Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 32)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
رات کا دیر سے سونے کی وجہ سے وہ فجر کے وقت اٹھ ہی نا پائی…..آنکھ کھلی تو وہ بھی باہر سے آنے والی.مختلف آوازوں سے….یعنی.باہر گہماگہمی شروع ہو چکی تھی. ….دو منٹ میں جب وہ مکمل جاگی اور اٹھنے.لگی تو خود کو.کسی کے.مضبوط حصار میں محسوس کیا اسنےِ….چونک کر اسنے سر اٹھایا تو فرحان.کا چہرہ اس سے بہت قریب تھا….نمرہ کا سر اسکے.کندھے پر تھا….فرحان کی سانسیں اسکو اپر سر پر محسوس ہوئی تھیں وہ جاگا نہی تھا….وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی….
مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا مراقبہ مزید جاری رکھتی ایک دم سے اٹھنا چاہا اسنے….چہرے پر کرختگی آ چکی تھی…..مگر اسکے گرد گرفت مضبوط تھی….اسنے خود کو پھنسا ہوا محسوس کیا تھا….فرحان کا ہاتھ اسکی کمر کے گرد تھا…. جس کندھے پر اسکا سر تھا اسنے منہ نیچے کر کے اسکی کندھے کو ایک دم زور سے دانتوں میں رکھ کر چک کاٹا تھا…
آہ. ہ ہ!!! وہ جو نیند میں تھا ایک دم.درد سے بلبلا اٹھا…کندھے پر تکلیف کا احساس ئوا تو دیکھا نمرہ خونخوار نظروں سے اسے گھور رہی تھی اور ساتھ اسکا ہاتھ ہٹانے کے جتن کر رہی تھی…..
Are u mad?? U have bitten me!!
اسنے ایک.دم.غصے سے اسے کہا تھا…
Leave me right now….
نمرہ.نے حکم دیا تھا…جبکہ اسکی بات سن.کر اسے آزاد کرنے کے بجائے فرحان نے اسکی کمر پکڑ کر ایک دم اپنے اوپر گرایا تھا…
وہ سیدھا اسکے سینے پر گری تھی…لمبے کھلے بال چہرے کی دونوں اطراف ڈھلک رہے تھے جیسے پردے کا.کام کر رہے ہوں…
یہ کیا بدتمیزی ہے؟؟؟
وہ ایک دم.دھاڑی تھی….
شش!!آواز آہستہ رکھو!!
ماتھے ہر بل ڈالے فرحان.نے.کہا.تھا…
اور کونسی.بدتمیزی؟؟؟
سوال کافی غصے سے کیا گیا تھا….جبکہ اسکا غصہ دیکھ کر وہ ایک.دم.سہمی تھی…اسے کب عادت تھی اسکے غصے کی….
اسنے ہمت جمع کی…
آپ کس کی اجازت سے یہاں سوئے ؟؟
نمرہ نے سوال کیا تھا…
Do you think i need somebody’s permission to sleep here?? Or next to you??
(تمہارا کیا خیال.ہے کہ مجھے یہاں سونے کے لیے یا تمہارے ساتھ سونے کے لیے کسی کی اجازت درکار ہے؟)
انداز کافی کچھ جتانے والے تھا…شاید ملکیت کا احساس تھا….
نمرہ کو ایک آنکھ نا بھایا تھا اسکا انداز….
میرے خیال.سے ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ یا تعلق نہی.جس کے تحت آپ یہ بات اس یقین کے ساتھ کہہ سکیں!!!
نمرہ نے اسکو باور کروایا تھا…اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے….وہ گھبرائی نا تھی….
اور گھبراتی بھی کیوں اس انسان نے اسکی ذات کو مزاق بنا.کر دیا تھا … کیوں لحاظ رکھتی وہ؟؟
کوئی رشتہ نہی ہمارے درمیان؟؟ اگر ایسا ہے تو تم کس حیثیت سے یہاں اتنے.دن سے.میرے ساتھ ایک کمرے میں ایک چھت تلے رہ رہی ہو؟؟
فرحان کو اسکی بات شدید گراں گزری تھی……جبکہ اسکی بات سن.کر نمرہ خاموش رہی….
ہمارا کیا” رشتہ” ہے اور آپس میں جو “تعلق” ہے , اسکا.ذکر مت.ہی لاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے…… کیونکہ “رشتہ” اور “تعلق” کافی گہرا نکلتا ہے….. تم شاید برداشت نا کر پاؤ…
فرحان نے اسکی گردن کی ہڈی پر دوسرے ہاتھ سے انگلی پھیرتے ہوئے معنی خیزی سے کہا تھا…جبکہ اسکی اس حرکت سے نمرہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ گئی…..
چھ..چھوڑیں مجھے….
وہ ایک دم بوکھلائی…کچھ تو تھا فرحان کے انداز میں جو اسے بوکھلانے پر مجبور کر گیا تھا……اتنے میں انکے کمرے کا دروازہ بجا تھا….
نمرہ نے موقع غنیمت جاناں…اور فرحان کے اوپر سے ہٹنے لگی مگر شاید فرحان کا ایسا کوئی موڈ نا تھا….
فرحان نے اسکا بایاں ہاتھ پکڑ کر ہولے سے لبوں سے لگایا تھا….جبکہ.وہ تو سکتے میں آگئی…
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی وہ اسے موقع دیے بغیر ایک دم.اسکو آزاد کر تا اٹھ کھڑا ہوا اور دروازے کی جانب بڑھ گیا…
آج عریبہ اور اشعر کی بارات تھی…نمرہ نے ایمن اور مقدس کو بھی بلایا تھا مگر چونکے ایمن بھی اپنے گاؤں گئی ہوئی تھی سو مقدس اکیلے نا تھی…..
ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر وہ عریبہ کے پاس ہی تھی….جبکہ فرحان باہر کی تیاریوں میں مصروف تھا سو دوبار اس کا سامنا نہی ئوا نمرہ سے….عریبہ کو تیار کرنے بیوٹیشن آچکی تھی….
مہرون میکسی پر ڈل گولڈ کام کیا ہوا تھا, ساتھ گولڈ کی جیولری پہنے , ڈارک میک اپ میں وہ بے حد پرکشش لگ رہی تھی…
جبکہ نمرہ مے آج کے.فنکشن کے لحاظ سے بھاری کام والی شاکنگ پنک اور گرین.کلر کی میکسی پہنی تھی…. آمنہ بیگم نے خصوصاً اسے بھاری کام والا جوڑا پہننے کا کہا تھا کیونکہ وہ حویلی کی بڑی اور نئی دلھن تھی…
آدھے بالوں سائیڈ پف بنا ئے باقی آدھوں کو ایک کندھے پر ڈالے وہ ہمیشہ کی طرح نازک گڑیا لگ رہی تھی…
اتنے میں آمنہ بیگم کمرے میں آئیں….
ماشاءاللہ! ! میری بیٹیاں تو پریاں لگ رہی.ہیں. ..
انھوں نے.باری.باری دونوں کو چوما تھا……
اللہ نظرِ بد سے بچائے…
انھوں نے دعا دی …
بس بارات آنے والی ہے ابھی ابا جی نے بتایا…..
میں تب تک ذرا دیکھ لوں عورتوں کو…اور صدقہ بھی دے دوں…
وہ مسکرا کر باہر چل.دیں…
اہممم… آج تو اشعر بھائی.کا دل ہی نہی بھانا ہماری عریبہ کو دیکھ دیکھ کر…
نمرہ نے شرارت سے کہا تھا..جبکہ عریبہ ہولے سے مسکرا دی….
جی جسے فرحان بھائی کا نہی بھاتا….
عریبہ نے دل ہی دل میں نمرہ کی نظر اتاری تھی….
جبکہ اسکی بات سن.کر نمرہ کے مسکراتے ہونٹ ایک دم سکڑے تھے جسے عریبہ کی نظروں نے دیکھا تھا… …
وہ مڑ کر کھڑی ہوئی اور نمرہ کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے تھے….
نمرہ بھابھی میں جانتی ہوں جیسے آپکی شادی ہوئی جن حالات میں سب ہوا یہ سب ایکسیپٹ کرنا اتنا آسان نہی بٹ آپ فرحان بھائی سے بدگمان مت ہوں..انکو ایک موقع دے کر دیکھیں. …وہ آپکو مایاس نہی کریں گے….
اسنے بہت اپبائیت سے کہا تھا….
ہممم…نمرہ محض اتنا کہہ سکی…
تم کیا.جانو عریبہ حالات کے ساتھ ساتھ تمہارے بھائی نے کیا ستم ڈھایا ہے مجھ پر….
ایک موقع ؟؟؟ وہ تو میں دے چکی..اسی کا تو.خمیازہ بگھت رہی ہوں ..اور نجانے جب تک بھگتوں گی..شاید ساری عمر….
وہ سوچ ہی سکی تھی یہ سب کیونکہ کہہ نا سکتی تھی…عریبہ اس سے نا واقف تھی اور نمرہ اسے آگاہ کرنے کا کوئی ارادہ بھی نا رکھتی تھی…..
میری چھوڑو…آج تمہارا دن ہے..تم خوش ہو نا؟؟
نمرہ نے اسکا گال چھو کر پوچھا تھا…..
جی میں مطمئن ہوں…
عریبہ نے سر جھکا کر جواب دیا….
انشاءاللہ تمہارا اطمینان برقرار رہے گاِ….اشعر بھائی بہت نائس ہیں. ..اور آپ پر تو دل بھی ہار چکے ہیں. ..یو بوتھ ول بھی ہیپی…
نمرہ نے اسکو اطمینان دلایا…اتنے میں امروزیہ بیگم اور کچھ اور لڑکیاں عریبہ کو لینے آگئیں کیونکہ بارات آچکی تھی….
وہ سب.عریبہ کو لے کر چل دیئے….
اشعر سفید شیروانی کے ساتھ کلہ پہنے اپنی مسکراہٹ کے ساتھ بہت ہینڈسم.لگ رہا تھا…سٹیج کی طرف بڑھتی عریبہ کی نظر اس پر پڑی تو اسکا دل ایک دم زور سے دھڑکا. …
اشعر کا حال بھی کچھ مختلف نا تھا..وہ اس وقت خود تو خوشقسمت ترین انسان تصور کر رہا تھا کیونکہ اسنے جسے چاہا تھا اسے پا لیا تھا. ..عریبہ آفندی اسکی ہو چکی تھی تا عمر…
نکاح کچھ دیر پہلے ہی ئو چکا تھا …دونوں کو اکٹھا بٹھایا گیا….اس کے بعد سب مہمان.دولہن دولئا سے ملنے سٹیج پر جانے لگے..نمرہ تھوڑی دیر سٹیج سے نیچے اتر آئی…فرحان کسی سے کال میں مصروف تھا…
سیاہ کرتا شلوار پہنے, کندھے پر چادر ڈالے. اپنی تمام تر وجاہت لیے وہ سحر انگیز لگ رہا تھا….
بڑی خوبصورت آنکھیں, کھڑی ناک…وہ شاید جانتا.تھا وہ مقابل کو متاثر کرنے کا ہنر اور حسن رکھتا ہے تبھی اتنا خود سر تھا…
نمرہ سر جھٹک کر دوبارہ سٹیج.پر چل دی جہاں آمنہ بیگم.نے اسے کسی سے.ملوانے بلوایا تھا…
مہمان کھانا.کھانے گئے تو اشعر اور عریبہ ک
ا فوٹو شوٹ ہوا….پھر تمام فیملی کا…سب کپلز کی پکس بنائی گئیں. … ناچار فرحان اور نمرہ کو بھی تصویریں بنوانی پڑیں…
اس کے بعد رخصتی کا مرحلہ آیا جو اچھے سے انجام پزیر ہوا اور عریبہ اشعر کے گھر چلی گئی…
بیٹی کی رخصتی کے بعد آمنہ بیگم اداس ہو گئی تھیں. ..بلکہ گھر میں سب کا یہی حال تھا…فرحان کو اپنی اکلوتی بہن سے بہت پیار تھا..جبکہ اب تو.نمرہ کو بھی اسکی عادت ہو گئی تھی…وہی تو تھی جس کے ساتھ اسکا دل بہلا رہتا….بےشک وہ بہت قریب ہی تھی اپنے گھر سے ساتھ والے گھر ہی گئئ تھی مگر وہ بے تحاشا روئی.تھی…
نمرہ نے آمنہ بیگم.کو دلاسہ دیا..وہ انکا اچھے سے خیال رکھ رہی تھی…
وہ گلابوں سے سجے کمرے میں بیٹھی خود بھی ایک.کلی لگ رہی تھی….اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا…
کمرہ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا…ا..
وہ بیڈ پر بیٹھی انگلیاں چٹخا رہی تھی شاید اپنی گھبراہٹ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی…کہ اتنے میں دروازہ کھلا تھا…
آنے والا.کون تھا وہ جان چکی تھی..نظر اٹھانے کی ہمت اس میں نا.تھی…
اشعر نے مڑ کر دروازہ لاک کیا اور چلتا ہوا بیڈ تک آیا..اور کلہ اتار کر سائیڈ پر رکھتے اسکے سامنے بیٹھ گیا…عریبہ نے ابھی بھی نگاہ نا اٹھائی تھی..
اہممم… اشعر نے گلہ کھنکارا.ِِ….
عریبہ مے نگائ اٹھا کر اسکو دیکھا .ِِِِ. تو وہ دیکھتا ہی رہ گیا… اس قدر پیاری لگی تھی وہ اسکو..اسکے لیے سجی سنوری…اسکا انتظار کرتی, گھبراتی ہوئی…اشعر نے ئاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھا… عریبہ کا ہاتھ کپکپاہٹ کا شار تھا…
گھبراؤ تو نہی یار…
اشعر نے پیار سے کہا تھا…
عریبہ کچھ نا.بولی…
Thank you …thank you soo much for coming in my life..for accepting me… I cant express how happy i am to have you here as my wife…
اشعر.نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا تھا…
جبکہ.عریبہ سرشار سی ہو گئی تھی…
کچھ کہو گہی نہیں ؟؟؟.
اسنے سوال کیا.تھا..
مم..میں کیا کہوں اشعر بھا…..
آخری لفظ اسکے منہ میں ہی رہ گیاِِاسنے جکدی سے زبان کو بروقت بریک لگائی….
ہائے اللہ کیوں پہلی ہی رات بیوہ ہونا چاہتی ہوِِمیری گولڈن نائیٹ کو بلیک نائیٹ تو نا بنا ؤ یارِ..
اشعر نے صدمے سے کہا تھ
جبکہ اسکی بات سن کر عریبہ ایک.دم بولی تھی….
ایسی باتیں تو.نا.کریں. …
تو.میری.جان.آپ بھی ایسی باتیں نا.کریں نا.ِ.
اشعر.نے.شرارت سے کہا تھا…
عریبہ کھسیانی ہوئی…
سوری…..
ہاہاہا…چلو شکر تمہیں اندازہ تو ہوا…
اشعر کو اطمینان ہوا…
عریبہ میں جانتا ہوں سب جلدی ئوا ہے…. رشتہ تہ ہونا پھر شادی آئی نو تم نے شاید ایسا نہی سوچا تھا….سہی بتاؤں تو. پہلے میں. نے بھی نہی سوچا.تھاِِ……..
مگر پھر اچھی لگنے لگی تم.مجھے…. میری خواہش بن گہی تم….. اور اللہ نے میری خواہش پوری کر دی… میری زیادہ تمہید نہی باندھوں گا مگر تمہیں یہ ضرور بتانا.چاہوں گا.کہ میں محبت کرنے لگا ئون تم…لیکن میں ہرگز تم پر خود.کو.مسلط نہی کرنا چاہتا…جب تک تم مینٹلی طور پر ریڈی نہی ہوجاتی ہم اس رشتے کو آگے نہی پڑھائیں.گے اور یقین مانو مجھے جلدی نہی ہے تم جتنا وقت چاہو لے سکتی ہو…
اشعر نے اسکو اطمینان دلایا تھا..
تھینک یو….وہ مدہم.سی آواز میں بولی تھی..
عریبہ کو آج کہیں سے بھی وہ ہمیشہ والا.غیر سنجیدہ .اشعر ما.لگا تھا بلکہ.آج تو وہ کافی بدلا.بدلا.سا تھاِ…
عریبہ نے اسکی بات سن.کر دل میں خدا کا شکر.ادا کیا تھا اتنا اچھا جیون.ساتھ ملنے ہر…
اشعر نے ایک بہت پیارا سا نیکلیس اسے.منہ دکھائی.میں دیا..اس کے بعد.دونوں نے چینج کیا…
عریبہ آکر بیڈ کی دوسری طرف لیٹی تو اشعر.نے اسکا بازو پکڑ کر اسکے اپنے طرف کیا اور اسکے ماتھے.ہر اپنے لب رکھے تھے…
اسکی حرکت پر عریبہ کی سانسیں اتھل پتھل.ہوئی تھیں. ..مگر کچھ دیر میں وہ نارمل.ئو.گئی…اور اسکی باہوں میں وہ ہر سکون نیند سو چکی تھی..
اگلے دن ولیمہ خیریت سے انجام پزیر ہوا تو.سب اپنے روزمرہ کاموں میں لگ گئے…دو ہفتے بعد نمرہ کے پیپر تھے ِِِاسنے.دن.رات ایک کیا ہوا تھا…فرحان نے اسکا خیال.کرتے.ہوئے اسے دوبارہ تنگ نا.کیا تھا تاکہ وہ پر سکون ہو کر پڑھ سکے….
شام کی چائے کے وقت عریبہ اور اسکی ساس بھی آگئیں. .نمرہ بھی انکے ساتھ ہی بیٹھ گئی..اتنے میں گیٹ کھلا اور اشعر , فرحان.اور برہان.بھی.گاڑیوں سے اترے….وہ سیدھا انہی کے پاس چلے آئے…
ہیلا بیوٹی فل لیڈیز…
اشعر نے چہک کر کہا تھا…
عریبہ فرحان سے ملی تھی…
فرحان.نے اسے ساتھ لگایا تھا…
ٹھیک ئو.نا؟؟ فرحان نے پوچھا تھا…
جی بھائی..عریبہ.نے.مسکرا کر جواب.دیا…
ہابتاؤ اپنے اس جلاد بھائی کو یارِِِ… میں تو لنگور لگتا ہوں.اسکو..تم ہی یقین.کروا.دو… ورنہ میری خیر نہی…نہی تو.بتا تجھے.کیا.لگتا ہے میں خدا.نا خواستہ پیٹتا ہوں عریبہ کو…
اشعر کی دھائیاں سب.کے سامنے عروج ہر تھیں. .نمرہ اور آمنہ بیگم.ہنس.دیں…
تو ادھر آ… جلاد بن کر دکھا ہی دوں آج..
فرحان نے اسکی گردن پکڑی تھی…
مت تنگ کرو میرے بیٹے کو..آمنہ.بیگم نے کہا تھا…ِجبکہ.اشعر.نے گہری نظروں سے سرخ سوٹ پہنے عریبہ کو دیکھا تھا…وہ ایک دم نگاہ جھکا.گئی…اسے اشعر کی نظریں.کافی معنی خیز.لگی تھیں. …
نمرہ فرحان کے آنے کے بعد پڑھائی کا.کہہ کر اٹھ آئی…عریبہ نے.یہ بات محسوس.کی تھی مگر خاموش رہی…پھر مغرن سے پہلے وہ واپس چلی گئی…
رات کو وہ بال سلجھا رہی تھی جب اشعر روم میں ایا..وپ کسی گہری سوچ میں تھی…
اشعر نے اسکے سامنے چٹکی بجائی…
کہاں کھوئی ئو؟ نو.لفٹ….
اسنے ہوچھا تھا…
ہاں..کہیں نہی…اشعر آپ نے نوٹ کیا.ہے فرحان بھائی اور.نمرہ کے درمیان ..آئی.مین ..شاید.میری غلط گہمی ئو مگر وہ ایک دوسرے سے کھنچے.کھنچے رہتے ہیں. ..
عریبہ.نے اپنی سوچ کو.الفاظ دئے….
اوہ تو یہ.بات ہے..
اشعر نے جواب دیا..اب.وہ اسکو کیا بتاتا کہ یہ اسکا وہم نہی تھا مگر وہ اسکو کبھی حقیقت بتا بھی.نہی سکتا تھا.ِ.کیونکہ وہ فرحان سے بے پناہ محبت.کرتی تھی اور اگر فرحان کے کیے دھرے کا اسکو پتا چلتا تو شاید اسکی نظروں میں اپنے بھائی کی وہ.وقعت نا.رہتی جبکہ اشعر ہر.گز ایسا.نہی چاہتا تھا..اسکو.فرحان آج بھی بہت عزیز تھا…
لیکن میں نے بھائی کی نظروں.میری بھابھی کے لیے پیار دیکھا ہے…آئی ہوپ سب سیٹ ہو جائے… اور پھر میں بھی پھپھو بن.جاؤں..
آخری بات اسنے مسکرا.کر کہا تھی…
اہہممم.تو اپکو آنکھیں .پڑھنا بھی آتی ہیں. ..
اشعر.نے.شرارت سے کہا تھا…
یار تمہارے پھپھو.بننے کے چکر میں, میں ابا بنے سے محروم نا رہ جاؤں…تمہیں پھپھو کا درجہ عطا کرنے کے لیے.نمرہ اور فرحان کو کوشش کرنی چاہیے مگر فلحال تم صرف ہمارا سوچو…
اشعر نے کافی معنی خیزی سے کہا تھا….
اسکی.بات سن.کر عریبہ ایک.دم سرخ پڑی تھی…
وہ ایک دم اٹھی..
میں برش رکھ آؤں..
اسنے کھسکنا چاہا تھا…جبکہ اسکا ارادہ بھانپ کر اشعر نے اسکی کلائی تھامی اور اس سے برش لے کر سائیڈ. ٹیبل پر رکھا…
اسنے ایک جھٹکے سے عریبہ کو.اپنے اور گرایا تھا اور اسکو اپنی.باہوں میں قید کر لیا تھا…
جبکہ عریبہ کی کچھ بولنے کی ہمت نا.ہوئئ تھی….اشعر اسے بیڈ پر لٹا چکا تھا…اسنے ہولے سے جھک کر اسکی گردن پر اپنے لب رکھے تھے…عریبہ نے آنکھیں بند کر لیں. …
اسکے بعد وہ ایک کے بعد ایک جسارت کرتا گیا ..عریبہ.نے کوئی مزاحمت نا.کئ تھی…..کیونکہ اسنے اسکو وقت دیا تھا اور.مزید اشعر کا حق.نا.دینا عریبہ کو اسکے ساتھ نا.انصافی لگی تھی….لہذا وہ اہبا آپ اسکو.سونپ چکی تھی…
ایک دن.بعد نمرہ کا پیپر تھا…اسنے ملک.وجاہت اور آمنہ بیگم سے اجازت لی تھی کہ پیپرز کے دوران.وہ اپنے گھر جا کر ٹھہر جائے کئونکہ.روزانہ سفر کرنا اسکو تھکا دے گا..انھیں کوئی مسئلہ نا.تھا…
رات کو فرحان گھر آیا اسکو خبر ملی تو اسکا.موڈ ایک دم آف ہو گیا…اسے بات ہضم ہی نا.ئو رہی تھی…. نمرہ.نے اس سے اجازت لینا تو دور خود اسے برانا بھی گوارا نا.کیا تھا اور یہ بات اسے طیش دلا.رہی تھی….
کمرے میں آیا تو وہ اہنا.بیگ پیک کر رہی تھی….
تم یہاں سے بھی پیپر دینے جا سکتی ہو!!
فرحان نے بات شروع کی تھی….
روزانہ کا آنا جانا نہی ہوتا مجھ سے…
نمرہ نے بغیر دیکھے جواب دیا…
تم خود ڈرائیو مت کرنا .. کوئی اور پک اینڈ ڈراپ.کر لے.گا..میں چھوڑ آؤں.گا…
فرحان.نے حل بتایا..
نو.تھینکس…
نمرہ نے سرسری سا جواب دیا…وہ اسکی بات ہر کان ہی.نہی دھر رہی تھی…فرحان کو غصہ آرہا تھا….وہ نہی چاہتا تھا وہ.جائے…بے شک دونوں بات نہی کوتے تھے مگر وہ اسکی.نظروں کے سامنے ہوتی تھی…رات کو اسکے سامنے آفس سے آتا تو.اسکا دیدار نصیب.ہوتا… اب پورے یک ماہ تک وہ کیسے اکیلا رہ سکتا تھا….
مگر صاف کہہ دینا اسکو بھی کب گواراہ تھا…کہ رک جاؤ مت جاؤ… تمہارے بغیر دل نہی لگے گا میرا….مگر ہائے یہ انا…وہ خاموش رہا…
بظاہر نمرہ کا انداز.سرسری تھا مگر اندر سے اسکی ہوری توجہ.تھی فرحان.کی طرف..وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھی اسکی بات کو…
ہہنہ…صاف بول دیں نا کہ رک جاؤ..پر نہی…مسٹر ایگو ٹسٹ..انکی تو شان میں کمی آجائے گی….اگر ایک نار کہہ دیتے تو کیا ئو جاتا…رک جاتی میں. .مگر جب انکو اپنی انا عزیز.ہے تو.میں کیوں خود رک رکوں…. اب تو جاؤں گی میں…
نمرہ.نے بھی ضد سے سوچا.تھا….
اگلی صبح فرحان.نے اسکو.ڈراپ.کیا تھا…وہ اپنی گاڑی پر نا گئی.تھی کیونکہ لمبا سفر وہ اکیلے نا.کرتی. تھی….
امروزیہ بیگم.نے دونوں کا پر تپاک ااستقبال.کیا تھا..فرحان.کو اکلوتا داماد ہونے کا فل پروٹو کول ملا تھا….دن کا.کھانا ان.سب.کے ساتھ کھا کر وہ واپسی.کے لیے اٹھ کھرا ہوا…
امروزیہ بیگم.نے چاہا تھا وہ ٹھہر جائے مگر وہ لوٹ آیا کیونکہ اس دشمنِ جاں کو. کوئی فکر نا تھی…
اسنے الوداعی نگاہ اس پر ڈالی.مگر وہ تب.تک.مڑ چکی تھی…
گھر آکر وہ.کمرے میں آیا تو ہورا.کمرہ.خالی لگا اسکو…کیونکہ وہ.نا.تھی…انکی شادی کو ایک ماہ سے اوپر ہو رہا تھا اب وہ اسکا عادی ئو چکا.تھا…رات اسکی بہت مشکل.سے کٹی تھی….صبح تک وہ ایک فیصلے ہر پہنچ چکا تھا….
نمرہ پہلا پیپر دے کر گھر آئی تو کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹ گئی..ابھی بامشکل دس منت ہی گزرے تھے کہ اسے کاؤنج سے فرحان کی آواز آئی….اسنے.اہنا.وہم.سمجھا مگر جب مسلسل باتوں کی آواز آئی تو وہ اٹھ گئی اور باہر آئی….تو سامنے صوفے پر وہ آرام سے ٹانگ ہر ٹانگ رکھ کر بیٹھا کاشان اور امروزیہ بیگم سے گپیں ہانک رہا تھا…
یہ اس وقت ادھر…….
اسکے ذہن میں کئی سوال ابھرے…
نمرہ اچھا ہوا.تم اٹھ گئی.بیٹا….میں ویٹ کر رہی تھی..بیٹا اپنا.بیگ لے آؤ فرحان تمہیں لینے آیا ہے…
امروزیہ بیگم.نے.اسکو اطلاع دی….
لینے؟؟ ابھی؟؟؟ماما ہر کل.ہی تو آئی ہوں میں. .
نمرہ نے سوال کیا تھا…
آئی نو بیتا لیکن.اسے تمہاری ضرورت ہے..
امروزیہ بیگم.نے نرم لہجے میں کہا تھا…
آئی ایم ایکسٹریملی سوری آنٹی .. اگر میری طبیعت خراب.نا.ئوتی تو کبھی فورس.نا.کرتا…
فرحان نے مسکین شکل بنا کر کہا تھا…
ارے نہی نہی بیٹا..اب تو وہی اسکا گھر ہے…آپ ہمیں. شرمندہ.کر رہے ہو…. نمرہ جاؤ بیٹا ریڈ ہو جاؤ…
انہوں نے.نمرہ کو کہا تھا…جبکہ.نمرہ.نے صدمے سے فرحان کو.دیکھا تھا…جسکی آنکھوں میں بھر ہور شرارت ناچ رہی تھی….
اسکا دل کیا وہ اسے کچا چبا جائے…یعنی یہ سب ڈراما تھا اسکو.واپس لے جانے کا…..
پیر پٹختی وہ وہاں.سے چل.دی….
امروزیہ بیگم.نے فرحان کو اسکے.کمرے میں بھیج دیا…..
وہ بڑ بڑاتے ہوئے اپنی کتابیں بیگ.میں ٹھونس رہی تھی…..
منہ سے کہتے ہوئے تو.موت آتی.ہے.نا.جناب کو… کہ.کہیں شام.میں کمی نا.آجائے …ہر دماغ اتنا تیز افف…میں بھی دیکھتی ئوں.کیسے سکون.سے رہتے ہیں اب…
وہ آگ بگولا ہو چکی تھی…
فرحان کب کمرے میں آیا اسکو.پتا نا.چلا..وہ پہلی بار اسکے روم کو دیکھ رہا تھا…. کمرہ انکے کمرے کی نسبت چھوٹا تھا مگر بہت پیارا لگا تھا اسکو….سنگل بیڈ ساتھ صوفہ اور.کاؤچ….لائیٹ اور ڈارک براؤن.تھیم کے کارہٹ اور پردے….
اسنے نمرہ کے ٹیسٹ کو دل.ہی دل میں سراہا تھا….
چلیں..
وہ آرام.سے اسکے قریب آکے پیچھے سے کان پر جھک کر بولا….
نمرہ ایک دم اچھلی تھی…
ارے ارے آرام سے..مجھے پتہ ئوتا تم.اتنی ایکسائیٹڈ ہو جاؤگی تو میں رات کو ہی آجاتا تمہیں لینے…اپنا.مس کیا تم.نے.مجھے…
اسنے نمرہ کی ناک.دبا.کر کہا تھا…
جبکہ.نمرہ.نے اسکا.ہاتھ جھٹکا تھا….
مس تو اب آپ کرنے والے ہیں اپنے آرام اور سکون.کو….
نمرہ نے مسکرا کر جتایا تھا…
اوکے لیٹ سی….
اپنا کہہ.کر فرحان نے اسکا بےگ اٹھایا اور سب سے مل.کر وہ واپس گھر کر لیے نکل آئے….
