Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 34) Part - 2
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 34) Part - 2
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
آج شام انکی.واپسی کی فلائیٹ تھی….
فرحان کی میٹنگ کامیاب رہی تھی…. آج وہ شام تک فارغ ہی تھا…اسکا نمرہ کے ساتھ ٹائم.سپینڈ کرنے کا موڈ تھا…. وہ شاور لے کر نکلی تو وقت دیکھا صبح کے دس بج رہے تھے….
کمرے میں نگاہ دوڑائی ..صد شکر وہ کمرے میں نا تھا…شاید کوئی کال.سننے باہر نکلا تھا…
اسنے تولیے میں لہٹے بالوں کو.آزاد کیا اور قد آور شیشے کے سامنے آکر. جلدی جلدی سلجھانے لگی… کیونکہ اسکی موجودگی میں یہ کام.نمرہ کے لیے ذرا مشکل تھا….
اسنے اپنے بالوں کا جائزہ لیا جو کمر سے کافی نیچے تک بڑھ چکے تھے…. شادی پر اسکے بالوں کی بس ذرا کی ٹرمنگ کروا دی تھی امروزیہ بیگم.نے..بامشکل دو تین انچ ئی کاٹوائے تھے…اس کے بعد اسے بال.نا کٹوائے جو کہ.اب کافی زیادہ لمبے لگے تھے اسکو… اوپر سے انکا وزن…. گھنے تو.تھے ہی مگر اب پانی کی وجہ سے زیادہ بھاری محسوس ہوئے تھے اسکو….
کیوں نا کوئی اچھی سی کٹنگ کروا لوں…
اسنے سوچا تھا….
شولڈر کٹ بوب ..ہاں وہ کر واتی ہوں…اسے یاد تھا ایک بار سال ڈیڑھ پہلے اسنے بال شولڈر کٹ کروانا چاہے تو امروزیہ بیگم.نے پہلی بار اسے منع کر دیا حالانکہ اسکا بہت موڈ تھا مگر انکا کہنا تھا کہ اسکی کمر پیچھے سے بالوں سے ڈھکی ئوئی ہی سہی ہے… تھی بھی تو لمبی وہ….
پھر اسنے سوچا وہ شادی کے بعد اپنا یہ شوق پورا کروائے گی… اب اسے موقع مل.گیا…
ابھی وہ سوچوں میں ہی گم.تھی کہ.ایک.دم.روم.کا دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوا….
نمرہ.نے فوراً بوکھلا کر دوپٹا اٹھا یا اور خود ہو پھیلا کر ایک دم مڑ کر کھڑی ہو گئی… وہ جانتی تھی اسکی قمیض پیچھے سے گیلی ہونے کے باعث چپک رہی تھی….
فرحان.کی اسکی طرف نگاہ اٹھی تو ایک.پل جیسے ٹھہر گئی…
نکھرا نکھرا چہرہ., اس پر گیلے بالوں کی.لٹیں , ہلکی سی گلابی ہوتی ناک اور گلابی ہونٹ جو شاید اسکے مسلسل کاٹنے سے اب لال ہونے.لگے تھے…. بلیو جینز پر یلو اور پنک فراک.سٹائل قمیض پہنے اور گلے میں ہنک ککر کا شیفون کا دوپٹہ…. وہ اسے کھلا ہوا گلاب لگی تھی…..
وہ اسکی جانب بڑھا تھا… نمرہ نے ہاتھ میں پکڑا برش واپس رکھ دیاِ…
باہر چلو گی؟؟ فرحان.نے پوچھا تھا…
جی… نمرہ نے جواب دیاِِ
فرحان.کو خوشگوار حیرت نے آن گھیرا…
اوکے چلو… اسنے اپنا والٹ, چابیاں.اور جیکٹ اٹھاتے ہوئے کہا …
نمرہ ٹس سے.مس نا.ہوئی…فرحان.ایک.دم.رکا…
واٹ ہیپنڈ؟؟؟
(کیا ہوا)
وہ میرے بال گیلے ہیں تو…
اسنے بالوں کو چھوتے ہوئے.مسئلہ بتایا…
تو.کور کر لو…
فرحان.نے.اسکے بال.دیکھے…
نہی وہ ایکچولی میں سوچ رہی.تھی کہ. سیلون جا کر لٹنگ کروا لوں….
اسنے اپنی.سوچ.بتائی…..
مگر اسکی گمان کے بر عکس فرحان.ایک.دم.تھوڑا الجھا تھا..
کٹنگ ؟؟ پر.کیوں؟؟
اسنے تیوری.چڑھا.کر.سوال کیا جبکہ نمرہ. ہکا بکا رہ گئی اسکے انداز پر… وہ ایسے کیوں.ری ایکٹ کر رہا.تھا جیسے وہ اسے گنجا کروانے جارہی ہو..؟؟
لمبے ہو گئے ہیں اس لئے…
نمرہ نے فوراً جواب.دیا….
تو رہنے دو لمبے…
فرحان کا لہجہ وہی تھا….
آپکو کیا.مسئلہ ہے میرے بال میری مرضی…
نمرہ کو.اب غصہ.آیا تھا..اچھا خاصہ.دماغ میں کٹنگ والا لوک ایمیجن کر کے وہ.خوش ہوئی تھی پر یہ…..
فرحان دو قدم آگے ہوا تھا…اور اسکے نم بال چھوئے تھے…نمرہ کو امید نا تھی اس پیش قدمی کی..بد ستور اسکے پاؤں دو.قدم پیچھے گئے…
میرا.مدئلہ ہے کیونکہ میری بیوی, میری بیوی کا سب میرا یعنی میری بیوی کے بال بھی, اس لیے میری مرضی!!!
انداز کافی جتانے والا تھا رعب دارِ..
نمرہ کو تو ایک دم خار آئی اس پر… کیسے دھونس جما رہا تھا اس کے بالوں پر وہ….وہ ایک دم ہی اپنے بالوں کے لیے پوزیسو ہوئی جیسے فرحان.لے جائے گا اس سے اس کے بال….
آپ مجھ پہ پابندی نہی لگا سکتے…
نمرہ نے آنکھیں اٹھا کر مضبوط لہجے میں کہا تھا….
یہ تمہاری بھول ہے کہ میں نہی.لگا.سکتا…
ویل اس وقت میں کوئی پابندی نہی لگا رہا ..
فرحان نے کہا.تھا…
اب کیسے کہتا.کہ اسکو.اسکے بال ہی تو مد ہوش کرتے تھے… کمر پر ابشار کی طرح بہتی وہ ڈارک براؤن اور کچھ سیاہ سی زلفیں…
مجھے کہیں نہی جانا آپ کے ساتھ…
نمرہ نے ٹکا سا.جواب دیا…شاید اس وقت مزید بحث کے.موڈ میں نا.تھی وہ…
فرحان نے اک پل اسکا پھولا پھولا چہرہ دیکھا…
تمہیں سیلون جانا ہے؟؟ چلو…
وہ کہتے ہوئے باہر کی جانب بڑھا…
کہیں نہی.جانا.مجھے…
وہ ذرا اونچا.بولی تھی کیونکہ وہ روم سے نکل چکا تھا…
میں ویٹ کر رہا ہوں گاڑی میں. ..پانچ منٹ میں آجاؤ…
وہ بھی اسی کے انداز میں بلند آواز میں بولا…
نمرہ نے پیر پٹخا تھا زور سے جو.ڈریسنگ کے کونے.سے جا لگا…
آئی…اوو…
ایک دم ہی اسکے منہ سے درد کی وجہ سے ہلکی سی آواز.نکلی…پاؤں پکڑ کر وہ غصے سے سہلانے لگی…
ڈھیٹ انسان.
..وہ بڑبڑاتی ہوئی جیکٹ پہن کر نکل.گئی….
گاڑی.ایک بہت بڑے سے ہیر سیلون.کے آگے آ کر رکی تھی..
فرحان اترا تو وہ بھی اتر آئی..وہ اسکے ساتھ آگے بڑھا..
