Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 9)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
Farhan meets Nimra ![]()
فروری کا.مہینے شروع ہو چکا.تھا…پر سردی.ابھی بھی. برقرار تھی..درخت پتوں سے.خالی اور خشک.سرد ہوائیں. ..البتہ اب اتنی.سردی.نا.تھی ..
.اسکی یونی.کا بالکل آخری مہینہ تھا…وہ کام ختم کیے ابھی نکل ہی رہا.تھا کہ اسے. بلال آفندی کی کال آئی..
اسنے سکرین پر بظر ڈالی..
ابو.کا.فون؟؟ اس وقت؟؟
اسنے.کال.اٹینڈ کئ..
اسلام علیکم ابو…اسنے سلام کیا..
وعلیکم اسلام بیٹا…فرحان کدھر ہو؟؟
انھوں نے.فوراً پوچھا.تھا…
جی.بس.گھر.کے.لے نکل.ہی.رہا.تھا..خیریت؟؟
اسے انکیاواز تھوڑی گھبرائی ہوئی لگی…
خیریت نہی.ہے..
کیوں کیا.ہوا ؟؟.اسنے.فوراً پوچھا تھا…
ابا جی.کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے..ہم اسلام آباد. پمز ہاسپیٹل لے کر جا.رہے ہیں ..تم.بھی.سیدھا ادھر ہی آجاؤ….
انھوں نے.اسکو اجلت.میں آگاہ کیا…
کیا؟؟؟؟دادا جان.کو اٹیک.ہوا ہے ؟
اسکو شدید جھٹکا لگا تھا…
کیسے؟؟
وہ جلدی سے گاڑی.کی طرف دوڑا تھا..
ملک.وجاہت اسکے.لیے.کیا.تھے یہ.وہ.جانتا تھا…اسکو باپ سے بڑھ کر عزیز.تھے وہ اسکو..بچپن سے انھوں نے اسکے سارے لاڈ اٹھائے تھے..ہر خواہش پوری کی تھی..اسی لاڈ کی وجہ.سے تو اسے ہر بات منوانے کی عادت تھی…وہ.اسے عزیز رکھتے تھے تو باقی سب بھی اسکو بہت عزیز رکھتے تھے…خاندان میں اسکی اپنی.ایک.ویلیو تھی.امپورٹنس تھی….سب اسکی اہمیت سے.واقف تھے…
تھبی.خاندان.کی.ساری لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے.بھی اسکے آگے.پیچھے ہوتے تھے…….
سونے پہ سہاگہ اسکی پرسنیلٹی اور وجاہت… وہ اپنے لکس کی.وجہ.سے.یونی.میں بھی خاصا پاپولر تھا. ..
ملک.وجاہت اگر اس پر واری جاتے تھے تو.وہ.بھی ان پر جان.چھڑکتا تھا…
اسنے جلدی سے کار سٹارٹ کی اور ذن سے آگے بڑھا دی….
کیا؟؟ اللہ خیر کرے بھابھی..میں ابھی آتی ہوں….کس ہاسپیٹل میں لے کر آئے ہیں ؟؟
امروزیہ بیگم کے تو ہاتھ پیر پھول گئے تھے ملک.وجاہت کی طبیعت کی ناسازی کا.سن.کر…
ملک.سیال کام کے سلسلے میں اسلام آباد سے باہر تھے…ارسلان کے پیپر قریب تھے سو وہ دوستوں کے ساتھ کمبائن سٹڑیز کے.لیے.گیا ہوا تھا..اسکی.واپسی دیر سے متوقع تھی…
کاشان یوپی ایس کی بیٹری چینج کروانے لے.کر گیا تھا..اس کے علاوہ.بھی اسنے کئی کام.نبٹانے تھے…
نمرہ ابھی یونی سے واپس.نا.آئی تھی….
وہ انتظار نہی کر سکتی تھیں. …
وہ ٹیکسی لے کر ہوسپٹل چلی گئیں. ..
ہوسپٹل پہنچ کر سامنے ہی انکو.بلال.آفندی نظر آئے ….
وہ بھی انکو دیکھ چکے.تھے..
سلام.دعا کے بعد انہوں نے طبیعت پوچھی تھی…
کیسے ہیں چچا جی؟؟
انھوں نے پوچھا تھا..
اللہ.کا شکر ہے مائنر اٹیک تھا…اب بالکل خطرے سے باہر ہیں. …
انھوں نے انکو.تسلی.دی..
اسے بعد وہ وجاہت آفندی سے ملیں…
تسلی ہونے.کے.بعد انہیں نمرہ.کا.خیال.آیا…وہ اس وقت تک گھر آجاتی تھی..انہوں نے اسکو کال کی…
اور اپنی.ہسپتال آمد کا.بتایا…
کیا؟؟بڑے نانا.جان کو کیا.ئوگیا؟؟اب کیسے ہیں ؟؟آپ.نے پہلے کیوں نہی بتایا.؟؟میں آجاؤں ابھی؟؟؟
وہ.ایک ساتھ کئی سوال کر گئی..
صبر.لڑکی…صبر تو کرو..اتنا.بولتی.ہو ایک.تو…
انہوں نے اسکو.ڈپٹا..
اب بالکل ٹھیک ہیں. .فکر.نا.کرو..اور ابھی.نہی.آنا..گھر میں رہو..کاشان.اور ارسلان بھی لیٹ آئیگے..تمہارے بابا بھی.نہی ہیں. …
میں کاشان کو فون کرونگی لے جائگا.مجھے…
انہوں نے اسکو بتایا تھا…
او اچھا سہی…
وہ فون.بند کر چکی تھیں. …
گھر سے کوئی بھی عورت نا آئی تھی سو وہ وہیں ہسپتال میں رک گئی تھیں. ….
بلال آفندی باہر ہی تھے..فرحان اور اشعر بھی آچکے تھے…فرحان کافی دیر ملک.وجاہت کے ہاس.بیٹھا رہا…
مغرب کا وقت ہو چکا.تھا…امروزیہ بیگم.نے.نماز پڑھی…اور پھر کاشان.کو.کال.کی…اسنے.بتایا کہ.وہ ابھی لیٹ ہو.جائے گا…
رات کے ساڑھے آٹھ ہونے.کو تھے…
انکو نمرہ کی فکر لاحق ہوئی….
انکے ایریا میں بجلی کا.کام چل ریا.تھا..صنح سے لائٹ بھی آ.جا.رہی تھی.اوپر.سے کاشان یوپی ایس بھی سیٹ کروانے لے کر.گیا تھا…
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھیں کہ.اشعر نے پوچھا …
کیا.ئوا آنٹی؟؟خیریت؟؟ِ کوئی پریشانی.ہے؟؟
فرحان بھی اسی وقت متوجہ ہوا تھا…
جی.بیٹا..بس کاشان کام.میں مصروف تھا. دور ہے ابھی ِاسکو ابھی گھنٹے سے اوپر لگے گا.. اور گھرمیں نمرہ اکیلی ہے…
انہوں نے پریشانی.بتائی…
جبکہ پاس کھڑے فرحان کے کان نمرہ کے ذکر ہر ایک.دم.کھڑے ہو گئے تھے…وہ.جو اب دادا جان.کی.طبیعت.سنبھلنے پر تھوڑا ریلیکس ہوا.تھا…
میں آپکو ڈراپ.کر دیتا ہوں! !
اسنے ایک لمحہ تاخیر کیے بغیر کہا تھا…
نہی.بیٹا..آپکی.یہاں ضرورت ہوگئ….
امروزیہ بیگم.نے کہا..
نہی.آنٹی یہاں میں ہوں..بلال چاچو بھی ہیں اور اب تو اللہ.کا.شکر.ہے دادا.جان.بھی ٹھیک ہیں. ..فرحان ڈراپ کر دے گا آپکو…
اشعر نے.بھی اسکا ساتھ دیا..اور اسکو تو موقعہ چاہیے تھا..سو جناب تیار تھےہر دم!!!
میں چھوڑ دونگا آپکو نو پرابلم ….
فرحان نے پھر کہاِ.مبادا انکو کنونس کر رہا.ہو..
چلیں ٹھیک ہے.پھر…
امروزیہ بیگم بھی تیار.ہوئیں. ..
اور اسکو تو جیسے موقعہ مل.گیا..دل.کی.مراد ہی بر آئی…وہ.ایک سیکنڈ لگائی بغیر آگے بڑھا..
میں جار لے آتا ہوں ادھر ہی سامنے…
اور فوراً چل.دیا…
اشعر کو تھوڑی حیرت ہوئی تھی اسکے اتاولے پن پر…
جبکہ امروزیہ بیگم باہر کی طرف چل.دیں….
وہ دونوں سیال ہاؤس پہنچ چکے تھے..گاڑی اندر لے جانے کے بجائے اسنے گیٹ کے ساتھ روک.دی تھی…
اسکا دل لگتا تھا اچھل.کر سینے سے باہر آنے کو بے تاب تھا..اس کے اتنے قریب تھا وہ..انکے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی….اور اتنے اچھے موقعے سے مستفید ہوئے بغیر وہ واپسی کا.ارادہ نا.رکھتا تھا….پر وہ خود اتر کر اندر بھی تو نا.جا.سکتا تھا..جب تک دعوت نا.ملتی![]()
امروزیہ بیگم گاڑی سے اتری تھیں. …
اوکے آنٹی ,میں اب چلتا ہوں(اوپر اوپر سے حالانکہ.دل تو کر رہا تھا کود کے اندر پہنچ جائے)
امروزیہ بیگم نے اسکی طرف دیکھا…
ایسے کیسے چلتا ہوں. .چلو اترو نیچے….
انھوں نے اسکو اپنائیت سے کہا…انکو بہت اچھا لگا تھا فرحان. ..
ابھی؟؟ آنٹی پھر کبھی سہی…
اسنے بناوٹی انکار کیا…ساتھ خود کو کوسا.بھی.کہ کہ.اگر خدا نا.خواستہ آنٹی نے کہہ دیا ..چلو.ٹھیک ہے تو؟؟؟؟![]()
![]()
پھر کبھی بھی آجانا..پر فلحال ابھی چلا اندر. ..ہانی.وغیرہ پیو.فریش ہو. جاؤ گے..کب سے ہوسپٹل میں ادھر ادھر.کے چکر.لگا رہے ہو…
انھوں نے دیکھا.تھا.اسکو اپنے دادا کی فکر میں ہلکان ہوتے ہوئے…
آجاؤ شاباش…
انھوں نے زور دیا…
اور وہ.جو پہلے سے تیار.بیٹھا تھا فوراً اتر گیا….دونوں چل کر مین گیت تک آئے…
امروزیہ بیگم کے پاس گیٹ کی ایک چابی تھی..ان.سب گھر والوں کے پاس ایک ایک.ڈپلیکیٹ چابی تھی.جو.وہ ہمہ وقت ساتھ رکھتے تھے…سو.انھوں نے بیل دینے یا.گیٹ پیٹنے کی زحمت نا.کی.تھی…
فرحان نے سامنے کھڑا عالیشان سا گھر دیکھا تھا….وہ انکی.حویلی.کے مقابلے میں چھوٹا تھا…لیکن بہت خوبصورت اور نفیس لگا تھا اسکو…اندر داخل.ہونے پر پورچ میں ایک خوبصورت نئی گولڈن ALTOکھڑی تھی…گاڑی بالکل چمک رہی تھی لگ رہا.تھا.نئی لی گئی.ہے…
لگتا ہے آنٹی کاشان آگیا ہے!!ِِِِاسنے گاڑی کو دیکھ کر اپنا.خیال ظاہر کیا تھا…
نہی نہی..یہ نمرہ کی ہے…
انھوں نے اسکو بتایا تھا…
اوہ اچھا…وہ بس.اتنا ہی کہہ سکا.تھا….
ابھی ہی نیو لی.ہے.اسکے بابا نے.گفٹ کی.ہے ماشاءاللہ رزلٹ اچھا.ایا تھا اسکا.کافی….
ان کا چہرہ خوشی سے چمک.اٹھا تھا یہ بتاتے ہوئے…
اوہ میں کاشان.جو بتا تو دوں کہ.میں آگئی ہوں. …انھیں کاشان.کا. خیال.آیا کہ انھوں نے اسکو انفارم ہی نہی کیا….
انھوں نے پرس کھولا فون نکالنے کے لیے…پر ادھر موبائل نا تھا…
میرا موبائل کہاں گیا؟؟ وہ بڑبڑائی تھیں. ..پھر انکو یاد آیا کہ موبائل تو انکے ہاتھ.میں تھا اور آتے وقت انھوں نے گاڑی میں ڈیش بورڈ پر رکھ دیا تھا…
لگتا ہے میرا موبائل اپکی گاڑی میں رہ.گیا ہے..
انھوں نے فرحان کو.آگاہ کیا…
اوہ..میں لے.کر آتا ہوں ِ..وہ فوراً جانے لگا…
ارے نہی.نہی..میں لے آتی ہوں سامنے ہی.رکھا تھا…
آپ جاؤ اندر نمرہ ہوگی…میں بس لے کر آتی ہوں. .
