا تھا۔۔۔۔

مولوی صاحب نے اجازت طلب کرتے ہوئے نکاح پڑھانا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

”دعا بنت صدیق احمد آپ کا نکاح زاکوان بنت واسم شاہ سے بعوض حق مہر دو کروڑ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔!! “

مولوی صاحب نے سوال کیا تو دعا نے زاکوان کو دیکھا تھا جو اس کی طرف پرجوش نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ پھر آنکھیں جھکاتے ہوئے اس نے اس نکاح کو قبول کیا تھا۔۔۔۔۔!!

”قبول ہے۔۔۔۔!!“

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟

”قبول ہے۔۔۔۔!!“

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟

”قبول ہے۔۔۔۔۔!!“

دعا کے بعد مولوی صاحب زاکوان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔!!

”زاکوان بنت واسم شاہ آپ کا نکاح دعا بنت صدیق احمد سے بعوض حق مہر دو کروڑ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔؟؟“

”قبول ہے۔۔۔۔!!“

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟

”قبول ہے۔۔۔۔!!“

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔؟؟

”قبول ہے۔۔۔۔۔!!“

آخر میں نکاح کے کاغذات پر سائن کرتے ہوئے دعا مانگتے ہوئے وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی زندگی میں ہر طرح سے شامل کرچکا تھا۔۔۔۔ جنھیں کوئی الگ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔!!!

ان دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔!!

رات کے نو بج رہے تھے۔۔۔۔ دعا دلہن کے جوڑے میں سجی سنوری زاکوان کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔

جب ہی وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ زاکوان نے سامنے دعا کو اپنا انتظار کرتے دیکھ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔

وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔ اور اس کے پاس جا کر اس کے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔۔

جب کہ وہ نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ اس کی جھکتی نظروں کو دیکھ وہ ایک بار پھر سے مسکرایا تھا۔۔۔

زاکوان نے اپنی جیب سے ایک خوبصورت ڈائمنڈ کی رنگ نکالتے ہوئے اس نے دعا کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔۔ اور اس کی انگلی میں انگھوٹی ڈالی تھی۔۔۔۔۔۔

”یہ ہے تمھاری منھ دکھائی کا گفٹ۔۔۔۔۔!!“

اس نے انگھوٹی ڈالتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو اس نے اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا۔۔۔۔

جبکہ اس کا لمس محسوس کرتے ہوئے دعا کے جسم میں کرنٹ کی لہر دوڑی تھی۔۔۔۔

”سو بیٹیفول۔۔۔۔۔!!“

اس نے انگوٹی کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ زاکوان بھی مسکرایا تھا۔۔۔۔

”تم سے کم۔۔۔۔!!“

اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے اس نے بڑی عقیدت سے کہا تھا۔۔۔۔

جبکہ اب وہ آہستگی سے پیچھے ہوتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا تھا۔۔۔۔ اور ان کو اپنے لبوں کی قید میں لیا تھا۔۔۔۔

دعا کا سانس ایک دم سے سوکھا تھا۔۔۔۔۔!! اس کے چہرے کا رنگ مکمل طور پر سرخ ہوا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ آہستگی سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

باہر رات مزید گہری ہوتی جا رہی تھی اور دو لوگوں کا ملاپ ہو گیا تھا۔۔۔۔!!

صبح کے آٹھ بج گئے تھے۔۔۔۔ میرب کی آنکھ ایک دم سے کھلی تھی۔۔۔۔!! وقت دیکھتے ہی وہ ڈر سی گئی تھی۔۔۔۔

کیونکہ رات دیر تک کو وہ اس کے بابا اور اس کا بھائی شاہزیب ایک دوسرے باتیں کرتے رہے تھے۔۔۔ اس لیے دیر سے سوئی تھی۔۔۔۔۔!!

لیکن اب وقت دیکھ کر اسے ڈر تھا کہ کہیں آفس سے چھٹی نہ ہو جائے۔۔۔۔۔!!

وہ فوراً اٹھی اور فریش ہونے کے لیے واش روم میں بند ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ کچھ وقت کے بعد وہ کمرے سے تیار ہو کر نکلی تھی اور بھائی کے ساتھ آفس کے لیے نکلی تھی۔۔۔۔۔!!

دارب کمرے میں بیٹھ کر کام کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!! اس وقت اس کے کمرے میں ایک جینز اور شرٹ میں ملبوس لڑکی وہاں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔

اس نے اتنی زخمت نہیں کی تھی کہ اس سے اجازت ہی لے لے۔۔۔۔!! جب کہ اسے دیکھتے ہوئے دارب کا اعصاب تن گئے تھے۔۔۔۔ اور اس نے غصے کی نگاہ سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔!!

