Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 2) Episode - 15 (Part - 2)

Raah E Mohabat (Season 2) By Abdul Ahad Butt

کیا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ نکاح گینگ میرے خالو ملے ہوئے میرا سودا۔۔۔۔!! مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ہے۔۔۔۔!!

رات کے دو بج رہے تھے اور وہ یہ سب باتیں کر رہا تھا اس کے ساتھ۔۔۔۔ اور جو بھی اس نے کہا تھا اس میں سے ایک بھی بات زونی کو مکمل طور پر سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔!!

تم بس اتنا سمجھ لو کہ اگر اپنی جان بچانا چاہتی ہو تو مجھ سے شادی کرنی ہو گی۔۔۔ !!

زاکوان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا۔۔۔۔!!

لیکن آپ کے گھر والے۔۔۔۔!! وہ اتنا ہی بول پائی تھی کہ زاکوان نے اس کی بات کاٹ کر کہنا شروع کیا تھا۔۔۔۔!!

تم ان کی فکر مت کرو۔۔۔۔!! زاکوان کی بات سنتے ہی زونی نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔!!

ٹھیک ہے۔۔۔۔!! زونی نے کچھ سوچ کر جواب دیا تھا۔۔۔۔ جبکہ زاکوان دروازے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔

لیکن یہ شادی کنٹیکٹ میرج ہوگی۔۔۔۔!! ہمارے درمیان کوئی تعلق نہ ہوگا۔۔۔۔

یہ سنتے ہی وہ اس کی طرف مڑا تھا۔۔۔۔ اور حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔

جو کبھی ڈری ڈری سہمی سہمی سی رہتی تھی آج وہ کس قدر نڈر بن گئی تھی۔۔۔۔!!

ٹھیک ہے۔۔۔!!

یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔ جب کہ وہ ایک گہری سوچ میں چلی گئی تھی۔۔۔۔

وہ رخصت ہو کر اس گھر آئی تھی جس کا اسے اندازہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔!! وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کا نکاح سوہم سے ہو جائے گا۔۔۔

ایلف اور شانزے اسے کمرے میں چھوڑ کر جا چکے تھے۔۔۔۔ وہ چپ چاپ جا کر واش روم میں گھس گئی تھی اور پھر کپڑے بدل کر واش روم سے نکلی اور بستر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

جبکہ شانزے حسن کے پاس آئی تھی۔۔۔۔!!

شانزے انائیرہ کو روم میں چھوڑ آئی ہو۔۔۔؟؟ حسن نے اسے دیکھتے ہی اس سے سوال کیا تھا۔۔۔

جی بھائی۔۔۔! میں تو کھانے کا بھی پوچھا تھا لیکن شائید ان کی تو ساری بھوک ہی مٹ گئی ہو۔۔۔ کافی کافی چپ چپ سی تھی۔۔۔

شانزے نے افسردگی سے کہا تھا۔۔۔۔

کوئی بات نہیں وہ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔ تم بھی جا کر رسٹ کرلو۔۔۔۔!! حسن نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔

جس پر شانزے چپ چاپ کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!!

کیا۔۔۔!! یہ کہا کہہ رہیں آپ۔۔۔۔ مطلب انائیرہ کے ساتھ اتنا بڑا روکھا۔۔۔۔ استغفر اللہ۔۔۔۔

دعا نے زاکوان کی بات سنتے ہی کہا تھا۔۔۔

ہمم۔۔۔!! ایک اور بات بھی ہے۔۔۔۔!! زاکوان نے نہایت ہی نرمی سے کہا تھا۔۔۔۔ ویسے تو وہ اسے سارا قصہ بتا چکا تھا۔۔۔۔

لیکن سوہم اور انائیرہ کے نکاح کے متعلق نہیں بتایا تھا اس نے ابھی اس کو۔۔۔۔

کیا بات ہے زاکوان اب وہ بھی بتا دیں۔۔۔۔!! دعا نے کہا تو اس نے بتانا شروع کیا تھا۔۔۔۔!!

وہ دراصل بات یہ ہے کہ بھائی کا نکاح انائیرہ سے ہوگیا ہے۔۔۔۔!! زاکوان کی بات سن کر دعا کو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔۔۔۔

اب بس ہنسی بھی شادی جلدی سے ہو جائے۔۔۔!! زاکوان کی بات سن اس کو شرم آئی تھی۔۔۔۔۔

میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔۔

یہ کہہ کر اس کی بات کا جواب دیے بغیر وہ فون بند کر گئی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی یہ مسکراہٹ کسی کو اندر سے کاٹ چکی ہے۔۔۔۔!!

وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔ اور دروازہ پٹخ کر بند کیا تھا۔۔۔ جس کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔

نہیں۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔

میں دعا کو کبھی زاکوان کی دلہن بن کر اس گھر میں نہیں آنے دو گی۔۔۔ وہ صرف میرا ہے۔۔۔

اس کے لیے مجھے جس بھی حد تک جانا پڑا میں جاؤں گی۔۔۔۔ شانزے نے خود سے ہی ایک عزم کیا تھا۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *