Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt NovelR50487 Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 5
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 5
Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt
سر یہ فائلز اجالا نے دی ہیں۔۔۔۔ آپ پڑھ کر سائن کردیں۔۔۔۔ میرب نے دارب کے ٹیبل پر کچھ فائلز رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔ٹھیک ہے میں کردیا ہوں۔۔۔ یہ سنتے ہی میرب نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اس کی آواز نے روک دیا۔۔۔۔
رکیں۔۔۔!! میں نے جانے کا نہیں کہا آپ کو۔۔۔ یہ سنتے ہی اسے غصہ تو آیا پر اپنے آپ پر قابو پا گئی تھی۔۔۔۔ وہ مڑتی ہوئی اسے دیکھتی ہے۔۔۔
جی سر اور کوئی کام۔۔۔ !! اس نے کہا تو دارب نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔ جی۔۔۔!! جا کر اجالا کو کہیں کے میرے لیے ایک کپ کافی بنوا دے۔۔۔۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہ کمرے سے نکلی۔۔۔
اور اجالا کو جاکر اس کا پیغام دیا۔۔۔ اور جا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اس کے سامنے جاتے ہی پتہ نہیں اسے کیا ہو جاتا تھا۔۔۔ ؟؟ خود پر قابو نہ رہتا۔۔ حیر وہ ابھی ان باتوں کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ اس لیے کام پر دھیان دینے لگی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زونی سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔ جبکہ اس کے درندہ صفت خالہ کا شوہر بھی درد کو برداشت کرتے ہوئے اس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔
کہ کہیں وہ بھاگ گئی تو اس کی ڈیل کا کیا ہوگا۔۔۔۔۔ وہ اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔
زونی بھاگتی بھاگتی ہوئی سڑک پر آ پہنچی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا۔۔۔۔ رک زونی منحوس مت بھاگ چھوڑو گا نہیں۔۔۔۔!! اس نے درد کو برداشت کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
جبکہ اس کی آواز سنتے ہوئے زونی نے اپنی رفتار تیز کی تھی۔۔۔۔۔ رک زونی۔۔۔!! ایک بات پھر سے وہ چیخا تھا۔۔۔۔
اے اللہ۔۔۔!! اے میرے رب۔۔۔!! میری مدد فرما۔۔۔ اللہ اس جلاد سے مجھے بچا۔۔۔۔اللہ جی مجھ پر اپنا کرم فرما۔۔۔۔۔ بھاگتے بھاگتے ہی زونی نے دعا کی تھی۔۔۔۔
جب ہی بھاگتے ہوئے اس کا پاؤں نیچے ایک پتھر سے ٹکڑا گیا تھا۔۔۔۔ اور وہ نیچے گری۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔ وہ درد سے کراہی تھی۔۔۔۔ جب ہی وہ گھٹیا شخص اس کے پاس آیا تھا۔۔۔۔۔
ہممم بڑا بھاگ رہی تھی۔۔۔۔ اب گر گئی نہ۔۔۔۔ چل اب میرے ساتھ۔۔۔ اس نے زونی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔!! چیختے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ اس گھٹیا شخص کے ہاتھ سے چھڑایا تھا۔۔۔۔ میں نہیں جاؤ گی۔۔۔ زونی نے اسے دھکا دیا۔۔۔۔
جس سے اس کا سر ایک پتھر پر پڑا تھا۔۔۔ وہ اٹھتے ہوئے وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔۔ ایک دو دفعہ لڑکھڑائی بھی لیکن پھر خود کو سنبھال لیا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دعا اس وقت سے کمرے میں بند تھی۔۔۔۔۔وہ بیچاری کیا کرتی۔۔۔۔؟؟ اس کی تو سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔
وہ اس وقت سے روئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔ تقریباً دس گھنٹے گزر چکے تھے۔۔۔۔ اس نے نہ ہی اس وقت سے کچھ کھایا تھا اور نہ ہی کچھ پیا تھا۔۔۔۔۔
اس کے بابا بھی اس وقت سے کافی پریشان تھے۔۔۔۔ انھیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔ ؟
اور ایک اس کی چوڑیل نما پھوپھو۔۔۔۔ افف۔۔۔
بھائی صاحب میں تو کہتی ہوں کہ اب دعا کی شادی کردی نی چاہئیے آپ کو۔۔۔۔ عمر بھی سہی اور پھر اب یہ سارا واقعہ۔۔۔۔ میں تو کہتی ہوں شادی کریں اب اس کی۔۔۔۔۔ وہ جو پہلے ہی پریشان بیٹھے تھے۔۔۔۔ اوپر سے یہ انھیں اور پریشان کرنے کو تیار ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
کس سے ؟؟ کس سے کرو دعا کی شادی بتاؤ تم ہی بولو۔۔۔۔ کوئی اچھا رشتہ ہے تمھاری نظر میں۔۔۔۔ آجکل اچھے رشتے ملتے ہی کہاں ہیں۔۔۔؟؟ اس کے بابا نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔
جی بھائی صاحب ہے میری نظر میں ایک ایسا رشتہ۔۔۔۔۔ میرا دیور ہے نہ۔۔۔۔ اس نے کہا تو انھوں نے اسے دیکھا۔۔۔۔
صالح۔۔۔؟؟ تم صالح کی ہی بات کررہی ہو نہ۔۔۔۔؟؟ انھوں نے کہا تو راشدہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
جی بھائی صاحب اس کی ہی بات کررہی ہوں میں۔۔۔ !! دیکھیں بھائی صاحب چاہے اس کی پہلی بیوی مر گئی ہو لیکن اتنا بھی بوڑھا نہیں۔ ہے وہ صرف چالیس سال کا ہے۔۔۔۔۔ اور اتنا فرق تو ہوتا ہی ہے۔۔۔۔
اس نے سفاقی سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
پر۔۔۔۔!! انھوں نے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔ جس پر راشدہ نے انھیں چپ کروا دیا تھا۔۔۔۔
پر ور کچھ نہیں۔۔۔۔۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس سب کے بعد لوگ اپنے منھ بند کرلیں گے۔۔۔۔ ؟؟ نہیں۔۔۔۔ ان کے منھ بند کروانے کا ایک ہی راستہ ہے دعا کی شادی۔۔۔۔۔ راشدہ نے کہا تھا۔۔۔۔
جبکہ یہ سب کچھ دعا سن چکی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اب بس اسے اپنے والد کے فیصلے کا انتظار تھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے راشدہ۔۔۔۔!! انھوں نے کہا تو جہاں راشدہ مسکرا گئی وہی دعا کے چہرے کی افسردگی اور گہری ہوگئی۔۔۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زاکوان شدید غصے میں گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کام اگر کیا ہے تو کس نے کیا ہے۔۔۔۔؟؟
وہ غصے میں اندر آیا جہاں سب بیٹھ کر اس کا انتظار کررہے تھے۔۔۔۔۔ لیکن پھر ان سب کو اگنور کرتے ہوئے وہ کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔
کمرے میں پہنچا تو اس کا دل کیا کہ سب کچھ تیس نہیں کردے۔۔۔۔۔ اور ایسا ہی کیا اس نے کمرے کی حالت بے گاڑ کر رکھ دی تھی۔۔۔۔۔۔
اس سب میں ہی اسے دعا کا خیال آیا تھا۔۔۔۔۔ اس نے پینٹ کی جیب سے موبائل نکالتے ہوئے دعا کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔۔۔
دعا جو اس وقت سے آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔۔ موبائل پر زاکوان کا نمبر دیکھ اس نے فوراً فون اٹھایا تھا۔۔۔۔ اور ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا۔۔۔۔
اس نے فون اٹھایا۔۔۔۔۔
دعا۔۔۔!! دعا۔۔۔ تم کیسی ہو؟! کہاں ہو۔۔۔۔؟؟ زاکوان نے فکر سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔ کیسی ہو سکتی ہوں میں ؟؟ اس نے ہلکا ہلکا روتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
جب کہ وہ جان گیا تھا کہ وہ رو رہی ہے۔۔۔۔۔ دعا۔۔۔۔!! تم رو رہی ہو؟؟ اس نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔
میری قسمت میں تو بس اب رونا ہی لکھا ہے۔۔۔۔۔اس نے کہا تو زاکوان لب بھینج گیا۔۔۔۔
تم ایسی مایوسی کی باتیں کیوں کر رہی ہوں۔۔۔۔۔؟ میں ہو نا تمھارے ساتھ۔۔۔۔ زاکوان نے کہا تو وہ ایک بار پھر سے روئی۔۔۔۔
اب کچھ نہیں ہوسکتا بابا نے میرا رشتہ طہ کردیا ہے۔۔۔ اس نے کہا تو زاکوان کو اس پر شدید غصہ آیا۔۔۔۔
دعا میری بات سنو۔۔۔۔!! یاد رکھنا تم صرف میری ہو صرف میری زاکوان شاہ کی۔۔۔۔ میرے علاؤہ اگر کسی نے تمھیں ہاتھ لگایا تو اس کی جان لے لو گا۔۔۔۔!! زاکوان نے غصے میں کہا تھا۔۔۔
