Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 35) Part - 3
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 35) Part - 3
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
سامنے.نگاہ اٹھائی تو رضیہ بیگم.کھڑی تھیں. .اتنے میں پہکو.میں.کھڑی تالیہ بھی سامنے.ہوئی…..
وہ تینوں.چند پل تو بے یقین رہے پھر جیسے دوبارہ ہوش میں.آئے….
وہ.دونوں قدم اٹھاتی لاؤنج.میں.داخل ہوتی آگے.بڑھنے.لگیں…
امنہ بیگم اٹھ.کھڑی ہوئی تھیں.جبکہ.نمرہ کا.چہرہ بے تاثر تھا…..فرحان نے ایک.انتہائی.نا پسندیدہ نگاہ ان دونوں نفوس پر ڈالی تھی…اگر وہ اپنے.کانوں.سے ان.دونوں کے کارنامے اور.نیک خیالات نا.سنتا تو.شاید اتنی نفرت نا.محسوس ہوتی…..
آمنہ بیگم انکی.طرف بڑھیں ِ…
انھیں دیکھتے ہی رضیہ بیگم.نے انتہائی مسکین شکل بنائی اور.ایک.دم انکے.گلے لگ.کر دھاڑیں.مارنے.لگیں…..
وہ تو ایک دم بوکھلا ہی گئیں اس افتاد پر….
ننرہ.کبھی مگرمچھ کے آنسو بہاتی رضیہ بیگم کو دیکھتی تو.کبھی ساتھ کھڑی تالیہ کو جو اسی کا جائزہ لے رہی تھی….
ایک.دم.اسکی.نگاہ فرحان.کی جانب اٹھی تو وہ.ششدہ رہ گئی… اسکے چہرے ہر غصہ اور بے زاری اتنی صاف ظاہر تھی….کہ.اسے یقین.نا آیا.کہ.وہ مروتً بھی اسے.چھپا نا.سکا نا ہی اٹھ.کر انکے.منہ.لگنے.کی.زحمت کی….
بھابھی ہمیں.معاف.کر.دیں بہت بڑی غلطی ئو گئی
ہائے میرا بیڑا غرق ہو جس منہوس گھڑی مینے برا سوچا …….
اتنے میں.نظر سامنے.کھڑی پرپل اور.یلو شارٹ فراک اور وائیٹ نیٹ کی نفیس کیپری پہنے نازک سی نمرہ کی جانب گئی تھی….
وہ آمنہ بیگم کو چھوڑے اسکی جانب لپکیں. ..
میری بچی…
وہ ایک دم.ہی اسکا چہرہ تھام چکی تھیں…
مجھے.معاف.جر دو جو اتنا سب سنا.دیا تمہیں. ..بیڑا غرق ہو میرا… بڑا پچھتا رہی ئوں …
ٹسوے بہاتی وہ اس سے.مخاطب تھیں….
فرحان نے انکو.نمرہ کی.جانب بڑھتا دیکھاتو
ایک.دم.وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا….
نمرہ کو انکے کڑوے الفاظ اور اس.کے کردار پر.کیچڑ اچھالنا بھولا.نا تھا جب محض اہنے بدکردار اور عیاش.بیٹے کے.بچاؤ.کے لیے وہ اسے ایک بیٹی.کی ماں.ہونے.کے.باوجود.بھری محفل میں رسوا کر گئیں تھیں. ..
مگر بڑوں.سے.معافی منگوانا ..وہ.یہ تو نہی چاہتی تھی…ایک.دم.ہی اسکو.شرمندگی ہوئی…
آنٹی آپ ایسے.مت کہیں. .آپ بیٹھیں. ..
