Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 2)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
وہ اس وقت لان میں کھڑا گہری سوچ میں محو تھا. اج شام رونما ہونے والا واقعہ اسکے ذہن کی سکرین پر کسی فلم کی طرح چلنے لگا. وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا.
اسے اسکا بےساختہ خود سے لپٹنا یاد آیا.
تو کیا وہ آج بھی مجھ پر اعتبار کرتی ہے ؟؟
شاید ہاں.
دل نے دہائی دی.
وہ صرف ایک لاشعوری عمل تھا بس!!
دماغ مخل ہوا
اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ یونہی لپٹ جاتی اس سے بھی ؟؟
یہ سوچ ہی اسکو غصے سے دھواں دھواں کر گئی.
نہیں. ..دل نے نفی کی. .
شاید وہ اب بھی مجھ پر بھروسہ کرتی ہو یقین کرتی ہو! !
محبت کرتی ہو! !.
دل نے گواہی دی
“محبت” !!!!!!!!!!!
اس سب کے بعد بھی. ..”ناممکن”
دماغ نے دلیل دی.
پر وہ معصوم ہے. .
اسکا دل پاک ہے..دل پھر بضد ہوا.
ہوں. کیا خبر. ……
کیا تم واقعی بےخبر ہو فرحان شاہ ؟؟کیا تم نہیں جانتے وہ وہاں کیوں گئی ؟؟؟کیسے گئی ؟؟ کیوں سب نے آج اس پر سوال اٹھائے ؟؟ کیوں اسکے کردار پر انگلیاں اٹھیں ؟؟کیا تم واقعی اتنے لاتعلق ہو ؟؟؟
ضمیر نے اسےجھنجھوڑ کر آئینہ دکھایا تھا. ..حقیقت کا آئینہ! !
حقیقت بہت تلخ تھی وہ بدستور نگاہ چرانے پر مجبور ہوگیا. ..
نہیں یہ سب اسکی اپنی ضد اور ہڈ دھرمی کا نتیجہ ہے. ..دماغ غلطی ماننے سے انکاری تھا. .
مرد تھا نا. .اسکی انا کیسے گوارہ کرتی کہ وہ غلطی تسلیم کر لے. .سر خم کر دے. .اس نازک سی لڑکی کے سامنے جھک جائے. .
دل اور دماغ کی جنگ میں بالآخر دماغ آج پھر فاتح قرار پایا. ..
4 سال سے دماغ اور دل کی تکرار میں دماغ جیت رہا تھا..انا روک رہی تھی ..اک بار اور سہی! !!
یار آج گھر جلدی جانا ہے.
مُقی بولی
کیوں ؟؟ابھی تو مجھے باتیں کرنی تھیں. .
نمرہ بولی.
یارا آج آپی کے سسرال والے آرہے ہیں سو امی نے صبح ہی حکم جاری کیا کہ زبان کو بریک لگانا اور جلدی واپسی کی کرنا.یو نو کچن کا کام!
تو آج آپ کچن کو اپنے سگھڑاپے کا شرف بخشنے والی ہیں! !
ایمن شرارت سے بولی.
میری جان جاتی ہے کچن سے. .پتہ نہیں یہ ٹی وی میں کیسے اتنی تھونپا تھانپی کر کے کچن ميں ناچ ناچ. کر کام کر رہی ہوتی ہیں ؟؟
مُقی منہ بسور کر بولی. .
ہائے گوپی بہو یاد دلا دی. .ا
ایمن گویا ہوئی.
تم کیا سوچ رہی ہو؟اسنے نمرہ سے پوچھا. .
یہی کہ جاننا تو مجھے بھی ہے! !
کیا ؟؟دونوں بیک وقت بولیں
وہی سستا نشہ جو وہ کرتی. ہیں اتنا چہک کر کچن میں کام کرنے کے لیے! !!![]()
تینوں ہنسنے لگیں. .
وہ تینوں بچپن سے ساتھ تھیں. پہلے سکول پھر کالج اور اب میڈیکل کالج میں بھی ساتھ. تینوں کا فرسٹ ایئر تھا.مقدس اور نمرہ دونوں ذرا شرارتی تھیں جبکہ ایمن ان کے مقابلے میں سنجیدہ مزاج کی تھی..پر اسکے باوجود یہ دوستی قائم تھی. ..