اور یہ کہہ کر وہ واپس.چل.دیں…
فرحان کو.سمجھ نا آیا کہ آگے جائے یا یہیں انتظار کرے…
اور وہ بالآخر چل.دیا…
وہ لاؤنج کے دروازے پر پہنچا تھا کہ.کسی کی باتوں کی آواز سن.کر.رک.گیا…
اسنے سامنے دیکھا…وہ صوفے پر چرھی بڑے آرام.سے اپنے آس پاس سے بے خبر..سامنے لیپ ٹاپ. رکھے کسی سے بدستور باتوں میں مشغول تھیِ.شاید وہ ویڈیو چیٹ کر رہی تھی….فرحان نے گلا کھنکارنا بہتر سمجھا…
اہممم اہممممم. ……!!!!!!
پر یہ کیا ساممے والی.تو ٹس سے مس تک نا.ہوئی.تھی…
مزید گلے.کو.بلاوجہ تکلیف دے کر اسنے گلا خراب نا کرنے کرنے.کا.ارادہ کر کے اسنے ہاتھ اتھا کر لاؤنج کا دروازہ ناک کیا.تھا..
اب کی.بار سامنے.والی نے لیپ.ٹاپ سے منہ اٹھا کر اوپر دیکھا تھا..اور سامنے.کھڑے اس اجنبی کو.دیکھ کر اسکی آنکھوں میں الجھن در آئی تھی…
آج کباب کڑھائی ٹرائی کی میں نے..
اسنے ان.دونوں کو.بتایا…
وہ اس وقت لاؤنج میں صوفے پر چڑھ کر بیٹھی تھی..سامنے لیپ ٹاپ پر مقی اور ایمن سے ویڈیو کال پر بات کرتے ہوئے…یونی سے آنے کے بعد اسے اور کچھ سجھ نا.آیا تو نیٹ سے کچھ مزے کا دیکھ کر بنانے کا سوچا…
جیسے تیسے اس نے کباب کڑھائی بنا ہی لی…جو کہ اس کی ایکس پیکٹیشن سے کافی زیادہ اچھی اور لزیز بنی تھی…کھانا بنانا ویسے بھی اسکو پسند تھا..چھوٹی عمر سے ہی وہ کچن کے کام کرنے لگی تھی..وجہ امروزیہ بیگم. ..جنکا خیال تھا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ باقی کام بھی ضروری ہیں. اور گھرداری ,کچن.سنبھالنا لڑکیوں. کا کام ہے…اس معاملے میں کوئی لاڈ نا تھا کیونکہ دوسرے گھر جا کر یہی لاڈ لڑکیوں کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں. .. ٹف سٹزیز کی وجہ سے روزانہ.نا سہی کبھی کبار یا ہر ویک ایند پر اور چھٹیوں میں .وہ کوکنگ کرتی تھی…کچج نیا ٹرائی کرتی..اسی وجہ.سے اب اسے کئی قسم.کے کھانے بنانے آگئے تھے..کچھ ڈشز میں تو وہ پرفیکٹ ہو چکی تھی… بیکنگ میں بھی کافی ماہر ہوچکی.تھی…
ذرا شکل.تو دکھا اپنی کباب کڑھائی کی…..
مقی کی منہ.میں کباب.کڑھائی کا.نام.سن.کر پانی.آیا تھا…کیونکہ وہ جانتی تھی نمرہ.کافی اچھی.کوکنگ کرتی.تھی….
اب کیا.ادھر اٹھا لاؤں؟؟
اسنے.معصومیت سے بے تکا.سا سوال.کیا…
عقل.کی اندھی..پلیٹ نام کی بھی.ایک.چیز سے آپکا روزانہ ہی پالا.پڑتا ہے..بائے مہربانی اسکو زرا تکلیف دیں اور اس میں ڈال کر لے آئیں. …
اب.کی.بار بولنے.والی ایمن تھی…
اوہ.اچھا…یاد آیا..![]()
![]()
ویسے اب.دیکھنا میں سسرال جا کر جھنڈے گاڑوں گی اپنی میکرونی اور پاستا.کے….
اسنے.فخر سے کالر جھاڑے تھے….
اس بات سے انجان.کہ اسکی.بات سن.کر.کسی کے چہرے.پر مسکراہٹ آئی.تھی…..
ہاں جیسے تیرے سسرال.والے تو صرف پاستا اور میکرونی پہ ہی گزارا کرتے.ہوں گے….
مقی.نے اسکو لتاڑا تھا…
اگر جو وہ.بریانی.کے شوقین ہوئے تو آپ یقیناً جھنڈے گاڑنے کے بجائے نام ڈبائیں گی..ناک.ہی کٹوائیں گی…
ایمن نے دانت نکالتی ہوئے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا…کیونکہ.وہ.سب بخوبی جانتی تھیں کہ نمرہ باقی سب.تو کر سکتی تھی ہر بریانی….
کئی کوششوں کے باوجود اس سے کبھی ڈھنگ کی بریانی نا بن.پائی تھی..سو اب وہ.بنانے کی غلطی بھی.نا.کرتی تھی..
ہاں ورنہ.بیچاروں.
کو امید ہو.گی بریانی کی اور بہو صاحبہ.سامنے حاضر کرینگی “کھچڑی”.وہ بھی مرچ مصالوں والی…![]()
مقی نے بھی اسکے زخم ہر چٹکی بھر.نمک چھڑکا تھا…
دفا ہو جاؤ دونوں مراسن ناہون.تو..نکلو.چلا..کوئی نہی دکھاتی میں اپنی کباب کڑھائی تم.ندیدیوں کو…
اسنے منہ.بنایا تھا..کیوٹ سا…
اتنے میں لاؤنج کا دروازہ.ناک.ہوا تھا..اسنی چونک.کہ.منہ موڑ کر داخلی دروازے کی طرف دیکھا تھا…..
سامنے کوئی کھڑا تھا..وہ ایک دم اچھل.کر.صوفے سے اتری تھی…
لمبے سیدھے بالوں کی.لمبی ہائی.پونی ٹیل ہوا.میں لہرائی تھی…
اسنے بلیک جینز اور اوپر .تقریباً گھٹنوں تک آتی ریڈ کلر.کی لانگ سویٹر پہن رکھی تھی جو فراک.سٹائل میں ہوئی تھی… ساتھ گلے میں چھوٹا سا بلیک.ہی مفلر تھا…
وہ ایک.دم.کھڑی ہوئی ..اسکے.سامنے سے اٹھتے ہی مقدس اور ایمن کو بھی سارا.منظر دکھنے لگا..
داخلی دروازے میں بلیو.جینز اور وائٹ ڈریس شرٹ میں ملبوس.وہ 6 فت سے اونچا. خوبصورت لڑکا انکو بھی نظر آرہا تھا…
نمرہ.ننگے پاؤں ہی چل کر اس تک.آئی.تھی…
وہ فرحان سے ایک بازو جتنے فاصلے پر رک.گئی..
لمبا قد,وجہہ جسم,چوڑے کندھے..
اسنے اسکا پاؤں سے جائزہ لینا شروع کیا..
اسنے برینڈ کے مہنگے جوتے پاؤں کی زینت بنائے ہوئے تھے…
پھر نظر گئ اس کے جسم.سے ہوتے ہوئے اس.کی چہری تک..اسکا چہرہ دیکھنے کے لیے نمرہ.کو.اپنا.منہ اونچا کرنا.پڑا تھا گردن.لمبی کر کے…
وہ اسکے کندھوں تک اتی تھی…
اسنے اسکا.منہ ہونکوں کی طرح دیکھا. .جبکہ فرحان چپ.چاپ.یہ.ساری کاروائی.دیکھ رہا.تھا..ِبلکہ.وہ.تو نمرہ کے چمکتے چہرے کا.طواف کرنے میں مگن تھے جناب….
جی؟؟آپ.کون؟؟.
نمرہ.نے ایک.دم.سوال داغا…
بےوقوف نے یہ تک نا سوچا تھا کہ مین گیٹ تو لاک.تھا.اور وہ گھر میں اکیلی.تو وہ.اندر کیسے آیا…
بلاوجہ ہی امروزیہ بیگم اسکو جھلی نا.کہتی.تھیں. ..
اسکا.سوال بڑا عجیب لگا تھا فرحان کو…
کیا بتاتا..
میں. .اپکا کزن.ہوں. …اسنے جو.بن.پڑا بول.دیا..حالانکہ.ایسی حالت اسکی.کبھی زندگی.میں نا ہوئی تھی.کہ وہ.سامنے چھتانگ بھر کی.لرکی کو دیکھ کر گبھرا جاتا…
ایمن اور مقی سامنے.لیپ تاپ پہ خاموشی سی ساری کاروائی دیکھ رہی تھیں. ..
ہیں نمرہ کا.کزن؟؟اوے نمی.نےتو.کبھی بتایا نہی اسکے خاندان.میں ایسے. ٹیٹ قسم کے پیس بھی.ہیں…
مقی آہستہ آواز میں ایمن.سے.مخاطب ہوئی…جو کہ.صرف اس کے لحاظ سے آہستہ تھی…![]()
ہیں…میرے کزن….ہاہاہا..وہ ہنس دی
وہ.مقی کی.بات.سن.چکی.تھی….
بھائی میری فیملی میں تو ایسا کوئی item.نہی ہے..![]()
اتنے میں پیچھے سے اسکی ماما حاضر ہوئیں. .
فرحان بیٹا ادھر کیوں کھڑے ہو..اندر چلو نا..سامنے نمرہ تھی..
نمرہ اندر لے کر جاؤ بیٹا…
انہوں نے.بیٹی کو کہا…
اسنے نا.سمجھی سے ماںکو دیکھا.جیسے ہوچھ رہی.ہو کس.کو.لے آئی ہیں. ..
خیر وہ.ایک.دم.سیریس ہوئی…
اسنے سامنے سے ہٹ کر فرحان کو.راستہ.دیا…
ابھی.وہ جا ہی.رہا تھا کہ ….
گھپ…ایک دم بجلی چلی گئی اور لاؤنج میں گھپ اندھیرا چھا گیا..
افف یہ.کیا ہوگیا ؟؟؟
امروزیہ بیگم جھنجلائی تھیں. .
ماما کام ہنی نا.ختم.ہوا ابھی..سو بار بار لائٹ آجا رہی ہے..
اسنے.انکو.بتایا…
رکیں میں کینڈل جلاتی ہوں…
یہ.کیتے ہی وہ.آرام آرام.سے اندازہ لگا کر موم بتی تک پہنچی اور اسے جلا.دیا…
لاؤنج میں مدہم پیلی روشنی پھیل گئی…
آو بیٹا…سوری یہ.کام ہو رہا ہے تو ایسی سچویشن.ہے…یوپی ایس کی.بھی بیٹری رینو.کروانے لے کر گیا ہوا ہے کاشان….
وہ شرمندہ.ہوئی تھیں. ..
نو پرابلم آنٹی…اسنے انکو شرمندگی سے آزاد کروایا تھا…
آپ بیٹھو میں پانی بھجواتی ہوں…
یہ کہہ کر وہ کچن میں چل دیں..جہاں نمرہ پہلے ہی پہنچ چکی تھی…
وہ ٹرے میں گلاس رکھے.پانی ڈالنے میں مگن تھی…
ماما یہ.کون ہیں ؟؟.اسنے.چھوٹتے ہی سوال.کیا…
بلال چاچو کے بڑے بیٹے ِ.فرحان. ..
انھوں نے بتایا تھا…
فرحان. ..اسنے.نام دھرایا..وہ.یہ نوم کئئ بار سن.چکی تھی…
اوہ..یو.مین عریبہ کے بھائی؟؟؟
اسنے فوراً پوچھا..
ہاں جی.وہی…
امروزیہ بیگم نے بتایا…
جاؤ پونی.دے.کر آؤ….
انھوں نے حکم صادر.کیا…
میں ؟؟.اسنے.معصوم شکل.بنائی…
اسے اپنا فرحان کو آئیٹم کہنا.یاد آیا تھا…
اب.کیسے جاؤں ؟؟شکر ہے.ماما.نے.نہی.سنا…
نہی اور کون.ہے یہاں.جس.کو.میں کہونگی…انھوں نے اسکو ڈپٹا تھا..
جاؤ پانی.وغیرہ دو…..
میں ذرا فریش ہو کر آتی.ہوں. …
وہ.یہ.کہہ.کر.اپنے کمرے.کی.طرف.چل.دیں
مرتی کیا نا کرتی…اسنے.اپنا مفلر کھول کر سر پر دوپٹے کی طرح لیا..اور ٹرے اٹھا کر اللہ کا نام.لے کر چل.دی.
کچن سے باہر لاؤنج میں موم.بتی کی روشنی نے ماحول کو خوبصورت بنا دیا تھا…خاموشی,سکوت,مدہم سی روشنی اور سردیوں کی شام….
اسنے پریشانی.میں اپنے ہونٹ کاٹے پھر ان پر زبان پھیر کر انھیں تر کیا تھا…وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی فرحان کی طرف بڑھنے لگی…
فرحان تک پہنچ کر اسنے پہلے ادب کے.تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے بہت ہی معصوم سی.شکل بنا کر آہستہ سی آواز میں اسکو مخاطب کیا…
اسلام علیکم بھائی….!!!!!!
