Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 14)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab


گھر آ کر وہ اپنے کاموں میں لگ گئی…مقدس اور ایمن کی باتوں کو وہ بلکل فراموش کر چکی تھی اور فرحان جو بھی…اسنے نا پہلے کبھی کسی لڑکے کے متعلق ایسا سوچا.تھا نا اب سوچ رہی تھی..فلحال اسکے لیے اپنی تعلیم اور کریئر ہر چیز.سے آگے تھا..اسکا خواب تھا ایک ماہر سرجن بننا جس کے لئے اتنے سال محنت.کی تھی اسنے تاکہ میڈیکل میں ایڈمیشن ئو سکے…سب خیالات کو جھٹک کر وہ پڑھائی کی طرف اپنی توجہ مبدول کرنے میں کامیاب رہی…

فرحان کو ابھی تک نمرہ.کی پچھلی بات بھولی نہی تھی ..مگر نمرہ کا.میسج آجانے سے وہ کھل اٹھا تھا…اسے لگا وہ کامیاب رہا اس کا دھیان بٹانے میں. ..

“محبت تو ہوگی تمہیں وہ بھی مجھ سی مس نمرہ سیال…میرا جادو کسی پر کام نا.کرے..ممکن نہی…”

وہ خود اعتمادی سے مسکرایا تھا…وہ اس وقت آفس.میں موجود تھا…

اشعر جو کہ کام میں مصروف تھا اسکی نظر اٹھی تو فرحان کو.مسکراتے پایا..

اہمممم…خیریت ہے باس. ؟؟

وہ شرارت سے مسکرا کر ہوچھنے لگا….

کام کر ادھر…

فرحان نے تنک کر جواب دیا…

ہماری بلی ہمیں کو.میاؤں میاؤں….

اشعر نے چڑانے کے انداز.میں کہا…

بات کہاں تکا پہنچی سویٹ فرحان “بھائی””؟؟؟؟؟؟

اشعر نے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا….

تیری تو…

فرحان اٹھنے لگا.اتنے میں برہان آفس.میں داخل ہوا…

کیا ہوا ہے باس کیوں گردن تڑوانے پر تلا ہے؟؟

برہان نے اشعر سے پوچھا …

اسے ہی میری خوبصورت صراحی دار گردن سے خار ہے..جلتا ہے میرے حسن.سے…دیکھ برہان بتائے دیتا ہوں میں اگر کسی دن گردن دبنے سے میری موت واقع.ہوئی تو قاتل صرف اور صرف فرحان شاہ ہوگا…

میری اپیل ہے تو انصاف کا.ساتھ دیتے ہوئے سخت سے سخت سزا دلوائے گا فرحان “بھائی”کو!!!!!

اشعر نے دکھی ادکاری کرتے ہوئے برہان کو ساتھ ملایا…

تیری تو..ابھی دبا دیتا ہوں. ..

فرحان نے اشعر کی گردن پر زور ڈالا…

ہاہاہا..ئوا کیا ہے؟؟

برہان نے پوچھا…

فرحان بھائی سے ہی پوچھ. ..

اشعر نے منہ.کا.زاویہ بگاڑ کر.کہا تھا…

برہان نے فرحان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا..

کچھ نہی یار…

تم بتاؤ پراجیکٹ کا.کیا.بنا؟؟

فرحان نے پوچھا. .

اس.سے پہلے کے برہان کچھ بولتا..اشعر پھر سے میدان.میں کودا..

اے ہے..ایسے کیسے کچھ نہی….

اشعر بھی.کہاں بخشنے والوں میں سے تھا…

گدھے سے اٹھارہ انیس سال کی چھوٹی سی لڑکی نہی.پٹائی جارہی…بھائی صاحب بڑی امید لے کے جاتے ہیں. .آگے سے “نو لفٹ”ِِِِِ…..

یا پھر “فرحان بھائی” منہ چڑا رہا ہوتا ہے..

اشعر نے بھی سب اگل.کے دم.لیا جبکہ برہان کو شدید حیرت نے آن گھیرا…

فرحان اور ضود کسی لڑکی کے پیچھے؟؟یہ کیا ماجرا تھا آخر؟؟

ایسی کون پیدا ہو گئی تھی جو مسٹر فرحان شاہ سے متاثر نا ہوئی تھی بلکہ.خود اسکو متاثر.کر چھوڑا تھا…..

واٹ؟؟؟ برہان تقریباً چینخ ہی تو پڑا تھا…

یہ کیا.کہہ رہا ہے بھائی؟؟؟

اسنے حیرت سے فرحان سے پوچھا…

کچھ بھی نہی یار پتا جو ہے بکتا رہتا ہے…کوئی بات ہوگی تو.خود بتا دوں گا..تم جا کر کل کی.میٹنگ کا.فوئنل.کرو..پھر.نکلتے.ہیں. .

فرحان نے اسکو ٹالا تھا…

اوکے…بائے دا وے بیسٹ.اوف لک..

برہان نے شرارت سے آنکھ دبا کر اس سے کہی….

لگتا ہے تجھے بھی گردن سلامت نہی چاہیے اپنی…

فرحان نے جگہ سے اتھتے ہوئے کہا…

ارے ارے جا رہا ئوں..میں تو مجاق کل.لا تھا نا….

برہان.لاڈ سے بولا..

دیکھا دیکھا یہ تشدد کرتا ہے ہم.ہر..دھمکاتا ہے ہمیں. ..

اشعر پھے سے شروع ہو چکا تھا…

جبکہ برہان یہ جا وہ.جا…برہان دونوں سے سال ڈیڈھ چھوتا تھا تبھی دونوں کی عزت کرتا تھا…

اسکے جانے کے بعد اشعر فرحان کی طرف لپکا…

بات بڑھی آگے؟؟بتا دیا تو.نے؟؟کیا.کہا.نمرہ.نے؟؟مان.گئ ؟؟آسانی سے؟؟یار ویسے چھوٹی ہے ابھی کافی …

اشعر اپنی ہی دھن میں سوال کرتا ہی چلا.گیا..لہجہ ان.کی بار سیریس تھا..

فرحان صوفے پر بیٹھ گیا..

پھوٹ بھی؟؟

اشعر نے بے صبری سے پوچھا..

تو اپنا ڈھول پیٹنا بند کرے گا تو.کچھ بولوں گا نا..

فرحان بدمزہ.ہوا تھا…

یر کہاں بڑھی… اس نے اتنی روڈنس شو کی… Strangerکہا مجھے…اوپر سے بھائی کا دم چھلا..

فرحان نے تپ کر بتایا..

ہاہاہا….

اشعر حد درجہ محضوظ ئوا تھا…اسکی ہنسی فرحان کو مزید بھڑکا گئی.

اچھا چل.اب سیریس…

اشعر نے سنجیدہ ہو کر کہا..

یار.دیکھ ..مجھے نہی.لگتا وہ کچھ بھی ایسا سوچتی ہو گی..جس طرح بھائی کہا ہے تجھے…صاف واضح ہے…

اور جہاں تک رہی آپ کے تپنے کی.بات تو باس..وہ بھی نمرہ ہے…مجھے نہی لگتا اتنا آسان ہو گا یہ.سب…اگر تیرے آگے پیچھے لڑکیاں ہیں تو وہ بھی تو ایسی ہی ہے…سب کی.لاڈلی…اس کے ساتھ کے بھی خواہش.مند بہت ہونگے…اور ابھی چھوٹی ہو وہ..تھوڑا صبر رکھ..

اشعر.نے بتایا..

ہنن..سہی کہتا ہے…فرحان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا…

لیکن فرحان شاہ بھی آج تک جھکا نہی ہے کسی کے آگے… چاہے پھر وہ نمرہ سیال.ہی کیوں نا.ہو..اسے بھی خود آنا ہوگا…

فرحان تفاخر بھرے لہجے میں گویا ہوا…

کم آن فرحان. ..اپنی ego.کو.مت لا.درمیان.میں یار…اسے تو خبر تک.نہی.تو.کیا.سوچتا ہے..اور آگر محبت کی ہے تو انا تو چھوڑنی پڑتی ہے..جھکنا تو پڑتا ہے..محبت کو محبت ہی رہنے دے ضد مت بنانا…

اشعر اسکو سمجھا رہا تھا…

اور وہ شاید سمجھ بھی رہا تھا..

سہی…

فرحان نے محض اتنا کہا.تھا…

چل اب آج چچی نے بریانی بنائی ہوگی. .

اشعر نے دانتوں کی.نمائش کی…

آج اسکی بہت ضروری میٹنگ تھی..

وہ نک.سک سے تیار بہت فریش لگ ریا تھا…بلیک پینٹ کے اوپر بلیک ہی ڈریس شرٹ ساتھ ٹائی لگائے..اسکا لمبا قد.اور خوبصورت نقوش اسے مزید جاذب بنا.ہے تھے…

اتنے.میں برہان بھی آگیا ِِ.ِ..

دونوں بھائیوں کی شکلوں میں کافی ریزیمبلنس تھی…

وہ فرحان سے صرف ایک انچ چھوتا تھا قد.میں. .

چھ فٹ ایک انچ دراز قد…چوڑے شانے..ہلکی.برھی شیوہ. ..کلائی میں خوبصورت گھڑی اسکی ہرسنیکٹی کو مزید اجاگر کر رہی تھی…تھا وہ بھی بلا.کا ہینڈسمِ ..

دونوں ناشتے کی ٹیبل.ہر پہنچے…آمنہ بیگم نے دل میں دونوں جو نظرِبد سے محفوظ رہنے کی دعا دی…اشعر نے تیار ہو کر فرحان کو میسج.کیا…

اوکے ہم.چلتے ہیں. .آج دعا.کیجیئے گا دادا جان …

فرحان وجاہت.آفندی سے مخاطب ہوا..

انشاءاللہ یہ پراجیکٹ.ہمارا ہی ہوگا..

انھوں نےپوتوں کا.حوصلہ بڑھایا. ..

دونوں نکل.گئے…

آفس.آکر برہان نے ایک بار.سب پھر سے فرحان کو چیک.کروایا…

اتنے میں سیکریٹری.نے آکر خبر.دی..

سر. خان بلڑدز.کی.ٹیم آگئی ہے..

اوکے ہم آتے ہیں. .

فرحان نے جواب دیا..یہ پراجیکٹ ان تینوں کا پہلا.پراجیکٹ تھا جس پر تینوں نے بہت محنت.کی.تھی..پہلے بھی یونی کی دوران.وہ آفس دیکھتے تھے..آتے جاتے تھے مگر تب زیادہ کام بڑوں نے.سنبھالا ئوا تھا جبکہ یونی کے.بعد اب بزنس مکمل طور پر ان.کے حوالے کر دیا گیا تھا…لہزا یہ پہلا پراجیکٹ تھا جو پورا ان تینوں نے خود.تیار.کیا تھا..

لہذا تینوں بہت پر امید تھے اپنی کامیانی کے لیے…

وہ کانفرنس روم.کی طرف بڑھ..ابھی اندر داخل ہونے ہی لگے تھے کہ سامنے سے دوسری پارٹی آتے دکھائی دی…

حامد احمد اور نومان احمد….

حامد احمد فرحان کا ایک زمانے سے

رائیول Rival رہا تھا…فرحان.کے ساتھ ہی کالج اور پھر یونی میں. .دونوں میں کبھی نا.بن.پائی تھی….فرحان کو نیچا.دکھانے کا کوئی.موقعہ وہ ہاتھ سے نا جانے دیتا تھا…چاہے تعلیم کا میدان ہوتا یا گیمز کا…

جبکہ.فرحان اسکی کسی حرکت کو خاطر.میں نا لاتا تھا…اس کے باوجود.دونوں میں ہمیشہ تلخ جملوں کا.تبادلہ ہو ہی جاتا تھا..جس کی شروعات اکثر.حامد کی طرف سے ہوتی تھی..مگر جواب دینا.فرحان بھی ضروری سمجھتا تھا…

دونوں ہی فٹ نال.کے اچھے پلیئر تھے..کالج میں اور یونی میں جب فٹبال ٹیم کا کیپٹن چننے کی باری آئی تو دونوں آمنے سامنے آگئے..نتیجاً دونوں کا مقابلہ.کروایا گیا…کالج میں مقابلہ ڈرا ہوا..تو کچھ عرصے کے.لئیے ایک.کو اور پھر کچھ عرصہ دوسرے کو ٹیم.کا.کیپٹن بنایا گیا جبکہ.یونی.میں فرحان بازی لے گیا…اور یونی کے چھ سال وہ ہر میچ میں ٹیم.کو لیڈ کرتا رہا جبکہ.حامد.نے ٹیم.میں شمولیت اختیار کرنے سے بھی منع.کر دیا…

اس.کے علاوہ بے تحاشا.موقعوں پر دونوں ایک.دوسرے کے حریف ہوتے…جہاں فرحان ہوتا اکثر حامد.اس چیز.میں کود جاتا تاکہ.اس.کو شکست دے سکے…

فرحان کو شکست کو منہ دکھانے کے چکروں میں وہ اکثر خود شکست سے دوچار.ہو.جاتا…

اب تو فرحان بھی محظوظ ہونے لگا تھا اس سے..اور ساتھ اس کو چھاٹا بھائی..نومان احمد جو تھا تو میڈیکل کا سٹوڈنٹ مگر زیادہ تو.بھائی.کی.دم.ہی بنا.رہتا..یہی وجہ تھی کہ.اسکو بھی نا صرف فرحان سے بلکہ اشعر اور برہان.سے بھی خار.تھی اپنے بھائی کی وجہ.سے…اور وہ سب اس بات سے اچھی طرح واقف تھے…

یونی.کے بعد دونوں نے بزنس جوائن کیا تھا….دونوں کی ہی.فیملیز کا.شمار بزنس کی دنیا کے. کامیاب خاندانون میں ہوتا تھا…

مسٹر فرحان شاہ…

حامد کی آواز.نے اس کے قدم روکے..وہ.لوگ بالکل.قریب آچکے تھی…فرحان کے ساتھ اشعر اور برہان.تھے جبکہ.حامد کے ساتھ نومان.اور ایک اور ساتھی…

فرحان نے کسی بھی قسم کے جذبے سے عاری آنکھوں کے ساتھ اسکو.دیکھا..

تم.تو ابھی سے نظر بچا.کر بھاگ رہے ہو…لگتا ہے شکست سے دوچار ہونے کا غم کھائی جا رہا ہے..چچ.چچ چچِ….

حامد نے تحقیر بھرے لہجے میں کہا…

شکست سے دوچار.ہونا.میری عادت نہی.ہے..اور وقت سے پہلے زبانی کلامی پھڑیں مارنا.میری فطرت کے خلاف ہے….

افسوس اتنے سالوں ہار ہار کر تم.یہ بھی نا جان پائے…

اپنی ہار کا.سن کر حامد کا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا…اسے احساسِ کمتری نے آن گھیرا تھا…

شکست کا غم.کس کو.کتنا کھاتا ہے یہ.تو میٹنگ کے بعد ہی پتا چلے گا…

سو وش یو بیسٹ آف لک..

فرحان ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈال کر آگے بڑھ گیا اور کانفرنس روم میں داخل ہو گیا جبکہ حامد نے غصے سے ہاتھ دیوار پر دے.مارا…

کچھ دیر میں میتنگ شروع ہوئی..سب پارٹیز نے اپنی اپنی.پریزنٹیشنز دیں..

اس کے بعد پراجیکٹ میمبرز.نی ووٹنگ کی…

سب سے ووٹس کے ذریعے ان کی.رائے.لی.گئی..

حامد اور فرحان کے.ووٹ برابر جا رہے تھے..دونوں کے چار چار ووٹ.تھے..

آخری تین ممبرز.رہ.گئے.ِان.کے ووٹس سامنے.کئیے گئے..

پہلا ووٹ فرحان کی کمپنی کے حق.مین.تھا..حامد پیچو.تاب کھاتا رہ.گیا..

دوسرا.ووٹ سامنے.کیا.گیا وہ.بھی فرحان کی.کمپنی کے.لیے تھا..اب.آخری ووٹ بچا تھا…

اور بالآخر اس پر سے بھی پردہ ہٹایا گیا…

تو وہ بھی فرحان کے حق.مین نکلا..

اشعر کا.بس نہی.چل.رہا تھا لڈی ڈالنے لگ.جائے…💃

اس نے حامد کی جانب دیکھا.جو اسی جو دیکھ.رہا.تھا..ساتھ نومان بھی..اشعر نے پہلے دانتوں کی نمائش.کی.پھر ایک دم زبان نکال.کر انکو دکھائی..😋😛

یہ.سب ایک لمحے میں کیا اسنے …نومان.تو.لال.پیلا.ہونے.لگا..جبکہ.اشعر کی یہ حرکت فرحان سے چھپ نا.سکی.تھی..

اسکو ایک.دم ہنسی آئی جو.اسنے بامشکل دبائی…

Congratulations Mr.Farhan Shah Afandi…We are pleased to announce that we will like to invest and work with you in this project..

پراجیکٹ کی.کمپنی.کے مینیجر نے مصافحے کے لئیے ہاتھ بڑھایا…جو فرحان نے خوشدلی سے تھام.لیا..اس کے بعد اشعر اور برہان.سے بھی.مصافحہ کیا…

ہمیں بہت خوشی ہوئی یہ.دیکھ.کر کہ.ہماری ینگ جینریشن اتنی.قابل.ہے….

اسنے خوشدلی.سے انکی تعریف کی…کیونکہ.وہاں پر سب پہنچے ہوئے بڑی عمر کے بزنس.مین زیادہ تھے.

شکریہ…فرحان نے.کہا…

اس.کے بعد سب نے ایک.دوسرے سے مصافحہ کیا..

گڈ ورک یو ٹو..اینڈ گڈ.لک.نیکسٹ ٹائم…انھوں نے حامد.سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا تھا…

اور یوں یہ میٹنگ اختتام کو پہنچی…

حامد سے ہاتھ ملاتے ہوئے فرحان نے خاموش رہنا بہتر سمجھا…

Will see you..

دیکھ کونگا تمہیں. .

حامد چپ.نا.رہ.سکا..

I will wait..

فرحان نے ٹکا.سا.جواب دیا.اور چل.پڑا…

وہ.لوگ گھر آئے تو رضیہ بیگم تالیہ سمیت موجاد تھیں. ..

وہ سب سے سرسری سا.ملہ…تالیہ نے اوپر سے نیچے تک اسکا بھرپور جائزہ لیا تھا…

وہ.ایسی ہی تھی.بے باک سی..اور فرحان اسکی حرکتوں سے انجان.نا.تھا…

وہ روم میں چلا گیا… جبکہ آمنہ کچن میں تھیں. ..

اسکے جاتے

ہی رضیہ بیگم نے تالیہ.کو چپت لگائی…

کتنی.بار کہا.ہے ادھر تو اپنی حرکتوں سے باز رہ..جیسے تو دیکھ رہی تھی.نا.اسکو…ہو گئی تیری اس سے شادی..

انھوں نے بیٹی.کو لتاڑا..

اف ایک تو مام اپ نہی چین کرنے.دیتیں. ..مجھے پتا ہے.کیسے قابو کرنا ہے اس سانے کے انڈے دینے والی.مرغی کو..ڈونٹ وری..ویسے بھی اجکل کے لڑکوں کو بولڈ لڑکیاں پسند ہوتی ہیں. .

