Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 23)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
دن.شام میں اور شام.رات میں ڈھل جاتی…وقت برق.رفتاری سے گزر رہاتھا…نمرہ کا چوتھا سال بھی اب آخری دنوں میں تھا….
وہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی ہر ممکن.کوشش کرتی تھی…
پر دل…جو بھی تھا وہ ایک عام لڑکی ہی تھی…
اکثر اسکی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں. .فرق اتنا تھا کہ وہ اب کبھی کسی کے سامنے کمزور نہی پڑی تھی..اپنی ماں کی باتوں کو وہ جیسے گھول کے پی چکی تھی…
اسکے لیے بہت اچھا رشتہ آیا.ہوا تھا مگر وہ فلحال ایسا کوئی رشتہ نا چاہتی تھی…
امروزیہ بیگم کو بھی خیال تھا اسکی حالت کا سو انھوں نے اسکو فورس نا کیا تھا…جبکہ خود انکو رشتہ پسند آیا تھا…لڑکا لندن میں سیٹل تھا اور خاصہ خوش شکل تھا…وہ ملک.سیال کے ایک دوست کے جاننے والے تھے…
نمرہ نے جب اپنی امی کی پسندیدگی دیکھی تو اسنے ان.پر فیصلہ چھوڑ دیا کہ جیسا آپ چاہیں..مگر پانچ سال مکمل ہونے کے بعد کوئی بھی رسم.کی جائے…
امروزیہ بیگم نے انسے کچھ وقت مانگ لیا تھا…
وہ رات کو کمرے کی کھڑکی میں کھڑی باہر کسی نقطے پر غور کر رہی تھی جب امروزیہ بیگم.آئی تھیں. ..
سوئی نہی ابھی تک؟؟؟
انھوں نے پوچھا تھا..
بس سونے.لگی تھی ماما…
اسنے جواب دیا…
بیٹا. تمہارے نانا کی کال آئی تھی آج…اگلے ہفتے حویلی جانا ہو گا…
انھوں نے.بہت سنبھل.کر کہا تھا اسکے چہرے کے تاثرات وہ جانچ رہی تھیں کہ شاید وہ غصہ ہو جائے…
مگر وہاں ایسا کچھ بھی نا تھا…
اسنے کوئی تاثر دئے بغیر جواب دیا تھا…
ٹھیک ہے میں پیکنگ کر لونگی…
اسنے جواب دیا تھا.ِوجہ نا پوچھی تھی….پھر بھی انھوں نے بتانا ضروری سمجھا تھا..
عریبہ اور اشعر کی.منگنی ہے…اور ایک.دن.پہلے ڈھولکی بھی رکھی ہے…ِ
انھوں نے بتایا تھا..یہ سن.کر نمرہ کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی…
واو..عریبہ اور اشعر بھائی..نائس کپل…
اسنے کھلے دل سے مسکرا.کر تعریف کی تھی…
تم شاپنگ کر لینا اپنی…
انھوں نے کہا تھا…
اوکے بے فکر رہیں. ..
نمرہ نے انکو فکر سے آزاد کروایا…
چلو.اب سو جاؤ شاباش رات.بہت ہو چکی ہے…
انھوں نے سونے.کی.تلکین کی اور خود بھی سونے.چلی گئیں. .
نمرہ ادھر ہی کھری چاند کو بغور دیکھنے لگی…
تو روز اٹھ کے رویا کرے چاندنی راتوں میں
خدا کرے تیرا میرے بغیر جی.نا.لگے
رات کا اندھیرا, سکوت, فضاؤں کو چیرتی مکمل خاموشی. …. آسمان.میں موجود لاکھوں ٹمٹماتے ستارے…. ہلکی.ہلکی خنکی….وہ ماحول میں مکمل طور پر کھوئی ہوئی تھی….کبھی کبھی دل اداس ہونے لگتا ہے بلاوجہ…
اسنے گہرا سانس خارج کیا تھا….
کیا وہ اسکو بھول چکا تھا؟؟ اتنی آسانی سے؟؟؟
نجانے کہاں.سے سوال اس کے ذہن میں کودا تھا…
ہنہہ..ناممکن…اسنے اعتماد سے ہاتھ سینے پر باندھ کر سوچا تھاِ….
اتنا آسانی سے جان تو تمہاری بھی نہی چھوٹی ہو گی…
وہ تلخی سے مسکرائی تھی….
آج بہت دن.بعد وہ خاموش تھی…دل بھاری ہو رہا تھا…
اسے اسے گر مان ہے خود پر, تو میں بھی ظرف رکھتی ہوں
مجھے وہ بھول جائے تو, اسے میں مان جاؤنگی![]()
کیا میری دعاؤں میں اثر نا تھا؟؟؟.
نہی…دعائیں تو رائیگاں نہی جاتیں. ..
اسنے نفی کی تھی…
پھر کیوں ؟؟
کیا تم خدا سے شکوہ کر رہی ہو؟؟ اس کی اندر سے آواز.آئی تھی….
خدا.سے شکوہ کیسا؟؟؟ غلطی تو میری اپنی تھی…میں اک نا محرم کی طرف بڑھتی گئی…اس بات سے باخبر ہونے کے باوجود.کہ.ایسی محبت کا کوئی فائدہ ہی کب ہے.؟؟؟
کسی نا محرم کو اپنے دل.تک رسائی ہی کیوں دی تم نے نمرہ؟؟؟
کیا تم اس بات سے انجان تھی کہ ایسی محبت کس زمرے میں آتی ہے…حرام !!!!!!!
اس.خدا نے تو.تمہیں سیدھی راہ.دکھائی…..
تمہیں دنیا کی نظروں میں گرنے.سے بچا لیا…اتنی عزت دی….
اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوئے تھے….
وہ جتنا اس پاک ذات کا شکر ادا کرتی کم.تھا….
خدا کے ہر کام.میں کوئی نا.کوئی مصلحت ئوتی ہے ہر ہم انسان ہی اتاولے.پن میں شکوہ کر بیٹھتے ہیں. ..کہ.میری دعا کیوں نکر قبول نا ہوئی..مجھے فلاں چیز ہا فلاں شخص کیوں نا ملا….جبکہ غور کیا جائے تو اس چیز نا.ہونا ہی ہمارے.لیے بہتر ہوتا ہے….
اور شاید وہ اس.بات.کو.سمجھ چکی تھی…اسنے اپنی.زندگی میں اک سفر تہ کیا.تھا..نہایت اہم سفر…
عشقِ مجازی.سے عشقِ حقیقی تک کا سفر
وہ اس وقت اپنے کمرے کے باہر موجود ٹیرس پر بیٹھا تھا……گھڑی رات کا ایک بجا رہی تھی….
وہ آسمان.پر موجود ستاروں کو دیکھنے میں محو تھا…. وہ خود بھی اس رات کا حصہ ہی.لگ رہا تھا…خاموش, بظاہر پر سکون جبکہ.اندر تو طوفان بھرپا تھا….
اسکی نظر نے اختیار چاند پر اٹھی تھی….
وہ بھی اسی چاند کو دیکھتی ہوگی شاید!!!!
وہ فرحان شاہ کے دل و دماغ سے کبھی جا ہی نہی سکی تھی اور شاید یہی قدرت کا انتقام تھا..اسکی تڑپ, اسکی بے چینی, بے سکونی!!!!!!
اسنے سر جھٹکا تھا…نہی وہ صرف ایک برا خواب تھا شایدِِ..میری زندگی کا…
یا شاید سب سے حسین خواب….
وہ تو ایسے لا تعلق ہوہی تھی جیسے فرحان شاہ اس دھرتی پہ ہو ہی نا…
Been dreaming of her,
All of my life
But she won’t come true
She’s just my nightmare, I woke up to![]()
اسکو گانے کے بول بے اختیار یاد آئے تھے….
اسنے گہرا سانس اندر اتارا تھا….
اس بات سے.بے خبر.کے.کوئی.اور بھی.اسی.کی طرح اس فسوں خیز رات کا حصہ تھا.
حان مجھے تم.سے کچھ ضروری بات کرنی.ہے….
آمنہ.بیگم بیٹے سے.مخاطب تھیں. ..
جی امی کہیں. ..
اسنے.مودب.انداز میں جواب دیا…
بیٹا عریبہ کی منگنی کے.ساتھ کیوں نا تمہاری بھی بات.پکی.کر لی جائے…
انھوں نے پیار سے بیٹے کو دیکھ کر.کہا.تھا….
میں نمرہ کے گھر.کال.کرنے.کا.سوچ رہی تھی..تم.کیا.کہتے ہو؟؟؟
انھوں نے.نہایت پر سکون انداز.میں اس کے.سر پر بم پھوڑا تھا….
یہ کیا کہہ رہی.ہیں ؟؟.ابھی فلحال اس سب کی.کوئی ضرورت نہی امی…
میرا.فوکس موڈ فلحال اگے تعلیم جاری رکھنے کا.ہے…سو پلیز..
فرحان نے خفگی سے جواب.دیا تھا..
جبکہ.اس.کے.چہرے کے.اتر چڑھاؤ وہ اچھے سے.دیکھ رہی تھیں. ..
کیا تمہیں نمرہ پسند نہی؟؟.
میں جانتی ہوں تم چاہتے ہو اسے…اور وہ بھی تمہیں. …
انھوں نے جیسے اسکو.یاد کروایا تھا..
امی پسند نا پسند کی بات.فلحال رہنے دیں….
وہ رکھائی.سے.کہتا.اٹھ.چکا.تھا..جبکہ آمنہ.بیگم ہکا بکا رہ گئی تھیں. ..
تالیہ کے ہزار ہتھکنڈوں کے
باوجود.فرحان قابو نا آرہا تھا….
بالآخر رضیہ بیگم.نے.آخری حربہ آزمانے کا.سوچا….
“اموشنل بلیک میلنگ”
وہ آمنہ بیگم کے سر پر حاضر تھیں اور اہنے دکھرے رو رہی تھیں. …آمنہ.بیگم نے انکو.تسلی.دی تھی….تالیہ.ساتھ ہی.بیٹھی تھی…
میری بچی آمنہ…اسکا دکھ.مجھے کھائی.جا.رہا.ہے…. کیا.بنے گا اسکا نا.باپ.کا سایہ نا.بھائی کا خاص.سہاراِ..ہائے میری بچی کے نصیب…
انھوں نے رونے کی بھوپور اداکاری
کرتے ہوئے تالیہ کو ساتھ لگایا تھا….جبکہ.وہ.منہ.بنا.کر رہ گئی…
بھابھی فکر نا.کری!…اللہ سب بہتر کر.ے گا….اللہ اسکا نصیب بہت اچھا.کرے..آمین!!
آمنہ.بےگم.نے.حوصلہ دیا…
خاک اچھا نصیب ئو.گا…
کاش اس.کے بابا.زندہ.ہوتے…کتنی.خواہش.تھی.انکی..اتنی بار مجھے کہہ چکے.تھے تم.سے بات.کرین.گے…فرحان میں تو جیسے ابکی.جان.بستی.تھی…پر ہائے قسمت…آج وہ.ہوتے تو….
انھوں نے دوپٹے سے.آنسو اور ناک پونچھی تھی…![]()
لوگ کہتے ہیں جب اپنے گھر کے لڑکے ہیں تو.باہر والوں کی.کیا ضرورت…میں بھی.یہی سوچتی ہوں. …
انھوں نے کام کی.بات.کی…
جبکہ.آمنہ.بیگم.انکی.بات سن.کر پریشانی میں مبتلا.ہو.چکی تھیں….
بھابھی حوصلہ.رکھیں. …
میں سوچتی ہوں کچھ….
انھوں نے.ان.کو.کہا تھا…
جبکہ.اس.بات.پر رضیہ.بیگم.کی.تو.باچھیں کھل.گئیں. ..
تم بس بات پکی.کر دو….تاکہ.میں سکون.سے.مر تو.سکوں…
انھوں نے.پھر سے روناشروع کر دیا..
بھابھی ایسی باتیں مت کریں…میں بات کروں گی.فرحان سے….ویسے تو ابا جان.ہی.فیصلہ کرتے ہیں. .مگر میں بات کروں گی..آپ بے فکر رہیں. ..
جب فرحان نے.نمرہ.کے متعلق.سہی.جواب نا.دی اتو.انکو.یہی.لگا کہ شاید اسکا انٹرسٹ نا ہو…تبھی.انہوں نے تالیہ.کے.متعلق بات.کرنے کا.سوچا.تھا…
آج فورتھ ائیر کا پریکٹس کا.دن.تھا لہذا ان.سب.کو.ہسپتال جانا تھا…
نمرہ ,مقی اور ایمن ایک ساتھ بیٹھی تھیں. ..
یہ ایک rehabilitation center تھا…
جہاں نشے میں لاحق لوگ جو زندگی سے مایوس ہو.چکے تھے. یا جنکو.زندگی نے کچھ نا.دیا تھا اور وہ اس راہ پر آنکلے….کئی عورتیں ایسی تھیں جو اس.ظالم.معاشرے کی درندگی کا.شکا.رہو کر توازن کھو بیٹھی.تھیں. .کئی گھریکو ناچاکیوں اور تشدد کی ماری تھیں جن.کے چہرے ان.کے اپنے شوہروں نے سسرال.والوں نے تیزاب سے بگاڑ چھوڑے تھے….
اور ایسے دیگر بہت سے کوگ…
ان کو دیکھ.کر ان تینوں کا.دل.اندر تک کڑھ کر رہ گیا…
کیا.یہ.انسانیت تھی ؟؟؟یہ سچ ہے کہ.آج کے دور میں انسان.کو.انسان.سے ڈرنا چاہیے……
وہ سب.مریضوں کے پاس.باری باری جانے.لگی تھیں. …
ان.سب میں ایک چیز نمرہ کو شدت سے محسوس ہوئی.تھی اور. وہ.تھی زندگی سے بے زاری….نا امیدی…. جیسے ان.کے.لیے اب کچھ بچا.ہی نا.ہو.اس وسیع و.عریض.دنیا.میں. ….اسنے بالآخر پوچھا تھا ا.نسے…
آپ.سب کیوں ہیں اتنے.نا امید؟؟کیا اپکا خدا کی.ذات.سے ایمان اٹھ چکا.ہے؟؟؟
بہت سوں نے نا.میں سر.ہالایا تھا ….
تو.پھر.کیا وجہ.ہے اس.اکتاہٹ کی؟؟.کیا.یہ.اس.خدا.کو.احسان.نہی کہ.اس.نے آپ.لوگوں کو بربادی کے دھانے.سی روک.لیا..بچا لیا…
جو نشے کی طرف چل.ہڑے تھے اور آج ادھرہیں کیا انکے.لیے یہ رب کا احسان نہی.کہ.آج انکا علاج ئو رہا ہے..اس لعنت سے پیچھا چھڑانے کے لیے دن.رات ڈاکٹرز اور سٹاف تگ و دو.میں ہیں ؟؟؟
روزانہ کتنے ہی لوگ نشے کی حالت.میں مردہ پائے.جاتے.ہیں. .فٹ پاتھوں پر انکی لاشیں لوگوں کے قدموں میں روندی جاتی ہیں. ….. کیا آپکو اللہ.کا شکر ادا نہی.کرنا چاہیے کہ.اسنے ایسی عبرتناک موت سے اپکو.بچا لیا….
اب کی بار وہ.ان.لڑکیوں کی.جانب مڑی کی جو اس معاشرے میں انسانی.روپ.دھارے درندوں کی حوس کا نشانہ.بنی.تھیں. …
“روزانہ نا.جانے.کتنی.لڑکیاں درندگی.کا.چکا.ر ہوتی.ہیں. … لاکھوں تو.ایسی.ہی
ہیں جنکا.ہمیں کیا.کسی کو پتہ.نہی.ئوتا….کئی خاموشی سے اپنی زندگی کو ختم کرنے کو.ترجیح دیتی ہیں کیونکہ یہ معاشرہ انکو ایکسیپٹ نہی.کرتا..لوگ طرح طرح کے الزام.لگا کر انکے کردار کو.بھی داغدار کر.دیتے ہیں. …
مگر آپ سب کو اللہ نے حرام.موت سے بچا لیا.ہے..خودکشی کر کے.مرنے سے بہتر نہی.کیا.یہ کہ.آپ اس.وقت محفوظ ہاتھوں میں ہیں. ..اور ایسی موت سے آخرت خاب کرنے.کے.بجائے آپ خود کو سنواریں….اللہ کا شکر ادا کریں…
جو.خواتین جہنم جیسے.گھروں میں قید تھی روزانہ جن.کو تشدد کا نشانہ.بنایا.جاتا تھا..جن.کی عزت نفس کو مجروح کر کے رکھ دیا.گیا..جن.پرگالیوں ,طنز اور سخت الفاظ کے تیر.برسائے.جاتے…کیا.یہ.اللہ کا.فضل نہی کہ.انکو اس.جہنم.سے رہائی.ملی…
الفاظ…الفاظ بہت طاقت رکھتے.ہیں. ..میں لفظوں کی طاقت میں یقین.رکھتی ہوں. ..یہ.کسی کے.الفاظ ہی.تو ہوتے ہیں جو آپ کو سنوار بھی سکتے ہیں. اور یہ الفاظ اپکو.بگاڑ بھی سکتے ہیں. …الفاظ مرہم.کا.کام بھی.کرتے.ہیں. ..اور یہی الفاظ چاقو سے بھی گہرا وار کرتے کرنے.کی.صلاحیت رکھتے ہیں. …
Word can make you, words can break you.They can heal.your soul and they can damage you forever.
الفاظ اپکو بناتے ہیں اور توڑتے بھی.یہی ہیں. …اپکی روح کو تسکین دے سکتے.ہیں اور اسے روح کے ٹکڑے بھی کر سکتے ہیں. ..سو اپنی زندگی میں مثبت سوچ کو لائیں. …
Positivity کی طرف جائیں. .
اپکو.موقع دیا.جاتا ہے جب بولنے.کا.تو اس موقعے کو استعمال.کریں…کسی بکھرے.ہوئے کو جوڑنے.کے.لیے نا.کہ.کسی کو.توڑنے.کے.لیے….
اور یقین کا.دامن تھامی رکھیں. .میں پھر سے.کہوں گی اس پاک.ذات پر یقین رکھیں. ..اور نا امیدی چھوڑ دیں. .یہ.کفر ہے…
وہ بول.چکی تو سب لوگ تالیاں بجانے.لگے..کئی کے چہروں پر اک.نئی امید تھی امنگ تھی…اور ان.میں سے جوئی ایک.بھی اگر اس کی.باتوں پر عمل پیرا ہوتا تو اسکو اپنے کہے کا.حاصل مل جانا تھا…
نومان اسکی باتیں سن.رہا تھا اور اسے حقیقی خوشی.ہوئی تھی.کہ.وہ.اتنہ اچھی سوچ رکھتی ہے…وہ موٹیویٹ کرنے کا ہنر رکھتی تھی…
وہ.سب واپس یونی پہنچے تو نومان اس کے پاس آیا…
نمرہ مجھے آج کچھ بہت اہم بات کرنی ہے تم.سے…
اسنے.بات.شروع.کی…
جبکہ نمرہ تھوڑی تشویش میں مبتلا.ہوئی..کہیں وہ وہی تو.نہی.کہنے والا.تھا جس کا نمرہ کو ڈر تھا…
جی.کہیں میں سن.رہی ہوں…
اسنے جواب دیا تھا..
کہیں آرام.سے بیٹھ کر بات کریں…
اسنے اسے دیکھتے.ہوئے.کہا.تھا..
شور..نمرہ.اتنا کہہ کر کیفے کی طرف چل.دی…
وہاں پہنچ کر وہ ایک خالی.ٹیبل کی طرف بڑھ گئے….
نومان نے بات شروع کی. .
اصل میں میں اپنے.گھر والوں کو تمہارے گھر بھیجنا چاہتا ہوں. ..