نمرہ.نے انکا ہاتھ پکڑ کر بٹھانا چاہا…
اسی اسنا میں.انکی نظر نمرہ کے مخروطی ہاتھوں.ہر گئی اور ٹھہر گئی…
لمبی پتلی انگلیوں میں.نازک سی ہیرے کی انگوٹھی اور انگوٹھے میں.سونے کا ایک چھلا.جس میں.باریک نگ چنے گئے تھے…
جبکہ دوسرے ہاتھ میں.سونے.کا نازک سا.بریسلیٹ لشکارے مار رہا تھا…جسکی.چمک سے انکی آنکھیں.چندھیا گئیں. …
اسکی اپنا کہنے کی.دیر تھی کہ فرحان ایک دم قابو ہاتا آگے اور لپکا اور نمرہ کا ہاتھ ان.کے ہاتھ سے چھیننے کے انداز.میں آزاد کروایا تھا….
نمرہ نے حیرت سے اسے.دیکھا تھا…
وہ ایک.دم.فرحان.سے مخاطب ہوئیں. ..
تمہارا غصہ جائز ہے بیٹا…
میں بیٹے کے.پیار میں.اندھی ہو گئی تھی…
تبھی کچھ نظر.ہی نا آیا…
معاف کر دو.اس بدنصیب کو..اولاد کا.سکھ تو دیکھنا لکھا ہی نہی ہے….
نمرہ کو ایک دم.ان.ہر.ترس آیا تھا..جبکہ.فرحان.کو.انکی.کسی.بات کا قطعی اعتبار نا.تھا…
دوبارہ میرے بیوی سے.مخاطب ہونے کی ضرورت نہی…
فرحان.نے.انگلی اٹھا.کر.جس.انداز.میں.انکو وارن.کیا وہ ایک ہل تو اندر.تک دہل گئی تھیں…
جبکہ آمنہ بیگم کی.ہمت ہی نا.ہوئی کچھ.کہنے کی
اور نمرہ کا ہاتھ پکڑتا اسے اوپر لے.گیاِ….
کمرے میں.داخل ئوتے ہی اسنے دروازہ بند کیا تو.نمرہ.نے اپنی کلائی آزاد کروائی…ِگرفت اتنی مضبوط تھی کہ.اسکی.مرمریں.کلائی پر انگلیوں کے.نشان.واضح تھے…
اسنے فرحان کو.گھورتے ہوئے اپنی کلائی سہلائی تھی….
اس سے.پہکے وہ کچھ بولتی وہ بول اٹھا تھا..
دوبارہ ان کے منہ.لگنے کی ضرورت نہی تمہیں…
اور جب تک وہ دونوں ماں.بیٹی یہاں.سے اپنا ڈرامہ ختم.کر کے چلی نہی جاتیں تم ان.کے آس پاس نظر.مت آؤ.مجھے…
اسنے.جیسے اسے وارن.کیا.تھاِ..
نمرہ نے حیرت سے.منہ کھولے اسے دیکھا تھا…
کیسے دھونس.جما.رہا تھا وہ.یعنی.اب.وہ.کمرے سے.بھی.نا.نکلے…
یہ کیا.طریقہ ہوتا ہے گھر آئے.مہمان.سے بات کرنے کا…مانا.کہ وہ.غلط تھیں.بٹ یہ بھی تو دیکھیں کتنی ہریشان.ہیں.وہ اور شرمندہ بھی ہیں.کتنی…
اسنے فرحان.سے.کہا تھا…
انکی شرمندگی جانتا ہوں.میں…
فرحان.نے تمسخر سے کہا تھا…..
شی از سوری…
نمرہ.نے.اسے یاد دلایا….
تم ذیادہ ذہن.ہر.زور مت دو.میری جان.ِ.انکو.میں.ہینڈل.کر لوں.گا… تم کبھی میرے بارے میں.بھی.سوچا.کرو…
فرحان نے.چند.قدم اسکی جانب اٹھائے کہا.تھا…
نمرہ نے ایک دم.نگاہ اٹھا.کر اسکو.دیکھا تھا…
اتنے میں.نیچے سے پھر آوازیں انے لگیں….
Dammmnn!!
وہ غصے سے بوکتا.باہر کو.نکل.گیا…
نمرہ اسکے.پیچھے نا.گئی تھی کیونکہ ابھی وہ منع کر.کے.گیا تھا…
اسکا دل رضیہ بیگم کے.لیے ذرا پگھلا ضرور تھا…اور تالیہ سے بھی اسکئ ایسی کوئی.دشمنی نا.تھی…
مگر پھر اسے بھی ایک.دم.نکاہ کے دن کی باتیں.یاد آنے.لگیں…کیا کیا.نا.بیتی تھی اس ہر اس دن…جیسے ساتویں اسمان.آن.گرے تھے…
اور یئ سب ہوا کس کی وجہ سے ..انکے بیٹے حارث کی وجہ سے….
اگر وہ اس.وقت اسکا ساتھ دے کر نمرہ اور فرحان ہر چڑھائی نا.کرتیں.تو شاید یہ سب نا.ہوتا ….
مگر اب سب ئو چکا تھا…
اسنے سرد آہ. باہر نکالی تھی…
وہ نیچے آیا تو آمنہ.بیگم اپنی.بھابھی اور بھتیجی کے ساتھ بیٹھی تھیں…
جبکہ بھابھی صاحبہ ٹسوے بہا.رہی تھیں کہ انسے خطا ہو گئی جو اپنے بیٹے کی باتوں میں.آ کر اتنا اول فول بک دیا
شاید انکو اندازہ نا تھا انکی.یہ خطا ننرہ اور فرھان ہر قہر بن کر توٹی تھی
مگر کہتے ہیں.نا.جو ہوتا ہے اس میں.مص
لحت ئوتی ہے رب کی کوئی.نا.کوئی
اور جیسے بھی سہی اب نمرہ سیال اور.فرحان شاہ ایک ئو چکے تھے..ناراضگیاں بھی فرحان کو امید تھی جلد یا بعید مٹ جائیں گی
وہ اپنی محبت پا لے گا
انھوں نے کسی طرح اپنے آنسوؤں اور کنگال ہونے کی دکھ بھری داستان سے آمنہ بیگم کو کائل کر ہی لیا تھا
انہی کے ذریعے فرحان کو علم ہوا کہ حارث گزشتہ دو ماہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا وہ بھی ملک وجاہت کی وجہ سے اور ابھی بھی رہا نا ہوا تھا..
فرحان کو طیش آیا کیونکہ ملک وجاہت نے اسے بتائے بغیر حارث کو صرف جیل بھیج دیا جبکہ وہ اسکو اچھا سبق سکھانے کا روادار تھا
مرتا کیا.نا.کرتا.ماں.کا.لحاظ کر.کے خاموشی کا.کڑوا گھونٹ پینا.پڑا…
عریبہ اور.اشعر کی.بھی کچھ دیر میں.واہسی تھی وہ نہی چاہتا تھا کوئی بد.مزگی ہو….
انھوں.نے ہمدردیاں سمیٹنے میں.کوئی کسر.نا.رکھی اور کچھ دن رہنے کی بھی اجازت لے لی…
لحاظ اور.مروت کے.مارے لوگ تھے آمنہ بیگم نے بھی اجازت دے دی
کچھ دیر ہی گزری تھی کہ عریبہ.اور اشعر بھی آ چکے تھے… گھر سامان وغیرہ رکھنے کے بعد سیدھا ادھر ہی آگئے تھے وہ مگر آگے ان.نمونوں.کو دیکھ کر وہ بھی ٹھٹھک گئے…
بے انتہا میٹھی بنتی رضیہ بیگم ساتھ انتہائ
غیر مہذب سے پباس میں بیٹھی تالیہ جو ندیدوں کی.طرح فروٹس.پر ئاتھ صاف کر رہی تھی…
عریبہ برائے نا انسے.ملی اور.نمرہ سے ملنے کا کہتی اوہر فرحان کے کمرے.میں.چل.دی…
دروازہ ناک کیا تو اجازت.ملنے پر اندر داخل ہوئی….
نمرہ.موبائل میں لگی تھی..عریبہ.کو سامنے دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی…
اوہ مائے گاڈِِ عریبہ…
وہ خوشی سے اسکی جانب لپکی اور گلے لگ گئی….
پھر.دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے.لگیں … عریبہ نے اسے.بتایا اشعر فرحان.کے.ساتھ کہیں.باہر.نکلا.تھا….اس نے.ٹور کی.بہت سی باتیں اسکو.بتائی تھیں…
اہممم..اشعر اشعر…آپ تو گئیں کام.سے نند صاحبہ…
نمرہ کو.اسکو.چھیڑھا تو وہ بلش.کر گئی تھی…
کم تو آپ بھی.نہی ہیں یہ بال بھائی کے کہنے پر کروائے نا.بھابھئ صاحبہ..
عریبہ مے جواباً اسے لتاڑ ڈالا تھا
نمرہ نے.پھیکی سی.ہنسی ہنسی تھی..
اب کیا بتاتی اسکو اسکا بھائی دھوکے سے اسکا تیا ہانچا کروا.کر.لے آیا…
کافی باتیں.کر.کے جب وہ نکلیں تو اشعر اور فرحان.بھی کوٹ چکے تھے…
ملک.وجاہت اور.برہان.بھی آگئے تھے…
نمرہ اشعر سے.ملی تھی….
لگتا ہے موسم بدل رہا ہے..ہینا فرحان…
اشعر.نے.ذومعنی الفاظ میں.اسکو.چھیڑا تھا…
کیونکہ.اسکو.نمرہ خوش.لگ رہی تھی….
اور پھر ملک.وجاہت سے.بھی رضیہ بیگم.نے.معافی.مانگی…
معاف کرنے.کے.علاوہ کچھ نا.کہہ.سکے وہ کیونکہ آمنہ.بیگم انکو عزیز بھی بہت تھیں…اور.وہ انکی.بھابھی تھیں…انکا خیال.کرتے وہ چپ ہو گئے تھے…ان دونوں.کے لیے گیسٹ روم.صاف کروایا گیا تھا
رات فرحان کمرے میں آیا تو وہ نماز ادا کر رہی تھی….
وہ صوفے پر بیٹھا اسکو دیکھتا گیا ….
نمرہ نے سلام پھیرا تو.خود پر کسی کی نظریں محسوس کیں..فرحان کو خود کو دیکھتا پایا تو وہ جھینپ سی گئی تھی….
دعا کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی…
تاڑو.انسانِ…اسنے دل میں اسے نیا لقب دیا.تھا….
فرحان اپنی جگہ سے اٹھا اور ڈریسنگ روم چل دیا..جب وہ لوٹا تو ہاتھ میں.ایک شوپنگ بیگ تھا…
نمرہ بیڈ کی چادر درست کرتی سونے کی تیاری کر رہی تھی..
فرحان نے وہ اسکی جانب بڑھا دیا…
یہ کیا ہے؟ اسنے دوپٹہ ٹھیک کرتے سوال کیا تھا…
خود دیکھ لو…
اسنے اسکا چہرہ نظروں.میں لیتے کہا تھا…ِنمرہ نے چادر چھوڑ کر سوالیہ نگاہوں سے شاپنگ بیگ تھام.لیا جس پر لندن کی کسی شسپ کا ایڈریس تھا….
کھول کر دیکھا تو کالے رنگ کا.کچھ تھا..
نمرہ نے سارا ان پیک کیا تو وہ ایک خوبصورت. ویسٹرن سٹائل لونگ فراک تھا…
جس.کے باڑو.اور کندھے. اور پیچھے کا تھوڑا سا.حسہ باریک جالی.کا تھا…جالی.پر خوبصورت سلور نگینے.لگے تھے… باڈی سے فٹنگ میں تھا جبکہ پیٹ سے نیچے کافی گجر دار فراک.تھا….
اسکی.نظروں.میں ستائش ابھری تھی… بے شک.وہ کافی خوبصورت اور.سٹائلش.ڈریس تھا…..
یہ …یہ.کس کے.لیے؟؟
اسنے.سوال کیا…
تمہارے لیے…
فرحان.دو.قدم کا.فاصلہ طہ.کرتا اسکے.سر.ہر آن.کھڑا.ہوا تھا…
ایک دم.نمرہ کے.دل کی.دھڑکن.بڑھی تھی…
But i dont wear such dresses!