اسنے ایک.ادا سے بال جھٹک کر کہا تھا…

پر انجو نہی پسند بولڈ لڑکیاں..سمجھی…بتا رہی ہوں یہ.ہاتھ.سے نا.جائے..سارا بزنس اسی کے حوالے ہے..عیش واپس چاہیے تو مٹھی.میں کر اسکو…سونے سے لاد دینگے تجھے انکی.بہو بن گئی تو…

انھوں نے سبز باغ خود بھی دیکھے اور بیٹی کو.بھی دکھائے…

اوکے بس دیکگتی جائیں آپ اپنی.بیٹی کا.کمال…

یہ کہہ کر وہ اٹھ کھری ہوئی…

اور کچن.میں چل.دی…امنہ بیگم باہی ڈرائیو کو سامان کی لسٹ دینے گئی.تھیں. …

اسنے موقعے کا فائدہ اٹھایا…

پانی.کا.گلاس بھر کے ٹرے میں رکھا اور فرحان کے کمرے میں چل دی…

کمرے کو ردوازہ ناک.کرنے.کی.زحمت اسنے نا.کی.سیدھا دروازہ.کھول کر اندر جا گھسی..فرحان جو.کے تھک ہار کر.آیا تھا..صوفے پر ٹانگیں سامنے.میز پر لمبی.کیے نیم دراز تھا..شرٹ کے بٹن وہ کھول چکا تھا…

ایک دم.کسی کی آہٹ ہوئی تو آنکھیں کھولیں. .سامنے تالیہ پانی کا گلاس لیے کھری تھی…ٹائٹس کے ساتھ چھوٹی سی ٹاپ پہنے…

دوپٹہ لینے کی زحمت اسنے.نا.کی.تھی…

فرحان ایک.دم سیدھا.ہوا..ماتھے.پر بل.پڑے…

تم.کیا.کر رہی ہو.میرے روم.مین؟؟

پانی لے کر آئی تھی.تمہارے لئیے..

تالیہ نے مسکرا کر جواب.دیا..جبکہ.فرحان شرٹ کے بٹن بند.کرنے لگا…

واو..six packs بھی ہیں تمہارے تو..جم کرتے ئو؟؟

اس نے شرم سے عاری لہجے.میں فرحان کی چھاتی کو دیکھتے.ہوئے.کہا تھا..

تمہیں کس نے کہا.میرے.لیے پانی.لانے.کو…ایسے کسی.کے روم میں منہ اٹھا کے.گھس آتی.ئو..تمیز نہی سکھائی.گئی کیا…؟؟؟

نکلا ابھی اسی وقت…

فرحان گھسے سے غرایا تھا…

جا.ہی رہی ہوں. .اتنا کیوں تہ.رہے.ئو…

تالیہ نے منہ.بنایا..

گیت لاست تالیہ..اینڈ شیم.اون یو…

ساتھ ہی اسنے عریبہ.کو آواز دی.

عریبہ..عریبہ…

عریبہ.کے آنے سے پہلے تالیہ نے نکلنا.بہتر سمجھا…

عریبہ.روم میں آئی..ِجی.بھائی؟؟

دوبارہ میرے کمری میں کوئی نا.آئے..دھیان.رہے.مہمان.بھی نہی..اور تالیہ کو.اپنے ساتھ رکھو..یا اسکی.ماں کے ساتھ ٹکا.کے بٹھاؤ. ..

اسنے عریبہ سے غصے سے کہا…

اوکے بھائی..عریبہ تھوڑی سہم گئی..فرحان کو سخت لہجے کا.احساس ہوا..

سوری تھا ہوا تھا..بول گیا..

اسنے.معافی مانگی..

اٹس اوکے بھائی…

پانی.لاؤں؟؟اسنے.ہوچھا..

ہاں لے آؤ..اور یہ لے جاؤ..گلاس.گندا ہے…

فرحان نے تینل.ہر پڑے پانی کی.طرف اشارہ کیا…جس.ہر انگلیون کے داغ تھے..

عریبہ اپنے بھائی.کی نفاست پسندی سے اچھی طرح واقف تھی فوراً گلاس اٹھا لیا.اور چل.دی..جبکہ.فرحان فریش ہونے باتھ روم.چل دیا..