Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 3)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

آج وہ تینوں چھٹی کے بعد شاپنگ کرنے آئی

تھیں کیونکہ نمرہ کو ویک اینڈ پر شادی اٹینڈ کرنے جانا تھااپنے گاؤں.

اسنے ایک انتہائی خوبصورت لہنگا پسند کیا..لہنگا مختلف رنگوں کا تھا..پنک, فیروزی, گرین, پرپل, اور اورنج کا امتزاج..ساتھ چھوٹی سی چولی تھی اٹھتے ہوئے پیلے رنگ کی..بوٹ گلے پہ باریک بیل بنی تھی گولڈن کام سےِ..باقی پورا ڈریس سادہ ہی تھا..پر نہایت ڈیسنٹ …

بس ایک ہی لوگی؟؟بارات کا کیا کروگی؟؟ ایمن نے پوچھا

یار گھر میں تین چار نیو ڈریس پڑے ہیں..اسکی بھی ضرورت نہیں تھی لیکن میرا لہنگا پہننے کا موڈ بن رہا تھا سو یہ موقع اچھا تھا…

ویسے نمو! !یہ سوٹ بھی بہت کریگا تجھ پہ…تو پتلی جو ہے..

مقی نے اپنا خیال ظاہر کیا..

چھوٹی سی فٹنگ والی چولی جہاں ختم ہوتی تھی..وہیں پیٹ پر سے لہنگا شروع ہوتا..یہنی پہن کر وہ ایک فراک کی لک دیتا تھا…

چلو پیٹ پوجا کئ باری…

وہ پورا مال گھوم گھوم کے تھک چکی تھیں. .

سیدھا ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہوئیں. .. اور ایک خالی ٹیبل پہ برجمان ھو گئیں.

ویٹر نے مینیو انکو دیا. .لارج پیزا,کولڈ ڈرنکس اور کچھ سنیکس آرڈر کرکے وہ باتوں میں مشغول ہوگئیں…..اتنے میں ریسٹورنٹ میں 3 4 لڑکوں کا ایک گروم داخل ہوا..

ایک طرف دو لڑکیاں برجمان تھیں.لڑکے انکی طرف بڑھ گئے…انکے ٹیبل پر پہنچ کر ان میں سے ایک لڑکاان لڑکیوں کے ساتھ خالی کرسی پر ایسے بیٹھا جیسے بہت بےتکلفی ہو ان.کے درمیان. ..جبکہ لڑکیوں نے منہ اٹھا کر حیرانگی سے پہلےاس لڑکے کو دیکھا اور.پھر ایک دوسرے کو.گویا ایک دوسرے سے پوچھ رہیں ہوں کہ کیا.تم جانتی ہو اسکو؟؟؟

لڑکے نے دانت نکالے..ارے ارے !اکیلے کیوں بیٹھی ہیں؟؟

تھوڑی لفٹ ہمیں بھی کروا دیں..

دو لڑکیاں ایک دم بوکھلا گئیں. .اور خوفزدہ ہونے لگیں.

ایک نے ہمت کی..

کون.ہو تم لوگ ؟؟کیا چاہیئے ؟؟

ارے اپ تو غصہ کرنے لگیں. ..

میں تو ڈر گیا..اسنے ڈرنے کی اداکاری کی..

کون ہیں ہم؟؟ابھئ جان جائینگی…اور چاہتے تو ہم اپکو ہی ہیں…اسنے خباثت سے آنکھ دبائی..جس پر اسکے باقی ساتھی بھی ہسنے لگے….

لڑکے نے لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا….

ارے اس حسن پہ کون نا مر جائے..وہ پھر گویا ہوا جبکے لڑکی تھر تھر کانپنے لگی…

نمو وہ دیکھ….مقی نے نمرہ کو بلایا جو پیزا سے بھرپور انصاف کرنے میں مصروف تھی…

ہوں کیا؟؟.اسنے پوچھا…

چونکہ نمرہ کی کمر دروازے کے سامنے تھی اور منہ دوسری طرف سو وہ کچھ بھی دیکھ نا پائی…

اُولو…پیچھے دیکھ اپنے..وہ لڑکا کب سے تنگ کر رہا.اس اکیلی لڑکی کو اور کوگ بس گھوری جارہے ہیں…

نمرہ نے چونک کر منہ پیچھے کی طرف موڑا…

سامنے ہی حارث اپنے دو تین آوارہ چمچوں کے ساتھ بیٹھا.ہنس دھا تھا…

نمرہ کی نظر اسکے ہاتھ پر گئی..جہاں اسنے لڑکی کا ہاتھ جکڑ رکھا تھا..

وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھی…اور بھاگنے کے سے انداز میں اس ٹیبل تک گئی..

ارے اپنے حسن کا خراج تو وصول کرلو..پھر چھوڑ دونگا..

حارث کی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی..وہ یہ بولتے ہی اپنے لب لٹکی کے ہاتھ پہ رکھنے ہی والا تھا کہ………

چٹاخ.!!!!!!!!!!!!!!!

نمرہ ایک زوردار تھپڑ اسکے گال پر چڑ چکی تھی..وہ کرسی سے ایک طرف ڈھلکا…

ہاں کیا بک رہے تھے؟؟خراج وصول کر لے؟؟

پہلے تم تو اپنی ان حرکتوں کا خراج وصول کر لو…ِیہ کہتے ہی اسنے ایک اور تپھڑ جڑ دیا..

حارث آنکھوں میں خون اتارتا.کھڑا ہوا ……

تمہاری اتنی ہمت….وہ نمرہ پہ برسا..جبکہ اسکے دمچھلوں کو گویا سانپ سونگ چکا تھا….

اسنے اپنے سامنے اس نازک سی لڑکی کو دیکھا. …

کیا ہوا؟؟تمہاری ہمت کا خراج پیش کیا میں نے تو بس؟؟کیا پسند نہیں آیا؟؟

وہ.آنکھیں پٹپٹا کر نہایت معصوم بنتے بولی…….

الے الے رونا نہیں…😛

جبکہ آس پاس بیٹھے لوگ اسکی ایکٹنگ سے محضوظ ہوئے…

حارث نے سر سے پیر تک اسکا جائزہ لیا اور خباثت سے ہنساِ کر گویا ہوا..

چیز تو تم بھی مست ہو…….چلو چوڑ دیا اسے..تم ہی ہماری رات کو.رنگین کر دوِ……اسکے باقی دوست بھی نمرہ کو گھورنے لگے…

ابھی.کرتی ہوں….یہ کہتے ہی اسنے زوردار آواز دی…

مینیجر…مینیجر….

بیرے ہڑبڑا کر حاضر ہوئے..

جی میم؟؟

مینیجر کو بلاو…وہ دھاڑی….

ججی..جی میم!!

وہ بھاگ کر اندر گیا…اور آپ سب منہ کیا دیکھ رہے ہیں ؟؟؟.پولیس کو فون کریں. ..اتنی تو ہمت ہوگی ہی آپ سب “مردوں” میں. ….اسنے مردوں پر زور دے کر کہا گویا انکو شرمندہ کیا..مقی اگے بڑھی..

چھوڑ نمی چل..مت منہ لگ ان کتوں کے..بھونکنے دے..

ایمن آگے ہوتے ہوئے بولی…….

واو ساتھ بونس بھی ہے باس…اسکا ایک ساتھی ایمن کو گندی نظروں سے دیکھتے بولا…..

نمرہ نے پہلے اسے اور پھر حارث کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا…

ارے تم جیسی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جو خوامخواہ لڑکوں کے آگے پیچھے منڈلاتی ہیں. .بے بی پہلے بتا دیا ہوتا تو میں ڈائریکٹ تمہارے پاس ہی آجاتا….

اوے کدو کے منہ والے..شکل تیری ایسی ہے کہ جمعرات کو بھی کوئی ترس کھا کے پھوٹی کوڑی نا دے…اپنی یہی مٹر جیسی آنکھیں مٹکانا بند کر …. جنکو گھر والے دوسری بار سالن تک نہیں دیتے..وہ باہر ایسے ہی پھونڈیں مار کر اپنی احساس کمتری کو دباتے ہیں. ..

اتنے ميں مینیجر پہنچا…

ہم معزرت خواہ ہیں میم…

وہ شرمندگی سے بولا…..

آپ کی معزرت کا اب میں اچار ڈالوں ؟؟؟

چولہے میں گئی آپکی معزرت…

اور ریسٹورنٹ……

فورن انکو پولیس کے حوالے کریں. ..یہ آپکے پبلک ریسٹورنٹ کا حال ہے….

جی جی میم…..

اور تم..چلو میرے ساتھ…وہ اس لڑکی کو مخاطب کر کے بولی..

دیکھ لونگا تمہیں تو…حارث آگے بڑھ کر بولا..

اچھا میں بھی انتظار کرونگی….

وہ ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئیں….

تمہارے منہ میں زبان نہیں ہے؟؟یا خدا ناخواستہ. ہاتھ پاؤں سے معزور ہو؟؟ایک لگانی تھی الٹے ہاتھ کی…ہمت ہی نا ہوتی اسکی….تم لوگوں کے اسی ری ایکشن سے تو اور شیر ہوتے ہیں ایسے کمینے. …

وہ اس.لڑکی پر چڑھ دوڑی…

وہ میں ڈر گئی تھی…شکریہ آپ سب کا….وہ مشکور ہوئی…

یار وہ پہلے ڈسٹرب ہے اور تم الٹا اسی کو…..

آپ جائیں اسکا تو میٹر آؤٹ ہو تو نا جگہ دیکھتی ہے نا وقت…

ایمن نے اس لڑکی کو کھسکنے کا مشورہ دیا جس وہ فوراً عمل پیرا ہوئی…

حارث غصے سے پاگل ہو رہا.تھا…

اسکی اتنی ہمت؟؟تھی کون کمینی؟؟ہاتھ لگے دوبارہ ایک منٹ لگائے بغیر وہ حشر کرونگا کہ منہ چھپاتی پھرے گی…

ریلیکس بڈی…اسکے دوست نےشانے پر ہاتھ رکھا…

اس وقت وہ اسلام آباد کے ایک بہت بڑے اور گمنام بار میں بیٹھے شراب کے نشے میں دھت تھے…

ہوں……وہ اتنا ہی کہہ سکا…

اتنے میں اسے اپنی پاکٹ میں موبائل کی وائبریشن محسوس ہوئی…اسنے جیب سے موبائل نکالا…

مام کالنگ….

سکرین پر جگمگا رہا تھا…

اسنے کال کاٹ دی پر پھر سے انے لگی..اسنے کال اٹینڑ کی اور شور سے ذرا سائیڈ پر ہو کر کال سننے لگا..

یس؟؟وہ بےزاری سے بولا

کہاں ہو؟؟وقت دیکھا ہے..ِ

وہ غصے سے بھرے لہجے میں کھانے کو دوڑیں. ..

کلب میں آیا.ہوں. …

کلب؟؟اس.وقت…؟؟

اور کیا دن.کو اتا؟؟وہ چڑگیا

یہ تمہارا لندن نہیں ہے…فوراً گھر پہنچو..اور تا لیہ کا بھی پتا کروِ.

یہ پاکستان ہے..سمجھے…

وہ تڑاخ سے فون رکھ چکی تھیں جبکہ حارث دانت پیس کر رہ گیا.

فرحان کہاں جارہے ہو بیٹا؟؟

آمنہ بیگم نے ملازموں کو شام کے کھانے کا بتا کر کچن سے نکلتے ہوئے پوچھا…

امی اشعر سے کام ہے ذرا بلال چاچو کے گھر تک جا رہا تھا…

کوئئ بات ہے؟کوہی کام تھا اپکو ؟؟….

دو ماں بیٹا لاؤنج میں بیٹھ چکے تھے…

ہاں بیٹا …شادی ہے چار پانچ دن بعد حیدر صاحب کی بہن کی…تم جانتے ہو کتنا آنا جانا.ہے انکا ہم سب کے ہاں…..

جی!ہم ساتھ دے رہے ہیں تیاریوں میں. .پرسوں چکر لگایا تھا دادا جان کے ساتھ مین نے اور اشعر نے….

ہاں اچھا ہے..تم شروع سے ہاسٹل میں رہے ہو اتنا آناجانا نہیں ہے نا زیادہ جان پہچان. .پر اب تو.آگئے ہو سو سب سے گھل مل جاؤ..شادی پہ بھی بہت سے رشتہ دار آئیں گے…

جی میں سمجھ گیا آپ فکر نا کریں ….

تمہاری ممانی اور دونوں بچے بھی آگئے ہیں پاکستان …بلکہ مہینے سے آئے ہوئے ہیں. .اسلام آباد میں اپنے میکے میں ہیں شاہد شادیاں پر آئیں…

ہوں. اچھا…یہ تو اچھی بات ہے….

اتنے میں اشعر کی کال انے لگیِِ….

اوکے امی اشعر ویٹ کر رہا ہے میں چلتا ہوں. .

ہاں ٹھیک ہے جاؤ…

تو کدھر کا ارادہ ہے آج؟؟

اشعر نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا…

یار بائیکنگ کا موڈ ہے..بہت ٹائم ہوگیا ہے ویسے بھی….

پھر ڈنر ڈن کر…

برہان نولا

ہاں چل جیتا تو ڈنر ڈن……..

تو ہارتا کب ہے؟؟ اشعر نے حیرانی سے پوچھا….

ہارنا تو نہیں

سیکھا پر جنگ لڑے بغیر ہی فتح کا اعلان کرنا تو.بے وقوفی ہوگی نا……..

وہ تینوں

آج کافی دنوں بعد آوٹنگ پر نکلے تھے…جب تک ہاسٹ

میں تھے تینوں آزادی سے شہر کا چپہ چپہ گھومتے…

فرحان بائیک ریسنگ کا دیوانہ تھا.ِ..بائیکنگ کی دنیا میں کافی نام تھا اسکا…

جبسے حویلی شفٹ ہوئے تھے انکے کندھوں پر ذمہداریاں آگئی تھیں. .وہ خود بھی کام کے ماملے میں سیرئس رہتے..سو اب وقت ملا تو چل پڑے. …

گھر آکر بھی اسکا موڈ اوف تھا.اسکا بس نہئ چل رہا تھا وہ اس شخص کو جان سے مار ڈالے…

ہنہہ…گلی کا آوارہ…بے حیا…

اسکے الفاظ نمرہ کے کانوں میں گونج رہے تھے…

بدتہزیب…دفا کر نمرہ…کیوں خون جلا رہی ہے اپنا..

وہ گہری سانس لے کر سونے لیٹ گئ

آج انکو گاؤں کے لئے نکلنا تھا.ساری تیاریاں مکمل تھیں. .وہ میٹرک کے بعد آج جا رہی تھی..تبھی ایکسائٹڈ بھی تھی…

حالانکہ کہ صرف دو دن کا سٹے تھا وہ بھی شادی والے گھر ہی پر پھر بھی وہ کافی پر جوش تھی…..

ہوگئی تیاری؟امروزیہ بیگم نے پوچھا.

جی مما ہوگئی!!

وہ چہک کر بولی..

بیٹا اب بڑی ہو تم..پہلے کی بات اور تھی ..سوچ سمجھ کر بات کرنا جس سے بھی کرنا..وہ گاؤں ہے وہاں لوگ ذرا ذرا سی بات نوٹ بھی کرتے ہیں اور بھتنگڑ بھی بناتے ہیں. …..

وہ اسکو سمجھاتے ہوئے بولیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ انکی بیٹی بہت آؤٹ سپوکن ہے..جو.منہ میں آتا اور جو دل میں ہوتا.صاف اگلے کے منہ پر ہی شروع ہوجاتی…..

اوکے اوکے ِ.ڈونٹ وری..چپ چپ رہونگی..ایسے..

اسنے دوپٹا پکڑ کے منہ کے آگے کیا ایسے کہ صرف اسکی آنکھیں نظر آرہی تھیں باقی ناک اور منہ کت آگے دوپٹہ آگیا. .

شرمانا بھی ہوگا؟؟اسنے آنکھیں شرارت سے جھکاتے ہوئے کہا..ایسے؟؟؟

بدتمیز! !وہ.اسکے سر پر چپت لگا کر مسکراتی ہوئی باہر نکلیں. .

گاڑی تیار تھی.اور ہارن بھی دیا جارہا تھا..

اسکا سفر کافی خوشگوار گزرا تھا..گاڑی اب گاؤں کی حدود.میں داخلہو چکی تھی اور نمرہ مزید پر جوش…..

لہلہاتے کھیت,سرسبز پودے اور باغ. تازہ ہوا.سب بہت بھلا لگ رہا تھا اسکو.وہ بچوں کی طرح اس.پاس.دیکھ رہی تھی..

ارام سے بیٹھو باگڑ بلی…

کاشان نے اسے.چڑایا…

کیا ہے بھئ..دیکھوں بھی نا..اپنے گاؤں. ..نہیں وہ کیا کہتے ہیں ؟؟

ہاں یاد.آیا

پنڈ..اب میں اپنے پنڈ.کو.بھی.نا.دیکھوں. …

تھوڑی دیر میں گاڑی ایک گلیوں کی طرف.مڑی… پر یہ حویلی کا راستہ تو نا تھا…

پاپا یہ حویلی تو نہیں جاتا راستہ !!

اسنے پوچھا.

جی بیٹا حویلی نہیں جانا.ابھی..

شادی والے گھر.ہی جائیگے سیدھا..کچھ دیر ميں مغرب ہو جائیگی اور.اس کے بعد مہندی کا فنکشن سٹارٹ ہوجائے گا…

ملک سیال نے بیٹی کو بتایا..

پر ہم حویلی سے بھی تو جا سکتے ہیں نا..وہ سب بھی تو آئیں گے..وہ روہانسی ہوئی…

بیٹا حیدر.بھائی بے بذاتِخود دو.بار کال کر.کے دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ ادھر.ہی ٹھہریے گا…انھوں نے انتظام کر رکھا ہے..

اب ایسے میں ہم حویلی چلے گئے انکا خلوص ٹھکرا کر تو انہیں کیسا.فیل ہوگا جب پتا چلے گا؟؟؟

برا لگے گا…وہ بچوں کی طرح بولی…

گڈ..ہماری بیٹی تو سمجھدار.ہے ِِِ

اور حویلی آپ صبح چلی جانا.یا.شادی کے بعد.بھی جا.سکتی ہو..ویسے بھی وہ سب ادھر ہی آجائیگے تھوڑی دیر میں. ……

اتنے میں گاڑی ایک بڑے سے گیٹ کے آگے رکی..گیٹ پہلے ہی کھلا تھا.اور.وسیع.اور کشادہ صحن میں اور بھی گاڑیاں کھڑی تھیں. .

گاڑی زن سے اندر بڑھ گئی…

وہ سب اترے..گھر میں اسوقت صرف گھر کے افراد اور بہت قریبی رشتہ دار تھے صرف ِِمہمانوں کی آمد میں وقت تھا ابھی..

وہ گاڈی سے اترے تو حیدر صاحب بھاگ کر انکے پاس.آئے..سب کو سلام کیا..

بہت شکریہ آپ نے ہمیں یہ شرف بخشا. ..وہ عزت سے بولے

ارے کیسی باتیں کرتے ہوِ.تم بھائی ہو ہما رے اور ہم.کیسے نا.آتے اپنی بہن کی شادی پر..

ملک سیال خوش اخلاقی سے بولے..

وہ ایسے ہی تھے ملنسار اور خوش اخلاق….

ارے بھابھی آئیں نا…ارے یہ ہماری گڑیا ہے..ماشاءاللہ. .انہوں نے نمرہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا……

وہ سب روم میں چلے گئے..کچھ دیر میں سامان بھی.آگیا…

ملنے والوں کی تو جیسے قطار ہی لگ گئی.ملنے ملانے سے فارغ ہوئے کہ.اتنے میں مغرب کی.اذان ہونے لگی…

چلو.نمرہ جلدی سے شاور لے کے تیار ہو جاؤ..اب بس عورتیں آنا شروع ہوجائیں گی نماز کے بعد….

چونکہ مہندی کا گھر میں ہی چھوٹا سا فنکشن رکھا.گیا تھا صرف عورتوں کے لے..مرد حضرات کا.کچھ خاص کام نا تھا وہاں. .بس.گھر کے مرد تھے……یہ کوئی بہت بڑے پیمانے کی مہندی ناتھی جیسی شہروں میں ہوتی ہے…لہذا سب مرد عورتوں کے جانے کے بعد آرام کرتے….

وہ شاور لے کر نکلی..بال سلجھا کر کھلے چھوڑ دئے…اور ڈریس پہننے لگی…

چونکے اسکی ہائٹ اچھی تھی سو ہیل پہننے کا.ارادہ ملتوی کر کے اسنے کُھسے پہننا بہتر سمجھا…لائٹ سا میک اپ.کر کے وہ دمک اٹھی تھی…لہنگا.اسکے سراپے پر بہت جچ رہا تھا.

وہ باہر مہمانوں میں آگئی…….

حویلی سے اسماء, عریبہ وغیرہ آچکے تھے.

وہ خوشی سے انکی طرف بڑھ گئی. اسماء اسنے آواز دی…

اسماء نے اسکی طرف دیکھا..نمرہ فوراً سے پہلے اس سے.لپٹ گئی…کیسی ہو؟؟

میں ٹھیک. .وہ اسے دور کرتے ہوئے بولی..

واوہ اسماء. یو آر لوکنگ پریٹی….

وہ خوشدلی سے اسکی تعریف کتے ہوئے بولی…

ہوں..تھینکس…

اسنے نمرہ کا جائزہ.لیا جسکا لباس اسکے مقابلے میں سادہ مگر سٹائلش سا تھا..

اسکو جلن محسوس ہوئی …ہوں اسکو لازمی آنا.تھاِ

اسماء نے سر جٹھک کر سوچا..

تم.نے بتایا نہیں میں کیسی لگ رہی ہوں ؟؟

وہ شرارتً بولی…

آپ ماشاءاللہ حسین ہیں…اسکو جواب ملا مگر یہ جواب اسماء کی طرف سے نا.تھا..اسنے چونک کر ساتھ دیکھا. ..

ارے عریبہ تم کب ائی!! کیسی ہو؟

وہ فوراً اسکے بھی گلے لگی..

میں تو کب کی آہی ہوں. .آپ کی ہی نظریں اپنی کزن کے علاوہ کسی پر گئی ہی نہیں! !

اسنے شکوہ کیا…

ارے نہیں. .تم بھی تو میری کزن ہو….

اور عریبہ چہک اٹھی..وہ نمرہ اور اسماء سے چوٹی تھی..

اسکی نمرہ سے اتنی بےتکلفی ناتھی..نمرہ اول تو گاؤں اتی ہی کم تھی اور جب اتی بھی تو دو تین چار دن کے لیے جو وہ اسماء کے ستھ اور ملنے ملانے میں ہی گزار دیتی..عریبہ نے بس دو تین بار اسکے ساتھ کھیلا ھو گا کبھی چھٹیوں میں پر اسکو وہ اچھی لگی تھی.

آئیں بیٹھیں. .عریبہ نے اسے اپنے ساتھ پیٹھنے.کو کہا..جبکہ اسماء اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوئی..

اسکا انداز کافی روکھا اور لیا دیا سا تھا.

فنکشن سٹارٹ تھا اور نمرہ عریبہ سے باتوں میں مشغول. .وہ اسے اچھی کمپنی دے رہی تھی..

فرحان,برہان! !

آمنہ بیگم نے آواز دی.

جی امی!! فرحان آیا.

بیٹا میں جا رہی.ہوں شادی پر..عریبہ تو کب کی گئی…دیر ہو جائے شاید. .جاگے ہوئے تو گیٹ کھول دینا میں ناک کرونگئ..نہیں تو چابی بھی ہے میرے پاس..

نہیں ہم جاگ رہے ہونگے.آپ بےفکر رہیں. ..

وہ حویلی چل دیں جہاں انکی دیورانیوں نے بھی انکے ساتھ ہی جانا تھا.

وہ شادی والے گھر عریبہ کے پاس پہنچیں جو کسی سے باتوں میں مشغول تھی..

عریبہ! !

انہوں نے آواز دی جب عریبہ کے ساتھ ساتھ نمرہ نے بھی مڑ کے دیکھا. ..

جی امی!

نمرہ بیٹا تم کب آئی؟؟انہیں کافی خوشی ہوئی تھی اسکو دیکھ کر..

بس انٹی اج ہی..وہ اٹھ کر انسے ملی..انہوں نے اسکے ماتھے پر پیار دیا..

ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو!

شکریہ. ..وہ مسکرائی..

عریبہ میں جا رہی ہوں. ..وہ عریبہ سے مخاطب ہوئیں. .

امی ابھی نہیں نا..میں باتیں کر رہی ہوں نمرہ سے….

نمرہ نے بھی حویلی جانا ہوگا نا…..وہ بولیں

نہیں انٹی!ہم یہیں

رکیں گے شادی تک.انکل نے کافی اسرار کیا ہے تو…..

او اچھا!!

چلو تم باتی

کرو پھر..میں بھائی کو بھیج دونگی جب آنا ہوا…سب جانے لگیں تو آجانا…

جی ٹھیک! عریبہ اور نمرہ دونو

خوش ہوگئیں. .اور دوبارہ.باتوں میں مشغول.

رات کا ایک بج رہا تھا.

انہوں نے اسکے روم کا دروازہ.ناک کیا..

کم ان!وہ بیڈ پر نیم دراز تھا.

بیٹا کافی ٹائم ہو رہا ہے جا.کے عریبہ کو لے آؤ…برہان سو چکا.ہے…

وہ بیٹے سے بولیں. …

عریبہ

ابھی تک نہیں آئی؟اسے حیرت ہوئی کہ عریبہ وہ فنکشنز وغیرہ کی اتنی شوقین نا تھی.

ہاں وہ تب مہندی ہور ہی تھی تو میں نہیں لائی..

اچھا میں جاتا.ہوں. .وہ اٹھ کے چل دیا.

وہ گیٹ تک پہنچا..چوٹا گیٹ کھلا تھا ..وہ اندر داخل ئوا.بڑے صحن کے بعد برامدہ تھا..صحن میں مکمل تاریکی تھی جبکہ برامرے میں لائٹس آن تھیں اسی وجہ سے. صحن میں کھڑا انسان اندر والوں کو دیکھ سکتا.تھا جبکہ اندر والے اندھیرے کی وجہ سے صحن والے کو نہیں. .ِسامنے کچھ لڑکیاں بیٹھی تھیں. ..

اسنے.آگے جانا مناسب.نا سمجھا اور وہیں اندھیرے میں کھڑا.عریبہ کو دیکھنے لگا..بالآخر اسکو کو نظر آگئی..اسنے مسیج کیا.کہ گیٹ کے پاس آجاؤ..وہ کسی سے دھڑا دھ

باتوں میں مشغول تھی..کہ اسنے مسیج نا دیکھا..فرحان آگے ہوا کہ وہ کس کس ساتھ اتنی مصروف ہے؟؟؟؟؟؟

اسکی نظر عریبہ کے ساتھ بیٹھی نمرہ پر پڑی..اور ٹھہر گئی….

تقریباً 5 فٹ چھ انچ قد,لمبے سیرھے بال جو کسی آبشار کی طرح اسکے کندھے اور کمر سے نیچے ڈھلک رہے تھے, نکھری نکھری رنگت,معصوم چہرہ جس پر بلا کی کشش تھی,بولتی شرارتی سی آنکھیں, اسکانازک.سراپا….

لہنگے کی وجہ سے اسکی پتلی کمر بہت نمایاں ہورہی تھی…

اور انکی ستواں سی ناک میں چمکتا باریک سا نگ…جو بلب کی روشنی پڑنے سے چمکا.تھا…

وہ چند لمحے ساکت ہوگیاِ.مبہو

………..ہی تو رہ گیا تھا وہ.