Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 33) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 33) Part - 1
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
سارے راستے اسکا.منہ پھولا رہا تھا…..وہ رہ رہ کر فرحان پر خار کھا رہی تھی….. وہ مزے سے ڈرائیو.کرتا اسکے تاہرات انجوائے کر رہا تھا….وہ گھر پہنچے تو تین بج چکے تھے… آمنہ.بیگم.نے.نمرہ.کو.دیکھا تو پہلے تو وہ حیران ہوئیں مگر اس سے زیادہ خوش.ہوئیں. ..
ارے بیٹا..تم.تو رہنے والی تھی نا….
انھوں نے اسے ساتھ صوفے ہر بٹھاتے ہوئے کئہا..جبکہ.فرحان.سامنے والے صوفے ہر.بیٹھ.چکا تھا..ملازم انکے.لیے پانی.لایا تھا…
آپ کے بیٹے سے کہاں.ہضم ہوتی ہے میری خوشی..نمرہ.نے فرحان.کو گھورتے ہوئے سوچا تھا…
امی اسکا دل ہی نہی لگا میرے بغئر..رات سے کالز کر رہی تھی کہ واہس.لی جائیں سو صنح چلا گیا میں. …
فرحان نے آمنہ بیگم کو کہا تھا جبکہ اسکی بات سن.کر.نمرہ.کا.منہ پورا کھل گیا….
ہاہاہا یہ.تو اچھی بات ہے..ہمارا بھی اہنی بیٹی کے بغیر دل نہی لگ رہا تھا…ابا جان.بھی.مس.کر رہے تھے …انھوں نے پیار سے نمرہ کا.گال.تھپتھپایا..
تم لوگ بیٹھو.میں کھانے.کو.کچھ.لاتی ئوں..
امنہ بیگم اٹھ کر کچن میں چل دیں…
میں آپکا سر پھاڈ دونگی…
نمرہ نے شدید غصے سے فرحان کو وارن کیا تھا….
لاؤ وٹا…
فرحان.نے دانت نکال کر کہا تھا…
کیا؟ و..وٹا؟؟ وہ کیا ہوتا ہے؟؟ نمرہ نے حیرت سے پوچھا…
وٹا مینز پتھر..سٹون…
فرحان.نے بتایا….
مجھے اپکے منہ ہی نہی.لگنا…
نمرہ پیر پٹختی نکلنے لگی..پہلے کب لگانے دیتی ہو منہ یار…
فرحان نے شرارت ست اسکے ہونٹوں کو فوکس کر کے کہا تھا….
شٹ اپ…. وہ غصے سے پھنکارتی ہوئی سیڑھیاں پھلانگ کر کمرے کی طرف گئی اور دھاڑ سے دروازہ بند کر لیا….
ایمن نے محسوس کیا تھا سالار اس سے کچھ روٹھا روٹھا تھا…جبکہ معاذ اسے اچھی خاصی کمپنی دے رہا تھا….
اسکو سمجھ نا آیا سالار کا رویہ…پھر وہم سمجھ کر اسنے خیال جھٹک دیا …مگر یہ اسکا وہم نا تھا…اس بات کا اندازہ اسے رات مہندی کے فنگشن میں ہوا…
سب مل کر ہلا گلا کر رہے تھے جب وہ اپنا موبائل چارج کرنے کے لیے اندرد لگانے گئی..ابھی وہ مڑی ہی تھی کہ سامنے سالار آگیا….
آپ؟؟
ایمن نے پیچھے دیکھا مبادا کوئی آ نا جائے…
کیوں تم کسی اور کا انتظار کر رہی تھی ؟؟؟
نجانے کیا تھا اسکے انداز میں اور سوال میں کہ ایمن اک پل کو ٹھٹھکی تھی….
کیا مطلب؟؟ اسنے آنکھوں میں الجھن لیے پوچھا تھا…..
سالار آگے بڑھا تھا…ا…اسنے جھٹکے سے ایمن کی کلائی دبوچی…
دور رہو اس معاذ سے…دعبارہ نا دیکھوں میں اس کے ساتھ تمہیں. ..
سالار نے تنبیہہ کی اور اسکی.کلائی آزاد کرتا یہ جا وہ جا جبکہ اسکی بات سن کر سیمن اپنی جگہ جم گئی..یہ کیا کہہ رہا تھا وہ؟؟ کیا وہ اس سے بد گنان.ہو رہا تھا؟؟ شک کر رہا تگا اس پر؟؟ جبکہ معاذ اسکے بھائیوں جیسا تھا اور وہ بھی ایمن کو بہن کی.نظر سے دیکھتا تھا اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ وہ سالار کی منگیتر ہے…
اسکو اپنا دل ڈوبتا محسوس ئوا تھا..
نمرہ جب سے آئی تھی اسنے فرحان کی نیند تباہ کر کے رکھ کی تھی….وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اسنے صنح آفس جانا ہوتا ہے اس کے باوجود کو تین چار بجے تک نا خود سوتی نا اسکو سکون کرنے دیتی..پوری رات وہ کمرے کی تمام لائیٹس آن رکھتی تھی…کتابوں سے جب اکتا جاتی تو لیہ ٹاپ کھول کرکوئی نا کوئی مووی یا ڈرامہ دیکھ لیتی اور ہیڈ فونز بھی یوز نا.کرتی بلکی اونچی آواز میں لگا کر بیٹھ جاتی..بقول اسکے وہ اپنا “مائنڈ فریش” کر رہی ہو تی تھی..جو کہ دوبارہ پڑھنے کے لیے بہت ضروری تھا…
فرحان سہی معنوں میں پچھتایا تھا اسکو لا کرِ…. اسنے سکون غارت کر دیا تھا اسکا.ِاتنے دنوں سے اسکی نیند پوری نا ہوئی تھی..بات بارہ ایک بجے تک کی ہوتی تو اسکو مسئلہ نا تھا پر یہ محترمہ فجر تک سکون نا کرتیں ..پگر فجر پڑھ کر دس گیارہ بجے تج فرحان کے جانے کے بعد سوئی رہتیں جب پیپر نا ہوتا…مگر اب وہ کہہ بھی نا سکتا تھا…….
آجکل ویسے بھی گھر میں سب اسکا خیال زیادہ کر رہے تھے پیپرز کی وجہ سے..آمنہ بیگم تو روزانہ اسے باقاعدگی سے دودھ دیتی تھیں. …
مرتا کیا نا کرتا اسے صبر کا کڑوا گھونٹ ہی بھرنا پڑا….
آج اسکا آخری پیپر تھا…پیپر دے کر وہ کافی ری لیکس تھی…گھر آکر وہ آرام سے کھانا.کھا.کر سو گئی…شام کو اٹھی تو فرحان اور برہان.بھی آچکے تھے…اشعر اور عریبہ آجکل گھومنے پھرنے گئے تھے…ناردھرن.ایریاز کے نعد انھوں نے سیدھا ترکی جانا تھا جو کہ عریبہ کئ خواہش تھی….
انکا بزنس.اب انٹرنیشنل لیول پر کامیاب ہو رہا تھا..لہذا اسی سلسلے میں لندن میں ایم میٹنگ تھی…برہان کا.جانا تہ ئوا تھا مگر پھر اسنے فرحان کو جانے کا کہہ دیا…..
آج تو ہماری بیٹی کافی فریش لگ رہئ ہے…ملک وجاہت نے ننرہ کو مخاطب کیا تھا جو ابھی ابھی نیند پوری کر کے عصر کی.نناز پڑھ کر آئی تھی…
جی نانا جان آج تو میں سکون سے سوئی ئوں..نمرہ نے انکو بتایا تھا…
ئاں میرا سکون اور نیند برباد کر کے خود سکون سے سوئی ہے..فرحان نے چڑ کے سوچا تھا…
اب کتنے دنوں میں فارغ ہو جائیں.گی ؟؟ انھوں.نے.سوال کیا..
اب بس نیکسٹ ویک میں وائے واز ہیں. .اسکے نعد جب تک رزلٹ نہی آئے گا فارغ ئو ں گی….
نمرہ نے انکو بتایا…
ہممم.سہی..فرحان بچے تمہاری روانگی کب ہے؟؟
انھوں.نے.پوچھا تھا…
نمرہ نے شکر کیا تھا وہ کچھ دن کے لیے چلا.جائے گا…وہ اکیلے آرام.سے مزے کرے گی…
بیڈ پر پھیل کر سوئے گی…ڈرامے دیکھے گی..مودس اور ایمن.سے لمبی لمبی ویڈیو کالز.کر.کے گپیں.مارے گی….
اگلے سے اگلے جمعے کی متوقع ہے..ٹکٹس فائنل.ئوں.تو…
فرحان.نے بتایا…
یعنی نیکسٹ ویک.کے بعد…
انھوں نے پر سوچ انداز.میں سوال کیا تھا…
جی.. فرحان.نےفرماں برداری سے جواب دیا…
اتنے.میں امنہ بیگم نوکر کر ساتھ چائے اور دیگر لوازمات لے آئیں…
تو ایک.کرو..نمرہ کا بھی ٹکٹ کروا لو..ویسے بھی فارغ ئو جائے گی..اچھا ہے تم کوگوں کی آؤٹنگ ہو جائے گی..سٹے لمبا کر لینا دو تین ہفتوں کا…
انھوں.نے فرحان سے کہا.تھا….
اور نمرہ جو سوچ رہی تھی کہ ایک عدد چکر وہ اسلام آباد کا بھی لگا ائے گی اور مقدا اور ایمن.کے ساتھ خوب شاپنگ بھی کرے گی اسکا شیخ چلی کے انڈوں کا ٹوکرا دھڑام.سے زمین بوس ئو گیا…
یہ کیا ہو گیا…اسکے خیالی پلاؤ بناتے ذہن کو بریک لگی…
ہاں میں بھی سوط رہی تھی تم.لوگ کہیں گئے بھی نہی شادی کے بعد..اچھا ہے گھو آؤ…
آمنہ بیگم نے بھی اتفاق کیا…
نن..نہی نانا.جان.اسکی ضرورت نہی …میں ٹھیک ہوں ادھر..ویسے بھےمی انکا بزنس ورک ہو گا…
نمرہ نے.بروقت پیش قدمی کی…
بچے ضرورت کیسے نہی..ضرورت ہے..آپ پیکنگ کر لینا..برئان ٹکٹس فائنل کروا دے گا.اوکے..
انھوں نے اسکا سر تھپتھپا کر کہا .اور ننرہ کی ہمت نا ہوئی آگے سے کچھ بولنے.کی…
جی..ٹھیک. ..
وہ پیچ و تاب کھاتی رہ گئی..
اسکے وائے واز.بھی ہو چکے تھے …اور ٹکٹس بھی آچکی تھیں. … اب وہ کچھ خوش بھی تھی کیونکہ وہ پہلی بار ملک.سے باہر جا رہی تھی جبکہ فرحان.پہلے بھی یونیورسٹی کے زمانے میں جا چکا تھا….
اسنے.مقدس کو بتایا تو وہ تو خوشی سے پاگل ہی ہو گئی..اسنے لمبی کسٹ بنا کر دی تھی نمرہ کو کہ اسے لندن سے شاپنگ کر کے وہ چیزیں.لا کر دے..جبکہ ایمن جب سے گاؤں سے آئی تھی وہ ہریشان پریشان سی تھی..اور انکے اصرار پر اسنے ساری بات ان.دونوں کو.بتائی…نمرہ نے اسکو سمجھایا کہ سالار بس جیلس ہوا ہوگا کیونکہ وہ ایمن کو چاہتا ہے..نگر اسکی تسلی نا ہو ئی تھی…
وہ پیکنگ کر رہی تھی جب فرحان اندر آیا…
اسکی نگاہ نمرہ کے بیگ پر گئی…جہاں وہ زور و شور سے چیزیں رکھ رہی تھی….
ڈارلنگ تمہیں ہنی مون پر جانے کا اتنا شوق تھا تو تم جبھے پہلے بتا دیتیں. ….