نمرہ اور ایمن بھائیوں کی اکلوتی بہنیں تھیں جبکہ مقدس کی تین بہنیں اور دو بھائی تھے. لیکن نمرہ اور ایمن اس کے لیے بہنوں سے بڑھ کر تھیں. ..
نمرہ پیٹ کی بہت ہلکی تھی جبتک ہر بات تفصیل سے انکے گوش گزار نا کرتی اسکو سکون نا آتا…
چلو چلیں کہیں مہمانوں کے سامنے کلاس ہی نا ہو جائے تمہاری. …
وہ آج کافی دن بعد یونی ایا تھا .اسنے اشعر کو میسج کیا. اور وہ دو منٹ میں حاضر.
کوئیک سروس مین! ! وہ شرارت سے بولا. .
بس آپ نے بلایا ہم چلے آئے ![]()
اسنے دانت دکھائے. .
اور اپ نے جسکو نہیں بھی بلایا وہ بھی چلے ائے ![]()
![]()
اسکا اشارہ فرحان کے پیچھے سے آتی ردا کی جانب تھا.
ہائے فرحان! !کیسے ہو؟اتنے دن بعد ائے ہو, ائی رئیلی مسڈ یو! !وہ تھوڑا آگے بڑھ کر بولی..
اہممممممم…..اشعر نے گلا کھنکھکاد کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا ضروری سمجھا. .
اوکے گائز مجھے چلنا ہوگا. …فرحان بولا
اب کدھر شہزادے ؟
اشعر نے دریافت کیا.
یار آفس کا چکر لگانا ہے. .چلے گا ساتھ؟؟
ہاں اوکے پر اسکے بعد سیدھا گھر. .آج تائی جان نے بریانی بنائی ہوئی ہوگی. .
ندیدے! !!
بائی دا وے برہان شاہ صاحب کدھر ملیں گے؟؟.اشعر نے پوچھا
داداجان نے زمینوں پر بھیجا ہے. .
فرحان نے بتایا. .
برہان فرحان کا چھو ٹا. بھائی تھا..جبکہ اشعر اسکا چچازاد..
فرحان سب سے بڑا تھا تینوں میں. اشعر اس سے چند ماہ چھوٹا جبکہ برہان دونوں سے سال ڈھیڈ چھوٹا تھا. تینوں بچپن کے ساتھی تھے. ایک ساتھ سکول جانا. ساتھ کھیلنا. .ساتھ رہنا…
کزنز کم بھائی زیادہ تھے.
ملک وجاہت آفندی اور ملک احمد آفندی دونوں بھائی تھے.ملک وجاہت بڑے جبکہ ملک احمد چھوٹے تھے. انکا شمار گاوں کے رئیس لوگوں میں ہوتا. گاؤں میں سب سے ذیادہ ذمین ان دو بھائیوں کی تھی.
ملک وجاہت آفندی کے چھ بچے تھے. چار بیٹے آذر آفندی, بلال آفندی, داور آفندی اور ارشد آفندی. .
دو بیٹیاں رفعت اور ثروت.
آذر آفندی کے دو بچے تھے. .حور اور ارحم. دونوں چھوٹے تھے. بڑے ہونے کے باوجود انہوں نے شادی باقی بھائیوں کے بعد کی.وجہ انکی تعلیم کی تکمیل تھی…
بلال آفندی کے 4 بیٹے تھے. ..ملک فرحان شاہ آفندی, برہان شاہ آفندی. ….ثوبان اور رایان آفندی. .یہ دونوں 9 کلاس کے طالبعلم تھے.
ایک بیٹی عریبہ برہان کے بعد… ابھی ایف ایس سی سے فارغ ہوئی تھی.
علی آفندی کے دو بیٹے تھے اشعر اور زریاب جبکہ ارشد کے بچے ابھی چھوٹے تھے.
جبکہ رفعت کے دو جوان بیٹے تھے باسط اور شاہ زیب اور ثروت کا صرف ایک چھوٹا سا بیٹا تھا.
