Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 1)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
نمرہ سیال ملک ولد ملک وقار سیال ,آپکو ملک.
فرحان شاہ آفندی کے نکاح میں, سکہ رائج الوقت پانچ لاکھ. روپے ,دیا جاتا ھے! کیا آپکو قبول ہے؟
الفاظ تھے یا پگھلا ھوا سیسہ جو اس کے کانوں میں انڈیلا. جا رھا تھا؟
اسکی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج ہو چکی تھی. یہ کسی گناہ کی سزا تھی یا شاید اس کے رب کی کو ئی آزمائش ؟.
…
پر ایسی آزمائش؟؟؟![]()
آنسو تھے کہ ھر بن تو ڑ کے امڈ آنے پہ تلے. ھوئے تھے.
اتنی کڑ ی آزمائش کہ جس شخص کا ذکر تو دور کی بات جس کا خیا ل بھی اس کے انگ انگ میں زہر گھول دیتا, اسی شخص کو اسکی ہستی کا سرپرست بنایا جا رہا تھا……
نہی میرے اللہ نہی….وہ بے اختیار سسک اٹھی…
پر کہتے ہیں نا کہ ہر گھڑی قبولیت کی تھوڑی ہوتی ہے. ..
شاید اب وقت بھی بےرحم تھا..
ویران آنکھیں, کپکپاتے ہونٹ, کانپتے ہاتھ,.خو فزدہ چہر…وہ بے بسی کی مکمل تصویر بنی ھوئی تھی پر کسی کو کچھ دکھائی کیوں نہیں دے رہا تھا؟وہ جو اسکی معصومیت سے واقف تھے وہ خاموش کیوں تھے؟
صرف اس لیے کہ وہ مشکوک ہوئی تھی؟اسکا کردار……
کیا قصور تھا اسکا؟ ہاں اس کا پاک دامن أج پاک ہونے کے باوجود داغ دار بنا دیا گیا تھا..بغیر جرم کے بھیِ اور بس یہی ہواِِ…….
اسے بھی اس انا پرست کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا….. وہ شخص جسکو اگر دنیا میں کچھ عزیز تھا تو وہ صرف اسکی “انا”…ہاں صرف اسکی “میں”…..
لیکن یہی انا اور ضد.تو نمرہ کی. ذات کا بھی خاصا تھیجسے وہ self respect(عزت نفس)کا نام دیتی تھی…پر آج اس کے الفاظ کو بے موت مار دیا گیا تھا.آج اسکا وجود ہارا ھوا بکھرا ہوا تھا..اسکو اپنی ضد ھڑ دھرمی سب بےکار لگے ِِ…….
مولوی صاحب دوبارہ بولے,”کیا.آپکو قبول ہے؟”
امروزیہ بیگم اگے بڑھیں…بولو بیٹا قبول ہے. .
اسنے بےبس ہو کر ماں کو دیکھا..
چہرے پر سرخ دوپٹے کا گھونگھٹ تھا.پر وہ تو ماں تھیں گھونگھٹ کے پیچھے کوئی اور دیکھ پاتا یا نہیں پر انہوں نے دیکھ لیا. .
مجھے معاف کر دینا میری بچی……
انکی بیٹی انکا مان تھی انکا غرور تھی. .انکی سہیلی تھی..اور وہ جانتی تھیں کہ وہ مر کے بھی ایسا کوئی کام کرنے کا نہیں سوچ سکتی جس سے اسکے ماں باپ کا سر جھکے….
وہ تو ایک بےضرر سی گڑیا تھی..
قبو..قبول ہے!!!!!!
آزر آفندی نے پین اسکی طرف بڑھایا اور بالآخر کپکپاتے ہاتھوں سے ساٸن کر دے..
مبارک ہو. .
اور وہ لوگ باہر بڑھ گیے. ..
وہ خاموشی سے آنسو بہانے لگی…
پھر لیٹ ہوگئ تو خیر نہیں. …
بائے. ماما
خیر سے جاو. ..اللہ کامیاب کرے..
امروزیہ بیگم نے بیٹی کو دعا دی..
وہ گیٹ سے نکلی تو کاشان انتظار کر رہا تھا..
اسکو شرارت سوجھی..
ایک سیکنڈ بھائی! !آپ کار سٹارٹ رکھیں…ایمرجنسی میں بھاگنا بھی پڑ سکتا ہے ![]()
اور وہ سمجھ گیا
نمرہ بڑی ہو جاو اب یار..پر وہ وھاں ہوتی تو سنتی نا..وہ ساتھ والے گھر کے گیٹ پر گئی اور بیل پر ایسا ہاتھ رکھا جیسے اس سے زیادہ ضروری کام اس وقت دنیا میں کوئی نہیں. ..
کون ہے حوصلہ رکھو آرہی ہوں…
لاؤنج کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور بس اسی کا شاید انتظار تھا اسے ……جب تک إنے والا گیٹ پر ایا..وہ جا چکی تھی..
….ہوں یہ اسی نمرہ کا کام ہوگا..
خاتون نے برا سا منہ بنایا..
پھر.خود ہی مسکرا دیں..
اسلام علیکم! !
اسنے ڈائننگ پر سبکو سلام کیا…
وعلیکم اسلام! !!
کہاں کا ارادہ ہے آج برخوردار. ..؟؟؟آفس یا یونیورسٹی ؟؟
دادا جان نے اپنے پوتے کو مخاطب کیا. ….
پہلے یونیورسٹی جانے کا ارادہ ہے کچھ اسائنمنٹ دینی ہیں.
.then آفس. کا چکر انشاءاللہ. …
Good!!!
وہ فریش سا.بیٹھا ناشتہ کرنے لگا!!!آمنہ بیگم نے اپنے وجہہ بیٹے کو دل ہی دل.میں دعا دی اور نظر اتاری..
وہ تینوں کینٹین میں بیٹھی انے جانے والوں کو دیکھنے میں مصروف تھیں. ..ساتھ ساتھ نمرہ اور مقدس پکوڑوں سے بھرپور انصاف کر رہی تھیں…
اوے نمو!!.وہ دیکھ سنڈریلا!!
ایمن نے پاس.سے.گزرتی لاریب کی طرف اشارہ کیا..
لاریب انہی کے
Batch. کی اسٹوڈنٹ تھی
پر نمرہ سے خار کھاتی تھی
جسکی وجہ اسکا کرش crush
تھا..نومان. .وہ بھی انہی کے
Batch
کا تھا..لیکن نمرہ کے پیچھے رہتا..جبکہ نمرہ اسی کسی خاطر.میں نا.لاتی..
او ہائے نمرہ…لاریب بھی اسکو دیکھ چکی تھی سو گزرتے ہوئے پنگا لینا ضروری سمجھا..
او ہایے لا..پھُررررررر
نمرہ کے منہ میں سٹرا تھا جس.سے وہ انہماک سے لیچی جوس پینے میں مصروف تھی..لاریب کے بلنے پر منہ سے سٹرا نکالے بغیر بول پڑی…اور نتیجاِِ پائپ میں موجود جوس سیدھا لاریب کے منہ پر پڑا.
او مائے گاڈ!!!لاریب نے دکھ سے اپنے میک اپ سے تھونپے چہرے اور نیو ڈریس کو دیکھا..
او سوری!!
نمرہ اتنے سکون اور معصومیت سے بولی. جبکہ پاس بیٹھی مقدس کے لیے اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا..
وہ اایکچولی تم نے مجھے کھانے کے دوران بلایا نا تو…….ہوگیا…
ہاں تمہیں نہی پتہ کھانے پہ نو کمپرومائز. ..کیوں نمو!!
مقدس بولی
ہا بل..پھرررررر
ایک بار پھر وہ جان بوجھ کے کارنامہ کر چکی تھی…پاس سے گزرتے اسٹوڈنٹس. اسکی شرارت کو انجوائے گر رہے تھے. ..جبکہ لاریب غصے سے بھری چل دی.”دیکھ لونگی تمہیں نمرہ سیال”
وہ دانت پیس کر بولی
شور..پر پلیز ملک بھی بولا کرو نو..نمرہ سیال ملک..
وہ.دانت دکھاتی ہوئی گویا ھوئی..
جبکہ مقرس ہنس ہنس کر پیٹ پکڑ چکی تھی..
ناٹ فیئر نمو!! ایمن خفا ہوئی..
یار ایمن…میری مما پتا کیا کہتی ہیں..تم جانتی ہو پر چلو ایک بار پھر بتاتی ھوں
بیٹا کسی سے خود خوامخواہ کبھی بھی پنگا نا لو..پر اگر کوٸی زبردستی پنگا لے تو. ..
اسنے مقدس عرف مُقی کی طرف دیکھا. .
اسے پھر بخشو بھی نا!!!!وہ.اور مقی ایک ساتھ بولیں. .
پتہ نہیں تم ڈاکڑ بن گئی تو کیا ھوگا!!
ایمن خفگی سے گویا ھوئی
وہی ہوگا جو منظورِخدا ہو گا میری جان!
چلو اب..کلاس کا ٹائم ہے
نکاح کے بعد اسے عریبہ فرحان کے کمرے میں لے آئی..
کمرہ انتہائی خوبصورت انداز میں سیٹ تھا..چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی کمرے کے مقیم کے اعلی. ذوق کی گواہ تھی…
اسنے ایک خالی سی نگاہ کمرے میں دوڑائی…
بیٹھ جائیں بھابھی!!عریبہ بولی..
بھابھی!!!اس لفظ.پر وہ چونکی
اسنے ایک نظر عریبہ پر ڈالی..پھر اپنے نازک تن پر موجود خوبصورت ریڈ برائیڈل لہنگا چولی پر.
یہ اپکے ہی نصیب میں تھا..اور جچ بھی بہت رہا ہے آپ پر..
وہ خوش اخلاقی سے گویا ہوئی…
عریبہ کی شادی تھی کچھ عرصہ بعد..برات کا ڈریس لینے وہ نمرہ کو ساتھ لے کر گئی تھی کیونکہ نمرہ کی چوائس کو سب سراہا کرتے..یہ لہنگا بھی اسی کو پسند آیا تھا..
عریبہ یہ دیکھو..یہ کیسا ھے؟
واؤ یار..اٹس بیوٹیفل
عریبہ سراہے بغیر نا رہ سکی..
یہ مجھے کیوں نظر نہیں آیا؟؟
کیونکہ مجھے آگیا!! ![]()
![]()
بالکل! عریبہ بولی..میں بالکل ٹھیک انسان کو ساتھ لائی ہوں..وہ گردن اکڑا.کر بولی..
ہاہاہاہا..سہی جناب..تو پھر فائینل کر دیں؟؟؟؟
نمرہ نے پوچھا..
اگر اپکو اپنے لیے لینا ہو تو…….؟؟؟؟
جانے کیوں عریبہ نے پوچھا..
تو میں بھاگ کر خرید لیتی یہ…نمرہ چہک کر بولی..
بھابھی! !کہاں کھو گئئ؟؟؟
وہ چونک کر حال میں واپس.آئی…
ہوں ں کہیں نہیں…بس شوپنگ والا دن یاد.آگیا..وہ تلخی سے مسکرائی…
بھابھی ہمیں نصیب کا تو نہیں نا پتہ ھوتا…یہ إپ کی ھی قسمت میں تھا شاید اسی لیے آپکو اتنا پسند آیا تھا..
چلیں اب آرام کریں. .اور بالکل پریشان نہ ہوں. .بھائی بہت اچھے ہیں. ..
ہوں. ..
اوکے میں چلتی ہوں. .
عریبہ جا چکی تھی..
وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی
