Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 37) Part - 3
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 37) Part - 3
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
مجھے کیا.ہو.رہا ہے؟ دل اتنا.بے.چین.کیوں.ہے آخر؟؟
وہ صبح سے.اپنے کمرے کے.چکر کاٹ رہا تھا
سکون ایک پل نا آرہا تھا….دل جیسے.کسی نے.مٹھی میں.قید کر لیا.ہو….
اسے سمجھ نہی آرہا تھا ایسا کیوں.تھا…
جب سے.مقدس کے رشتے کی.بات سنی تھی اسے ہر چیز.بے معنی سی لگنے لگی تھی…..
مجھے اتنا فرق.کیوں.پڑ رہا.ہے….
مجھے وہ.چاہیے….ہاں.مجھے وہ چاہیے….وہ صرف میری ہو گی…. اسے صرف میرا ہونا ہو.گا…
برہان.شاہ کا دل بغاوت پر اتر ایا تھا….
یہ خیال.ہی کتنا خوبصورت تھا کہ وہ صرف اسکی ہوتی….
مجھے کچھ کرنا ہو گا….کچھ سوچنا.ہوگا…ایسے کیسے وہ کسی اور کے لیے ہاں.کر.سکتی ہے…
دل پھر سے بے.چین ہونے لگا تھا…
پر وہ تو اس.سب سے واقف.نہی.نا…
ایک دہائی آئی تھی…
کچھ سوچ برہان.کچھ سوچ….
خود سے مخاطب ہوتا اسکا دماغ کام کرنے سے قاصر تھا..
یہ شہر.کے ایک.مشہور.گالف کلب کا.منظر تھا
جہاں.گراؤنڈ.سے.کچھ دور پارکنگ سائیڈ پر وہ
اپنی کار کے.بونٹ پر چڑھ کے.بیٹھا تھا….
یعنی.تیرے مطابق
تجھے اپنی بھابھی کی بیسٹ فرینڈ سے محبت ہو گئی ہے !!
یوشع جو اسکے بچپن کا.دوست تھا اس.وقت اسکے ساتھ تھا…
بتا.تو رہا.ہوں ہاں…
برہان نے جواب دیا
اور موصوف کو یہ اندازہ تب ہوا.جب لڑکی کی بات بھی کہیں اور پکی ہو.چکی !!
یوشع نے پوچھا تھا….
اب مجھے تو.نہی نا.پتا تھا.بات پکی ہو.جانی اتنی جلدی کہیں اور….
برہان.نے چڑ کر جواب دیا…
تو.پتہ رکھنا تھا ناِ…
جواب آیا تھا…
اور پھر.برہان نے شروع سے لے کر اب تک مقدس سے ہوئی تمام ملاقاتوں اور گفتگو کا.سرسری سے اسے بتایا تھا….
اب سوچتا.ہوں رشتہ بھیجوں تو پتہ نہی کیا ری ایکشن ہوگا اسکا…
وہ اس وقت واقعی پریشانی کی زد میں تھا…
جو اب تک.کی.ملاقاتوں کا سین.بتایا ہے نا.تو.نے اس.سے کوئی گفھا بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ.سیدھا ٹھا کر کے منہ.پہ.”انکار”
ہو گا…
یوشع نے اسے آئینہ دکھایا تھا…
برہان.نے اسے گھوری سے نوازا.تھا…
یار تو پہلے بات کر لے بھابھی….آئی مین.”بھابھی ٹو بی “سے…. تسلی سے انسے بات کر , اہنے دل.کا حال.بتا اور کہہ دے کہ.تو سیریس ہے اور شادی کرنا چاہتا ہے…اگر سیدھی طرح.مان.جاتی ہیں.تو بیسٹ ہے نہی.تو انکو.کنونس کر….. ویسے بھی مشکل ہی ہے وہ انکار کرے….یار تقریباً ہر اچھے اور امیر گھرانے کی لڑکی تجھ سے شادی کے لیے آرام.سے.مان.جائے… بزنس.ٹائیکون.فرحان.شاہ آفندی کا.بھائی ہے آخر…
یوشع نے مشورہ دیا تھاِ…
یار بات کرنا ہی تو مشکل.ہے…تو نہی جانتا….