فرحان نے مسکراہٹ دبا کر اسکو چھیڑا تھا…
نمرہ نے حیرت سے اسکو دیکھا…
آپکی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ ہنی مون نہی بزنس ٹور ہے آپکا…..ذرا ہوش کریں..بھنگ ونگ پی رکھی ہے کیا…..
وہ کب چپ رہ سکتی تھی…
اسکی بات سن کر فرحان کا پارہ چڑھا تھا….
تم تمیز سے بات نی کر سکتی….
اسنے غصے سے پوچھا تھا….
میں سب کو انکی جگہ پر رکھتی ہوں…
نمرہ نے انتہائی تلخ جواب دیا تھا….
فرحان.نے اسکا بازو دبوچا….
اچھا..اور کیا ہے میری جگہ…. کہنا کیا چاہتی ہو…
اسنے طیش سے پوچھا تھا…
وہی جو آپ سن نہی پائیں گے…
نمرہ نے بازو چھڑوانا چاہا تھا….
بات ختم کر کے جاؤگی… فرحان نے جیسے حکم دیا تھا….
تو
سنیں..وہی جگہ ہو
گی نا آپکی میری نظروں میں جو ایک جھوٹے, فریبی اور دھوکے باز کی ہوتی ہے کسی بھی انسان کی نطر میں. ..
نمرہ نے جتا کر کہا تھا…
وہ جان.چکا تھا اسکا اشارہ ماضی کی جانب تھا….
تو تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے مسسز؟؟ فرحان نے اسکے بازو پر زور ڈال.کر اسکی آنکھوں.میں جھانکا تھا….
اسکے زرم سے بازو میں اسکی انگلیاں پیوست تھیں. ….
میں نے کیا کیا؟؟؟
نمرہ نے حیرت سے پوچھا تھا…
واہ یہ بھی سہی ہے…اپنا کیا دھرا بھول جاؤ اور صرف دوسرے کو قصور وار ٹھہر اؤِِ.
فرحان.نے تمسخر سے کہا تھا….
میں نے جو.بھی کیا یا کہا تھا اسکی معافی بھی مانگی تھی ..مائنڈ اٹ ملک فرحان شاہ….
نمرہ نے اسے جتایا تھا…..
کیونکہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو غلطی کا ادراک ہو جانے پر سوری کر لینتے ہیں. ..نا کہ اسکو انا کا مسئلہ بنا لیں…کہ معافی مانگنے سے انکی شان گھٹ جائے گی….
نمرہ نے اسکو باور کروایا تھا……
خود کسی انسان کے جذبات سے کھیل کر, اسکو اپنی مرضی سے بلا کر بھری محفل میں رسوا کرنا…یہ بھی تو تمہارے ہی طرح کے لوگ کرتے ہیں نا …نمرہ سیال !!!!
فرحان نے جیسے اسکا مذاق اڑایا تھا..اسکا اشارہ میسج کی طرف تھا جو تالیہ نے نمرہ بن کر کیا تھا….
جبکہ اسکی بات نمرہ کے سر سے گزری تھی….اسکی آنکھوں میں الجھن ابھری تھی….وہ کیا بات کر رہا تھا اسکو سمجھ نا آئی….
کیا مطلب اس بات کا؟؟
نمرہ نے سوال کیا تھا…
مطلب تم خوب جانتی ہو….اس بحث کو اب رہنے ہی دو…گڑھے مردے مت اکھاڑو…
فرحان نے اسکا بازو چھوڑا تھا…اسے اپنی بے عزتی یاد آئی تھی..وہ دروازہ کھول کر تیرس پر چلا گیا جبکہ نمرہ ادھر بیڈ پر بیٹھ گئی…….
ہنہ..یعنی کوئی شرمندگی ہے ہی نہی…. کیا بات ہے مسٹر فرحان شاہ..آپ کیوں جھکنے لگے اک ادنیٰ سی لڑکی کے آگے….اپکو کونسا.لڑکیوں کی کمی ہے…. میرا ہی.دماغ خراب ہے جو امید کر لی.ایک بار پھر کیوں میرے دل میں امید جاگی کہ شاید آپ شرمندہ ہوں…احساس ئو…ہان احساس ہی تو نہی ہے…
لیکن.میری بھی عزتِ نفس ہے… اور میں.کسی جو خود کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہی دونگی دوبارہ…
اسنے نم.ہوتی آنکھیں رگڑی تھیں. ….ِ
میں.کیوں.روؤں؟؟ ہنہ..میری تو پرواہ کسی نے نا.کی…نا.میرے گھر والوں نے , نا آپ نے نا کسی اور.نے…. پھر میں کیوں پرواہ کروں…
وہ سب سے بدگمان.ہوئی تھی…
آج انکی فلائیٹ تھی…دونوں.کے درمیان دوبارہ کوئی بحث نا.ہوئی تھی…وہ سب سے مل کر اب ایئر پورٹ پہنچے تھے…..
ملک.وجاہت نے خصوصاً فرھان کو نمرہ کا کیال.رکھنے کی نصیحت کی تھی…
وہ پہلی بار تو پلین میں نہی بیٹھی تھی مگر دوسرے ملک.کا.سفر پہلی بار کر رہی تھی…پلین نے ٹیک اور کیا تو اسکا دل باہر آنے.لگا..اسنے زور سیٹ ہینڈل کو تھاما تھا…دل چاہا تھا ساتھ بیٹھے فرحان کا بازو تھا.م.لے مگر اسکی بھ انا اڑے آتی تھی…اگر وہ آنا پرست تھا تو وہ کب کم تھی…
فرحان نے اسے زور سے آنکھیں بھینچے دیکھا تو وہ اسکا در سمجھ گیا…
اسنے نرمی سے اسکے ہاتھ ہر اپنا ئاتھ رکھ دیا جیسے تسلی دی ہو…مگر نمرہ کو تو جیسے کرنٹ ہی.لگ گی..اسنے اس ہاس کی پرواہ کیئے بغیر اپنا ہاتھ فوراً اسکے ہتھ کے نیچے سی جھٹکے سے نکال لی..اور منہ.موڑ لیا…فرحان.نے غصے سے اسے دیکھا تھا..یہ.لڑکی اسکا ضبط آزماتی تھی…..
خیر اسنے ماحول کا خیال کرتے ہوئے کچھ نا کہا…سارے سفر میں زیادہ تو وہ سوتی رہی ….فرحان.نے اسکا چہرہ دیکھا تھا….ہلکی سی پنک لپسٹک لگائے…فیروزی رنگ کے شیفون.کے دوپٹے میں, ناک میں ننا سا مونگ پہنے. سوتی ہوئی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی…فرحان کی نظر سامنے اٹھی تو دوسری طرف انسے ایک.سیٹ آگے ایک ینگ سا پچیس چھبیس سال کا لڑکا بیٹھا تھا…جو نمرہ کو بغور دیکھ رہا تھا.مگر وہ تو سو رہی تھی….. فرحان.نے ضبط سے مٹھیاں.بند.کی تھیں. ..اسنے ہاتھ بڑھا کر نمرہ کا چہرہ تھام.کر آہستہ سے اپنے کندھے پر رکھا اور اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسکو اہنے گرفت میں لے لیا تھا… اس.لڑکی کو ایک لمحے.میں فرحان.کی خونضوار نظروں.اور. اس حرکت سے اندازہ ہو گیا انکا مابین کیا رشتہ تھا..اسنے فوراً نگاہ پھیر لی ..کچھ بعید نا تھا فرحان اسکو پیٹ ہی ڈالتا…
جب پلین کے لینڈ ہونے کی اناؤنس منٹ ہوئی تو اسکی آنکھ کھلی…
وہ فرحان کی گرفت میں تھی..اسکے جاگنے سے فرھان نے اسے آزاد کر.دیا….پھر لینڈنگ کے نعد باہر آئے تو نمرہ کو شدید بھوک کا احساس ہوا…اسنے پورے راستے کچھ نا.کھایا تھا…
فرحان کر ایک پرانا .دوست تیمور انکو لینے آیا تھا..اسی سے کہہ کر فرھان نے ہوٹل.روم.کے.بجائے ایک فلیٹ بک کروایا تھا…
فرحاناس سے بغل گیر ہوا…پھر وہ نمرہ سے.ملا اور انکو فلیٹ ڈراپ کیا..پورے راستے ہو لندن.کی خوبصورت سڑکیں دیکتھی رہی..جبکہ.فرحان گپ.شپ میں مصروف رہا تھا…کھانے کا انتظام تیمور انکے لیے فلیٹ میں کر آیا تھا….
انھیں ڈراپ کر کے وہ واپس چل دیا….
نمرہ نے فلیٹ کا.جائزہ لیا…یہ ایک نہایت لگزری. اور فرنشڈ فلیٹ تھا جو دو کمروں, اٹیچ باتھس ایک اوپن کچن اور چھوٹی سے لاؤنج پر مبنی تھا…
مین ڈور کے بعد چھوٹی سی گیلری تھی…..
نمرہ کو یہ جگہ کافی پسند آئی تھی….
فرحان نے روم کا دروازہ کھول کر بیگز رکھے….
تم فریش ہو لو پھر کھانا کھاتے ہیں. ..
وہ نمرہ سے مخاطب تھا….
وہ سر ہلا کر واشروم چل دی…فریش ئو کر باہر آئی تو فرحان.کھانا نکال.چکا تھا..وہ شاید دوسرے باتھ روم.میں فریش ہو چکا تھا….
نمرہ کھانے پر ٹوٹ پڑی سب چیزیں اسکی پسند کی تھیں. .پیزا, لزانیہ اور ساتھ گرلڈ چکن….
فرحان کی آج شام اور پھر کل میٹنگ تھی …اس کے بعد وہ فارغ تھا…ِ
کھانا کھنے کے بعد وہ کچھ دیر سونا چاہتی تھی…. برتن رکھ کر وہ روم میں آئی اور اس پہلے وہ آتا ..وہ بیڈ پر لیٹ گئی….فرحان کچھ میلز چیک کرنے لیپ ٹاپ لے کر لاؤنج میں ہی بیٹھ گیا…جب فارغ ہو کر کمرے میں آیا تو وہ سلیپنگ بیوٹی کی طرح نیند میں غرق تھی…
فرحان کو اپنے دل کے بہت قریب لگی تھی وہ….
وہ نے اختیار آگے بڑھا اور اسکے ماتھے پر جھکا اور اپنے لب رکھ دیئے…..
اسنے کلائی پر موجود گھڑی میں ٹائم دیکھا تو ابھی دو گھنٹے باقی تھے میٹنگ کا ٹائم ہونے میں. …..
وہ آرام سے اسکے پہلو میں لیٹ گیا اور یک ٹک اسکا چہرہ دیکھنے لگا….
وہ اسکی محبت تھی..فرحان شاہ کی پہلی چاہت…. جو اسکی خواہش بنی تھی…. وہ لاکھ نفی کر لیتا مگر وہ اسکو بے پناہ چاہتاتھا
مگر شاید خود بھی اقرار کرنے سے ڈرتا تھا…
کیونکہ اسنے دل پر دماغ کو فوقیت دے دی تھی ایک عرصے سے دماغ ہی دل پر چھایا تھا….
اسنے دوبارہ ووت دیکھا تو ایک گھنٹا گزر طکا تھا….ِوہ آٹھا اور تیار ہونے لگا…..اتنے میں نمرہ بھی جاگ چکی تھی..اسنے مغرب کی.نماز.پڑھی …تب تک فرحان تیار ہو چکا تھا….
میں جا رہا ہوں…دو تین گھنٹوں تک واپس آؤں.گاِِتم دروازے لاک کر لو…بھوک لگی تو کھانا.کھا.لینا نہی تو رات کو باہر چلیں گے..اوکے…
اسنے کلائی پر گھڑی باندھتے ہوئے کہا تھا…
یہ تو ایسے کہہ رہے ہیں.جیسے واقعی ہم.ہنی مون پو آئے ہوں..
نمرہ نے اسکو.گھور کر سوچا تھا…
یار اب نظر تو مت لگاؤ..اتنا.پیارا لگ رہا ئوں تو.کہہ دوِ.