نمرہ نے ایک.دم اسکو دیکھا. …
کیا.مطلب؟؟
اسنے.بلا کسی تاثر کے پوچھا تھا…
مطلب یہی.کہ.تم اچھی لگتی ہو مجھے..شادی کر نا چاہتا ہوں تم سے…
نومان نے آنکھوں میں دیے لیے کہا تھا…
نمرہ کچھ پل بالکل خاموش رہی ..مگر پھر اس نے سوچا آج اس چیپٹر کو بھی ختم کر ہی دیا جائے….
دیکھو نومان میں تمہارے جذبوں کی عزت کرتی ہوں. .مجھے قدر ہے مگر میری زندگی میں فلحال اس سب کی…یا ایسے کسی.رشتے کی کوئی گنجائش نہی ہے….
وہ ایک پل کو ٹھہری تھی….
آئی ایم.سوری لیکن میں ایسا کچھ نہی چاہتی…
میں تمہارا انتظار کر لوں گا..جب تک تم چاہو. ..
نومان نے.فوراً کہا تھا. ..
نمرہ.نے نا میں سر ہلایا. ….
حقیقت تو یہ ہے کہ میں تمہارے لیے ایسا کبھی نہی سوچ سکتی…میں تمہیں کبھی وہ خوشی دے ہی.نا پاؤنگی جس.کے تم حقدار ہو….
تم اپنا وقت ضائع مت کرو…شادی اس سے کرو.جو تمہیں چاہتی ہو تمہارے ساتھ کی خواہش مند ہو.. جو ا0نا سب تم پر لٹانے کو تیار.ہو..تب تم حقیقت میں خوش رہ.سکو.گے….ورنہ زبردستی کے رشتے ناسور بن جاتے ہیں. …
میں کہنے کا.اختیار تو.ہر گز.نہی.رکھتی مگر پھر بھی کہنا چاہوں گی کہ.ہو.سکے تو لاریب کو اپنا لو…اسکا ہاتھ تھام لو…یہ بات ہم دونوں جانتے ہیں کہ وہ پسند کرتی ہے تمہیں. ..ہم.لڑکیاں بول نہی پاتیں. ..
دل کی.خواہش.کو دل.تک رکھتی.ہیں مگر خواہشات تو.ہماری بھی ہوتی ہیں. .وہ تمہیں خوش رکھے.گی….
باقی تمہاری زندگئ ہے تم.بہتر فیصلہ.کر.سکتے ہو…
Once agai. Sorry and plz move on…you have a bright future ahead…
نمرہ اٹھ کے جا چکی.تھی جبکہ.وہ.دور تک.اسکو.دیکھتا رہا تھا.
دو.ماہ.بعد آخری سال کے.پیپرز تھے… اور اسے.کل.گاؤں جانا.تھا منگنی.میں شرکت.کے لیے…
فرحان کی اس.حرکت کے باوجود.اسکی اور عریبہ کی دوستی میں کوئی فرق نا آیا تھا… عریبہ سے اسکی دوستی پہلے سے.تھی نا.کہ اس کے بھائی.کی وجہ.سے تو.وہ.کیوں اتنا پیارا رشتہ کھوتی….
وہ ا بھی.اس سے چہک کر ملتی تھی..باتیں کرتی تھی…اور اب بھی عریبہ نے دو بار.فون.کر کے اسے دو.دن پہلے آنے.کا کہا تھا…
سو وہ کل جا رہے تھے…اسنے ایمن.اور.مقدس کی مدد سے شاپنگ کی.تھی… فائنل پیپرز کے بعد ایمن.کی بھی شادی.متوقع تھی. …
اوے نمی یہ.دیکھ…یہ.لے تو.اس.با..
مقدس نے ایک بھڑکیلے اورنج.رنگ. کی.فل.کام.سے.بھری ہوئی قمیض کی طرف شرارت سے اشارہ.کیا.تھا…
میرے مامے کا.ولیمہ نہی.ہے بہن…تو چپ ہی.رہ ..میں دیکھ لونگی…
نمرہ نے چڑھ کر کہا تھا…
شاپنگ سے فارغ ہو کر وہ کافی لیٹ گھر پہنچی اور پیکنگ کر کے سو گئی…
اگلے دن.وہ صبح نکل.چکے تھے….دوپہر دو بجے.تک.وہ گاؤں کی.حدود میں داخل.ہو گئے تھے…حویلی پہنچ کر وہ.سب.سے ملی.تھی…اسکا.دل بہت عجیب سے انداز میں دھڑک.رہا تھا…سال.سے اوپر ہو.چکا.تھا س.بات.کو..کچھ ماہ.بعد.وہ بائیس سال کی ہونے والی تھی..
شام.کو سب اکٹھے.ہوئے تھے…آمنہ.بیگم اور عریبہ بھی حویلی میں موجود تھیں. ..اشعر,فرحان اور برہان بھی آچکے تھے..جبکہ تالیہ اور حارث بھی موجود تھے….
نمرہ عریبہ سے ملت تھی…اشعر اور برہان ذرا فاصلے پر تھے…
اسنے اشعر.کو.سلام کیا برہان کو.سلام کیا..دو قدم ساتھ فرحان تھا مگر اسنے اس طرف غلطی سے بھی نا.دیکھا تھا…کیا.ادائے بے نیاز تھی..کیا لا تعلقی تھی…
وہ ہر ایک.کو.ایمیت دے رہی تھی سوائے اسکی ذات کے…
جسکو.باقی سب اہمیت دیتے تھے..
وہ وہ تجھ کو بھولے ہیں تو تجھ پر بھی لازم ہے میر
خاک ڈال, آگ لگا, نام نا لے, یاد نا کر![]()
![]()
فرحان کا.بس نہی چلا.تھا وہ اسکو جھنجھوڑ کر اپنی.موجودگی کا.احساس دلائے…
اشعر فرحان کے.اندر کے حالات بخوبی.سمجھ رہا تھا..وہ تلخی سے.مسکرایا تھا…
جانتا.ہوں تم تڑپ رہے ہو.فرحان. ..پر مانتے نہی.ہو…تم.سے یہ بے رخی سہی نہی.جارہی.مگر چاہ کر.بھی.کچھ کر نہی پاہ.رہے…تم آج.بھی نمرہ کی.محبت.میں گرفتار ہو…شاید اب محبت عشق.کی.صورت اختیار.کرنے.لگی.ہے.مگر تم. کہنے.سے قاصر ئو…اور یہی.تہماری سزا ہے…تمہاری اس نام نہاد انا.کی.سزا…
وہ سوچ کر رہ گیا…
ملک.وجاہت بہت غور سے ان سب جو.دیکھ.رہے تھے..نمرہ کی فرحان سے اس قدر.لاتعلقی اور فرحان کی سرخ ہوتی آنکھیں. .نمرہ.پر چوری چوری.مرکوز کی گئی نظریں…
انکو سمجھ.نا.آرہا تھا.کیونکہ.پہلے تو.نمرہ.اور.فرحان کی آنکھوں میں ایک دوسرے.کے.لیے.پسندیدگی دیکھی تھی انہوں نے..نگر کچھ عرصے سے یہ.سب…
اور آج اشعر کا یوں کشھ سوچ کر تلخی سے.مسکرانا…
انکے.پوتے کی بےچینی جو ایک عرصے سے.قائم.تھی…
امروزیہ بیگم فرحان سے ملی.تھیں. ..وہ انسے بہت عزت سے.ملا تھا اور وہ چاہ.کر بھی کچھ نا.کر.سکیں. ..پھر انہوں نے.سوچا.شاید انکو یا.نمرہ.کو.واقعی غلط فہمی ہوئی.ہو..ورنہ فرحان کی ان.سے.کیا.دشمنی…سو وہ خاموش ہو.گئیں. ..
سب بڑے باتوں میں مشغول تھے..باتوں باتوں میں بات نکلی تو نمرہ.کے رشتے کی بھی بات کھلی تھی..امروزیہ بیگم نے بتایا کہ ایک بہت اچھا رشتہ آیا ہوا ہے.اور وہ.سوچ رہی.ہیں. ..
فرحان کے اس بات.پر کان.کھڑے ہو.گئے..