اتنی سیدھی ہوتی تو مسئلہ ہی کیا تھا….
وہ چلتی پھرتی افلاطون.ہے …ِِ پوری آفت کی پڑیا…..
برہان.نے مقدس کا سوچ کر کہا تھا….
اسکی.نظروں میں.اسکا سراپا.گھوم.گیا جو.اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا….
بس.نکل.گئی ہوا؟؟ یہی.مسئلہ.ہوتا ہے تم ہینڈسم.لڑکوں.کا…ِکہاں.ایک.طرف ادھے.شہر.کی.لڑکیاں.دیکھ دیکھ.کر آہیں.بھتی ہیں.اور تم.لوگوں.کو.مزید.سر.پر چڑھاتی ہیں اور جو.ایک پسند آگئی اس کے سامنے بات کرنے.کے.بھی.گٹس نہی ہوتے….
یوشع.نے اسے چڑایا تھا…
گٹس کس نے.کہا.نہی ہیں…
برہان.کو.اسکی بات واقعی لگی تھی….
ہاں.تو بات کر.سیدھی طرح اس سے…یا پھر چپ چاپ بیٹھ کر اسکی.شادی انجوائے.کر…پھر اسکے.بچوں.کا ماموں بن.جانا…
ہمم.ٹھیک کہتا.ہے…بات کرنی ئو گی….ابا بننا.ہے.ماما.نہی…
برہان.بھی.اسکی بات سن ہنس دیا تھا..
وہ دونوں آفس جانے کے لیے نکل چکے تھے….
اشعر آج کی.میٹنگ کی.فائلز ایک بار چیک کر رہا تھا…
فرحانے وہ یلو والی فائل کہاں ہے؟؟
اشعر نے ایک فائل نا پا کر پوچھا تھا….
کونسی؟؟
ڈرائیور کرتے فرحان.نے پوچھا تھا
وہ ایگریمنٹ والی…اشعر نے.یاد دلایا…
کل.دی تو تھی تجھے شام میں…پھر ان.میں.ہی رکھی نہی تھی تو.نے…
فرحان.نے اچھنبے سے پوچھا تھا..
نہی میں.نے تو ٹیبل پر جو.فائلز پڑی تھیں.ان پر رکھ دی تھی
اشعر.نے.بتایا تھا..
افس اچکا تھا ِفرحان نے بریک لگائی تھی.
گدھے … وہ ان میں.رکھنی تھی…ٹیبل والی.فائلز تو وہ تھیں جو میں کبٌرڈ میں.رکھ آیا ہوں.انکا کیا کام آج… وہ.دوسرے پراجیکٹ کی تھین…
فرحان نے اسے بتایا تھاِ.
او..تو مجھے الہام ہونا.تھا…
اشعر.نے.جواب.دیا…
بھوسا.تیرے دماغ میں.بھرا ہے …اب.نکل.اتر…ِ میں لے.کر اتا ہوں…کتنا ٹئم.ہے.میٹنگ میں؟؟
فرحان.نے پوچھا تھا
ابھی.ڈھائی گھنٹے ہیں آرام.سے لے آ…ویسے بھی آجکل.گھر زیادہ جلدی نہی.ہوتی گھر.بھاگنے کی
اشعر.نے.شرارت سے کہا تھا
ظاہر ہے آفس میں.تیرے شکل دیکھ.دیکھ.کر بندہ اکتا ہی جائے.نا..
فرحان.نے.جواب.دیا تھا..
دفا.ہو.جا..سب پتا ہے مجھے..جورو کا غلام….
اشعر کے کہنے کی دیر تھی فرحان نے اسکی.گردن.پکڑی تھی
چل ایک کام.کرتے ہیں….آج نا.تو.اپنے کمرے میں.جانا.نا میں…دونوں مل کر رات گزاریں گے لاؤنج میں.ایک.دوسرے کے ساتھ….
فرحان کے کہنے کی.دیر تھی.کہ.اشعر ایک.دم ہوا…
میں تو.مذاق کر رہا تھا. .ِتو سیریس ہی ہوگیا
اشعر فوراً لائن پر آیا تھا جبکہ فرحان کا قہقہہ سننے سے تعلق رکھتا تھا…
نکل اب…
وہ ہولے سے مسکرا دیا اور گھر کی راستے ہر گاڑی واپس موڑ دی…
گاڑی کھڑی کر کے وہ تیزی سے سیڑھیاں.چڑھتا روم میں.آیا تھا…
روم کا دروازہ کھولا تو اندر.کوئی نا.تھا…
اسنے آس پاس نگاہ دوڑائی جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو…
اسی اسنا..نگاہ سامنے.ٹیرس.کے.کھلے دروازے کی جانب اٹھی تھی…
وہ سیدھا ادھر چل.دیا…
سامنے وہ کھڑی تھی…. لمبےنم.بال ایک طرف گرائے انکو.تولیے.سے رگڑنے میں.مصروف تھی. .
بالوں.کی.وجہ سے اسکے.کپڑے بھی کچھ گیلے ہو.کر.چپک رہے تھے…
نمرہ کی پیٹھ اسکی.طرف تھی سو وہ اسے دیکھ نا.پائی
وہ خاموش.قدم اٹھاتا اس تک گیا اور شرارت سے اسکی.کمر.پر.دائیں ہاتھ کی.انگلیاں.رکھ.کر چلائی تھیں
وہ شاور لے.کر.نکلی تو سیدھا ٹیرس.پر چل.دی….
آج.موسم.خاصا.خوشگوار تھا….
وہ ایک طرف کھڑی.نم بالوں.کو.تولیے سے رگڑنے لگی…..
ابھی وہ بال ایک.برف کیے سکھا ہی رہی تھی اسکو اپنی کمر.پر کسی کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا تھا…
اسکا دل دھک سے منہ.کو.ایا.تھا اور وہ حلق کے بل.پوری قوت سے چیخنے ہی والی تھی کہ مقابل نے اسے اپنی جانب موڑ کراسکے.منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی چینخ کا گلا گھونٹا تھا…
اسنے.پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے دیکھا تو وہ کھڑا تھا…
بلیک جینز پر براؤن.شرٹ پہنے, چہرے ہر شرارتی مسکراہٹ لیے….
اگلے.لمحے نمرہ کی آنکھوں.میں.غصہ ابھرا تھا.اور اسنے.فوراً ہاتھ اٹھا کر اپنے منہ سے اسکا.ہاتھ جھٹکا تھا….
آپکو مینرز نہی ہیں کسی کے روم میں ناک کر کے آتے ہیں….
آنکھوں میں.غصہ لیے اسنے سوال کیا تھا….
جبکہ.مقابل…وہ تو فرصت سے اسکا جائزہ لینے میں مصروف تھا….
لمبے نم بال ,تروتازہ چہرہ,براؤن.کلر کی فٹنگ والی قمیض جس میں.اسکا سراپا.نمایاں.ہو رہا تھا ..
نمرہ نے.اسے خود کو.دیکھتے پایا تو اسے یاد آیا وہ دوپٹے کے بغیر ہی باہر آئی تھی…
اسنے فوراً تولیہ آگے کر کے دوپٹے کے سٹائل میں.خود پر.ڈالا تھا….
فرحان نے بہت غور سے اسکی حرکت دیکھی تھی….
ایک ہاتھ اگے بڑھا کراسکی کمر کے گرد حمائل کرتا اسنے جھٹکے سے اسے خود سے قریب کیا تھا……
وہ سیدھا اس سے ٹکرائی تھی…
نم بالوں کی لٹ کو انگلیوں سے چھیڑتا وہ اس سے.مخاطب ہوا تھا….
مینرز تو بہت ہیں.ڈئیر وائف بٹ آپکی اطلاع کے لیے عرض ہے یہ کسی کا نہی میرا اپنا کمرہ ہے…سو مجھے ناک کرنے کی قطعی ضرورت نہی….. اور اگر ناک کر کے آتا تو یہ سب مس کر دیتا.نا….
اسنے شرارت سے نمرہ کی ناک.دبائی تھی…
جبکہ وہ ایک جھٹکے سے اسکے حصار.سے خود کو.آزاد کرتی نکلی تھی…..
چیپ …… منہ میں بڑبڑاتی وہ کمرے میں.چل دی تھی….
کمرے میں آکر اسنے تولیہ ایک طرف پھینک کر دوپٹہ اٹھا کر کیا تھا…..
فرحان ڈریسنگ کی الماریوں کی جانب چل.دیا.جہاں وہ اپنی فائلز رکھتا تھا…
فو منٹ بعد ہاتھ میں فائل لیے وہ برآمد ہوا تھا…..
نمرہ جو ٹیرس پہ تولیہ سوکھنے کے لیے ڈال کر آرہی تھی ایک.دم وہ اسکے سامنے آیا.اور اسے سنبھلنے کا موقعہ دیے بغیر اسکے.ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے…
شام میں ملتے ہیں…
یہ کہہ کر اسکا گال تھپتھپا تا وہ رکا نہی…
روم کے دروازے پر وہ رکا اورمڑا تھا…
اور ہاں روم لاک کرنا بہتر ہوتا ہے ایسی حالت میں…
اسے کہتا وہ جا چکا تھا جبکہ وہ.ابھی تک اسکا لمس اپنے ماتھے پر محسوس کرتی کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں تھی….
اس کی.آخری بات فرحان کے جانے کے بعد اسکے کانوں میں پڑی تھی….
وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی اسکا.اشارہ.اسکی نم قمیض کی طرف تھا….
اسے اپنی.بے دھیانی پر غصہ آیا تھا
منہ میں بڑبڑاتی پیر پٹختی وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے چل دی جہاں.اسے بال.سلجھانے تھے
وہ گہری نیند میں.ڈوبی ہوئی تھی جب اسے کہیں دور سے.موبائل بجنے کی آواز.ائی…
مسلسل آواز سے نیند کا تسلسل ٹوٹا تو دیکھا سائیڈ ٹیبل پر پڑا اسکا.موبائل دھاڑیں مار رہا تھا…
اسنے وقت دیکھا تو رات کے بارہ بجنے والے تھے..
پھر.بے دلی سے.موبائل اٹھایا جو مسلسل بجی جا.رہا تھا….کال کرنے والا.بھی.اسی کی طرح ڈھیٹ واقع ہوا تھا
سکرین پر انجان.نمبر جگمگا رہا تھاِِِکچھ دیر وہ سکرین گھورتی رہی اور.بالآخر کال اٹھا لی…
کون؟؟ اسنے.سوال کیا تھا…
جبکہ.مقابل کی دھڑکنیں ایک.دم تیز.ہوئی تھیں. …
میں.برہان.شاہ آفندی ِ….
اسنے.جواب.دیا تھاِ..
مقدس کو.ایک.دم.حیرت ہوئی….وہ انسان اسکو.کیوں کال کرنے.لگا وہ بھی.اتنے اچانک رات کے اس پہر…
خیر.سوالوں کے جواب.وہی دے سکتا تھا…
جی.فرمائیے؟؟؟ کیوں.تکلیف کی آپ نے اس وقت….
اسنے.سوال کیا.تھا..جبکہ لہجہ تو اسکا.نام.سن.کر بے حد بے زاری سے پُر ہو گیا تھا
مجھے تم.سے بہت ضروری بات کرنی ہے….مگر میری بات تحمل.سے سننا.اور.سوچنا پلیز…میرا مقصد بالکل غلط نہی ہے …. اس لیے ڈائریکٹ تم.سے سیدھی بات کر رہا ہوں…
برہان نے.کسی بھی لگی پٹی کے بغیر کہا تھا…
ہوں فرمائیے…..
مقدس نے.تجسس.کے.ہاتھوں مجبور ہو کر انسانو کی طرح جواب دیا تھا….
