Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 16)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

نمرہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی مارکی کے اندر بڑھنے لگی…

اندر داخل ہوتے ہی سامنے اسکو نومان دکھ گیا…نومان بھی اسکو دیکھ چکا تھا یا شاید اسی کا منتظر تھا وہ فوراً نمرہ رہ کے پاس آیا…

سلام دعا کے بعد اسنے نمرہ کو اپنے بھائی اور فیملی میمبرز سے انٹروڈیوز کروایا…

اس کے بعد نمرہ ایمن اور کچھ دوسرے کلاس.فیلوز کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ گئی…اور خاموشی سے سب دیکھنے لگی…

تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سب لوگوں کی نظریں دروازے کی جانب مرکوز ہو گئیں اور ایک ہلچل سی مچ گئی…خاص کر نوجوان لڑکیاں لپک لپک کر اینٹرنس کی جانب جانے لگیں. …. جیسے کوئی بہت خاص انسان آنے والا ہو یا کوئی سیلیبرٹی….

ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک دم لڑکیوں کی آوازیں بند ہوئیں اور اس کے بعد جو آواز سننے کو ملتی تھی وہ صرف یہ تھی….

کوئی کہتی

افف یہ کتنا پیارا ہے…

تو کوئی کہتی…

گھڑی دیکھو اسکی…اور آئیز تو…

ایک اور آواز آئی

میں تو آئی ہی اسی کے لیے ہون..جب مجھے پتا چلا یہ ہینڈسم ینگ ٹائیکون بھی آرہا ہے تو رہا نہی گیا…

نمرہ نے نظر سامنے کو اٹھائی کہ آخر کون آگیا ہے؟؟؟

مگر سامنے نظر اتھی تو وہ حیرت سے پلک جھپکنا بھول گئی…

فرحان بھائی…

حیرت سے پوری آنکھیں کھولی وہ بڑبڑائی تھی…

یہ یہاں کیسے؟؟؟

اسے کافی حیرانگی ہوئی تھی…اتنے میں فرحان کے ساتھ آتے اشعر پر نظر پڑی…جوچہکتا ہوا سب سے مل رہا تھا..اور فرحان کو دیکھتی لڑکیوں کو سمائلز پاس کر رہا تھا

جبکہ فرحان سب سے بےنیاز سا چل.رہا تھا…ایمن نے دیکھا تو ایک دم نمرہ سے پوچھا…

نمی یہ …یہ تو تیرے کزن ہیں نا…

ایمن کو بھی حیرت ہوئی…

ہاں ہیں تو…نمرہ نے جواب دیا..

یہ ادھر کیسے؟؟ایمن نے اگلا سوال کیا..

مجھے کیا پتہ شاید جانتے ہوں ….

نمرہ نے اپنے خیال کا اظہار کیا…

جا نا..مل جا کر…دیکھ سب لڑکیاں کیسے آگے پیچھے گھوم رہی ہیں. ..واہ کیا ٹھاٹ ہو گی جب تو جا کر کہے گی تیرا کزن ہے…

چل نا..

ایمن نے چہکتے ہوئے اسکو.کونی ماری…

میں کیوں جاؤں؟؟پاگل ہے. ؟؟

نمرہ نے منہ کھول کر ایمن سے پوچھا…آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں. ..

اب میری انسے ایسی بھی کوئی گپ شپ نہی کہ سر پر پہنچ جاؤں. .چپ کر کے بیٹھنے دے اور تو بھی بیٹھی رہ..سمجھی..

نمرہ نے اسکو لتاڑ دیا..

فرحان کو سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا… وہ ہمیشہ سے لڑکیوں میں مقبول رہا تھا چاہے یونی ہوتی یا کالج…اور اب بھی..پر اس بار اتنی اہمیت…وہ خود بھی حیران رہ گیا تھا…

وجہ تھی بہت کم عرصے میں بزنس میں کامیابی اور فائدہ….قن لوگوں کو بزنس سنبھالے زیادہ عرصہ نا گزرا تھا مگر اس مختصر سے عرصے میں بھی وہ ان گنت پروجیکٹ حاصل کر چکا تھا..اور اپنی.کمپنی کو اپنی ذہانت اور پیشہ وارانہ خوبیوں کی بدولت بہت اوپر پہنچا.چکا تھا…یہی وجہ تھی کہ اسکا نام پھیلنے لگا تھا…ہینڈسم تو وہ پہلے سے تھا سونے پر سہاگا اسکی کامیابی..جس میں اشعر اور برہان نے اسکا بھرہور ساتھ دیا تھا…

انکا شمار ملک کے نئے ابھرنے والے کامیاب ینگ بزنس ٹائیکونز میں ہونے لگا تھا…اور آج کی محفل میں اہمیت کی وجہ بھی یہی تھی…

وہ سب سے مل.رہا تھا….جبکہ.حامد. کا حسد سے برا حال تھا پر وہاں پرواہ کسے تھی…

شرجیل فرحان کی آمد ہر پھولے نا سما پارہا تھا…جبکہ نومان کا حال اپنے بھائی حامد سے مختلف نا تھا..اسکو سخت کھولا تھا فرحان کا اس طرح تقریب میں آنا اور سینٹر اور اٹریکشن بننا…آج اسکے بھائی کا خاص دن.تھا جو فرحان کی موجودگی.سے کڑوا ہو رہا تھا….

اس کا بس نہی چل.رہا تھا فرحان کو نکال باہر کرے جبکہ فرحان انکی حالت سمجھ رہا تھا اور جی بھر کر محضوظ ہو رہا تھا…

اس کے.لیے تقریب میں کوئی خاص دلچسپی کی شے نا تھی…نا ہی وہ انجوائے کر رہا تھا کیونکہ وہاں زیادہ تر ہائی کلاس کے لڑکے لڑکیاں تھے…جو اپنے طریقے سے “انجوائے” کر رہے تھے….

اسنے اکتا کر نگاہ آس پاس دوڑائی…تو ایک جگہ اسکی نگاہ ٹھر گئی…

اسکو لگا نظروں کا دھوکہ ہے …اسنے دوبارہ غور سے دیکھا …

ہاں وہ سچ میں نمرہ ہی تھی… بلیو کلر کی خوبصورت میکسی پہنے سر پر دوپٹہ لئے ایک ٹیبل پر ساتھ بیٹی لڑکیوں سے محو گفتگو…

اسے ہر طرف یک دم سب اچھا لگنے لگاکیونکہ اب وہاں رہنے کی “وجہ” مل چکی تھی….

نمرہ…

اسنے آہستگی سے اسکا نام لیا…جو کہ .ساتھ کھڑا اشعر بخوبی سن چکا تھا…

ہاہاہا..بھائی اب تو اتنا سٹک گیا ہے کہ اسکی نام کی تسبیح پرھنا شروع کر دی ہے…یہ ورد بعد میں کرنا ابھی.چپ رہ…

اشعر نے اسکا مذاق بنایا…

زبان کے ساتھ آنکھیں بھی استعمال کیا کر کبھی…

فرحان اتنا کہہ کر آگے بڑھ گیا…

اوے کدھر..

اشعر نے آواز لگائی…

خود دیکھ لے..فرحان نے دلکش مسکراہٹ سے کہا اور چل دیا..اشعر نے اسکی نظروں کا تعاقب کیا ….

اسکو. بھی حیرت کاجھٹکالگا…

ہیں. ..یہ کیا ….نمرہ؟؟وہ بھی ادھر…

اشعر نے آنکھیں رگڑ کر دوبارہ دیکھا…

اتنے میں فرحان نمرہ تک تقریباً پہنچ چکا تھا..اشعر بھی اس کے پیچے لپکا اور پل گزرتے. ہی وہ اس کے ساتھ تھا….

اسلام علیکم بھاب……

اشعر کہنے ہی والا تھا کہ منہ کو یک دم بریک لگائی…

نمرہ اسکی آواز سن کر چونک کر اٹھی تھی…

اسلام علیکم کیسی ہو ؟؟

فرحان نے سلام.کیا…

وعلیکم السلام. .میں بالکل ٹھیک ہوں بھائی…

نمرہ نے جواب دیا…

میں بھی ہوں. .اشعر نے مداخلت کی..اسکے انداز پر نمرہ مسکرانے پر مجبور ہو گئی..

کیسے ہیں اشعر بھائی؟؟نمرہ.نے پوچھا…

اشعر سے وہ فرحان کے گھر دو تین بار مل چکی تھی … اور بات بھی کر چکی تھی سو وہ گھبرائی نا تھی جبکہ فرحان سے محض دو بار سامنا ہوا تھا اور کوئی خاطر خواہ گفتگو بھی نہی…فون پر بھی دو تین ماہ پہلے بات ہوئی تھی جو محض حال احوال. تک تھی..اور وہ فرحان کے مزاج سے بھی واقف نا تھی..جبکہ اشعر اپنے ہنس مکھ مزاج کے باعث جلد ہی سب سے گھل.مل جاتا تھا…

تم ادھر کیسے ڈاکٹر صاحبہ…؟؟کیا کسی مریض کی موجودگی کی اطلاع ملی ہے؟؟جو آپ

دوا کرنے آگئیں…..

اشعر مے شرارت سے کہا تھا..جبکہ.فرحان اسکی بات میں چپھا مریض کا لفظ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ.وہ کس کے لیے کہا جا رہا تھا…

فرحان دھیرے سے مسکرا دیا..نمرہ بھی اشعر کی بات سن.کر مسکرا دی…فرحان نے اسکے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تو وہ جیسے کھو سا گیا تھا…وہ اس وقت اسے دنیا کی حسین ترین لڑکی لگی تھی…اسکا حسن اور اسکی معصومیت…

اس پاس اور بھی بہت حسین لڑکیاں تھیں. .مگر نمرہ میں حسن سے کئی زیادہ. کشش تھی…

اسکی سراپے اور چہرے میں بلا کی کشش تھی جو مقابل کو نظر ہٹانے سے روکتی تھی….فرحان بھی کچھتا چلا جا رہا تھا اسکی سمت….وہ چاہ کے بھی نظروں کا زاویہ نا بدل پایا تھا…

نمرہ کی نظر یکدم اتھی تو فرحان کو خود کو دیکھتا پایا…

وہ ایک دم نگاہ جھکا گئی…

جبکہ فرحان نے بھی نظروں کو اس پر سے جبراً ہٹایا…

Actually ,Nouman is my batch fellow.

ساتھ پڑھتا ہے تو اسی نے انوائٹ کیا تھا سبکو اپنے بھائی کی انگیجمنٹ میں. ..

نمرہ نے اشعر کی بات کا جواب دیا…

اچھا اچھاِ..سہی..

اشعر اسکی بات سن کر بولا تھا جبکہ نمرہ کے منہ سے اپنے حریف کا نام سن کر فرحان کے ماتھے پر بل.پڑے تھے…اتنے سالوں میں اسکو کبھی نومان اور حامد کی موجودگی سے کوئی مسئلہ نا ہوا تھا اتنی مخالفت سے باوجود وہ انکو رتی برابر خاطر میں نا لاتا تھا مگر آج نمرہ کے منہ.سے اسکا نام سن کر اور یہ.جان کر کہ وہ.نمرہ کے ساتھ پڑھتا ہے..فرحان کو وہ چبھا تھا…سہی معنوں میں آج اسکو وہ اپنا حریف لگا تھا…

دور کھڑا نومان انکی ملاقات دیکھ چکا تھا..وہ تیوری چڑگائے انکی طرف آیا مگر تب تک فرحان اور اشعر ایکسکیوز کرتے آگے بڑھ گئے تھے..وہ نمرہ کے پاس آیا..

یہ لڑکے کیا کہہ رہی تھے؟؟تم جانتی ہو انکو؟؟

اسنے نمرہ سے سوال کیا…

کون لڑکے ؟؟

نمرہ نے پوچھا.ِ…

وہی جو ابھی یہاں تھے فرحان اور اشعر…

نومان نے نام لے کر پوچھا..

او اچھا اشعر بھائی لوگ…وہ میرے

Relatives ہیں کلوز…اتفاق.سے ملاقات ہوگئی تو حال احوال پوچھنے لگے.

نمرہ نے. سرسری سا جواب دیا اور بیٹھ گئی…

دور کھڑے فرحان نے. نومان کی بے چینی بخوی دیکھی تھی…کیونکہ نمرہ کے ہوتے ہوئے اسکا دھیان.اب کہیں اور لگنا نا ممکن.تھا…

نمرہ اب اکیلی بیٹھی تھی..ایمن باقی سب کے ساتھ مختلف مقامات پر سیلفیز لینے میں مشغول تھی..

تالیہ کی نظریں کافی دیر سے فرحان کو ڈھونڈ رہی تھیں. ..سامنے فرحان نظر آیا تو وہ اسکی جانب بڑھی…اسنے فرحان کو دوسری جانب دیکھتے گم پایا..فرحان کی نظروں کا تعاقب کر کے اسنے بھی اسی جانب نگاہ دوڑائی…

اور سامنے نمرہ کو بیٹھے دیکھ کر اسے پہلے تو حیرت ہوئی مگر پھر اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی…

فرحان بہت گہری نگاہ سے اسکو دیکھنے میں مشغول تھا…

نمرہ کو کسی کی نظروں کی تپش خود پر محسوس ہو رہی تھی..اسنے ایک دم نگاہ اٹھائی تو فرحان کو خود کو دیکھتے پایا..اسنے فرحان کی جانب دیکھا تو فرحان دھیرے سے مسکرا دیا…

نمرہ کو الجھا رہا تھا اس طرح اسکا دیکھنا..خیر جواباً اسنے بھی پہلی بار ہلکی سی سمائل پاس کی…اور نظریں جھکا گئی..