وہ کسی.اور کی.ہونے.جا رہی تھی؟؟
یہ.خیال.ہی.اسکو اندر تک.سلگا گیا تھا….آگ جلنے.لگی تھی اس.کے.اندر…
اور وہ.کیسے مطمئن پھر رہی تھی….اسکا.جینا حرام.ہوا تھا اور وہ اتنے آرام.سے سب سے باتوں میں مشغول.تھی…
وہ اپنے.گھر کی.طرف چل.دیا…
تالیہ.اور رضیہ.بیگم کچھ دیر پہلے ہی واپس.چلی.گئی.تھیں. ..
امروزیہ بیگم.کو انکی بات یاد آئی..وہ.فرحان کے پاس آئی.تھیں. .
فرحان !!!
جی امی…اسنے.جواب.دیا..
میں چاہتی ہوں تم.تالیہ کے.متعلق سوچو..وہ اچھی لڑکی ہے …
انکا.ابھی اتنا.ہی.کہنا.تھا کہ.وہ.بھڑک اٹھا…
واٹ…تالیہ..اور وہ.بھی اچھی.لڑکی…آپ کیسے.کہہ سکتی ہیں. .آپ.کو.اندازہ.نہی امی …اور میں اس کے.متعلق ہر گز نہی سوچ.سکتا…اس سے شادی تو دور.کی.بات مجھے.اسکی.شکل.دیکھنا.گوارا.نہی…
وہ غصے سے بولا.تھا..ابھی وہ کچھ کہنے.ہی لگی.تھیں کہ انکو ڈرائنگ.سے.کسی کی.باتوں کی.آواز.آئی..وہ.دونوں نا.جانتے تھے.تالیہ اور رضیہ بیگم.واپس آچکی.تھیں. …
بس کچھ دن.اور..پھر یہ.سب تمہاری مٹھی میں ہوگا….ایک بار شادی ہو جائے…
رضیہ.بیگم نے.کہا.تھا…
مام.میں بتا.رہی.ہو ادھر میں نہی.رہ.سکتی..مجھے.لندن.واپس.
جانا.ہے….
تالیہ.نے.منہ.بنا.کر.کہا.تھا..
ہاں تو.چلی.جانا.نا…شادی.کے بعد چلی.جانا..ادھر ہی.سیٹل ہو.جانا…شادی کے.بعد فرحان کو قابو میں رکھنا بس… اور کسی.طرح یہ بنگلہ بھی.نام.کروا لےِ.کچھ.میرے بڑھاپے کا.ہی سوچ لے….
رضیہ.بیگم نے.پھر.سے کہا.تھا…
جبکہ.فرحان اور آمنہ.بیگم.نے ایک.دوسرے کو حیرت سے.دیکھا تھا..آمنہ.بیگم کو اپنی سماعتوں پر یقین نا.آرہا.تھا..وہ ان.پر ترس کھا.رہی.تھیں. .اتنا عرصہ انھوں نے.انکو.گھر میں رکھا اور وہ انہی.کی.جڑیں کاٹنے پر تلی ہوئی تھیں. ..
سن.لیا.آپ نے؟؟ اب بتائیں اس.سے شادی کروں میں ؟؟؟
فرحان نے.ماں کو دیکھا تھا…
امنہ بیگم اندر کی طرف برھ.گئیں. ..
ا
جیسے ہی.وہ ڈرائنگ میں گئیں. ..تالیہ اور رضیہ.بیگم.کے رنگ.فق.ہو.گئے…
آمنہ.تم..آؤ..میں بہت.تھک.گئی تھی سوچا.تھوڑا آرام.کرلوں تبھی آگئی..
انھوں نے تھکن کی اداکاری کی…
بس کریں بھابھی…اب اس ڈھونگ کی.ضرورت.نہی..آپ.کو.اگر.پیسوں کی لالچ تھی آپ.مجھ.سے.مانگ.لیتیں. .میں کبھی.انکار نا.کرتی..مگر میرے بیٹے کو استعمال کرنے.کا.سوچا.بھی.کیسے آپ.نے…
آپ برائے.کرم جلد از.جلد اپنا بندوبست کریں کہیں. ..اور ہمیں بخش دیں..ایسے رشتو سے ہم بغیر رشتہ.داری.کے بہتر ہیں. …
انھوں نے رکھائی سے.کہا.اور چل.دیں..