ایکچولی …. مجھے تم.پسند.ہو.مقدس…ِآئی ڈونٹ نو کب کیسے کیوں…بٹ آئی لائیک یو…. شاید تم.سے محبت.کرنے.لگا ئوں…ِ.
احساس تب ہوا.جب آج بھابھی کے.منہ سے تمہارے رشتے کا.سنا… میں برداشت نہی.کر سکتا تم.کسی اور سے شادی کرو…تم.میری بات سن.رہی ہو.نا؟؟؟
مقابل.کو.خاموش پاکر اس.نے.سوال کیا.تھا….
جبکہ.مقدس.کا.رنگ ایک دم.فق ہوا تھا اور پھر .ایک.دم شدید لال بھبھوکا.ِ.ِِ
جی سن.رہی ہوں آپکی.بکواس.مسٹر برہان شاہ….
آپ نے یہ سب فضولیات بکنے کے لیے کال کی تھی…..
وہ ا
لال پیلی ہوئی تھی…
Watch your mouth girl!I am searious!
اسکے الفاظ برہان کے کانوں سے دھواں.نکال.گئے تھے….
Serious my foot!
کونسی.گھٹیا.فلم دیکھ.کر سوئے تھے جو ایک دم.ہی.ہیرو کی روح جاگ اٹھی اس وقت…
وہ پھر سے پھنکاری تھی….
تم میری بات کو.سمجھِِ……..
ابھی اسکی بات.مکمل.نا ہوئی تھی کہ وہ بیچ.میں.بولی….
مجھے اس.وقت شدید نیند آرہی ہے اور اپکو بھی نیند کی اشد ضرورت ہے …
اور یہ کہہ.کر.اسنے ٹھا کا.کے.کال.کاٹ کر موبائل.ٹیبل.ہر دے مارا تھا….
رضیہ بیگم اور تالیہ ایک نار پھر.بلال ولاہ میں موجود تھیں. ….
سب کو شائبہ تھا کہ شاید وہ حارث کی وجہ سے شوروغل کرنے آئی ہوں مگر سب کو شدید حیرت ہوئی یہ جان کر کہ انھیں کسی سے کوئی گلہ نہی تھا…نا انھوں نے فرحان کو برا بھلا کہا اور نا کسی اور کو بلکہ وہ سب کے صدقے واری جا رہی تھیں اور خدا سے اپنی اولاد کے لئے ہدایت بھی مانگ رہی تھیں. ….
تالیہ نے لیڈیز بوتیک کے ساتھ ہی ایک جینٹس شاپ.کھولی تھی. .جہاں ان.کے.مطابق حارث اب حالت بہتر ہونے پر کام کافی زمہ داری سے سر انجام دے رہا تھا….
سب کو.جان.کر.خوشی ہوئی تھی وہ واقعی اگر محنت.کر کے عزت سے روزی کما رہا تھا….
نمرہ کو تالیہ بارہا بار اپنی بوتیک سے شاپنگ کرنے کا کہہ.چکی تھی مگر فرحان نے اسکو سختی سے منع کیا ہوا تھا سو وہ ہر بار دل مسور کر چپ ہو جاتی….. کچھ اسے خود بھی حارث کی.موجودگی کا.ندازہ تھا سو وہ حامی نا.بھر پاتی…جبکہ.تالیہ کا پر خلوص لہجہ اسے شرمندہ سا کر جاتا تھا….اس کے بقول ننرہ نے.شاید.انکو.دل.سے.معاف نا.کیا تھا…
فرحان کا غصہ اب.زرا.کم ئو.چکا.تھا…. کیونکہ تالیہ اور.رضیہ بیگم کے مطابق.وہ اب سدھرنے لگا تھا…جبکہ.درحقیقت انسان کی.فطرت کبھی.نہی.بدلتی….
وہ شاپ پر.دھیان.دے نا.دے البتہ تالیہ کے پاس لیڈیز بوتیک پر آنے والی ہر عورت پر دھیان.دینا اپنا اولین فرض سمجھتا تھا…
وہ سو کر اٹھی تو رات والی کال.یاد آئئ تھی. اسکو….
حد ہوتی ہے.بد تمیزی کی.بھی….
منہ میں.بڑبڑاتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی….
وہ مقدس ہی کیا.جو.کسی بات کو.سیریس لے لیتی…
ابھی وہ منہ.ہاتھ دھو.کر نکلی تو.نمرہ.کی کال آنے لگی اور ایک دم.جو.خبر اسکو.ملی.وہ نمرہ کی طرح اس کے طوطے بھی اڑا گئی تھی…
مقی کل.رزلٹ آراہا ہے ففتھ ایئر کا…ڈیٹ کنفرم.ئو گئی ہے اناؤنس.ہوا.ابھی ویب سائٹ دیکھی میں…
نمرہ.نے.گویا.بم.پھوڑا تھا…
ِہائے اللہ کیا.ہے.لڑکی اچھی بات.کا کرنا.تو….
چل میں.نے.نفل پڑھنے ہیں ..کال.رکھ…
فون کاٹ کر وہ جائے.نماز بچا.کر.بیٹھ گئی.تھی….
برہان.شاہ کا خیال.دور.دور.تک کہیں نا.رہا تھا اب…
اور بالآخر رزلٹ بھی آگیا.تھا….
وہ.سب کامیاب رہی تھیں جبکہ.نمرہ نے.نا.سرف بورڈ ٹاپ کیا تھا.بلکہ پچھلے ہانچ سال.کا.ریکارڈ بھی بریک.لیا تھا…..
سب کی خوشی.دیدنی تھی…. فرحان تو.خوشی سے پھولے.نہی.سما رہا تھا جبکہ وہ چہکتی ہوئی ہر کسی سے.مبارک باد.وصول کر رہی تھی….
ان.چند گھنٹوں میں اسے.بے.تحاشا.تحائف.مل چکے تھے…
ملک.وجاہت.کا سر.کچھ اور فخر سے.بلند ہو.گیا تھا….
ایسا ہی حال ملک.سیال اور امروزیہ بیگم.کا تھا…
آمنہ بیگم بیٹے کی.خوش.قسمتی پر نازاں تھیں…
تالیہ اور رضیہ بیگم بھی جبراً چہرے پر.مسکراہٹ سجائے پیش پیش تھیں. …نمرہ کی.اس قدر اہمیت اور وقعت انکی.آنکھوں میں.سوئی کی.طرح چبھنے لگی تھی…. کیونکہ.اس سب کی خواہش مند تو.تالیہ.تھی….
نمرہ کے کالج میں.تقریب تھی جس میں اس نے فرحان.کے ساتھ شرکت کی تھی….
ڈسٹنکشن کی.وجہ.سے اسے اپنی.مرضی سے ہاؤس جاب کے لیے ہوسپٹل سلیکٹ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا….
حویلی سے پچیس منٹ کے فاڈلے پر اسلام آباد کا نیو.سیکٹر.بنا تھا جہاں.نیا.اور کافی بڑا ہسپتال بھی.بنایا گیا تھا….
فاصلے اور اپنی اسانی کو دیکھتے ہوئے اسنے اسی ہسپتال کا.انتخاب کیا تھا….
تقریب ختم ہوئی تو.مقدس پارکنگ میں.کھڑی گاڑی کا انتظار.کر.رہی تھی…
اتنے.میں بلیک چمکتی سیوک گاڑی اس کے سامنے آکر.رکی تھی…
اسنے حیرت سے گاڑی کو دیکھا تھا….
اتنے میں.فرنٹ سیٹ کا.دروازہ کھلا اور بلیک جینز اور وائٹ شرٹ میں.ملبوس وجہہ چہرہ لیے برہان.باہر آیا تھا…
سے.وہاں.دیکھ.کر.مقدس کو.حیرت ہوئی تھی…وہ اسی کی.جانب آیا تھا…
Congratulations on your graduation
!!
اسنے.مسکرا کر.مبارک باد دی تھی جبکہ.وہ کھا جانے.والی.آنکھوں سے اسے.دیکھتے ہوئے.رخ پھیر گئی….