”تم۔۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو کومل۔۔۔۔۔!!“

اس نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے بڑی ہی شدت سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ اس پر تو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا۔۔۔۔!!

”اوو ڈارلنگ ایسے مت کہو۔۔۔!!!”

اس نے پر اطمینان ہوتے ہوئے مسکراتے ہوئے دارب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔

”بکواس مت کرو۔۔۔ کومل اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔!!“

دارب نے اب ہر لحاظ کو پار کرتے ہوئے اسے یہاں سے جانے کا کہا تھا۔۔۔ جبکہ اسے کونسا فرق پڑنے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔

”اوو ڈارلنگ۔۔۔۔!!”

وہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے اتنا ہی کہا تھا جب ہی کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن سامنے سے جو اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ وہ دارب کے ہوش اڑا گیا تھا۔۔۔۔

”میرب۔۔۔!! ”

دارب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا حیرانگی سے کہا تھا۔۔۔۔ جبکہ ان دونوں کو یوں ایک دوسرے کے قریب دیکھ کر میرب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی۔۔۔۔

”کون میرب۔۔۔۔۔؟؟ تمھیں نہیں پتا کہ جب کسی کے روم میں آتے ہی۔ تو ناک کر کے آتے ہیں۔۔۔۔!!! تم دیکھ نہیں رہی ہم بیزی ہیں جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!!”

کومل کو میرب کو جھٹکا تھا۔۔۔۔

”س۔۔ سوری۔۔۔۔!! “

یہ کہتے ہوئے میرب آہستگی سے کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔ جبکہ دارب کو کومل پر شدید غصہ آیا تھا۔۔۔۔ اس نے فوراً اسے پیچھے جھٹکا تھا۔۔۔۔۔

وہ میرب کو کسی بھی قیمت پر خود سے بد گمان ہونے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔!!

وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔ اور وہ کیا نکلا تھا۔۔۔۔؟؟ وہ چلتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔۔۔!! جب ہی وہ آفس کے ایک ایسے کونے میں نکل آئی تھی۔۔۔۔ جہاں کوئی بھی نہ تھا۔۔۔۔ دارب بھی اس کے پیچھے پیچھے آیا تھا۔۔۔۔!!

”مس میرب۔۔۔۔!! مس میرب۔۔۔۔!!“

اس کی آواز سنتے ہوئے وہ لب سختی سے بھینج گئی تھی۔۔۔۔ جب کہ وہ اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔!!

”میرب آپ جیسا سمجھ رہی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔!! میں اس لڑکی کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا اور نہ کبھی ایسا ہوگا۔۔۔۔!!“

اس نے اسے وضاحت دی تھی۔۔۔۔

”دارب سر۔۔۔!! آپ مجھے کیوں صفائی دے رہے ہیں۔۔۔۔ مجھے کیا اگر آپ اس لڑکی کو پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔“

اس نے دارب سے صفائی دینے کی وجہ پوچھیں تھی۔۔۔۔ کہ نا تو کوئی رشتہ تھا نہ ان کے درمیان جو یوں وہ اسے صفائی دے رہا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ وہ اسے پسند کرتا تھا۔۔۔۔!!

”کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔۔۔۔!!“

آہستگی سے دارب نے اسے آدھی حقیقت بتائی تھی۔۔۔۔۔ لیکن یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ لڑکی وہی ہے۔۔۔۔

”مجھے کیا مسٹر دارب آپ اگر کسی اور کو پسند کرنا چاہے تو۔۔۔۔!!!“

میرب نے اس چیز سے بھی صاف طور پر انکار کیا تھا اسے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔!!!

”آپ کو اس بات سے فرق پڑے گا جب آپ جان جائے گی کہ وہ لڑکی کون یے۔۔۔۔!!!“

اس کی بات سن کر میرب ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔

”بالکل بھی نہیں۔۔۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔!!“

میرب نے اس کو جواب دیا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ لب بھینج گیا تھا۔۔۔۔

”آپ کو فرق پڑے گا کیونکہ وہ لڑکی آپ ہیں۔۔۔۔!!“

اس کی یہ بات سن کر میرب مکمل طور پر ساکت رہ گئی تھی۔۔۔۔ اسے اس بات کی یوں بالکل بھی امید نہ تھی۔۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *