Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 38) Part - 2

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

وہ واپس آئی تو.گھر میں.سناٹا تھا…

شاید.ابھی.تک.سو.رہی.ئوں.امی..

اسنے.امنہ.بیگم.کے.کمرے.میں.جانے.کا.سوچا.پھر.انکے آرام.کا.سوچ کر.رک.گئی…

آنٹی کے.پاس کیا.جانا.اب..برہان.بھائی.لا.دیں.گے کچھ دیر.میں.انکو…

اسنے رضیہ.بیگم.کا سوچا.اور.کندھے اچکا.کر.روم.میں.چل.دی…

اندر آئی تو بیڈ ہر.بیگ رکھا..موبائل.نکال.کر.دیکھنے لگی تھی.کہ.نظر.سامنے.موجود.فرحان.کے کھلے .لیپ.ٹاپ پر پڑی تھی…

شاید کوئی میل آئی تھی.کیونکہ.سکرین جگمگانے لگی تھی..

وہ اٹھ کر اس طرف آئی..

نا جانے کیا.سوجھی.کہ.وہ.اسکے.فولڈرز دیکھنے لگی…

ہر طرف فائلز ہی.فائلز تھیں. .

اففف… اتنے ورک ہولک ہیں نا…

اسنے.سر جھٹکا.تھا..تبھی نبر سامنے.موجود.سکرین.کے.کونے والے فولڈر پر پڑی تھی..

اسنے.اسے اوہن.کیا.تو.سکرین.ہر.پاسورڈ مانگا گیا تھا…

اسے تجسس.ہوا تھا آخر.ایسا.کیا.تھا.کہ.صرف.اسی.فولڈر پر پاسورڈ تھا…

اسنے ایک.دو.بے.تکے.پاسورڈ لگائے.جو.غلط شو.ہوئے.تھے…

کیا.ہو.سکتا ہے؟؟

اسنے سوچا…

اور.پھر.ویسے ہی.بیٹھے.بیٹھے اسنے.اپنا.نام.ٹائپ کیا….اور اسکی.حیرت کی.انتہا.نا.رہی.جب وہ. ہاسورڈ لگ گیا.اور.فولڈر کھل.چکا.تھا…

سامنے سکرین پر لاتعداد تصویریں نمودار ہوئی تھیں…

اور وہ سب اسکی.تصویریں.تھیں..

اسنے.انکھیں.پھاڑے ایک.ایک.تصویر کھولی تھی…

یہ آج.سے تین.چار.سال پہلے کی.پکس.تھیں…

اسکی.انیسویں.سالگرہ کی.جو اس نے.فرحان.کے.گھر.منائی تھی..

پھر اس.شادی.کی.جس میں.وہ آئی تھی اور.فرحان.عریبہ.کو.لینے گیا تھا.رات کے ایک.بجے اور اسے وہاں.پہلی بار دیکھا تھا…

اگلے.دن.والی بارات کی بھی…

پھر اسکی خالہ کے بیٹے کی.شادی کی.جو.ثوبان.نے لی.تھیں …کیونکہ.اس.شادی مں.فرحان.تو.نا.تھاِ.

کہیں.وہ.مسکرا.رہی.تھی کہیں.ہنس.رہی تھی…

اس کے بعد اسکی.وہ.تمام.تصویریں جو.اسنے.آج.تک.فیس.بک پر لگائی تھیں…

پھر.انکی.شادی.کی تصویریں جنہیں دیکھنے کی.نمرہ نے کبھی.زحمت نا.کی.تھی…

اسے ایک.دم.یاد آیا.جب فوٹو.گرافر ان.سے بارات والے.دن پوز بنوا رہا تھا اور اسنے فرحان.کے.پاؤں.ہر ہیل.دے.ماری تھی…

اور اس.سب.کے.علاوہ.ہر.لمحے کی.تصویر جس.سے وہ.انجان.تھی…

ولیمے والے دن.کی.انکی.وہ.سیلفی جو.فرحان.نے لی تھی…اسکی.آنکھیں نم.ہونے.لگی.تھین..

کیا.وہ واقعی اس قدر.چاہتا تھا اسکو؟؟

اسے بے حد خوشی ہوئی تھی.دل.کیا.اٹھ کر باچے گائے چینخ.چینخ.کر.سب.سے اظہار.کرے..

اتنے.میں.نظر ایک.اور.تصویر.پر.پڑی تھی جہاں وہ.نومان.کے بھائی کی منگنی پر اپنے خیالوں.میں.بیٹھی تھی…

تصویر پر جو.الفاظ لکھے تھے وہ اسے سرشار کر گئے تھے

My eternal love!❣

(میری ابدی.محبت)

اسکی انکھوں.سے.چند.موتی گر کر اسکے کہڑوں.میں.جزب ہوئے تھے…

جبکہ.لب بے اختیار مسکرا.اٹھے.تھے.ِ.

لیپ ٹاہ.بند.کر.کے.اسنے سائیڈ ہر.رکھا تھا..

وقت دیکھا تو.آٹھ.بجنے.والے تھے.یعنی کچھ دیر.میں.وہ آجاتا…

وہ مسکراتی ہوئی اٹھی اور ڈریسنگ روم.کی.طرف گئی.تھی…

الماری کھول.کر ایک.شاپنگ بیگ نکالا.تھا اور.روم.میں.لائی.تھی..

شاپنگ.بیگ کھول کر اسنے بلیک فراک.نکالا.تھا..

یہ.وہی.فراک.تھا.جو.فرحان.نے.اسے.گفٹ کیا تھا.اور. تب پہننے.کا.کہا.تھا جب.وہ اسے معاف کر چکی ہو پوری آمادگی سے…

اسنے ڈریس نکال.کر.شیشے.کے.سامنے.کھڑے ہو.کر.خود.پر.لگا.کر.دیکھا.تھا…

ایک شرمیلی سی.مسکراہٹ اسکے.ہبوں.کو.چھو گئی.تھی…

ڈوپٹہ اتار.کر.بیڈ.پر.رکھا اور وہ.شاور لینے.چل.دی…

شاور لے کر.نکلی.تو بال سلجھانے.لگی..

ڈریس ابھی بیڈ.ہر.ہی پڑا تھا

روم.کا..ناک.ہوا.

کم.ان…اسنے.ڈوپٹہ اٹھا کر اوڑھا اور.اندر.آنے.کی.اجازت دی

آمنہ.بیگم.کمرے میں.داخل.ہوئی تھیں

امی آپ..مجھے.بلا.لیا.ہوتا..آپ نے.کیوں.تکلیف کی

اسنے انکو.دیکھ.کر.کہا.تھا..

ساتھ.مسکرا کر انکا ہاتھ پکڑ کر اندر.لائی اور بیڈ پر بٹھا دیا

“نہی.بیٹا کوئی بات.نہی….بس سوچا.دیکھ.لوں.تم.آگئی ہو. واپس” ..