مجھے تم سے ضروری بات کرنی.ہے مقدس…
برہان نے بات شروع کی.تھی…
پر.مجھے تم سے کوئی.بات.نہی.کرنی…
مقدس نے.جواب.دیا تھا….
جانتا ئوں.بٹ پلیز ایک.بار.میری بات.تسلی سے سن.لو….ِپھر فیصلہ تمہارا.ہی.ہو گا…
برہان.نے.امید سے کہا تھا… اسے.امید تھی وہ اسے منا.لے گا…
جو بکواس تم.نے.کئ تھی…وہی کافی نہی.کیا…
مقدس نے طیش سے کہا تھا..
میری بات تو تمہیں سننی ہوگی…
اسکا ہاتھ پکڑتا.اسنے.مقدس.کو.گاڑی میں.ڈالا.تھا اور.جھٹکے سے کار لاک کی.تھی…
یہ کیا کر رہے ہو؟؟
وہ برہمی سے گویا ہوئی…
تم نے.میری کال والی.بات کا کوئی جواب.نہی دیا …
برہان.نے بات.شروع کی تھی
اگر اسکا گھٹیا کا بات کا کوئی جواب میرے ہاس ہوتا تو ضرور دیتی تمہیں. ..
مقدس.نے. سفاکئ سےکہا تھا
جبکہ.اسکے.امفاظ برہان شاہ کے ماتھے پر شکنیں ابھار.گئے تھے…. وہ اسکی.تزلیل کرنے لگی تھی.
تم میری.محبت کو.گھٹیا کہہ.رہی ہو!#
برہان نے مٹھی.بھینچ.کر ضبط کرتے ہوئے کہا تھا
نہی میں.اس.مذاق کو.گھٹیا کہہ رہی ہوں.جو.تم.نے ادھی.رات کو.میرے ساتھ کیا یہ بات جانتے ہوئے کہ میری بات کہیں اور.طہ ہو.چکی ہے…
مقدس نے.یاد.دلایا تھا
فار گاڈ سیک یار میں.مذاق نہی کر رہا …میرے دل میں تمہارے لیے جو اموشنز.تھے, جو.محسوس کیا.میں.نے.وہ.بتا دیا تمہیں. ..
وہ جیسے.بے بس.ہوا.تھا
ہمم اموشنز…. مسٹر اس.سے پہلے کہ.میرے اندر کے.اموشنز باہر آئیں.اور می
میں اپکی.چھترول.کر دوں…فوراً یہاں.سے نو.دو.گیارہ ہو.جائیں….
مقدس نے دھمکی.دی تھی…
جبکی اسکی.بات.مقابل.کا.پارہ ہائی.کر رہی تھی..
وہ با مشکل صبر.کا.کڑوا.گھونٹ حلق.سے اتار رہا تھا..
دیکھو مقدس میں.بس یہ چاہتا.ہوں.تم.اس.رشتے سے.انکار.کر.دو…
اس.نے.کمال.ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا..
کیوں؟؟ جہیز اپ نے اپنی.جیب سے دینا.ہے جو.اتنی.فکر.ہے؟؟
وہ بھی کہاں.چپ رہ سکتی تھی….
میں.نے آرام سے تمہیں سمجھانا چاہا ہے..آگے تمہاری.مرضی..لیکن.اگر تم.نے انکار نا.کیا تو نتیجے کی.زما.دار تم خود ہو.گی…مائینڈ اٹ….
برہان کا ضبط جواب دینے.لگا تھا…وہ واقعی اسکے.دماغ کا.دہی کرنے میں.کامیاب رہی تھی
انجانے میں.وہ نا صرف مقابل کے غصے کو.ہوا.دے.گئی تھی.بلکہ شاید..ضد.بھی.دلا.گئی تھی…. اور یہ بات اس کے لیے.کتنا بڑا خطرہ ثابت ہو سکتئ تھی.اس.بات سے قطعی انجان وہ اتر کر.جا چکی تھی…