حویلی شہر سے ذرا فاصلے پر تھی.اسی لیے فرحان اور برہان 7 کلاس سے ہی ہاسٹل میں رہتے تھے. میٹرک میں اشعر بھی چلا گیا..اب سبکی یونیورسٹی کا آخری سال تھا سو داداجان کے حکم پر سب واپس آئے.
فرحان شاہ سب کزنز میں بڑا اور داداجان کا بےانتہا لاڈلا پوتا تھا. دادا اسکی کوئی خواہش رد نا کرتے.
چھ فٹ دو انچ قد, مضبوط چوڑے کندھے, کسرتی جسم, کھڑی ناک, اور بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں! !وہ ایک حسین اور وجہہ مرد تھا. اس کے ساتھ ساتھ زمہدار بھی.
ملک احمد آفندی چھوٹے بھائی تھے. انکے تین بیٹے اظہر آفندی, عمران آفندی ,عبید آفندی اور دو بیٹیاں امروزیہ اور ہما تھیں.
اظہر کے دو بچے تھے.
عشاء 8 سال کی اور اظہان.5 کا
عمران کے تین بیٹے شہریار,حسان اور عالیان تھے.
عبید کی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوئی تھی اور اب خدا ان کے گھر میں رحمت
بھیج رہا تھا.
ہما کے دو بیٹے تھے. حسن اور حسام.دونوں یونی ختم کر چکے تھے.جبکہ ایک بیٹی اسماء بی ایس کی اسٹوڈنٹ تھی.
امروزیہ کے تین بچے تھے. بڑا بیٹا کاشان سی اے کے تھرڈ ائیر میں تھا. .
اس سے چھوٹی نمرہ میڈیکل کے فرسٹ ائیر میں.
سب سے چھوٹا ارسلان میٹرک کا اسٹوڈنٹ تھا.
وجاہت آفندی اور احمد آفندی کی حویلیاں امنے سامنے تھیں. شادیوں کے بعد دونوں نے بچوں کو الگ الگ گھر بنانے کا کہا تا کہ اتفاق رہے اور کوئی ناچاقی نا ہو.
وجاہت آفندی کی حویلی کے دائیں طرف آذر اور بلال کے بنگلے تھے جبکہ بائیں جانب علی اور ارشد کے.
اسی طرح احمد آفندی کی حویلی کے ایک طرف اظہر اور عمران جبکہ دوسری جانب عبید کا بنگلہ تھا.
اس طرح ایک گلی بن جاتی جس کے آمنے سامنے دو حویلیاں اور ان.سب کے بنگلے تھے.ساتھ ایک طرف بڑا سا میدان تھا جہاں سب بچے مل کر کھیلتے. جھولے بھی لگوائے گئے تھے..گلی کے آگے ایک بڑا گیٹ لگا ہوا تھا..باہر سے وہ ایک گھر لگتا جبکہ اندر اس ایک گھر کے کئی گھر تھے.
امروزیہ آفندی شروع سے بچوں سمیت گاؤں سے باہر رہی تھیں. .کبھی اسلامآباد,کبھی گُجراں والا,کبھی کوٸٹہ اور کبھی کہاں. .وجہ ان کے شوہر ملک سیال کی آرمی جاب تھی. ..
انکے بچے انکا فخر تھے.
انہوں نے شروع سے بچوں پر بہت توجہ دی..خود بھی ہر فن مولا تھیں. ..بچے بہت ذہین تھے انکی توجہ سے نکھر کر سامنے آئے. .پڑھائی ہوتی ہا غیر نصابی سرگرمیاں. .وہ ہر چیز میں ماہر تھے..ڈرامہ کلب,سنگنگ, سپورٹس, تقریری مقابلہ سب میں پیش پیش. ..
بیٹی کو وہ خود مختار بنانا چاہتی تھیں. نمرہ ماں کے بہت تھی.انہوں نے چھوٹی عمر سے ہی خصاصاً اسکی پرورش پر دھیان دیا..تاکہ جوانی میں قدم رکھتے ہوئے اسے اچھائی برائی کا فرق پتا ہو. شعور ہو..