اور اس کے سامنے ٹیبل پر. جھک کر.ٹرے رکھی تھی
بھائی!!!!!!!!!!!!!!…![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
فرحان کو.تو شدید قسم کا صدمہ لگا تھا…اسکے منہ سے اپنے لیے.بھائی.سن.کرِ..![]()
وہ دنیا میں کسی بھی لڑکی.کا.بھائی بننے کو.تیار تھا.سوائے.اس سامنے کھڑی اپسرا سی لڑکی.کے…. پر اس.پاگل.لڑکی.جو.کون.بتاتا….
پانی…..!!
نمرہ.نے.اسکو یاد.دلایا…اسنے فوراً سامنے.دیکھا.جہاں وہ کھڑی.تھی…
مدہم روشنی میں اسکا.حسن مزید.دو.آتشہ لگ رہا تھا…
شفاف.چہرہ…گلابی ہونٹ.جو کاٹنے.کی.وجہ سے سرخی مائل ہو چکے تھے….ناک میں ننھی سا نگ….
اسنے اسکے چہرے کو.دیکھا تھا…
جبکہ.سامنے کھڑی نمرہ کو اسکی بڑی.بڑی خوبصورت آنکھیں دکھی تھیں. ..اسنے بھی ان آنکھوں میں جھانکا.تھا…ا
شاید زندگی میں پہلی بار اسنے اس.طرح کسی لڑکے.کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی تھیں. …ان آنکھوں کی کشش نے اسکو.کھینچا تھا…
دونوں کی نظریں ٹکرائی تھیں صرف چند.لمحے…!!!.چند.لمحے لگے تھے.صرف ِ….. وقت ٹھہرا.تھا….ساکن.تھا…ہر طرف.سکوت تھا…
ٹک….. ٹک.کی آواز سے سکوت توٹا تھا…شاید امروزیہ بیگم آ.رہی.تھیں. .نمرہ نے فوراً نظریں جھکائی تھیں. …اور الٹے قدم وہ مڑ گئی.تھی..بغیر کچھ کہے…سنے…
وہ.کچن.میں جا.چکی.تھیِ..
فرحان بھی حال میں واپس آیا تھا….
گزرا ہوا.لمحا انتہائی حسین تھا…
اتنے.میں امروزیہ بیگم لاؤنج میں آئی تھیں. ..
بیٹا کھانا.کھا کر جانا….انھوں نے اسکے سامنے صوفے ہر بیٹھتے ہوئے کہا.تھا…
نہی آنٹی تھینک یو.سو.مچ.میں اب چلوں گا….
اسنے سہولت سے انکار.کرنا.چاہا…
حالانکہ نمرہ.کی.کباب کڑہائئ کی رداد.وہ سن چکا.تھا….
نہی یہ.کیا.بات ہوئی..نمرہ کھانا لگاؤ جلدی سے فرحان کے لیے…
انھوں نے وہیں سے آواز.بلند کی..وہ جو کچن میں آنے کے.بعد ابھی تک ساکت کھڑی تھی ایک.دم اپنے.امی کی آواز ہر جاگی.تھی…
لو جی…ایک.تو اتنا.اندھیرا.ہے….
وہ.سوچ کر رہ.گئی…وہ کچھ دیر پہلے.والی.بات ہر تھوڑا کنفیوژن کا.شکار تھی…
وہ.دوبارہ.باہر نہی.جانا.چاہ رہی.تھی…پر اور کوئی چارہ بھی تو نا.تھا..
جی ماما …اسنے.ادب.سے ہامی بھری…
سالن کچھ دیر پہلے.ہی بنایا.تھا…ساتھ جلدی جلدی توا رکھا اور.دو.روٹیاں بنائیں. …
سلاد وغیرہ اسنے پہلے ہی.بنا.کر.فریج میں رکھا تھا..
وہ نکال کر ٹیبل پر.رکھا..
اور پھر کھانا رکھنے لگی…
ڈائننگ روم کچن کے ساتھ ہی.تھا…
ٹیبل.پر اسنے ایک خوبصورت گولڈن کینڈل ہولڈر رکھا تھا…. اور اس.میں موم بتیاں جلانے.لگی…ابھی.وہ موم بتی جلا ہی.رہی تھی کہ امروزیہ بیگم فرحان کو لیے آگئی تھیں. …
آؤ بیٹا بیٹھو. ..انھوں نے.کرسی کی طرف اشارہ.کیا.تھا….
وہ کرسی کھسیٹ کر.بیٹھ گیا تھا…
جبکہ نمرہ سائیڈ پر.ہوئی تھی..اسنے.دوبارہ.اسکی.طرف دیکھنے.کی غلطی نا کی….
یہ لو نا…انھوں نے ڈونگے کی طرف اشارہ.کیا..نمرہ پکڑاؤ..انھوں نے نمرہ.سے کہا.کیونکہ ڈونگا ان.سے کافی آگے پرا تھا….
نمرہ.نے ڈونگا اٹھا کر آگے کیا تھا..فرحان کی نظر اس.کے مخروطی ہاتھوں سے ٹکرائی تھی…
گورے ہاتھوں پر خوبصورت پتلی اور.لنمبی انگلیاں. ..اس.کے ہاتھ آرٹسٹک تھے….جو دیکھنے والوں کو دیکھتے رہنے پر.مجبور کر دیتے.تھے…
نمرہ کبھی کسی بھی لڑکے سے اتنا.فری نا ہوئی تھی.. شروع سے وہ.لڑکیوں کے سکول میں پڑھی تھی..اور گن.کر دو.دوستیں تھیں. اسکی..ان.کے علاوہ اس نے.کبھی کسی کی طرف دوستی کا ہاتھ نا بڑھایا تھا….یونی میں بھی وہ بہت ہی کم میلز سے مخاطب.ئوتی تھی..وہ.بھی کوئی ضروری کام ہو تو…کزنز وغیرہ سے وہ شروع سے دور رہی تھی…الگ بالکل.گاؤں اتنا آنا جانا.بھی نا تھا…بس خلہ.کے بیٹے تھے جو اس.سے کافی بڑے تھے..اور کوئی خاص نا.تھے…فرحان, برہان.یا اشعر سے تو وہ کبھی نو.ملی.تھی کونکہ.وہ شروع سے ہاسٹل میں تھے….
اب اشعر قور برہان سے ملاقات ہوئی تھی تو بھی کم.کم.ہی بات ہوئی تھی..
لہذا اسے سمجھ نہی آرہا تھا کیا.کرے….بیٹھ.جائے یا چلی جائے…
اگر چلی جئے تو کہیں اسکو برا نا.لگے..روڈ.نا.لگے…
خیر اسنے سالن.اسکی طرف برھایا تھا….
میں. آتی.ہوں…..وہ یہ.کہہ.کر کچن.کی.طرف چل.دی..کچن.میں آکر اسنے چائے بنانے کا سوچاِ…
جلدی سے چائے کا.پانی چڑ ھا دیا… اور خود پاس کھڑی ہو گئی…
فرحان نے نمرہ کی فرسٹ ٹرائی میں بنائی ہوئی کباب کڑاھی کا پہلا.نوالہ.اللہ کا.نام.لے.کر.منہ.میں. رکھا..![]()
پر.یہ کیا….. اس.کے خیال.کے برعکس ذائقہ بہت اچھا تھا…نمک.مرچ ہر.چیز پرفیکٹ.تھی..اسنے کئی.ہوٹلوں سے کباب کڑاھی کھائی تھی.ہر وسکا اپنا ذائقہ تھا…
اسکو.واقعی خوشی اور حیرت.ہوئئ تھی..اسنے سوچا نا.تھا وہ.چھوٹی سی لڑکی اتنی اچھی کوکنگ کرتی ہو.گی…
وہ.رغبت سے کھانے لگا…
اتنے میں نمرہ چائے کی ٹرے لیے حاضر ہوئی تھی….
وہ اور امروزیہ بیگم باتوں میں مشغول تھے مگر اسکا دھیان.ہورا ہورا نمرہ کی طرف تھا…
وہ.کھانا کھا.چکے تھی….
سو چائے لیے صوفے ہر آگئے…اسکو اب واپسی کی جلدی تھی..اسنے.جلدی چائے ختم.کی اور واپسی کے لیے.کھڑا ہو.گیا…..نمرہ.کچن.میں چپ چاپ کھری تھی…
وہ.امروزیہ بیگم سے ملا.اور اجازت لے کر باہر کو.نکالا ..وہ.بھی اسکے ساتھ باہر آئیں. …
نمرہ نے کچن.سے.نکل کر برتن سمیٹنے شروع کیر دیئے. .