انھوں.نے.پیار سے.جواب.دیا..

نکھری نکھری وہ کافی پیاری لگ رہی تھی…

ڈنر کرے گی میری.بیٹی..

انھوں.نے پوچھا تھا..

اممممم..موڈ تو.نہی.ابھی.بالکل..

فرحان.آجائیں پھر.کر.لوں.گی..

اسنے مسکرا.کر.جواب.دیا تھا…

ا

اتنے میں انکی.نظر بیڈ پر پڑے ڈریس.پر.پڑی تھی…

ماشاءاللہ بہت.پیارا ہے..آج لائی.ہو؟؟

انھوں.نے.اٹھا کر.دیکھا تھا..

نہی..یہ ایکچولی….

اسے.شرم.سی آئی تھی..چہرہ گلابی ہوا تھا..

فرحان.نے.گفٹ کیا.تھا.مجھے…. سوچا پہن.لوں.آج….

اسنے. ہونٹ کاٹتے ہوئے جھکی.نگائوں.سے بتایا تھا..ِآمنہ بیگم. دل سے مسکرا دیں..

نمرہ اس بات سے.انجان تھی کہ.وہ اسکے اور فرحان.کے ماضی کے بارے میں جانتی تھیں…

خوش ہو.نا؟؟ انھوں.نے.اسکے ہاتھ تھام.کر.پوچھا تھا…

جی….

وہ. جیسے.کھل اٹھی تھی…

آمنہ.بیگم.کا.سیروں.خون.بڑھا تھا اسکی.مسکراہٹ دیکھ کر…دل.جیسے

گہرائی تک پر سکون.ہوا.تھا….

ہمیشہ خوش رہو…اللہ میرے بچوں کو بری نظر سے محفوظ رکھے…آمین…

اسکو دل سی دائمی خوشیوں کی.دعا.دیتی وہ اٹھ گئیں اور چلی گئیں.

انکے جانے کے بعد وہ پہلے چینج.کر کے آئی تھی…

شیشے میں.خود کو.دیکھا تو.وہ شہزادی لگ رہی تھی..وہ فراک تھا بھی ایسا.پریوں.اور.شہزادیوں.جیسا…

اوپر سے فٹنگ میں.ہونے کے باعث وہ اسکی. نازک کمر پرفٹ آیا تھا جبکہ.نیچے سے.

گھیر دار تھا…

اسنے نیٹ کے شولڑرز اور سلیوز سے صاف جھلکتے اپنے. چمکتے کندھے اور بازو دیکھے تھے…

“تم.میرے سامنے ایسا ڈریس.پہن.سکتی ئو…”

فرحان.کی.بات اسکی.کانوں.میں.گونجی.تو وہ. خود ہی مسکرا کر نگاہ جھکا گئی تھی…

بالوں کو اٹھا کر پیچھے کیا اور وہ.تیار ہونے لگی…

آدھے گھنٹے کی.مسلسل.تگو دو کے.بعد وہ.ریڈی تھی…

آنکھوں.پر گہرا لائنر اور مسکارا لگائے, ہونٹوں.ہر ہوٹ ریڈ.لپسٹک, کانوں میں.ننھے.ننھے جگ مگ کرتے ڈائمنڈ کے.ٹاپس…جو فراک.پر کیے گئے کام.سے.ملتے.جلتے تھے…

نازک ہاتھوں میں انگوٹھی پہنی..دائیاں کان.جو.اوپر سے سلا.تھا اس.میں.نئی.بالی.پہنی تھی…

بال کچھ گیلے تھے سو.اسنے.کھلے ہی رہنے دیئے…

قد آور آئینے کے.سامنے.اسنے اپنا.تنقیدی جائزہ لیا تھا…

وہ زندگی میں پہلی بار اتنے دل.سے تیار ہوئی تھی … وہ بھی صرف اور صرف اپنے شوہر کے لیے…فرحان شاہ آفندی کے لئے….

کیونکہ آج .وہ اسے دل.سے.معاف کر چکی تھیِ….مزید.کسی بھی ناراضگی کو درمیان.میں.نہی.لانا چائتی تھی…

اسنے سوچ لیا.تھا وہ.بھی اب ایک.اچھی زندگی گزارے گی..بغیر کسی ضد کے…بغیر کسے انا کو.درمیان.میں.لائے… جب خوشیاں.اس.کے.سامنے باہیں.پھلائے کھڑی تھیں.تو وہ کیوں.نا انکو.سمیٹ لیتی…

وہ بھی شاید اب تھک.گئی تھی اس انا.کی.جنگ میں..ہارنے.لگی تھی.کیونکہ.سچ یہی.تھا اسکا.دل.آج.بھی.فرحان.شاہ کے.نام.کی.ہی.مالہ چنتا.تھا…

وہ شاید کبھی اس.کے.عشق.سے باہر ہی.نا آسکی.تھی…

شاید کبھی چاہ کر بھی اس سے نفرت کر ہی نا پائی تھی….بلکہ محبت کی جگہ عشق لینے لگا تھا…. ہاں یہ عشق ہی تو تھا کہ.وہ ان دو سالوں میں.بھی اک لمحہ اس کے خیال سے جدا نا ہوئی تھی….نفرت کو ملمع کی طرح خود پر چڑھانا چاہا تھا مگر محبت جیت ہی گئی تھی….اسے بھی ہتھیار ڈالنے ہی پڑے تھے اپنے بےلگام دل کےآگے

.فرحان کو مزید انتظار کروانا.اسے اب اسے برا .لگا تھا

..جب.دل.راضی ہونے.لگا تھا تو وہ کیوں.نا.اس کی.سن.لیتی…

اسنے سوچ لیا تھا آج وہ اسکو منا لے گی اور جلد ہی اسکا حق بھی ادا کر دے گی….

اسنے عقلمندانہ فیصلہ کیا تھا..

اس بات سے انجان.کہ.ابھی آزمائش باقی تھی..

اسے انتظار کرتے کرتے ایک گھنٹے سے اوپر.کا.وقت ہو.چکا.تھا….

گھڑی دیکھی تو.اب.گیارہ بجنے والے تھے.مگر فرحان.کا.کہیں نام.و.نشان تک نا تھا….

اسے.نیند آنے لگی تھی اب….

کئی.بار.اسکا.نمبر.ٹرائے کر.کے وہ.دیکھ چکی.تھی مگر کال پک نہی کی.گئی تھی…

بالآخر تھک ہار کر وہ بیڈ کراؤن.سے ٹیک.لگا.کر بیٹھ گئی….

کافی دیر گزر گئی…

بیٹھے بیٹھے اب کمر.دکھنے لگی تھی…

ساڈھے بارہ کا.وقت تھا مگر وہ.گھر نا.آیا تھا…

نمرہ.کو تشویش ہونے لگی تھی….