نمرہ نے اسکے باریک جالی.دار کندھے اور بازو.دیکھ.کر.کہا.تھا…
I know!
فرحان.نے.جواب.دیا…تو.اسکو.حیرت ہوئی کہ اگر وہ جانتا ہے تو لایا.ہی.کیوں؟؟؟
لیکن.میرے سامنے تو.پہن.سکتی ئو.نا…
آگے کو.جھک کر اسنے نمرہ کی.گردن.جو.فوکس.میں.رکھ.کر.کہا.تھا..
جبکہ.اسکا ائسے کہنے سے اور.نظروں.کو.خود پر محسوس کر.کے وہ لال سی ہوئی تھی…
وہ انکے درمیان.رشتے کی.نوعیت.سے آگاہ کر ہا تھا.شاید اسکو …کہ تبھی تو اپنے سامنے وہ ڈریس پہننے کا کہا تھا…
نمرہ کو.سمجھ.نا آیا وہ اب کیا.جواب.دے…
میں…نہی.پہن.سکتی..کسی کے سامنے.بھی…
اسنی.صاف انکار کیا.تھا…
ڈونٹ وری ابھی پہننے.کا.نہی.کہا…یہ.تم.تب.پہننا جب.تمہارا دل.کرے …. جب تم مجھے.معاف کر چکی.ہو…
جب.تمہارا دل.میرے.لیے دھڑکنے.لگے… جب تمہیں لگے تم میرے.لیے *ایسا*.ڈریس پہن.سکتی ہو…
فرحان اسکے.کان کی.لو.کو.ہلکے.سے چھوتا بول.رہا تھا یا.کوئی فسوں.پھونک رہا تھا…
نمرہ.کا.دل یک دم چیخنے لگا تھا بے تحاشا زور سے دھڑکنے.لگا تھا…جیسے باہر آنے کو بے تاب.ہو….
اسنے گھبرا کر.دو.قدم.پیچھے ہونا.چاہا.مگر پیچھے بیڈ تھا…
ایک.دم.پیڈ کے ساتھ تانگیں.ٹکرائیں اور وہ اس پر گرنے ہی لگی تھی.کہ اسکی نازک.کمر کے.گرد اہنا مضبوط ہاتھ ڈالے.فرحان.نے اسے تھام لیا تھا…
سنے.پہلے.بھوکھلا.کر بیڈ.کو.پھر.خود.پر.کسی حد تک جھکے فرحان.کو دیکھا تھا…
آرام.سے مسسز!
انکھوں.میں.شرارت.نمایاں.تھی…
چھوڑیں.پلیز..
نمرہ.نے ایک دم خودکو آزادکرواناچاہا تھا…
فرحان.نے آہستہ سے سیدھا.کر.کے اسے آزاد.کیا.تھا…
اسنے جلدی.جکدی ڈریس واپس.شاپنگ بیگ میں.ٹھونسا تھا اور اسے اٹھائے ڈریسنگ روم.کی.جانب لپکی. تھی
اسکی تیزی دیکھ.کر.فرحان مسکرانے پر مجبور.ہو.گیا…
کیونکہ وہ.دیکھ رہا تھا وہ اس سے گھبرانے لگی تھی… وہ قریب جاتا تو اسکی.زبان.لڑکھڑانے.لگتی تھی..اسکا اعتماد کہیں ہوا.ہونے.لگتا تھا…
وہ جو پہلے اسے جنگلی بلی بن کر کاٹنے کو.دوڑتی تھی اب جیسے جھینپ جاتی تھی…
دس منٹ بعد وہ اس امید سے لوٹی کہ شاید وہ سو چکا ہو گاِ..
بیڈ کی دوسری جانب آکر بلینکٹ سیدھا کیا پھر دوپٹہ اتارا اور بالوں سے کیچر نکالتی تو ایک طرف کھسک کر لیٹ گئی تھی…
