Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 35) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 35) Part - 2
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ.کچن میں چل.دی…ِ
امروزیہ بیگم.نے.اسے.دیکھا تو فرحان.کے لیے کافی بنانے کا پوچھا…
نہی ماما.وہ چائے پیتے ہیں.زیادہ تر….
اسنے انھیں بتایا تھا…
چلو پھر چائے بنا.دیتی.ہوں…
انھوں نے.جواب دیا…
میں.بنا.لوں گی ماما..آپ.بس.یہاں بیٹھ.جائیں…
اسنے پیار سے سے ساتھ لگتے.کہا.تھا….
ابھی تو نگٹس.بنائے ہیں.تم.نے.ناشتے.کے.بعد.ِ.کب سے گھسی.ہوئی تھی کچن میں…
انھوں نے.مسکرا.کر.کہا…
ناشتہ کرنے کے.بعد اور کوئی.کام نا.بچا تو.سوچا کیوں.نا.ارسلان کے لیے نگٹس ہی بنا.دے وہ بہت شوق.سے کھاتا تھا اور پھر مقدس.کو بھی بہت پسند تھے..اسکو.بھی.بھجوا.دے گی….
وہاں.سے.فارغ ہو کر ظہر کی.نماز.ادا کی.اور ڈرامہ.دیکھنے.بیٹھی کہ کچھ دیر میں شوہرِ نامدار آٹپکے تھے….
بیٹا تھوڑا سا.تیار.ہو.جاتی اگر پتا ہی تھا فرحان.نے.آنا.ہے…
انھوں.نے اسکی انتہائی.سادہ سی حالت دیکھ.کر.کہا.تھا…
وہ …ویسے ہی.دل.نہی.کیا…اسنے بات بنائی…
بیٹا جب شوہر گھر آئے تو.بیوی اگر اچھے سے سجی سنوری اسکا.استقبال.کرے تو اچھا.لگتا ہے نا..
انھوں.نے.پیار سے.سمجھایا تھا…
جی…وہ اتنا.ہی.کہہ.سکی..اب انکو.کیا.بتاتی وہ.تو لبھی.گھر میں.بھی یہ.تکلیف نا.کر.پائی تھی…
اچھا چھوڑیں.نا.ماما….. اسنے بات ٹالی تھی…پھر اسنے چائے بنائی..امروزیہ بیگم.نے.کھانے کا کہا.تھا مگر فرحان.نے.منع.کر.دیا اسکا.کہنا تھا وہ.لوگ فوراً نکلیں.گے.واپسی کے لیے..تب انھوں.نے.اور ملک.سیال نے. کچھ دیر گپ شپ کے بعد.اسکوکمرے.میں.ہی.بھیج دیا مگر اسکی آمد.نمرہ.کو.مہنگی پڑ گئی تھی…
اسنے فرحان.کے لیے چائے بنائی…ساتھ نگٹس فرائی کیے..ایک پلیٹ میں.کوکیز.نکال کر رکھیں ….اور ٹرے سیٹ کیے اٹھانے.لگی تھی کہ پوچھ لیا…
ماما.کمرے میں.لے کر جاؤں.؟؟
اسنے.سوال کیا تھا…
ہاں.ادھر ہی لے جاؤ…تمہارے بابا زرا.ساتھ والے.انکل.کے.پاس گئے ہیں…میں.نھی.لانڈری کا.کام.دیکھ.لوں.ذرا….. نجمہ(کام والی).نے مشین لگائی ہے تو ….
انھوں.نے.بتایا…
اوکے…
نمرہ ٹرے اٹھائے, شانوں پر.دوپٹہ سیٹ کیے کمرے کی.طرف چل.دی….
کمرے کا.دروازہ بازو کی کہنی سے کھولا اور اندر.چل.دی…
وہ مزے سے اسکے لیپ ٹاپ پر.مصروف تھا…
نمرہ کو.ایک فکر.ہوئی… بہت کچھ اونگا بونگا.رلھا ہوا.تھا اس نے… لاتعداد فائلز.جن.میں.سے آدھی.سے زیادہ.تو بے.کار.تھیں…جو اسے ہر بار ڈیلیٹ کرنی ہوتیں.مگر.پھر رہ.جاتیں… بےتحاشا.تصویریں.اور.ویڈیوز…صرف.اسکی اپنی.اور.دوستوں.کی.نہی.بلکہ اسے فیورٹ ایکٹرز کی.بھی…
…خصوصاً
Lee Min Hoo
اور
Ji Chang Wook
کی..
اس.معاملے میں.وہ اور.مقدس.خوشی سے.خود.کو.ٹھرکی.کہلاواتے تھے…..
فرحان.کے.چہرے پر مسکراہٹ تھی…یعنی وہ بہت.کچھ دیکھ چکا.تھا…
نمرہ مےخجل.ہو.کر ٹرے سائیڈ ٹیبل.پر.رکھی تھی…
چائے..نمرہ.نے.بتایا تھا…
تو یہاں کیوں.لے.آئی..میں باہر آجاتا..
فرحان.نے کہا تھا..
نہی وہ بابا ذرا گئے ہیں.کہیں.اور.ماما.بھی.لاندری میں ہیں.تو ادھر لانے کا.کہا انھوں.نے….اور وہ لوگ اس ٹائم.چائے نہی پیتے…وہ تو آپ نے کھانا نہی.کھانا تو بنا.دی…
نمرہ.نے جواب دیا…
یار یہ کیا.کچھ منڈا ہوا.ہے اس.ڈبے میں.تم.نے…
فرحان.نے.پوچھا تھا…آنکھوں.میں.شرارت واضح تھی…
میرے نوٹس ہیں..اور باقی بکس.وغیرہ…
نمرہ نے ادھر ادھر دیکھ.کر.بات ٹالی…
اور وہ جو.کوریں نمونے ہیں..وہ..
اب کی.بار سیدھا سوال آیا تھا..جبکہ.نمرہ تو ان.کے لیے لفظ “نمونہ,” سن.کر.ہی صدمے میں.آگئی….
وہ نکال نکال.کر ان.ایکٹرز.کے ڈرامے دیکھتی تھی…پہکی بار اسے کسی پر کرش.ہوا تو وہ.تھے…اور یہ.محترم انکو نمونہ کہہ رہے تھے..
They are handsome..
اسنے.بھی لگی پٹی.بغیر.کہا.تھا..
ہاہہاہا توبہ.کرو…یہ بریلر مرغیاں. .
فرحان محضوظ ہوا تھا…
نمرہ کا.تو منہ ہی کھل گیا…
مرغیاں؟![]()
….. اپکو پتہ ہے دونوں.چھ فٹ سے اوپر کے ہیں…
اسنے.جتانا ضروری سمجھا تھا..بات
تو ہائیٹ کی بات ہے …
فرحان.نے.دانت.نکالے.تھے..انداز چڑانے.والا.تھا
چائے پیئیں..ٹھنڈی ہو.جائے گی…نمرہ.نے.جواب دیا…
اور خود.اٹھ کر الماری کھولے کچھ دیکھنے لگی…
فرحان.نے چائے پی تو وہ زبردست تھی… اور نگٹس وہ تو کھاتا ہی گیا …اسے لگا امروزیہ.بیگم نے بنائے ہوں.گی یا بازار سے..کیونکہ نمرہ سے اسکو ایسی توقع.تھی ہی.نہی…
اور.نا.اسنے.بتایا کہ.وہ.دونوں.چیزیں وہ خود.بنا کر لائی.تھی.
نمرہ نے ڈریس لیا اور چینج کرنے.چل.دی…
باہر آکر بال کھولے اور جلدی سے جوڑا بنایا …فرحان.باہر جا.چکا تھا…کیونکہ.کمرہ. خالی تھا…
تھوڑا سا ہونٹوں پر لب گلو لگایا…اور دوپٹہشانوں پر ڈالے بیگ اور لیپ ٹاپ اٹھائے نکل.آئی…
فرحان.لاؤنج میں.سب کے ساتھ بیٹھا تھا …کاشان.اور ارسلان.بھی آچکے تھے…
اوے بن.بتھوڑی تم.نے آج.نگٹس.بنا.ئے.میرے لیے…اللہ تیری ہی.مراد.پوری کرے گا بچہ…
اسنے بنگالی بابا کے.سٹائل میں.دعا دی جبکہ.نمرہ کئ سوئی تو.بن بتھوڑی پر ہی اٹک گئی…
بن بتھوڑی کے بچے تم کسی بندر سے کم نہی ہو…
اسنے بھی ناک سے مکھی اڑائی تھی…
چلو.اوے تمہیں کیا پتہ یونی میں کتنی ڈمانڈ ہے میری..