فرحان.نے اسکو.خود کو دیکھتا پایا تو شرارت سے بولا تھا…
خوشفہمیاں… نمرہ.نے چڑھ کر کہا تھا جبکہ.اسکی بات سن.کر فرحان.کا قہقہہ بلند ہوا…
اپنا لیہ ٹاپ بیگ میں ڈالے وہ چل.دیا…
نمرہ دروازہ لاک.کر کے آئی تو اسے سمجھ نا آیا اب.کیا.کرے..انجان.جگہ اوپر سے خالی.گھر..اسے ایک دم ہی وحشت ئونے لگی..وہ.موبائل لے کر بیٹھ گئی…
ایک گھنٹہ ہی.مشکل.سے گزرا تھا اسکا مزید دو تین گھنٹے وہ اکیلے کیسے گزارے گی…
اسے جوفت ہونے.لگی تھی….. کبھی ٹی وی دیکھتی کبھی موبائل آٹھاتی..عشاء ہوئی تو اسنے نماز ادا کی..پھر قرآن پاک کی.تلاوت کرنے.لگی…
ابھی وہ فارغ ہوئی ہی تھی کہ بیک بجی تو اسنے شکر ادا کیا…
دروازہ کھولا تو فرحان تھا…
لگتا ہے میرا ویٹ ہو ریا تھا…
اسنے فوراً دروازہ کھلنے پر کہا تھا… نمرہ کچھ نا بولی….
باہر چلوگی؟؟ فرحان.نے اسکا موڈ دیکھ کر پوچھا تھا….
نہی مجھے نیند آ رہی ہے…
نمرہ نے جواب دیا…
اوکے دین سو جاؤ… فرحان روم میں آگیا…
کھانا کھایا تم.نے؟ اسنے اگلا سوال کیا…
نہی میرا موڈ نہی شام کو جو کھایا تھا کافی ہے….
وہ اسکی توقع کے برعکس سادہ سے انداز میں جواب دے رہی تھی…
کیانکہ یہ سچ تھا کہ پچھکے کچھ گھنٹوں میں نمرہ نے فرحان.کو واقعی مس کیا تھا….
اسکے کوٹ آنے پر وہ پر سکون.ہو گئی تھی….
میری بھی میٹنگ ہے ارلی مارننگ…سو ہی جانا چاہیے…
فرحان نے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر لیا اور چینج جرنے چل دیا….
نمرہ بیڈ پر لیٹ گئی..وہ دوسرے کمرے کے بیڈ سے. دوسرابلینکٹ کے آئی تھی…دوسرے کمرے میں اکیکے سونے کی ئمت اس میں نا تھی لہذا وہ ادھر ہی بیڈ کے بالکل ایک طرف ہو کر لیٹ گئی…
فرحان چینج کر کے نکلا تو اسے بیڈ پر لیٹا دیکھ کر وہ سمجھ گیا …
اسنی اپنی مسکراہٹ دبائی اور لائیٹ آف کر کے دوسری طرف آگیا..کمرے میں اندھیرا چھا گیا….ِ
نمرہ نے اپنے طرف والی سائیڈ ٹیبل ہر پڑا لیمپ آن کر دیا…
فرحان نے ہاتھ بڑھا کر اسکو اپنی جانب کھینچا تھا….وہ جو اس کے لیے تیار نا تھی فوراً اسکی جانب کھنچتی گئی تھی….
یہ کیا.کر رہے ہیں. .چھوڑیں مجھے…
وہ ایک دم.بوکھلائی تھی…
تم.کچھ جرنے ہی کہاں دیتی ہوِ..فرحان نے اسکے بال کان کے پیچھے آڑاتے ہوئے کہا.تھا….
دور ہوں…آپکو.ایک بات ایک بار سمجھ کیوں نہی آتی…
نمرہ نے اسکو دھکا دیا تھا…. فرحان.کا دل.کیا ایک منٹ میں اسکو سبق سکھا دی مگر وہ اسکا روادار نا تھا….
اسنے نمرہ کو آزاد کر دیا.تھا….. وہ پیچھے ہٹی تھی…..
مگر بیڈ سے نا اتری….بلکہ اپنی طرف سمٹ کر سو گئی…