مسکراہٹ کے اس تبادلے کو تالیہ نے بہت گہری نظروں سے دیکھا تھا…

وہ اندر تک سلگ گئی..وہ سیدھا فرحان جے سر پر پہنچی…

تم ادھر ہو میں کب سے ڈھوند رہی تھی تمہیں. ..

اسنے فرحان کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئےکہا…

فرحان ایک دم نمرہ کے صحر سے نکلا تھا..سکوت جیسے ٹوٹا تھا..سامنے تالیہ کو دیکھ کر وہ جی بھر کر بدمزہ ہوا..فرحان نے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا…

اتنے میں فرحان کا فون بجنے لگا ..میوزک کی وجہ سے شور تھا تو وہ کال سننے کی خاطر باہر کی جانب بڑھ گیا. ……

تالیہ کی نظر دوبارہ سامنے اکیلی بیٹھی خاموش سی نمرہ پر پڑی…

آج اسکو نمرہ کا حسن جلا رہا تھا جھلسا رہا تھا…بس نہی چل رہا تھا اسکا چہرہ بگاڑ ڈالے…

وہ کچھ سوچتے ہوئے نمرہ کی جانب بڑھ گئی…

ہائے کیسی ہو نمرہ؟؟

نمرہ جو کے اپنی ہی سوچوں میں گم تھی ایک دم تالیہ کو دیکھا تو کھڑی ہوئی…

میں بالکل ٹھیک. .تم سناؤ…

نمرہ نے خوشدلی سے جواب دیا…

پہچانا مجھے؟؟

تالیہ نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے پوچھا تھا…

جی بالکل پہچان لیا… یاداشت بہت اچھی ہے میری..کس کے ساتھ آئی ہو؟؟

نمرہ نے پوچھا تھا

میں. .میں فرحان کے ساتھ آئی ہوں. .حارث کے ساتھ آنا تھا مگر فرحان نے ضد کی کہ تم.میرے ساتھ چلو تو وہی لے آیا..

تالیہ نے ایک ادا سے جواب دیا…

جنکہ حارث کو ذکر سن کر پچھلا واقعہ نمرہ کے ذہن میں ایک بار پھر سے گھوم گیاتھا… اسکا ہاتھ پکرنا..بدتمیزی کرنا…فضولیات بکنا…سب ایک دم تازہ ہو گیا..غصے کی.لہر اسکے بدن میں دوڑ گئی تھی…..

وہ ایک دم کھڑی ہو گئی…

Excuse me please …i habe to go to washroom …

شور…

تالیہ.نے جواب دیا..نمرہ سے ضبط کرنا مشکل.ہو گیا تو وہ ایکسکیوز کرتی باتھ روم کی طرف.بڑھ گئی…

اور جلدی میں اپنا.موبائل بے دھیانی میں ادھر ٹیبل پر ہی چھوڑ گئی…

تالیہ نمرہ کے چہرے جے تاثرات بخوبی دیکھ چکی تھی..اسکی چہرے پر گہری شیطانی مسکراہٹ دور گئی…

اسے لگا تھا نمرہ کی یہ حالت اسکے منہ سے فرحان کا نام سننے سے ہوئی تھی…جبکہ.اصل.بات سے وہ انجان تھی…

تقریب اختتام پر تھی..رنگ سیریمنی بھی ہو چکی تھی ..کھانا وغیرہ کھانے کے بعد ایمن نے اب نمرہ کو میسج کیا تھا..کیونکہ وہ آئی لاکل تھی جبکہ واپسی پر نمرہ نے اسے ڈراپ جرنے کا.کہہ دیا تھا..اسنے موبائل نکال کر میسنجر پر نمرہ کو میسج کیا..

نمی چلیں اب؟؟تو ڈراپ کیسے کرے گی ..ارسلان تو آیا ہی نہی ابھی تک..کیا کریں گے؟؟

میسج کی بیپ بجی….تالیہ کا دھیان اک دم سامنے پرے موبائل ہر گیا..

یہ کس کا ہے؟؟اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا…

کچھ دیر پہلے اسنے یہ موبائل نمرہ کے ہاتھ میں دیکھا تھا سو وہ پہچان گئی…

اسنے فوراً میسج کھولا..لاک ناہونے کی وجہ سے اسکو دقت نا ہوئی تھی..نمرہ اپنے فون کالاک نا رکھتی تھی..کیونکہ.لاک کانا نا کرانا اسکے لیے ایک سا تھا…کوئی اس کے موبائل کو بلا اجازت نا چھیڑتا تھا..اور اگر

چھیڑ بھی لیتا تو اسکو کوئی مسئلہ نا تھا سو لاک کرنے.کا دھیان ہی نا تھا…

تالیہ نے ایمن کا میسج پرھا اور بیک کر کے اسکا میسنجر دیکھنے لگی..اوپرکی دو تین چیٹس کے بعد اسنے.نیچے کیا تو سامنے سکرین پر

فرحان شاہ جگمگا رہا تھا…

وہ ایک دم سیدھی ہوئی…

اسنے فوراً چیٹ کھولی اور دیکھنے.لگی..جیسے جیسے وہ میسج دیکھ رہی تھی اسکے تن بدن میں لاوا ابھرنے.لگا تھا…

زیادہ میسج فرحان کی طرف سے تھے…

وہ سمجھ گئی فرحان کو اس میں انٹررسٹ تھا….

حسد انسان کو غلط کرنے سے نہی روکتا..وہ بھی اس وقت حسد کا شکار ہو رہی تھی…

تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اسنے میسج لکھنا شروع کیا..

کیسے ہیں فرحان ؟؟؟

اور بھیج دیا..

فرحان جو کہ کال سن کر ابھی اندر جانے کو مرا ہی تھا میسج کھال جر دیکھنے لگا..سامنے نمرہ کا میسج دیکھ کر اسکو حیرت اور خوشی ہوئی…

ابھی تو دیکھا ہے..اب تم بتاو کیسا ہوں؟؟

فرحان نے شرارت سے پوچھا…

تالیہ نے فرحان کا میسج پڑھا تو وہ اندر تک بھرک اٹھی…

اچھےِ.بلکہ کافی اچھے..

اسنے میسج لکھا اور بھیج دیا…

وہ ایسے میسج کر رہی تھی جن.سے فرحان کو شک بھی نا ہو کہ وہ نمرہ نا تھی…

فرحان اسکا جواب پڑھ کر مسکرادیا…

آپ نے واپس کب جانا ہے؟؟

تالیہ نے اگلا میسج کیا..ِ

بس نکلنے لگا ہون کچھ دیر تک..

کیا اپکو بھی چلنا ہے میرے ساتھ؟؟؟

فرحان نے شرارت سے پوچھا..

تالیہ نے اسکاجواب پڑھا تو شاطر سی مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا…

جی..چلنا تو ہے..کیا آپ مجھے ڈراپ کر دین گے؟؟

تالیہ نے اگلا میسج کیا…وہ ایمن کا میسج پڑھ کر انکی مشکل بخوبی سمجھ چکی تھی کہ فلحال گاڑی

انکے پاس نا تھی…اور وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی کہ نمرہ کبھی بھی فرحان کے ساتھ یوں اکیلے نا جا.ئیگی…

سو اسنے اپنا کام کر دکھایا…

شور وائے ناٹ..

فرحان نے خوش ہو کر میسج کیا

اوکے میں تھوڑی دیر میں آجاونگی ..

تالیہ نے جواب لکھا…اتنے میں سامنے سے نمرہ آتی دکھائی دی..اسنے فوراً ابھی کے میسج ڈیلیت کیے اور موبائل اسی طرح ٹیبل پر رکھ دیا…

نمرہ آئی تو ایک دو باتیں کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی…

ہنہہ..مجھے نہی لا سکتے اور اسکو ساتھ لے جانے پر اتنی خوشی…اب تمہیں اندازہ ہو گا بےعزتی کسے کہتی ہیں. ..

تالیہ جو صبح کی بات یاد آئی جب فرحان نے اسکو ساتھ لانے سے انکار کر دیا تھا…

وہ آگے بڑھ گئی…جبکہ نمرہ کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے حارث پر پڑی.تو وہ مزید غصے سے لال ہو گئی…ِ

ایمن پاس آئی تو دونوں باہر کی جانب برھ گئیں. …