اسی اسنا میں.بالآخر ایک.بجے تک.اسکی.وہیں آنکھ.لگ گئی تھی….

کچھ دیر میں.وہ نیند کی وادیوں میں.اترتی چلی.گئی تھی..

مسلسل تین چار گھنٹوں سے وہ پاگلوں.کی.طرح بے مقصد سڑکوں پر گاڑی بھگا رہا تھا…

دماغ تھا کہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہی لے رہا تھا…

وہ.تالیہ کی.بوتیک کا.بھی چکر لگا آیا تھا..اندر جانے کی اسنے زحمت نا کی تھی..ہر وہاں.تالیہ نا تھی.. وہاں .صرف حارث تھا…

اور یہ سوچ کر اسکا دماغ مزید پھٹنے لگا تھا کہ اسکی.بیوی اسکی اجازت کے بغیر, اسکی مرضی کے خلاف , صرف ضد اور ہڈ دھرمی دکھانے کے لیے وہاں آئی ہو گی…

وہ آج واقعی ہرٹ ہوا تھا… اسکا دل دکھا تھا…

وہ اس سے محبت کرتا تھا… اس کی.قدر کرتا تھا… کبھی اپنی بے جا مرضی.نہی تھونپی تھی اس ہر نا.کوئی پابندی لگا ئی تھی…

ہاں.ماضی.میں.غلطی کی تھی..جس کی.سزا وہ بھگت رہا تھا….

.اسنے اسکی ذات کو توڑا تھا مگر آج شاید خود ٹوٹ پھوٹ کا.شکار ہونے لگا تھا…

اسے واقعی آج اس تکلیف کا.احساس ہو.رہا تھا جب اس.تکلیف سے وہ خود دو چار ہوا.تھا ….

اسکا ضبط جواب.دیے گیا تھا…

غم اور غصے کی ملی جلی.کیفیات تھیں. …

وقت دیکھا تو.رات کے دو.بجنے والے تھے…

بوجھل.دل کے ساتھ اسنے بالآخر واپسی کا.راستہ.اختیار کیا تھا..ِ

گاڑی پارک.کر کے وہ.جس وقت گھر میں.داخل.ہوا رست کے.تین بجنے والے تھے..

.پوری رات وہ خواری.میں سڑکوں پر.کاٹ.چکا تھا….

تھکا ماندہ کچن میں.گیا….لائٹ آن.کر کے.فریج.سے.پانی.کی.بوتل.نکالی.اور اسی طرح منہ.لگا لی.تھی…. آنکھیں بے.تحاشا.سرخ ہو.رہی.تھیں. ..

ابھی وہ پانی پی ہی رہا تھا کہ پیچھے سے کسی.نے اسکی.کمر سے اسکو.پکڑا.تھا اور اسکے گرد حصار باندھے اس کی پشت پر سر.ٹکا.دیا تھا…

اسے ایک دم.اچھو.لگا تھا…

وہ. محسوس کر سکتا تھا کہ وہ کوئی نسوانی.وجود تھا …

مگر.کون؟؟

نمرہ سے کسی ایسی حرکت کی امید کرنا تو جیسے ہتھیلی پر سرسوں.جمانے.جیسا تھا…

وہ اتنی بے باک ہر گز نا تھی

اسنے ایک.دم.بوتل.شیلف پر رکھی اور اپنے.پیٹ سے دونوں ہاتھ پکڑے خود سے چپکے اس وجود.کو.ایک.دم.خود.سے الگ کیا.اور پیچھے پلٹا تھا…

اور جیسے اسے دھچکا لگا تھا..

کیونکہ اس.کے سامنے کوئی.اور.نہی تالیہ کھڑی تھی..

. بے باک سی سلک کی نایئٹی زیب تن.کیے وہ فرحان کو.خاصی معنی خیز.اور محبت پاش.نظروں سے دیکھ رہی تھی…

فرحان.نے.لمحے کے ہزارویں.حصے میں.اسکو جھٹک.کر خود سے دور پھینکنے کے سے انداز.میں.دھکیلا تھا…

آنکھیں مزید.لہو.رنگ ہوئی تھیں. ..

یہ.کیا.بے.ہودگی ہے؟؟

وہ.دبے دبے غصے سے چلایا تھا…

پر تالیہ کے اطمینان میں.کوئی کمی نا آئی.تھی…

وہ.دوبارہ اس.تک آئی تھی…

اوہ.کم ان چارمنگ پرنس… تم.جانتے ہو تم.کس.قدر ہینڈ سم.ہو….

مسکراتے ہوئے اسنے فرحان.کے چہرے پر دایاں.ہاتھ رکھا تھا…

غصے میں.تو اور غضب لگتے ہو…

وہ ہنسی تھی..

فرحان.نے.اسکا.ہاتھ جھٹکا تھا…

اپنی.لمٹس میں.رہو.تالیہ…. ورنہ ایسا.نا.ئو اس.وقت ہی تمہیں یہاں.سے دھکے دے کر.نکال.باہر کروں…

وہ غرایا تھا..

یار غصہ تھوک دو.ابِ… یو نو واٹ تمہیں اس وقت سکون کی.ضرورت ہے..اور میں…صرف میں اس وقت تمہاری.یہ ضرورت پوری کر سکتی ہوں… تمہیں اپنی پناہوں میں لے کر…..

اسکا لہجہ معنی خیز تھا…

فرحان نے ایک.دم.اسے پرے جھٹکا تھا… وہ جا.کر شیلف سے لگی تھی…

شیم.ان.یو… شرم.سے ڈوب.مرو.تم… تم.اس قدر.بے حیا ہو کہ.خود.اپنے اپ.کو.پیش.کر.رہی.ئو… تم.شاید بھول.رہی ہو کہ.میں.ایک.شادی شدہ.انسان.ہوں… ایک عدد بیوی ہے میری…. اور تمہارے ن.بے ہودہ ہتھکنڈوں میں.نہی.آنے.والا…

فرحان.یہ.کہہ.کر.نکلنے ہی.لگا تھا کہ.ایک.دم.تالیہ.کے الفاظ نے اسکے.قدم.جکڑے تھے…

ہنہ..شادی.شدہ… تم.خود.کو.شادی شدہ کہتے ہو… کون.سی.شادی کیسی.شادی؟؟؟ کہاں.کی.بیوی؟؟ وہ.بیوی جو.تمہیں اپنے آپ.کو چھونا تو دور قریب تک نہی آنے دیتی…

جو آج تک.تمہیں تمہرا حق.بھی .نہی.دے.پائی…

وہ.تمسخر سے بولی تھی جبکہ اسکے الفاظ فرحان.کو زہریلے تیر کی طرح چبھے تھے…

وہ سب برداشت کر.سکتا تھا پر کوئی اس.کے رشتے پر انگلی اٹھائے..یہ فرحان.شاہ آفندی کی وسیع .برداشت سے باہر تھا…

یہ انکا انتہائی ذاتی معاملہ.تھا جس.پر اس.وقت تالیہ اسے طنز.سے نواز.رہی تھی…

Just shut your filthy mouth!

اسنے انگلی اٹھا کر جارحانہ انداز میں .تالیہ کو.وارن.کیا.تھا…

کب تک.خاموش.کرواؤگے؟اور کس کس کو خاموش کر واؤگے….؟؟ وہ تمہیں کچھ نہی دے سکتی… البتہ…

وہ پھر سے آگے بڑھی تھی…

میں تمہاری ہر خواہش پوری کر سکتی ہوں…

آنکھوں میں چمک تھی…

اس سے پہلے کہ میں اپنا آپا کھو دوں اور بھول جاؤں کہ تم.ایک تم ایک لڑکی ہو…. دفاع ہو جاؤ یہاں سے…

اسے سائیڈ پر پٹختا وہ بجلی کی سی تیزی سے کچن سے نکلا اور سیڑھیاں پھلانگنے لگا….

دل کر رہا تھا اس دنیا کو.آگ لگا دے…سب بھسم.کر ڈالے…. نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ اب کوئی ان کے رشتے پر سوالیہ نشان لگانے پر تلا تھا…نہی.وہ اس کی.اجازت ہر گز نہی.دے سکتا تھا… یہ اس.کی برداشت سے باہر تھا…

اور پھر لمحوں.میں.وہ ایک.فیصلہ کر چکا تھا…

آپنا حق.زبردستی وصول کرنے کا.فیصلہ…. کسی بھی مرضی یا مزاحمت کی.پرواہ کیے.بغیر….

لہو رنگ آنکھیں.لیے وہ کمرے میں.داخل.ہوا تھا…

کمرے میں.مدہم سی.روشنی نے اسکا استقبال کیا تھا جو فسوں.خیز.منظر.پیش.کر رہی تھی….

اسنےمڑ کت .روم.لاک کیا.اور.واپس پلٹا تو

تو…بےتحاشا سرخ آنکھیں بیڈ پر سوئے اس.وجود پر تھمی.تھیں…

.جہاں وہ اسے فکر مند کر کے, خود ہر فکر سے آزاد سو رہی تھی…

کیا کچھ یاد نا آیا تھا ….

اسکی صبح والی حرکت….

پھر دن کو اسکی بات کی پرواہ کیے بغیر بوتیک جانا اور سونے پر سہاگہ تالیہ کے تمسخر سے کہے گئے وہ الفاظ…

“کیسی شادی … کہاں کی بیوئ..وہ تمہیں خود کو چھونے تک نہی دیتی”

اسکا چہرہ توہین سے لال.ہوا تھا… وہ کاری ضرب لگا کر گئی تھی مرد کی.انا پر

وہ آگے بڑھا تھا…

نگاہ اسکے وجود پر پڑی تھی…

وہ بیڈ کے ایک کنارے پر ٹکی تھی…

لمبے بال کسی ابشار کی طرح بیڈ سے نیچے ڈھلک رہے تھے…. جبکہ صبیح چہرہ جگمگا رہا تھا…

شنگرفی ہونٹوں پر سرخ لپسٹک اور اسکے نازک وجود پر سیاہ چمکتا ہوا.فراک جو قئامت ڈھا رہا تھا…

فراک کے کندھے اور بازو بالکل باریک جالی کے تھے جن سے نمرہ کے شفاف بازو اور کندھے جھلک رہے تھے…

بے شک وہ حسین.تھی … وہ جانتا تھا مگر آج اسکا حسن.بے پردہ ہو رہا تھا..فرحان نے اب تک اسکا ڈھکا ہوا حسن ہی دیکھا تھا…

لمبی شفاف سراحی دار گردن چمک رہی تھی…

وہ بیڈ پر اس کے پاس آبیٹھا تھا… اور اسکی گردن پر جھکا تھا….

آس پاس سے سے اسے گھیرا تھا

اور اپنے شعلے کی مانند دھکتے. ہوئے تشنہ لب اسکی گردن پر رکھ دیئے تھے…

نمرہ کو نیند میں خود پر بوجھ سا محسوس ہوا تھا..اتنے میں.اپنی گردن پر کسی لمس کا

احساس گزرا تھا…

بے اختیار اسکا کلیجہ.منہ.کو.آیا تھا…

اسنے غنودگی میں.آنکھیں واہ کیں.تو. کوئی اسے.مکمل گرفت میں.جکڑے اس کی گردن پر جھکا ہوا تھا….

وہ ایک دم.شدید خوف کا.شکار ہو.ئی.تھی اور گڑبڑا کر اٹھنا چاہا.مگر اس پر جھکے وجود نے.اسکی اجازت نا.دی تھی…

اسکی آنکھیں شدید.ڈر اورخوف سے پوری کھل.گئی تھیں. .. وہ.نیند میں.ہونے کے.باعث. بری طرح ڈر گہی تھی…حد درجہ.سہم.گئی تھی… بعید نا.تھا وہ.چیخنے لگتی…

مگر آؤاز نے بے وفائی کر ڈالی تھی

اسنے ہمت کر کے دونوں.ہاتھوں.سے.مقابل.کو.ہٹانا.چاہا تھا

آنکھیں کسی سہمی ہوئی ہرنی کی.طرح بے تحاشا خوف لیے ہوئی تھیں. ..جن میں.نمکین پانی.جمع ہونے لگا تھا

اسکی حرکت.کرنے پر فرحان.نے چہرہ اٹھا کر اسکو.دیکھا تھا…

بے تحاشا سرخ لہو رنگ آنکھیں. ..

نمرہ کو.اپنا.سانس تھمتا مھسوس.ہوا تھا…

اسکی اس قدر سرخ.آنکھیں. ..جو.خوفناک لگ رہی تھیں. ….اک پل اسے گمان.گزرا تھا شاید وہ ڈرنک کر کے آیا ہو…مگر اس سی کسی بھی.قسم.کی.نا.خوشگوار بدبو نہی آرہی تھی…بلکہ اسکے کلون کی مخصوص محسور کن سی خوشبو تھی

فر..فرحان. .چھو….چھوڑیں ..پلیز. ..

اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اسکے بال فرحان.کی.گرفت میں.آئے تھے…

اسکے بال پیچھے سے جکڑ کر.فرھان.نے اسکا چہرہ جھٹکے سے اوپر کیا تھا

آہ.ہ…ِ وہ.شدید درد.سے بلبلا اٹھی تھی…

منع کیا تھا مت جانا… وارن.کیا.تھا تمہیں. ..ہر تم.نے میری ایک.نا.سنی.ِ.میں.بکواس.کر رہا تھا کیا.جو تمہارے کان.پر جوں.تک.نا.رینگی…

کہا تھا میرے عتاب کو.دعوت مت دینا..ورنہ.خسارہ.ہو.گا

وہ انتہائی جارحانہ اندان.میں.اس پر جھکا اسے تکلیف میں.مبتلا کرتا کاٹ دار لہجے میں.بولاتھا..

نمرہ نے تھر تھر کانپتے وجود.کے ساتھ اسے دیکھاتھا

بہت غرورہے نا.تمہیں اپنے اسی.حسن.کا… بہت شوق اپنی ہڈ دھرمی.دکھانے.کا…

میری بات نا.ماننے.کا …. آج.تمہارے پر

کاٹ کر تمہیں بتاؤنگا فرحان.شاہ کی.نفی کرنے کی.سزا.کیا.ہوتی ہے…

اسکے بالوں.کو.سختی سے جکڑے وہ ایک.بار پھر اسکی.گردن.پر.جھک.چکا تھا…

نمرہ.کو.لگا تھا اسکے بال جڑ سے اکھڑ جائیں گے… سر میں.شدید درد اٹھا تھا…آنسوؤں کی لڑیاں.گال.پر بہہ نکلی تھیں…

نن..نہی..مم..میں..کہی.نہی.گئی…آپ..کک..کیا.کہہ رہے.ہیں..

اسنے.شدید روتے ہوئے اسکو.پیچھے.کرنا.چاہا تھاپر.مقابل.کو.پرواہ ہی.کب تھی…

وہ بہکنے لگا اس کے دلکش سراپے نے جیسے اسکے اندر آگ بھڑکا دی تھی…

فرحان.نے ایک.دم.جارحانہ انداز میں میں اسکے کان کی.لو کو ہونٹوں.مین لیا اور زور سے کاٹا تھا…

بے اختیار اسکی چیخ نکلی تھی..سر کا درد کم. تھا کیا جو یہ ستم بھی…

در….درد رہا ….

وہ بامشکل کہہ پائی تھی

تم نے ہر بار میری تزلیل کی…توہین کی میری…

تمہاری اس انا اور غرور کی دھجیاں نا.بکھیر دیں آج تو کہنا…

وہ غرا اٹھا تھا…

فر..فرحان آپ غلط ..سمجھ.. رہے ہیں…

آہ… دوبارہ اسکے بالوں کو جکڑنے والی گرفت میں.مزید سختی آئی تھی..تو وہ بلبلا اٹھی تھی

خدارا مت کریں… چھِِ…چھو..چھوڑ دیں…

اسنے التجا کر ڈالی تھی…

بے.بسی کی حدوں کو چھونے لگی تھی وہ…

فرحان نے اسکے کندھے کو دبوچا تو اسنے. نازک ہاتھ دونوں.چوڑے کندھوں.پر رکھ کر خود.سے اسکو.الگ کرنے کی.کوشش.میں. ہاتھ

پیر مارے تھے

ایک دم اسکا کندھا کھچنے سے باریک جالی “چرر” کی آواز سے پھٹتی چلی گئی تھی…

اسکا کندھا اور بازو پھٹ چکا تھا..

مگر مقابل کو حوش و خرد ہی کب تھا کہ وہ کسی کی. فریاد یا التجا.سن.پاتا…س کے سر پر تو جنون.سوار تھا.

تمام جزبوں.کا لاوا اس نازک لڑکی پر نکل رہا تھا

فرحان کی.نظر اسکے کندھے سے چند انچ نیچے سینے کے دائیں طرف موجود موجود کالے تل پر گئی تھی…

شفاف رنگت پر کالا.ٹمٹماتا تل…. فراک پھٹنے پر پر نظر آیا تھا..

تل کافی نیچے تھے… نمرہ نے کبھی گہرے گلے نا پہنے تھے شاید اسی وجہ سے وہ کبھی دیکھ نا پایا تھا…

وہ اس تل پر اپنے لب رکھ چکا تھا

اسکا لمس کاٹ دار تھاِ..بھسم کرنے والا

.نمرہ کے الفاظ دم.توڑنے لگے تھے..اسے شدید دھچکا لگا تھا…دماغ جیسے سن ہونے لگا تھا. ..آنکھوں کے گرد اندھیرا سا.چھانے لگا تھا

ہوش و.حواس کھونے.لگے تھے.عقل و.خرد کے سارے دروازے.بند.ہونے.لگے تھے..

اے کاش میری سانسیں.تھم.جائیں..سینے میں.دھڑکتے دل.کی.دھڑکنیں تھم.جائیں..اس جسم سے یہ.روح کوئی.کھینچ نکالے…

اسنے.بند.ہوتی آنکھوں.کے ساتھ.شدت سے اپنے لیے.بد دعا.مانگی اور پھر وہ فرحان کے اس روپ کو قبول کرنے کی.ناکام کوشش میں دنیا و مافیا سے بے خبر ہو گئی تھی…

مزاحمت ایک دم تھممی تھی… کمزور سی حرکت کرتے وہ نازک مخروطی ہاتھ رک گئے…

لڑ کھڑاتی زبان کنگ ہو گئی تھی… بہتی خوبصورت آنکھیں بند ہو چکی تھیں. .. دل کی دھڑکن مدھم پڑ گئی تھی … آتی جاتی سانسیں سست پڑی تھیں. …

فرحان کو.ایک دم کسی انہونی کا احساس ہوا تھا…

اسنے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ ہوش و خرد سے بے گانہ پڑی تھی…چہرہ آنسوؤں سے تر تھا…لب بے ہوشی میں بھی کپکپا رہے تھے…

ہاں وہ بے ہوش ہو.چکی تھی…اسکی.جارحیت کے آگے ہار گئی تھی…

اس سے ہہلے وہ کوئی انتہائی.قدم اٹھا کر واقعی اسکے.وقار کی.دھجیاں بکھیر دیتا , وہ سن.گن ہی.کھو.بیٹھی تھی…

وہ ایک دم.سیدھا ہوا تھا…

ہاتھ بڑھا کر اسکا چہرہ تھپتھپایا تھا..

نمرہ…نمرہ….

ساتھ.اسے پکارا تھا مگر بے سود…

اسکے بے حس وجود میں کوئی حرکت نا ہوئی تھی…

ساری خماری ایک دم جھاگ کی.طرح بہہ نکلی تھی..دماغ ایک.دم ٹھکانے پر آیا تھا…

اسنے اسکی کلائی تھامی..نبس بہت سست روی سے چل رہی تھی…

او مائے گاڈ!!!

اسنے فوراً ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل.سے پانی کا گلاس اٹھا کر چند چھینٹے اسکے خوفزدہ چہرے پر پھینکے ….

پھر چہرہ تھپتھپایا کر پکارا تھا…

نمرہ…کم ان گیٹ اپ …

مگر بے سود…

اسکے سہی.معنوں میں.اب ہوش اڑے تھے…

وقت دیکھا تو.فجر ہو.چکی.تھی…

کچھ دیر تگ و.دو.جارئ رکھی مگر وہ نا اٹھی تھی.ِ.

اسے تشویش.ہونے لگی تھی…

اس وقت کہاں.سے وہ.ڈاکٹر.کو.بلاتا اور گھر والوں کے سوالوں کے کیا.جواب.دیتا.کیا.ہوا تھا اسکو؟

باہر اب روشنی پھیلنے لگی تھی

…اگر اس کی.حالت زیادہ بگڑ گئی تو؟؟

ایک دم.سوال آیا تھا

نہی نہی..مجھے.ڈاکٹر.کو.بلانا.ئو.گا..

اسنے. فوراً فیصلہ.کیا تھا..

نظر. اچانک اسکے.کندھے اور.پھٹے.بازو پر پڑی تھی…

ایک.دم.کسی نے.جیسے رکھ.کر فرحان.شاہ کے منہ پر طمانچا دے مارا تھاِ….یہ.کیا.کیا تھا اس.نے؟

اس سے پہلے کوئی.اتا یا وہ ڈاکٹر کو.بلاتا اسے اسکا.لباس تبدیل کرنا.تھا…

حواس.بحال.ہوئے تو.اسنے.دیکھا یہ. وہی.ڈریس تھا جو اسنے.نمرہ کو دیا تھا..

جلدی سے ڈریسنگ روم.کی الماری سے اسکا.ایک.جوڑا.نکال.کر.لایا تھا..

اور لیمپ آف کر کے اسکے کپڑے تبدیل کیے…

پھر پاس.پڑے کیچر سے اسکے بال.پیچھے کر کے جکڑے تھے…

اور فوراً اپنے فیملی ڈاکٹر کو.کال ملائی تھی…

جو کافی وقت سے اس فیملی کے.ڈاکٹر تھے

ہیلو!

نیند میں.ڈوبی آواز آئی تھی…

فرحان شاہ کا.نام سن کر ڈاکٹر فوراً دوڑا چلا آیا تھا…

سب اس وقت سو رہے تھے..وہ ڈاکٹر کو لیے روم.میں.آرہا تھا…کہ آمنہ بیگم اپبے کمرے سے نکلی تھیں. .

اتنی صبح .ڈاکٹر کو دیکھ کر انکو شدید تشویش ہوئی تھی…

سلام.دعا کے بعد انھوں.نے فکر مندی سے اسے مخاطب کیا تھا

فرحان کیا ہوا ہے؟؟تم ٹھیک ہو؟؟

انھوں.نے پوچھا تھا…

وہ ایک دم انکو.دیکھ کر بوکھلایا تھا…

جی.امی…

وہ اتنا ہی.کہہ سکا..

انکو کیا.بتاتا کون.بیمار ہے……

پیشنٹ کہاں.ہے مسٹر آفندی ؟؟ ِ

ڈاکٹر نے پوچھا تھا..

اس سے پہلے وہ.سوچتا ڈاکٹر کی آواز پر وہ ایک دم جیسے ہوش میں آیاِِ

اوپر…اوپر روم.میں..

اسنے بولنا ہی ہڑا..

کیا ہوا ہے؟؟ نمرہ؟؟ وہ ٹھیک ہے نا؟؟

آمنہ بیگم ایک.دم.پریشان ہو گئی تھیں. ..

فرحان نے کوئی جواب نا دیا.کیونکہ جواب تھا ہی نہی.. وہ واقعی ٹھیک نہی.تھی….تو.کیسے تسلی.دیتا…

چپ چاپ وہ ڈاکٹر سمیت اوپر چل.دیا..

آمنہ بیگم.بھی فوراً ان کے ساتھ ہوئیں. ..

سامنے حوش و خرد سے بے گانہ , لٹھے کی مانن سفید چہرہ لیے وہ بے ہوش تھی..

آمنہ بیگم.کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے… وہ بھاگنے کے سے انداز میں اسکی جانب لپکی تھیں. .

نمرہ… کیا ہو گیا میری بچی کو…

وہ اسکے سر ہانے پہنچی تھیں. …

فرحان.نے اسے کمبل اوڑھا دیا تھا پہلے ہی..

ڈاکٹر نے اسکا چیک اپ شروع کیا تھا…

انکی پلس بہت سلو ہے… ہارٹ بیٹ بھی نارمل سے کم ہے…. آئی تھنک نروس بریک ڈاؤن ہوا.ہے انکا مسٹر آفندی…

ڈاکٹر نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھاِ

ِنروس.بریک ڈاؤن ؟؟ 😨

آواز.جیسے گئری.کھائی.سے آئی.تھی.وہ جیسے سن ہی.نا پایا…

یس…نروس بریک ڈاؤن. ..انکو.گہرا شاک لگا ہے … اینڈ انکی کنڈیشن بتا رہی ہے کہ یہ فرسٹ ٹائم.نہی ہے… شاید پہلے بھی انکا نروس بریک ڈاؤن.ہو چکا ہے… آپ کے پاس پیشنٹ کی ہسٹری ہے؟؟

ڈاکٹر نے پوچھا تھا

نن..نہی..ہسٹری نہی ہے…

اسنے. کرب میں جواب دیا…

اوکے.ِمیں.یہ ڈرپ لگا رہا ہوں..

ابھی ڈاکٹر بات کر رہا تھا کہ.فرحان.کا فون.بج اٹھا… سکرین پر برہان کا نام تھا..برہان کل شام ہی اچانک ملک وجاہت کے ساتھ لاہور گیا تھا انکے کسی کام کے سلسلے میں..ساتھ عالیان بھی چلا گیا تھا…

اسنے کال پک کی تھی..

ہاں برہان بولو..

اسنے کہا تھا..

بھائی بھابھی کا سیل کل شام سے ٹرائے کر رہا ہوں..آف آرہا ہے..

اسنے بتایابتایا

اچھا..

شاید آف ہو…

اسنے جواب دیا..

آپ میری بات کروا دیں.ان.سے..

اسنے کہا تھا..

وہ سو رہی ہے انھی…

فرحان.نے.جواب دیا تھا…

اچھا جب اٹھیں تو انہیں بتا دیجئے گا کل میں گیا تھا بوتیک پر..لیکن.تالیہ وہاں نہی تھی نا کوئی ڈریس..میں نے.گھر آنا تھا پر اچانک لاہور آنا پڑا دادا جان کے ساتھ کال کی تو فون آف…

اسنے بتایا تھا..

