Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 37) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 37) Part - 1
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
نمرہ.کو.عریبہ کمرے میں.لے آئی تھی…وہ.کافی.سنبھل.چکی.تھی…
اب.اسے فرحان.پر غصہ انے.لگا تھا…
ضرورت ہی.کیا.تھی اسے حارث سے الجھنے کی اور پھر اوپر.سے ٹانگ میں.اٹھتا درد…
دل.کر.رہا تھا فرحان.شاہ کا.دماغ درست کر.دے…
اس.بات سے انجان. کہ دماغ تو اسکا.درست ہونے.والا.تھا…
فرحان کچھ ٹھنڈا. ہوا آمنہ.بیگم.نے.پانی.وغیرہ پلایا. تھا.اسکو…
اب.وہ کافی حد.تک.سیٹ ہو.چکا تھا..غصہ کافی کم ہو.گیا تھا …ِ
عریبہ.نمرہ کے پاس.ہی تھی.جب.وہ کمرے میں.آیا اور.پھر شاور لینے چل.دیا…
کچھ دیر میں.وہ بھی جا چکی.تھی…
نمرہ اٹھ کر ڈریسنگ روم.میں.گئی اور ریشمی فراک.سے جان.چھڑوا.کر کالی.قمیض اور ساتھ وائٹ کھلا فلیپر پہنا تھا..
اسکا ارادہ فلیپر اوپر.کر.کے ٹانگ کا.زخم صاف کرنے کا تھا جہاں.سے چند.بوندیں.خون.کی.اسکے کپڑوں پر لگی تھیں اور.کچھ سوکھ چکا تھا…
فرحان شاور لینے گیا تھا…
اسنے.جا کر فرسٹ ایڈ.باکس نکالا …
اور اپنے فلیپر کو اٹھا کر گھٹنے.سے ذرا. اوپر تک لایا تھا…
زخم کا.معائنہ کیا پھر روئی پر سپرٹ لگائے اسکی صفائی کرنے لگی.مگر اسکو.شدید جلن.ہونے لگی تھی…
آہستہ آہستہ ہلکے سے وہ اسکو.صاف کر رہی تھی.کہ ایک دم باتھ کا.دروازہ کھلا اور گلے میں.تولیہ ڈالے بال.صاف کرتا وہ باہر.نکلا تھا…
جسم ہرپر شرٹ تو دور کی بات بنیان.تک.نا.تھی…
نمرہ.نے.جلدی سے نگاہ جھکائی اور.روئی سائیڈ.ہر.رکھتی جھٹ سے فلیپر نیچے کرنا چاہا تھا…
مگر فرحان.کی.نگاہ اس پر پڑ چکی تھی…
گوری سفید ٹانگ پر سرخ زخم کافی نمایاں.تھا جو اسکو.فوراً نظر.آگیا تھا…
وہ تیز قدم.اٹھاتا اس.تک ایا تھا. جو صوفے پر ہی بیٹھی تھی…
وہ اٹھنے ہی لگی جب وہ اس کے.سر پر.کھڑا تھا…
یہ کیا.ہوا.ہے؟؟
فرحان.نے.اسکا.فلیپر پکڑ کر.ہٹانا.چاہا…
کچھ نہی.ہوا…ِ
تڑخ.کر جواب.آیا تھا..ساتھ ہی وہ اٹھنے.لگی.تھی.کہ.فرحان.نے.کلائی.تھام.کر
.دوبارہ
اسے بٹھایا تھا…
نمرہ کو.سمجھ.نا.آیا.کیا.کرے..نظر اٹھانا کھٹن.تھا کیونکہ اس کے توانا کسرتی جسم.پر شرٹ نا.تھی….
اسنے اپنا.فلیپر چھڑوانا.چاہا کیونکہ.اسے بے انتہا جھجک ہوئی.تھی.
.زخم گھٹنے.سے ایک.انچ اوپر.تھا اور وہ کسی صورت فلیپر فرحان کے.سامنے اتنا اوپر.نہی.کر.سکتی تھی…
فرحان نے اسکا ہاتھ پیچھے رکھا اور فلیپر اوپر موڑتا گیا تھا….
نمرہ نے.مزاحمت کی تو ایک زبردست غصے بھری نگاہ اس پر ڈالی تھی جو اس نازک سی لڑکی کے لیے کافی ثابت ہوئی تھی…
شاید شام کو فرحان کی دیکھی گئی جنونیت کا.اثر تھا ورنہ وہ سہمنے والوں میں سے تو نا تھی…
اسکا فلیپر موڑتا وہ. گھٹنے سے اوپر تک لے گیا تھا…
زخم دیکھا تو وہ صاف ہو چکا تھا یعنی وہ اسے پہلے ہی کچھ حد تک صاف کر چکی تھی….
یہ کیسے ہوا؟؟
اسے.ایک دم.فکر ہوئی تھی…
نمرہ نے جواب نا دیا….
اسے شدید غصہ آیا تھا..بے حسی کی انتہا نہی تھی کہ خود ہی چوٹ پہنچا کر وہ اتنا انجان تھا …
کچھ پوچھا ہے میں.نے…
وہ دبی دبی اواز میں مخاطب تھا…
بقول اسکے محترمہ کانخرہ ہی نہی ختم ہو رہا تھا کہ جواب دیتیں….
شام کو لگا تھا جب دھکا دیا تھا آپ نے گاڑی میں…
نمرہ نے غصے سے باور.کروانے والے انداز میں جواب دیا تھا…اور.ساتھ ہی اسکا ہاتھ جھٹکنا.چاہا تھا….
آنکھوں.میں غصہ سموئے ایک نگاہ اس.ہر دالی تھی اور پھر نگاہ جھکا گئی تھی…
ایک دم.فرحان.کی نظر میں وہ منظر گھوم گیا جب وہ گاڑی سے نکلی تھی اور پھر وہ اسے واپس پٹخ کر گیا تھا…
اس وقت وہ ہوش میں ہی کب تھا کہ سوچتا اسکو لگ گئی تھی….
اسے ایک دم.شرمندگی ہوئی تھی…
فرحان نے اسکی جھجک کو.کسی بھی خاطر میں لائے بغیر سپرٹ اٹھائی, روئی پر ڈالی.اور اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر ٹانگ پر لگانے لگا…
درد اور جلن.سے نمرہ کی.سسکی.نکلی تھی..اور وہ آنکھیں مینچ گئی….
“سی”” اس کے.منہ.سے نکلہ تھا…
فرحان نے اسکی.جانب دیکھا تھا..
جو سختی.سے آنکھیں.مینچی بیٹھی تھی…
اسنے. اچھے سے زخم کی صفائی کی اور سنی پلاسٹ لگا کر اسکا فلیپر نیچے کیا تو وہ ابھی بھی ویسے ہی بیٹھی تھئ….
سرخ و سفید چہرہ, چھوٹی سی ناک جو رونے سے اور سرخ ہوئی تھی… بھیگی گھنیری مڑی ہوئی پلکوں.کی جھلر , روشن ماتھا, کان کے ہیچھے سلکی بال.اڑائے اور جلن کی وجہ کپکپاتے شنگرفی لب….
ایک سیکنڈ لگا تھا درمیانی.فاصلہ طہ کرنے میں.اور وہ خود کو روک نہی پایا تھا…
وہ آگے بڑھا اور جھک کر اسکے رخساروں پر اپنے ہونٹوں.رکھ دیئے تھے….
نمرہ جو.آنکھیں.مینچھے بیٹھی تھی.اس افتاد پر ایک.دم.اسکی آنکھیں بھک.سے کھلی تھیں….ِ
وہ اس پر جھکا.ہوا.تھا…
نمرہ.نے اسکےچوڑے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو پیچھے دھکیلنا چاہا تھا….
مگر وہ شاور لے کر.نکلا تھا اسکا جسم ابھی خشک نا تھا…اسکے نرم و ملائم.ہاتھ اسے پھلسے محسوس.ہوئے تھے..
جبکہ فرحان سے اسکی.مزاحمت. قطعی برداشت نا ہوئی تھی…
اسنے ایک ہاتھ سے اسکے دونوں.ہاتھ پکڑے تھے اور دوسرا ہاتھ اسکی گردن کے پیچھے لے کر گیا تھا اور اسے خود سے قریب تر کیا تھا….
اور اسکے چہرے کو دیوانہ وار چومتا وہ اسکی گردن.تک گیا تھا اور اپنے دہکتے لب اسکی.کالر بون پر رکھ دیئے تھے….
نمرہ کی. مزاحمت دم.توڑنے لگی تھی..مقابل.کی شدت اتنی سنگین.تھی کہ.وہ بری طرح گھبرا کر آنکھیں بند کر چکی تھی…
فرحان.اسکے لبوں پر گیا تھا اور اس بار انپر اپنے اپنی.مہر ثبت کی.تھی….
نمرہ کا سانس نا ہموار ہوا تھا…. مزید سکت نہی رہی تھی اسکی شدت سہنے کی..وہ ضبط کی انتہاؤں کو.چھونے لگی تھی…. آنکھیں.نمکین.پانیوں کا سمندر بن چکی تھیں…. اسے اپنی.روح فناہ.ہوتی محسوس ہوئی تھی…. سانس جیسے بند ہو جائے گی..دل کی.دھڑکن.تھم.جائے گی…اسکے لمس سے اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسی دوڑ گئی تھی….اسکا رواں.رواں کانپنے لگا تھا….
وہ ہولے سے اسکو.آزاد کرتا جدا ہوا.تھا مگر پیچھے.نا ہٹا تھا….
وہ اپنی اتھل پتھل سانسوں کو ہموار کرنے.لگی تھی…آنکھیں.بند تھیں جبکہ سانسیں. …
وہ بہت زور زور سے سانس لے رہی تھی. … اور ساتھ باقاعدہ کانپ رہی تھی….چہرہ بے تحاشا سرخ ہو چکا تھا…. گلے میں انسوؤں کا پھندا اٹک گیا تھا….
فرحان نے.انکھیں کھول کراسے دیکھا تھا …
اگلے.لمحے.اسنے.انکھیں.وا.کیں.تو.وہ اس کے بے تحاشا قریب تھا…
اتنا کہ اسکی سانسوں کے تھپیڑے نمرہ کا.چہرہ جھلسانے لگے تھے…..
نمرہ کی سمندر بنتی آنکھیں.اس سے چار ہوئی تھیں…
جبکہ اسکی.مزاحمت وہ بھولا نا تھا…
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا نمرہ سے مزید برداشت نا ہوا تھا اور آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے باہر کوبہہ نکلے تھے…
اسکے انسو دیکھ کر وہ.ششدہ رہ گیا تھا…
وجہ جاننے سے پہلے وہ بول اٹھی تھی…
I told you not to kiss a woman u dont love!!
آواز نہایت آہستہ مگر سفاک تھی…کرب تھا اس کی آواز میں….
فرحان نے ٹھٹک کر اسے دیکھا تھا اور اگلے لمحے ابھرنے والا جزبہ تھا غصہ….
نمرہ کے ہاتھ وہ آزاد کر چکا تھا…
ایک دم اسکی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں..
ایک دم اسنے.نمرہ کے شانے تھامے تھے….
Who says i dont love you??
I love you dammit !!
Why cant u understand. I love you…
وہ.دھاڑ ہی تو اٹھا تھا..
جب کہ اسے الفاظ
مقابل کو ششدہ کر گئے تھے….
کیسا اظہار تھا یہ.فرحان.شاہ کا….
وہ اظہار.جسے سننے لے لیے شاید نمرہ.سیال ہر پل محو انتظار رہی تھی…..گزشتہ.تین سالوں سے ……. جب سے اسنے فرحان سے بات کرنا شروع کی تھی… جب جب اس.نے اپنے رب کے حضور دعا کی تھی کہ اس کے دل میں.نمرہ کی محبت ڈال دے…وہ اظہار کر دے…
وہ اظہار آج ہوا.بھی.تو.کیسے…
جب وہ اس.پر اپنی ملکیت اور حق.جتا رہا تھا…
جب فرحان سے اسکی.مزاحمت برداشت نا.ہوئی تھی….
کیونکہ وہ اسکی.سنگین.جسارت کو مزید نا.سہہ سکی تھی ِِ.اور اسکا.روکنا.فرحان.شاہ کی.جنونیت اور غصے کو.ہوا.دے.گیا.تھا…
وہ تو سہی سے خوش.بھی نا.ہو.پائی تھی کہ وہ اسکی.کمر کے.گرد حصار باندھتا اسے قریب.کھینچ چکا تھا…
وہ اس کے.سینے.سے ٹکرائی تھی…ہاتھ ایک دم. اسکے.دیوار جیسے سینے.پر رکھے تھے…
محبت.کرتا ہوں.تم.سے…ِتمہیں دیکھنے کا., تمہیں محسوس کرنے کا.حق.سرف اور صرف.مجھے ہے….ِ دوبارہ مجھے روکنے کی.غلطی کی تو مجھ سے برا.کوئی.نا.ئو.گا…
تم.نے.میری نرمی.دیکھی ہے. صرف ِ.مجھے.مجبور مت کرو.کہ سختی بھی.دکھاؤں…. تم.سے اپنا.حق نہی لیا.تمہاری.مرضی کا.خیال.تھا… ورنہ.تعلق.قائم.کرنا.بائیں.ہاتھ کا.کھیل.ہے.نمرہ فرحان.شاہ… دوبارہ کوئی بھی رکاوٹ میرے اور تمہارے بیچ آئی تو.سب.تہس.نہس.کر.دوں.گا..
ہم دونوں.کے.درمیان.کبھی کسی تیسرے کی.مداخلت گوراہ نہی…مجھ سے دور.جانے.کا.سوچنا.بھی.مت… ایسا تصور بھی کیا.تو.ہر.شے کو.راکھ.کر.دوں.گا… بہت برا پیش آؤنگا…
تم.سے دوری میری برداشت سے باہر.ہے…
تمہیں.چھونے.پر اختیار نہی.مجھے…اور اجازت ہے.مجھے…کوئی روک.نہی سکتا..تم.بھی.نہی..چاہ کر بھی نہی…
دونوں.کا.خسارہ ہو گا… کوشش کرنا کہ میرے عتاب کو دعوت مت دینا….
وہ اس.کے اتنے قریب تھا کہ اسکی سانسوں کے تھپیڑے نمرہ کے چہرے کو جھلسا رہے تھے…
وہ بنا پلک جپھکائے اسکی جنونیت کی.روداد. نا صرف سن رہی تھی….بلکہ اسکی شدت کا.اندازہ اسے اچھی طرح ہو رہا تھا….
کیا کچھ.نا تھا اس کے سنگین انداز میں….
نمرہ کی زبان مانو.تالو سے جا چپکی تھی…
یہ کہہ کر اسکی پیشانی پر اپنی.محبت کی.مہر ثبت کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور سیدھا ڈریسنگ روم.میں چل.دیا جہاں سے اسے شرٹ لینی تھی….
جبکہ.وہ… اسکا.اوپر کا.سانس اوپر اور نیچے کس.نیچے رہ گیا تھا….
وہ کیا کہہ کر گیا تھا؟؟ وہ آج وہ.انکشافات کر کے گیا.تھا جن.کا وہ سات.جنموں میں تصور بھی نہی.کر سکتی تھی…
وہ اس قدر پزیسو ہو.جائے ےا؟؟؟ اس قدر اسے چاہے گا …یہ تو اسنے.خواب میں.بھی.نا سوچا تھا…
مگر.اسکی جسارتیں…. وہ کب انکی تاب لا سکتی تھی….اسکی نازک جان.انکو.سہنے کا حوصلہ نہی رکھ پاتی تھی…. فرحان کی.شدتیں.اسکے چودہ طبق روشن.کرنے میں ہر بار کامیاب رہتی تھیں….
اسے سمجھ نا آیا تھا وہ خوش ہو یا روئے….
سامنے.کھڑا وہ شخص اسکا شوہر اس سے دیوانی.محبت کا دعویدار تھا …..
جسے شاید وہ.بھی دیوانہ.وار چاہتی تھی….
اسکے ہونٹوں پر ہولے سے زخمی سی.مسکراہٹ ابھری تھی….
جبکہ.دل …آج کہیں.اس میں.سکون اترا.تھا….
اطمینان اترا تھا….
ہاں وہ خوش ہوئی تھی… مگر معافی..
کیا وہ.اسے معاف بھی کر چکی تھی؟؟؟
فلحال فیصلہ.کرنا کٹھن تھا…
ڈنر کے بعد وہ آمنہ بیگم.کے ساتھ ہی چپکی بیٹھی تھی…
جبکہ فرحان لاؤنج میں بیٹھا برہان سے کوئی فائل ڈسکس کر رہا تھا…..
اس سے پہلے وہ اٹھتا نمرہ اٹھ کر روم.میں.چل دی..
مجھے سو جانا چاہیے جلدی سے…
یہی خیال.آیا اور وہ چل دی…
ِکمرے میں آئی تو.بھک سے سب دماغ میں آیا تھا…
ایک.ایک لفظ..ہر حرکت..ایک ایک منظر…
اسکے پاؤں.من من کے ہو.گئے تھے…
بیڈ.پر جانے.سے اسے خوف.سا.آیا تھا…
وہ وہیں.سوفے پر ایک.طرف سکڑ کر.بیٹھ گئی.تھی…
سمجھ.نہی آرہا تھا.کیا.کرے…
فرحان.بالکل.ٹھنڈا.ہو.چکا.تھا.مگر.پھر.بھی شاید.وہ.تھوڑا.سا.ڈر.رہی تھی…
زیادہ. دیر ڈرنا گھبرانا.اسنے بھی کب.سیکھا تھا مگر فرحان.کا.انداز.ِ.
وہ چاہ کر بھی بیڈ.پر.نا.جا.پا رہی تھی…
اسے جلدی ہی فیصلہ کرنا.تھا فرحان.کے انے.سے پہلے. ..مگر قسمت….
ابھی وہ کچھ سوچ ہی نا.پائی تھی
اتنے میں.وہ.کمرے میں.داخل.ہوا.تھا…
اس پر نگاہ ڈالتے وہ بیڈ پر بیٹھا اور میلز.بھیجنے لگا…
دس.منٹ.بعد.وہ.اٹھا.اور.لیپ ٹاپ بند.کر.کے رکھا اور.چینج.کرنے.چل.دیا…
مزید.پانچ.منٹ گزرے وہ چینج.کر.کے آیا ..
نمرہ بالکل اسی طرح صوفے میں.ایک.طرف.لگی بیٹھی تھی…
دونوں.گھٹنے اوپر رکھے وہ ایک ہی.انداز.میں سکڑی .اب.تک بیٹھی تھی…
اسے حیرت سے اسے دیکھا..
غور کرنے پر کہیں.نا.کہیں.وہ اسکا ذہن.پڑ چکا تھا اور اسے سمجھ بھی گیاتھا…
ِ
اسے اب اندازہ ہو.رہا تھا. کہ.شائد وہ زیادہ ہی غصہ کر گیا تھا…پہلے اسکی نگاہوں.کے سامنے حارث کی اچھی خاصی دھلائی کر ڈالی , اوپر سے نمرہ.کو.ڈانٹ دینا…پھر.وہ زخم… اور اسکی جسارت اقر وہ الفاظ… ِ
اسکا میٹر. شاید.زیادہ ہی آؤٹ ہو گیا تھا جسکا.احساس اب ئو.رہا تھا…
جو.بھی تھا وہ ایک.نازک.سی لڑکی ہی تھی… جتنی.بہادر ہوتی اسکے اس انداز ہر تو سب.مرد چند. پل ساکت رہ گئے تھے تو وہ پھر
صنفِ نازک.تھی….
فرحان.نے بغور اسکو.دیکھا جو آنکھیں.پٹپٹائے کمرے کی.ہر چیز کا جائزہ ایسے لے رہی تھی جیسے پہلی بار دیکھ رہی.ہو…
کبھی چھت کو.دیکھتی, کبھی سامنے.دیوار پر لگی اس قینتی پینٹنگ کو..کبھی پردے کو…
جیسے رات کے اس وقت اس.سے زیادہ ضروری کام.اس.دنیا.و.مافیا میں. اسے کوئی نا.تھا…اور وہ بے انتہا مصروف ہو
وہ سمجھ چکا تھا وہ اس سے نظریں.ملانے.سے گریزاں.ہے…
اسکی حرکتیں فرحان.کے چہرے پر مسکان.لے آئی تھیں….
اس سے پہلے وہ اٹھ کر اس تک آتا اسے ایک.شرارت سوجھی تھی…
کیوں.نا.محترمہ کی.ہمت.دیکھی.جائے…ِاسنے.شوخی.سے سوچا تھا…
اہم….اسنے.گلا.کھنکارا تھا…
نمرہ.نے.فوراً آنکھیں.گھمائی اور چھت پر.لے گئی مگر اسکی جانب نا.دیکھا تھا جیسے سنا.ہی.نا.ہو…
سونا.نہی.ہے کیا؟؟
آنکھوں.میں.شوخی.کیئے..مگر.سنجیدہ چہرہ کئے اس نے پوچھا تھا…
جبکہ فرحان.کی.آواز.وہ سن.سکتی تھی…
جواب نا.دیتی تو اپنی شامت.کو.دعوت دیتی….
نیند نہی آئی…آپ سو.جائیں…
اسنے.بغیر دیکھے ہی جواب دیا تھا…
اس بات سے انجان.کہ وہ اچھی طرح اب.جان.چکا تھا کہ.جس دن.وہ.سفر.کرتی تھی اسے سونے کی کتنی.جلدی ہوتی تھی
ڈر گئی کیا؟؟
اسنے اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بغور اس کے فیس ایکسپریشنز دیکھتے ہوئے پوچھا تھا….
نمرہ نے اسکی بات سنی تو ایک دم اسکی جانب دیکھا تھا ..اسکو.کہاں.گوارا تھا کہ کسی پر اسکی کمزوری عیاں.ہوتی…خاص کر جب وہ فرحان شاہ ہو….
میں نے کیوں.ڈرنا ہے….
میں کسی سے نہی ڈرتی….
اسنے اچھے خاصے جتانے والے انداز میں جواب.دیا تھا…. جیسے کوئی بچہ غلطی پکڑے جانے ہر مکرنے کی.کوشش کرتا ہے…
فرحان اسکے تاظرات انجوائے کرتا نچلا ہونٹ دانت میں.دبا کر مسکراہٹ روک پایا تھا….
اچھا اگر ایسی.بات ہے تو.سوتی کیوں.نہی….
اسنے دلچسپی سے اسکا چہرہ نگاہوں.میں رکھتے ہوئے پوچھا تھا..
بتایا تو.ہے نیند نہی آ رہی….
نمرہ نے تنک کر جواب دیا تھا…
مجھے تو لگ رہا ہے تم ڈر رہی ہو…
وہ باز.نا آیا تھا…
ڈر گئی..وہ بھی آپ سے… میری سات نسلیں.بھی اپ سے نا ڈریں…
اسے گھوری سے نوازتے ہوئے ذرا برہمی سے جواب دیا تھا….وہ اسے تنگ کر.رہا تھا اور وہ تنگ ہو.بھی رہی تھی….
او یعنی.تمہاری سات نسلیں بھی.مجھ.سے نہی.ڈریں.گی…ہیں نا….تو چلو آکر لیٹو ادھر…ثابت کر دو.تم.ڈر نہی.رہی…
فرحان.نے.جیسے اسے چیلنج کیا تھا..جانتا تھا یہ.حربہ ضرور کامیاب رہے گا اور ایسا ہی ہوا…
نمرہ.سیال اور فرحان شاہ سے مات…. یہ تو نا ممکن تھا…
فوراً دوپٹہ سیٹ کرتی وہ اٹھی اور بیڈ کی جقنب چل.دی… آخر کو ثابت جو کرنا تھا
بیڈ پر آکر اپنی طرف وہ لیٹ گئی مگر. آج دوپٹہ نہی اتارا تھا….. اسکی حرکت سے فرحان.محضوظ ہوا تھا…
وہ اسکی گھبراہٹ سمجھ رہا تھا….
لیٹ گئی…
نمرہ.نے بتانا.ضروری.سمجھا تھا ….
تم.نے.کہا.تمہاری سات نسلیں بھی.مجھ سے نہی.ڈرتی.ہیں.نا…؟؟؟
فرحان.نے اسے دیکھتے ہوئے.پوچھا تھا..آنکھوں میں شرارت اور شوخی.واضح تھی
بالکل… نمرہ نے گردن اکڑا کر.جواب دیا تھا…
تو ڈارلنگ ایسا تو تبھی پوسیبل ہے نا جب تمہاری نسلیں اس.دنیا.میں.پہلے آئیں.تو…
میرے خیال.سے پہلے انھیں.لانے.کے بارے میں سوچنا چاہیے ہمیں…
فرحان.ذرا سا اسکی.جانب جھکا تھا…
جبکہ اسکی بات نمرہ کو پہلے تو سمجھ نا آئی…لیکن آخری بات اسے سب سمجھا گئی تھی…ایک دم اسکا چہرہ اور کان کی.لوئیں گرم ہوئی تھیں. ..بے تحاشا سرخ. …
فرحان بہت دلچسپی سے اسلے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھ رہا تھا….
صاف رنگت میں.گھلتی سرخی… وہ میسمرائز سا.ہونے لگا تھا….
جبکہ اسکی بات سن.کر وہ تھوڑا اور پیچھے کو.کھسکی تھی….
دوپٹہ لپیٹے اسنے بلینکٹ ذرا سختی سے پکڑا تھا….
فرحان.نے ہاتھ بڑھا.کر اسکا دوپٹہ فوراً سے ہٹا دیا تھا….
اعتبار نہی.ہے کیا؟؟؟
سوال آیا تھا جبکہ.اشارہ اسکے عادت کے خلاف دوپٹہ لے کر سونے پر تھا…
نن..نہی..ایسی تو بات نہی….
نمرہ نے فوراً جواب.دیا.تھا…
ہمم..اچھی بات.ہے…. ایسی بات ہونی.بھی.نہی چاہیے… سو جاؤ….
اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتا وہ پیچھے ہوا تھا اور اپنی.جانب لیٹ چکا تھا…