ارسلان نے ایک.ادا سے.بالوں.میں ہاتھ پھیر کر کہا تھا
ہاں.تو.یونی بھی تو تمہاری ہی ہے…تم جیسے لوگ ہی ہوں گے نا…اندھوں میں کانا راجہ بن گئے ہو گے..
نمرہ نے جواب دیا…
جاؤ.تمہارا تو بندہ شکریہ بھی نا ادا کرے. …
ارسلان نے منہ بنایا..
جبکہ فرحان کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی یہ جان کر کہ ان محترمہ کے ہاتھ میں کتنا ذائقہ تھا. …
تم تو.کہہ.رہی تھی تمہیں کھانا بنانا نہی آتا…
فرحان.نے.سہی وقت پر اسکی ٹانگ کھینچی تھی. … نمرہ کو اس سے ہرگز یہ امید نا تھی. …
ہیں اوے تم سب بھول گئی جو ادھر بیکری کھولے رکھتی تھی ہر ہفتے…کچن کو اوپریشن تھیٹر بنا.رکھا تھا….
ارسلان پھر درمیان میں کودا تھا…
تمہارا اپریشن کر دینا.ہے مینے ابھی چھری کانٹے اٹھا کر…
نمرہ نے اسے دھمکی.دی تھی…
اور یہ کھانا نہی سنیکس تھے…
نمرہ نے. نگٹس کی.طرف اشارہ کر کے جلدی سے اپنا بچاؤ کیا…
جھوٹی…فرحان بھائی سب آتا ہے اسکو… کوکنگ بھی اور بیکنگ بھی… دنیا جہان کی ترکیبیں تو آزما کر ہمارا کباڑہ نکال چکی ہے…ہم. معصوم بھی مجبور تھے چپ چاپ تین چار پلیٹیں چکھ لیتے تھے…
ارسلان نے اسکا زرا پردہ نا.رکھا تھا…
اچھا تمہارا کباڑہ نکالتی تھی میں … تب تو ایسے ٹھوستے تھے جیسے دنیا میں.قحط پڑ گیا ہو…پورا پتیلہ ہی چکھ لیا کرتے تھے…
نمرہ نے تیوری چڑھا کر کہا تھا…..
فرحان.بھائی کام کروایا کریں.اس.سے موٹی.ئو.جائیگی ورنہ…
نمرہ کی.کام چوری پر اسنے کہنا.ضروری سمجھا…
اور.واقعی شادی کے.بعد وہ کم ہی کبھی کچن میں.گئی تھی… سب.کاموں.کے لیے ملازم تھے…
اور پہلے دعوتیں , پھر ساتھ عریبہ کی.شادی اس کے.بعد نمرہ.کے پیپرز, پھر پیپرز کے فوراً بعد.وہ لندن چلی.گئی…
اسے موقع ہی نا.ملا کچن میں.جوہر دکھانے کا..نا اسکا.موڈ.ہوا تھا…
ہاہاہا…چلو سوچتے ہیں اس بارے میں.بھی…
فرحان.نے.ہنس کر ارسلان.کی.بات کا.جواب دیا… جبکہ.نظریں.نمرہ کے خوبصورت چہرے کا.طواف کر.رہی تھیں. ..
ارے نہی.بھئی ہماری.بیٹی تو.ماسٹر شیف ہے.ماشاءاللہ. ..
ملک.سیال نے مسکرا کر بیٹی کی.سائیڈ کی…
بالکل.میرے بچے کے.ئاتھ میں تو.ذائقہ ہے..ہم تو.مس.کرتے ہیں بہت اسکے.نت نئے.مزے مزے کے کھانے…
امروزیہ بیگم.نے پیار سے اسکا گال چوما تھا…
جبکہ.فرحان.کو.اب سمجھ آیا وہ.کتنی.گھنی تھی…ایک.بار.جو.کبھی اسنے اسے بھنک.بھی پڑنے دی ہو اپنے اس.ہنر کی….
مگر چلو دیر آئے درست آئے…اب نمرہ کو تنگ کرنے کا.ایک.کو سرا.اس.کے.ہاتھ لگا تھا..جانتا تھا وہ.چڑے گیِ.مگر اسکا چڑنا ہی تو.اسکو.مزا.دینے لگا تھا..وہ.چاہتا تھا وہ ہر وقت بس اسی کو سوچے..اسکے.ذہن ہر فرحان شاہ سوار رہے ..پھر اس کے لیے اگر اسکو.چڑانا.بھی پڑتا تو.سودا.مہنگا.نا تھاِِ…..
سب سے مل کر وہ لوگ روانہ ہو گئے…..
وہ لوگ ہائی وے پر تھے…
گاڑی کی رفتار جان.بوجھ کر فرحان نے آہستہ رکھی ہوئی تھی….
فرحان.نے ہاتھ بڑھا.کر.میوزک پلیئر آن کیا تھا…
Ed Sheeran
کا
Lego House
ایک دم پلے ہوا تھا…
![]()
I’m gonna pick up the pieces
Nd built a lego House
If things go wrong , we can knock it down
My three words have two meanings
But there’s one thing on my mind
(لیکن میرے ذہن پر ایک چیز سوار ہے)
That so far *”YOU”*
(اور وہ *تم* ہو )
And it’s dark in the cold December
But I Got You to keep me warm
If you get broken,I ll mend you
(اگر.تم.ٹوٹی تو.میں.تمہیں جوڑوں گا)
N will keep you sheltered from the strom that’s raging on now
( اور تمہیں ہر طوفان سے بچاؤں گا جو سر اٹھائے)
Am. Mad in touch
تمہیں.چھونے.کے لیے پاگل ہوں
Am mad in love
)تمہاری.محبت میں.پاگل.ہوں)
I’ll pick you up, when u get down
جب تم.گروگی تو.میں.تمہیں.اٹھاؤنگا…واہس کھڑا کروں.گا.
تمئارے عروج.کو.زوال نہی آنے.دونگا….
And outta all these things I ‘ve done,
Think i love u better now
)اور ان.سب.چیزوں.کے علاوہ, مجھے مگتا ہے میں تم سے مزید عشق کرنے لگا ہوں.اب(
And it’s so hard to say it
But i saying for
Now i surrender up my heart
And swup it for YOURS
)اور یہ کہنا بہت مشکل ہے مگر
میں مانتا ئوں,
میں ہتھیار ڈالتا ہوں.میرا دل اب.ہتھیار ڈالتا ہے
اور تمہارے دل کا طلب گار ہے(
I’m mad in touch
I’m mad in love
I’ll pick u up when u get down
And outta all these things
I think i love you better now ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
گانے کے بول.تھے یا فرحان.کے دل کی آواز….
ایک ایک.لفظ اسکے جذبات کی عکاسی کر.رہا تھا….
جو.وہ نا کہہ پا رہا.تھا یہ.گانا.سب کہہ.رہا تھا..سب بتا رہا تھا..اسکی.چاہت, اسکی.دیوانگی, اسکی.محبت, اسکا عشق,
کہ وہ کیا.چاہتا.ہے..ہاں.وہ.اسے چاہتا ہے..وہ اس کا ساتھ چاہتا ہے… جبوہ گرے گی تو وہ اسے سنبھالے گا, ٹوٹے گی تو اسکا سہارا بنے گا…..اسکے بکھرے ٹکڑے جوڑے گا… اس کے.دماغ. پر اور دل.ہر وہ سوار ہے..دل اس کا طلب گار ہے..اسے چھونے کو.پاگل…ترسا ہوا…
اسپر محبت لٹانے کو پاگل…اسے محسوس.کرنے کو.پاگل…
گانے.کے الفاظ نمرہ کو.کسی اور.جہاں.میں.لے.گئے… کاش.یہ الفاظ فرحان.شاہ کے.منہ.سے.سن.پاتی وہ…اسے دل.نے.حسرت سے سوچا تھا…
گانا اختتام.ہزیر ہوا تو.فرحان.نے ایک کیفے کے سامنے گاڑی روکی تھی…
وہ کھانے کی.کچھ اشیاء اور.جوس.لایا.تھا…
اس کے بعد سیٹ پر سر.موندے وہ سو گئی….
دوپٹہریشمی ہونے کے باعث شانوں.سے پھسل کر نیچے آگیا تھا…
جبکہ.جوڑے سے نکلتی آوازہ لٹیں اسے چہرے کو چوم رہی تھیں…
فرحان.کی.نگاہ اسکی جانب اٹھی تھی جو.نیند کی وادیوں میں.اتری پری لگ رہی تھی…اسنے ہاتھ بڑھا کر اسکی.لٹ کان.کے پیچھے کی تھی…
اسی کمحے.اسکی نگاہ اسے سراپے ہر.گئی تھی…دوپٹہ گر چکا تھا…شفاف گردن.جھلک.رہی.تھی..ابھرتی کالر بون, اور. نیچے نازک کمر…. اس.لمحے اسکو.ادراک.ئوا.تھا وہ.واقعی بے حد ہر.کشش تھی..یا.شاید فرحان.کی.نظریں.بدلی.تھیں…
اسکا دل شدت سے بے قابو ہوا.تھا… کیونکہ.وہ.اسکا طلب گار بن بیٹھا تھا..اسے مانگ رہا تھا…
فرحان.نے نگاہ چرائی تھی…اور اسنے.یہ.کس طرح.کیا وہ اور اسکا دل ہی جانتے تھے ورنہ لچھ بعید.نا.تھا وہ خود.کو.مزید.نا.روک پاتا…
وہ ایک.نہایت.مضبوط مرد تھا…. اعصاب ہر قابو رکھنے.والا..نفس کو لگام ڈال کر رکھنے والا..
مگر آج سامنے.سوتی وہ لڑکی اسکے.نفس.کو.بےقابو.کرنے.پر تلی تھی…
شاید رشتے کی.نزاکت اور.نوعیت ہی ایسی تھی.مگر اسے کود کو.روکنا.تھا…اسے خود.ہر جبر کرنا.تھا…
اور پھر وہ اس.سے لاتعلق ہو.گیا..دوبارہ اس.پر.نگاہِغلط ڈالنا گوارا نا.کیا.کیونکہ اس.میں.نمرہ کا.ہی.بھلا تھا
وہ مغرب کے قریب حویلی پہنچے تھے…
کھنا کھاتے اور آمنہ بیگم.کے ساتھ.کچھ کام وغیرہ کرتے. اور پھر کچھ دیر.باتیں.کر.کے بالآخر نو بجے وہ کمرے میں.آئی..
فرحان.نے.کچھ ضروری ای میلز.کرنی.تھیں..اسکا.کام.لمبا.تھا …وہ بیڈ ہر ہی لیپ ٹاپ لیے بیٹھا تھا..
نمرہ باتھ روم.گئی.وضو.کیا اور.پھر نماز.پڑھنے لگی..نماز.وغیرہ.سے فارغ ہو.کر وہ چپ.چاپ بیڈ پر دوسری طرف آ بیٹھی..
نیند اسکو.آ نہی.رہی تھی.کیونکہ.شام کو سفر کے دوران وہ سوئی تھی
لیپ ٹاپ کھول کر وہ بھی ڈرامہ دیکھنے لگی
ایک کے بعد ایک.قسط وہ دیکھتی گئی
ویسے بھی جب بھی وہ ڈرامہ دیکھنے بیٹھتی تھی اکثر ساری رات ہی جاگتی تھی
فرحان نے کام ختم کر کے وقت دیکھا تو ڈیڈھ.بج رہا تھا..
پھر نمرہ کو.دیکھا جو گود میں لیپ ٹاہ رکھے پہلے تو بیٹھی تھی.مگر اب پھلتے پھسلتے تقریباً لیٹ چکی تھی..
وہ اب تک جاگ رہی تھی..
نمرہ سو جاؤ اب…اسنے اپنا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا تھا..
ئاں.بس ایک.لاسٹ دیکھ لوں… ننرہ نے انگلی.کے اشارے سے ایک کہا.تھا
کل دیکھ لینا..بہت لیٹ ہو گیا ہے..صبح آنکھ.نہی کھلنی…
فرحان نے.صبح آفس.بھی.جانا تھا
نہی نا ایک اور پلیز..
وہ بچوں کی طرح بولی تھی..کیونکہ اسکو.دھیان ہی کب تھا کہ کون اس سے مخاطب ہے…اسکا ذہن کہیں ماضی میں.ہی.تھا جب وہ آدھی رات کو پیپرز.کے بعد جاگ رہی ہوتی تھی اور امروزیہ بیگم اسکو ایسے ہی.ٹوکتیں اور وہ ” بس.ایک.اور, ایک آخری دیکھ.لوں” کہہ کر مزید دیکھتی جاتی…
چلو پھر ساتھ دیکھتے ہیں..فرحان.نے کہا تھا…
نمرہ نے سکرین پر جمی ٹُن آنکھیں ایک دم کھولی تھیں اور فرحان کو دیکھا…
آپ بھی دیکھیں.گے؟؟
سوال آیا تھا..
ہاں …. کیوں.میں.نہی.دیکھ.سکتا…
اسنے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا تھا..
نہی !! وہ اہکو شروع سے ساری سٹوری پتا ہی نہی.ہے تو.کیسے سمجھ آئے گا…
انتہائی معصومیت سے لاجک پیش کی گئی تھی
ہاں یہ تو.ہے..چلو.کوئی مو وی دیکھ لیتے ہیں…
فرحان.نے آسان.حل بتایا..اسکا بھی اب اسکے ساتھ وقت گزارنے.کا.دل چاہا تھا
پر کونسی؟؟
نمرہ.نے.پوچھاِ
پھر اسنے ایک ایکشن.مووی لگائی ..نمرہ.نے پہلے تو اشتیاق.سے دیکھی.مگر پھر نار دھاڑ سے اسکا.دل اکتانے.لگا تھا… اور.نیند بھی.غالب آنے.لگی…
چونکہ.مووی لیہ ٹاپ پر لگی تھی اور لیپ ٹاپ. فرحان کی گود میں تھا سو وہ دونوں ساتھ ہو.کر بیٹھے تھے
جو.فاصلہ پہکے قائم تھا مو وی میں.مگن ہونے.کی.وجہ.سے وہ بھی طہ.کرتے وہ.دونوں.بالکل ساتھ ہو گئے تھے..فرحان.کی.نظر.سکرین پر تھی جب اسکو.اپنے.کندھے پر ایک.دم بوجھ.کا احساس ہوا..نگاہ اٹھائی تو اسکے.کندھے.ہر سر رکھے وہ سو چکی تھی….
وہ چند لمحے.بنا.پلک جھپاکائے اسے دیکھتا گیا تھا.جو.آرام سے اسکے.کندھے کو نا صرف تکیہ سمجھ رہی تھی بلکہ دانستہ طور.ہر اسکی جانب کروٹ لے.کو اسکے سینے پر بایاں.ہاتھ بھی رکھ.چکی تھی…
وہ خود اس کے قریب ترین آئی تھی…
وہ دھیرے سے.اسکا معصوم مکھڑا.تکتے مسکرا.دیا..
پھر لیپ ٹاپ بند.کر.کے سائیڈ پر رکھا تھا..سائیڈ لیمپ آف کیا…
اب.کمرے میں.صرف نمرہ کی طرف کے سائیڈ لیمپ کی روشنی تھی جو کہ وہ کبھی بند نا کرتی تھی ورنہ پورا کمرہ ہی اندھیرا گھپ ئو جاتا.. اسکے کندھے کے گرد ہاتھ کر کے اسے اسے نامحسوس انداز.میں لٹایا تھا اسنے اور ساتھ.خود.بھی.لیٹا تھا…نمرہ کا سر اور ہاتھ ہنوز اسی پر تھے…
وہ.ویسے ہی اسکے ساتھ لگی خوابِ خرگوش کے.مزے لے رہی تھی..
فرحان.نے ئاتھ بڑھا کر اسکے سر کو دوپٹے سے آزاد.کیا اور دھیرے سے اسکے بال کھول دیئے..
جانتا تھا وہ محترمہ.بندھے بالوں.اور دوہٹے سمیت سونے کی عادی نا.تھیں…
دوپٹہ اور کیچر بھی سائیڈ.ٹیبل.پر رکھتا , اسکو اپنے حصار میں ہوری طرح قید کیے وہ بھی آنکھیں.موند گیا..
اگلی صبح وہ جلدی اٹھ چکا تھا..
آج اشعر اور عریبہ کی فلائٹ تھی…
فریش ہوتا.باہر آیا تو وہ سو.رہی تھی…
فرحان کمرہ.بند.کیے چل.دیا…
ناشتے کی ٹیبل ہر آمنہ بیگم, برہان.اور.وجاہت آفندی تھے…
نمرہ نہی آئی فرحان؟؟ آمنہ.بیگم.نے پوچھا تھا…
سو رہی ہے وہ..رات کافی دیر جاگی رہی تو.نہی اٹھایا ابھی…
اسنے نارمل.سے انداز.میں جواب دیا..
طبیعت تو ٹھیک ہے.نا اسکی؟؟
انھیں فکر.ہوئی تھی..
جی ٹھیک ہے بس وہ رات کو لیہ ٹاپ لے کر بیٹھی رہی دیر تک..فجر کے وقت جاگی تھی شاید..پھر سو گئی..
اسنے.جواب.دیا..
چلو اچھا.ہے آرام.کر لے..
فکائیٹ کتنے.بجے.کی ہے عریبہ اور اشعر کی؟؟
اگلا سوال آیا تھا..
گیارہ بجے کی.ہے میں.پک.کر.لوں.گا..
برہان.نے اب کی بار جواب.دیا تھا…
پھر میں گھر آجاؤں.گا ساڈھے دس.تک…
فرحان.بولا.تھاِ..
پھر وہ آفس کے لیے نکل گئے…
دس بجے وہ.جاگی تو اچھی خاصے شرمندہ سی ہو گئی…
فریش ہو کر.نیچے آئی تو.آمنہ بیگم لاؤنج.کی.ڈسٹنگ.کروا.رہی تھیں…
آجاؤ.بیٹا.. ناشتہ لگواؤں؟؟
انھوں.نے سوال کیا..
نہی.موڈ.نہی..بہت زیادہ سو گئی آج…
وہ سر جھکائے شرمندہ سی بولی تھی..
اتنے میں.فرحان.لاؤنج.میں.داخل.ہوا تھا…
سلام کر کے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی.کرتا وہ.صوفے پر بیٹھا تھا
ارے.تو اس.میں.پریشا ن.ئونے کی کیا.بات ہے..اچھی.بات ہے.یہی تو.دم.ہیں…. آرام.کرو ..پھر بچے ہو.گئے.تو.کب وقت.ملتا ہے…
ننرہ وہ شفقت سے کہتیں وہ بیٹھی تھیں…
جبکہ انکی بات سن.کر نمرہ کا چہرہ ایک دم لال ٹماٹر ہوا تھا… نگاہ اٹھائی تو.فرحان.کافی گہری نظروں.سے اسی کو دیکھ کم اور گھور زیادہ رہا تھا یا شاید اس.وقت اسکو.ایسا.محسوس.ہوا تھا
میں پانی.لاتی ہوں..
اس سے پہلے کہ کوئی مکازم فرحان.کے لیے پانی لاتا وہ جلدی سے اٹھ کر کچن کو.لپکی تھی …
کچن.میں آکر اسنے دو تین.گہرے سانس لئے..مگر چہرے کا.کیا.کرتی جو ایک.دم.ہی گرم ہونے لگا تھا….
بیسن.کو کھول کر پانی سے ہاتھ گیلے کر کے اہنے چہرے ہر تھپکے تھے…
پھر گلاس میں.پانی ڈال کر غٹا غٹ نیچے اتارا تھا…
اس کے بعد دماغ ٹھکانے آنے لگا تو.یاد آیا وہ فرحان.کے.لیے پانی لانے.کا کہہ.کر.پانچ.منٹ پہلے اٹھی تھی…
جلدی سے صاف گلاس میں پانی ڈالا اور ٹرے میں.رکھ.کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی چل دی…
فرحان.کے سامنے.جا.کر ٹرے آگے کی… اسنے گلاس.اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو.دیکھا نمرہ کے ئاتھ باقاعدہ کانپ رہے تھے…
اسنے حیرت سے اسکا چہرہ دیکھا ..وہ نگاہیں جھکائے.بڑی.مشکل.سے کھڑی تھی… وہ شاید.گھبرا.چکئ تھی…کیونکہ وہ جانتا تھا وہ.بہت پر اعتماد.تھی مگر ابھی وہ.پینک ہو.گئی.تھی…
کیوں؟؟
وجہ جاننے.میں.اسکو.زیادہ وقت نا.لگا تھا اور اسکے چہرے پر معنی.خیز.مسکراہٹ ابھری تھی….
ابھی اسنے پانی.لبوں.سے لگایا ہی تھا کہ.ملازمہ.مے آکر اطلاع دی کہ کوئی.مہمان آئے ہیں…
ان سب نے.نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا تو. سامنے کھڑے نفوس کو دیکھ کر ان.سب پر.حیرت کا پہاڑ آن.گرا تھا…