وہ بول رہا تھا مگر فرحان.کے.ذہن.کو.جیسے چار سو.چالیس واٹ کا.کرنٹ لگا تھا…

ایک منٹ..کہاں.گئے تھے.تم.اور کیوں؟؟

اسنے.فوراً پوچھا تھا

تالیہ کی.بوتیک ہر.. ایکچولی کل رضیہ مامی.کو.کہیں جانا.تھا نا.ڈریس.چاہیے تھا لانے.والا.کوئی.نہی.تھابتو.انھوں نے.بھابھی.کی.منت کی..

پر بھابھی نہی چاہ رہی تھیں حارث کی.وجہ.سے… کہہ رہی تھیں فرحان کو.برا.لگے.گا.. میں.انکو.ناراض نہی.کر.سکتی..

میں.نہی.چاہتی انکو.لگے.میں.نے.انکی.بات نہی.مانی…

اسنے.شرارت سے.بتایا تھا..جبکہ.فرحان.کے.لیے اپنے.قدموں.پر.مزید.کھڑا ہوا.محال تھا…

پھر.انھوں.نے.مجھے.کہا.کہ.میں.لادوں جا.کر…پر.جب.میں.گیو.تو وہاں.تالیہ ہی.نہی.تھی.سو کچھ.نہی.ملا..

اسنے. ساری بات بتائی تھی…

فرحان.کو.لگا تھا منوں.بوجھ اسکے.کندھوں پر آن.گرا تھا… یہ کیا کر گیا تھا وہ!

اسنے کرب سے آنکھیں مینچ لی.تھیں. ..

نگاہ سامنے اس کے ساکت وجود پر اٹھی تھی جہاں.اب ڈاکٹر ڈرپ لگا چکا تھا…

ہیلو…بھائی…ہیلو؟؟

برہان.پکارتا رہا مگر وہ.سن.ہی.کب رہا تھا..

باہر دن.چڑھ چکا تھا…

وہ اسکے پاس آیا تھا اور ہاتھ تھاما تھا…

سرد یخ برف کی طرح ٹھنڈا ہاتھ….

میں نے ڈرپ لگا دی ہے… اور یہ ٹیبلیٹس دے رہا ہوں انکو.باقاعدگی سے تین.دن.دینی ہیں… کچھ دیر تک.انشاءاللہ یہ ہوش میں آجائیں گی… کوشش کریں انکو کسی بھی قسم کے معمولی سے سٹریس سے بھی دور رکھیں… ورنہ خطرہ بھی ہو سکتا ہے…

ڈاکٹر نے دوائی اور ہدایات دیں تو وہ انکو چھوڑنے ساتھ باہر گیا تھا..

باہر تک چھوڑ کر وہ اندر لاؤنج میں داخل.ہوا اور. تھکے قدموں سےسیڑھیاں چڑھنے ہی لگا تھا کہ ساتھ موجود گیسٹ روم.کا دروازہ کھلا تھا جس سے اسے تالیہ کی آواز آئی تھی. ..

کوشش کی تھی میں نے.. اب اگر وہ نہی قابو آرہا.تو کیا کروں…

وہ چڑ کر بولی تھی…

قابو کر نا… یہ دولت چاہیے تو قابو کرنا ہو.گا..

یہ رضیہ بیگم کی آواز تھی..

مام اسکو اپنی بیوی کے علاوہ کچھ نظر نہی اتا…

دیکھ لیں آپ نے بھی آگ لگائی نا کل..پر کیا ہوا؟؟ کچھ بھی نہی..

میں.نے تو اچھا خاصہ دشمن بنا دیا تھا انکو دو سال پہلے ہی… اسکے فون سے میسج کر کے بلا کر پھر زلیل.کروا دیا تھا اس فرحان.شاہ کو… اسکی شکل.دیکھنے کا روادار تک نہی تھا یہ اس سب کے بعدِ..

اس بے چاری کو قصور وار سمجھتا رہا..ہاہاہا… ویسے مزا.بڑا آیا تھا…

اچھا خاصہ جھاڑ گئی.تھی اتنے.لوگوں.کے.سامنے.اسکو. وہ….. ہاتھ چھوڑیں.میرا…

شکل دیکھنے والی تھیں اسکی.توہین سے لال

پر اپکے اس بیٹے.نے.سارا.کام.خراب.کر.دیا…

کیا تھا نا.کرتا اس.رات اس کے ساتھ بے غیرتی تو.ِ.. یا کر.کے.پھینک دیتا.کہیں چپ چاپ…

پر نہی…قسمت ہی خراب تھی.. ایک تو بچ گئی اور الٹا نکاح ہوگا اس.منھوس.کا اس.فرحان.سے…

وہ بول رہی تھی اور فرحان.کو.لگا تھا کوئی اسکے.کانوں.میں.سیسہ پگھلا کر ڈال رہا تھا…

میں.نے اپکو.کوئی.میسج.نہی.کیا. شادی سے ہہکے تو بالکل بھی.نہی..آپ.کو.غلط فہمی ہوئی ہو.گی..

نمرہ کے الفاظ کانوں.مین.گونجے تھے…

فرحان چھوڑیں. .

مم..میں.کہیں نہی.گئی…أپ غلط سمجھ رہے ہیں..

اسکی.بھیگی سسکتی آواز.کانوں.میں.گونجی.تھی…

درد..درد..ہو.رہا ہے…

وہ تڑپی تھی…

فرحان.کی.آنکھوں میں.نمی ابھری تھی… وہ کیسے اسکو.تکلیف دے گیا تھا…کیوں اس قدر بے حسی اور درندگی دکھا گیا تھا… کیوں اسکا.درد.محسوس.نا.کر پایا تھا…

وہ ایک دم دروازہ.کھول.کر.اندر.بڑھا.اور بے.اختیار.تالیہ.کے.منہ.ہر ایک تھپڑ رسید.کیا.تھا…

رضیہ بیگم.تو بوکھلا.ہی گئی.تھیں

ہائے.میری.بچی…

انھوں.نے دھڑا دھڑ رونا.شروع.کر.دیا..

آمنہ.بیگم.بوکھلا.کر نیچے آئی تھیں… ثوبان.بھی.شور.سن.کر باہر نکلا.تھا…

تمہاری اتنی.جرات… کہ.میری.بیوی کی.بات کرو. اپنی ناپاک .زبان.سے…

دفاع ئو.جاؤ ابھی اسی وقت ورنہ.زندہ نہی.بچوگی دونوں.آج… فوراً نکل جاؤ ورنہ.پولیس.کو بلواؤں.گا…اور حارث سے بھی.بد.تر.حالت.کروں.گا..

وہ.دھاڑا تھا…

کیا.ہو.گیا.ہے.فرحان..

آمنہ بیگم.نے.غصے سے.بیٹے.کو.دیکھا.تھا.

امی.نکالیں.انکو ورنہ.آج قتل.کر.دوں.گا.انکو…

انھوں.نے.نمرہ.کو.کل بھیجا تھا اور.ہم.سے.جھوٹ بولا….بکواس.کی.تھی…

وہ دھاڑا تھا.جبکہ.آمنہ.بیگم.نے حیرت اور.غصے سے اپنی.بھابھی اور.بھتیجی.کو.دیکھا تھا…

آپ.لوگ ابھی تک نہی.سدھریں..نکل.جائیں.فوراً ورنہ.فرحان.کو.روکنے والا.کوئی.نہی.ہوگا…

ابھی.اسی.وقت دفاع ہو جائیں.میرے گھر سے اور دوبارہ زندگی میں.اپنی شکل مت دکھائیے گا…

آمنہ.بیگم.نے.ہاتھ جوڑ.کر شدید طیش سے کہا.تھا اور.واپس.نمرہ کے پاس.چل.دی

فرحان.بھی.مڑ.چکا.تھا….

دوبارہ.کمرے میں.نا.گیا تھاِ.کیونکہ.ہمت.نا.تھی اسکا.سامنا.کرنے.کی

شرمندگی اسے.کھائے.جا رہی.تھی…

بالآخر دن.کو تین.بجے.اسکو.ہوش.آنے.لگا تھا …

کچھ دیر میں.جب وہ.مکمل بیدار ہوئی تو امنہ بیگم.کو اپنی.سرہانے پایا تھا…

آنکھیں.بالکل.ویران تھیں جیسے کھنڈر… لب خشک.ہو.کر گلابی سے نیلے سے ہونے لگے تھے.جیسے.صدیوں.سے.بیمار ئو…

چہرہ بالکل بے تاثر.تھا…

وہ کچھ بھی سوچ.سمجھ.نہی.پا رہی تھی…

دماگ مکمل.ماؤف تھا

آمنہ.بیگم.نے.اسے سہارہ دے.کر اٹھا یا تھا… تو وہ پھوٹ پھوٹ کر.رو.دی تھی…

وہ نہی.جانتی.تھیں اسے.کیا.ہوا.تھا.مگر اسکی.ہچکیاں.بہت.درد.ناک.تھیں. ..

وہ اتنی.شدت سے روئی.تھیں کہ.بے اختیار انکی آنکھیں نم.ہو.گئی.تھیں. ..انھوں.نے.اسے.خود.میں.بھنچ

لیا تھا..

کل رات تک.کتنی.خوش تھی.وہ اور.اتنی.خوبصورتی سے.تیار ہوئی تھی..اتنے.شوق.سے…مگر اب ہر چیز.بالکل.متضاد.تھی..

کچھ دیر.بعد.اسے چپ کروا.کر.پانی.پلایا تھا اور.پھر.سوپ پلانے لگیں. ..

اسی.وقت فرحان.کمرے میں.داخل.ہوا تھا…

نمرہ کی.نگاہ.سامنے.اٹھی تو.وہ ایک.دم بری.طرح سہم.کر آمنہ.بیگم.کے.پیچھے.چھپنے.کی.ناکام.کوشش

.کرنے.لگی تھی.

ایک ہاتھ سے.کمبل سختی سے.جکڑ کر مزید اوپر.کھینچا.تھا.جیسے.خود.کو.بچانا.چاہ رہی.ہو…..

جبکہ.دوسرے ہاتھ سے آمنہ.بیگم.کا.بازو.سختی سی.تھاما.تھا…

آنکھوں میں.بے تحاشا.خوف تھا…

آمنہ.بیگم.نے.اسکی.گرفت.کی.سختی.بری.طرح.محسوس.کی.تھی جو فرحان.کو.دیکھنے سے.آئی.تھی..

فرحان کو.دیکھ.کر.اسکا.سہم.جانا…خود.کو.چھپانا…

انھیں.ایک.پل کو.بات.سمجھ.نا.ائی.مگر اگلے.لمحے.جو خیال.ان.کے.ذہن.کو چھو.کر.گزرا تھا وہ انہیں ساکت.کر.گیا تھا…

دل.نے.شدت سے دعا.کی.تھی.جیسا.وہ.سوچ.رہی.ہیں.خدارا.ایسا.کچھ.نا.ئو…

فرحان.کی.نگاہ اسکی.جانب اٹھی. دل.جیسے.کسی.نے.مٹھی.میں.دبوچ.لیا.تھا…

بے.تحاشا.سرخ.اور.سوجی.ہوئی.آنکھیں. ..کپکپاتے.لب..

اور ان.سب کے.علاوہ.خوف…ڈر..وہ سہمی ہوئی چڑیا کی مانند تھی..

ہاں.اسکی.آنکھوں میں.آج.فرحان شاہ.کو.دیکھ.کر.خوف.جھلکا تھا..بالکل.ویسا.خوف جیسا اسکی آنکھوں.میں.اس.رات تھا.جب.وہ حارث سے بچ.کر.بھاگ رہی تھی… وہی.ہرنی.کی.طرح.سہمی ہوئی.آنکھیں. .جیسے قیمتی متا چھن.جانے.کا.خوف.ہو…پامال ہو جانے کا خوف…

وہ تو اسکا.مھافظ تھا.پھر لٹیروں جیسا.سلوک کیوں.کر.بیٹھا تھا؟؟؟

اس نے آج.تک ان.آنکھوں.میں.شاید.ہر.جذبہ.دیکھا.تھا.اپنی

.ذات.کے لیے

پسنددیدگی , محبت , چاہت پھر غصہ,نفرت, انتقام, پھر بھی.محبت تھی.ان.آنکھوں میں.ِاور سب سے بڑھ.کر بھروسہ.تھا… وہ.کبھی اس.سے سہمی.نا.تھی…

مگر آج.ایک.نیا.اور لاتعلق سا.جزبہ ابھرا تھا اور وہ.تھا.ڈر..خوف… اسکی آنکھیں آج بہت اجنبی لگی تھیں اسکو…

اسے.شدید.دکھ.اور.کرب نے.آگھیرا.تھا..

سوپ پلا کر آمنہ.بیگم.نے اسے.میڈیسن.دی.ہی تھی کہ وہ پھر سے نیند میں.جانے لگی…

فرحان.باہر.جا.چکا.تھا…

اس پر کمبل.درست.کرتیں.لائیٹ آف.کر.کے.پردے گراتیں.وہ.باہر آئی.تھیں. ..

جہاں.وہ.نیچے جا رہا.تھا..

رکو.فرحان!!

انھوں.نے.شدید غصے سے.پکارا تھا..

شاید.ہی.زندگی مین.کبھی.انھوں.نے اس ہو.اس.طرح غصہ کیا ہو…

فرحان کے سیڑھیوں کے جانب بڑھتے قدم.تھمے تھے…

وہ مڑا اور ان.تک آیا تھا…