ہمارے ہاں مائیں بیٹیوں پر ویسے توجہ نہیں دیتیں جیسے دینی چاہیے. .اگر بچیوں کو ٹھیک وقت پر صحیح اور غلط کی تمیز سکھائی جائے تو وہ کوئی غلط قدم اٹھانے سے پہلے دس بار سوچیں. .جبکہ ہماری مائیں جھجھک اور شرم میں کھل کر بات کرنا ضروری نہیں سمجھتیں. .اور اکثر پھر وہ باتیں وقت اور زمانہ سمجھا دیتا ہے پر تب پانی سر سے گزر چکاہوتا ہے. .. کتنے ہی بچے زمانے کے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں. .
اس کے بر عکس امروزیہ بیگم نے بیٹی کو ہر اونچ نیچ سمجھائی..وہ ایک پڑھی لکھی, اور سمجھدار تہذیب یافتہ عورت تھیں. .خود ساتھ ایک سکول کی پرنسپل تھیں. .
انکی محنت رائیگاں نہیں گئی..یہی وجہ تھی کہ آج انکے بچوں کا خاندان بھر میں ایک نام تھا..سب انکو سراہتے..نمرہ نے میڑک میں بورڈ ٹاپ کیا اور ایف ایس سی میں بورڈ میں تیسری پوزیشن لی. .
وہ خاندان کی پہلی ڈاکٹر تھی .
جسکا ایڈمیشن اسکالرشپ پر ہوا تھا..نمرہ کو وجاہت آفندی سے کافی لگاؤ تھا..وہ انکو بڑے نانا جان کہ کر بلاتی. وہ لوگ کافی کافی عرصے بعد حویلی جاتے..
وجاہت آفندی بھی نمرہ کی بہت حوصلہ آفزائی کرتے..آخر اسکی ذہانت اور کامیابی کی بدولت برادری میں انکا سر مزید اُٹھ گیا تھا.
ٹھک ٹھک. .
دروازہ ناک ہوا.
کم ان. .وہ مصروف سی بولی. .
کام ہو گیا بیٹا ؟؟امروزیہ بیگم نے اندر آتے ہوئے پوچھا. .
جی بس لاسٹ ٹاپک ہے. .
وہ تیزی سے کچھ لکھتے ہوئے بولی..
خیریت ؟؟کوئی کام ہے؟؟وہ پین چھوڑ کر بولی..
ہاں. ..وہ حیدر بھائی ہیں نا..انکی بہن کی شادی ہے نیکسٹ ویک..
وہ بولیں. .
حیدر انکل وہ گاؤں والے ؟؟
اسنے دریافت کیا..
ہاں. .
تو مجھے بھی جانا ہوگا؟؟اسنے پوچھاِ.
یقیناً..سب نے جانا ہےِ.تمہارے بابا کے بھی رشتہ دار لگتے ہیں. .حویلی کے ساتھ گھر ہے..حویلی سے بھی سب جائیں گےِ..
ہو ں ں ںں!!اچھا..
کیوں تم نہیں آنا چاہ رہی؟؟امروزیہ بیگم نے پوچھا. .
ہوں نہیں. ایکچولی ماما اسماء بھی ہوگی..
نہیں مطلب مجھے نہیں پتا اسے کیا ہوا ہے..پر.وہ مجھے ایسے گھورتی ہے جیسے……..
جیسے؟؟انہوں نے پوچھا
جیسے میں نے اسکی پھپھی بھگائی ہو! !![]()
فضول مت بولا کرو. ..وہ خفگی سے بولیں ..
تو انکی بیٹی کو بھی محسوس ھونے لگا تھا..وہ سوچنے لگیں. .
ظاہر ہے جہاں آپ پر رشک اور تعریف کرنے والے ہوتے ہیں وہیں حسد اود جلن کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں. .سب کبھی بھی ویل وشر نہیں ہوتے..
اسماء اسکی خالہ کی بیٹی تھی. .وہ نمرہ کی ہم عمر تھی. .شروع سے نمرہ کو سب سراہتے..کیو نکہ وہ لاہق اور ذہین تھی.اور اسماء کو اب نمرہ کی موجودگی چبھنے لگی تھی. اسماء پڑھائی میں نارمل تھی جسکی وجہ سے اسکی امی اسکو ڈانٹتیں. .
لیکن بچپن میں وہ فیل نا کرتی..اسے اچھی لگتی تھی پیاری سی نمرہ..وہ انتظار کرتی کب چھٹیاں ہوں اور وہ آئے تاکہ وہ مل کر کھیلیں. .
پر جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے اسے نمرہ سے خار ہوگئ. .وجہ نمرہ کی خوبصورتی بھی تھی..اسماء بھی کافی خوش شکل تھی پر نمرہ کے سامنے ماند پڑ جاتی. ..
نمرہ اس سب سے بےخبر اسکے رویے پر سوچ کے رہ جاتی..ایک دو بار اسنے جاننے کی کوشش کی اور پوچھا بھی..یار میری کوئی بات بری لگی ؟؟
پر جب اسکا رویہ بدستور روڈ رہا تو وہ بھی چپ ہوگئ اگنور کرنے لگی..کیونکہ کسی کے پیچھے لگنا نمرہ کی طبیعت اور مزاج کے خلاف تھا..وہ نمرہ سیال تھی..وہ تو لوگوں کو پیچھے لگانا جانتی تھی..ناکہ خود کسی کے پیچھے لگنا..
وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی. .آنسو بھی بہہ بہہ کے اب تھم چکے تھے. .
وہ چاہ کر بھی خدا سے شکوہ نا کر پائی..کبھی یہی سب تو اسنے دعاؤں میں مانگا تھا..اسی شخص کو..اسکے ساتھ کو…لیکن اسکی دعائیں ایک عرصے بعد ایسے قبول ہونی تھی. .یہ تو اسکے گمان تک میں نا تھا.
وہ اس.شخص کو مسیحا کہے یا دشمن ؟؟؟
دشمن!! جواب ایک پل سے بھی پہلے حاضر تھا.
دشمن کبھی مسیحا یا محافظ نہیں ہوا کرتے نمرہ!
جو کچھ اسنے کیا وہ تو شاید دشمن بھی نہیں کرتے..ذلت,دھتکار صرف یہی دیا ہے اسنے تمہیں. ….
ہاں دھتکارا تھا اس نے مجھے..ٹھکرایا تھا..میری ذات کرچئ کرچی کر دی..میری عزتِ نفس کو روند ڈالا…
یہ مسیحا یا محافظ کیسے ہو سکتا ہے؟
اور اج مجھے اسی کے ساتھ باندھ دیا گیاِِاسکے سر پر مسلط کر دیا گیا..میری ذات کو بوجھ بنا کر
اسی پر ڈال دیا گیا…
یہ احساس ہی اسکی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے لیے کافی تھا..
اسکی انا پر بہت کاری ضرب لگی تھی..
سر درد سے پھٹنے لگا. .وہ اٹھی. .بیڈ پر سادہ پرنٹڈ. سوٹ پڑا تھا جو عریبہ رکھ کر گئی تھی..وہ سوٹ لے کر باتھروم میں گھس گئی..تھوڑی دیر بعد وضو کر کے اور چینج کر کے نکلی ..
اب جائے نماز ڈھونڈنے کی باری تھی. .تھوڑی تگ و دو کے. بعد الماری س
کے دراز سے مل گئی..
وہ نماز پڑھنے لگی. .دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اسے اپنے ہاتھ خالی لگے..کیا مانگوں ؟؟
آنسوؤں کا پھندا گلے میں اٹک گیا..
اللہ میں تو اپنی عزت تیرے پاس امانت رکھوائی ہے..تو امین ہے میرے مالک..بےشک تو امانت میں خیانت نہیں کرتا…
مجھے رسوائی سے بچا لینا میرے اللہ. ….. اس گناہ کی سزا نا دینا جو مجھ سے سرذد نہیں ہوا…
سر میں درد کی شدید لہر اٹھی..
اسنے بہت مشکل سے جائے نماز تہہ کر کے جگہ پہ رکھی..اور آکر صوفے پر بیٹھ گئی..وہ آہستہ آہستہ لیٹتی گئی اور نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی.