اب وہ ذرا خوش.ہو.گئی تھی.کیونکہ مرضی جو پوری ہونے.جا رہی تھی مگر اسکی یئ خوشی.دائمی تھی… کیونکہ.ساتھ موجود وہ انسان اتنا بھی سیدھا نا.تھا..آخر کو وہ بھی فرحان شاہ تھا…
ایک سیر تو دوسرا سوا.سیر..![]()
اندر.جا کر وہ آس پاس کا بغور جائزہ لینے لگی…وہ ایک لگژری جگہ.تھی..دیوار پر.بڑے بڑے پوسٹرز..
اس.تمام وقت میں فرحان وئاں.موجود ایک. ہیر ڈریسر کے پاس بڑھا اور اسکو.کچھ ہدایات دیںِ… اسکے مراقبے کا ہی فائدہ اٹھا گیا تھا وہ…
میم.پکیز کم ود.می….ایک نرم سی نسوانی آواز اسکے.کانوں.سے ٹکرائی تو اسنے.مڑ.کر دیکھا…
کالی یونی.فارم.نما.سکرٹ میں کالی.ہیلز.پہنے وہ ایک انگرےز.لڑکی تھی جو مسجرا کر اس سے.مخاطب تھی…
نمرہ نے آگے دیکھا تو کچھ فاصلے پر فرحان.شاہ کھڑا تھا…
وہ اتناپرسکون کیوں.تھا؟؟ نمرہ کو.سمجھ نا آئی…
شور…ننرہ.مسکرا کر چل.دی جبکہ فرحان باہر.کی.جانب بڑھ گیا…
وہ اسے اندر لے کر گئی جہاں باقی سٹاف بھی کام میں مگن تھا..ایک آرامدہ چیئر پر بٹھا کر اسنے نمرہ سے جیکٹ اور دوپٹہ اتارنے.کا.کہا.اور اس سے لے.کر ایک برف رکھ دیا…
نمرہ نے اسے سمجھانے کے لیے.منہ کھولا تو اسنے
میم.آئی.نو
کہہ کر.اسکا.منہ.بند ہی رہنے دیا..نمرہ تو حیران.ہی رہ گئی.کہ.جب اسنے اسے بتایا ہی نہی.کہ.وہ.ادھر کروانے کیا آئی ہے تو اسے کیسے پتا.پر پھر باآخر.سکون.سے بیٹھ گئی…
اسنے پہلے.کینچی اٹھا کر اسکے.سارے بالوں.کے ڈیڈ اینڈز.کاٹے..پھر اسے سر.رکھ کر آنکھیں موندنے کا کہہ.دیا..
وہ بھی پر.سکون.ہو.کر بیٹھی رہی..
جب دس.منٹ بعد.آنکھیں.کھولیں.تو پورے سر.کے.بال فوائلز میں.لپٹے ہوئے تھے..
WHAT HAVE YOU applied?
نمرہ.مے.سوال.کیا..
As sir told us to do..
اسنے.پروفیشنل.مسکراہٹ سے.جواب.دیا..
سر کی چمچی…نمرہ کو.دل.کیا.سر پیٹ لے اپنا..
مگر اب تو کلر.لگ چکا تھا…
چپ کرنا ہی بہتر تھا…
بیس.منت بعد.کلر دھویا گیا…پھر اسکے.بال ڈرائیر سے سکھائے اور اچھا سا بلو ڈرائے.کر کے ایک خوبصورت سی لک.دی گئی…
وہ منہ.بسورے بیٹھی رہی… اب کہہ بھی کیا سکتی تھی…مگر اےک چیز.جو اسے زیادہ تپا رہی تھی وہ یہ کہ اسکے بال.ویسے ہی.لمبے تھے … انکی لینتھ کم.نا.ئو اس بات کا جیسے خاص.خیال.رکھا گیا ئو…
یو آر ڈن.میم…
اسے آواز آئی تو وہ اٹھ کھڑی ئوئی….شیشے میں جائزہ لیا اپنا… لمبے.سیدھے بالوں.کو لائیٹ براؤن لو.لائیٹس دیئے گئے تھے…..اس.کے بعد بلو.ڈرائے کر کے اچھے سے سیٹ کیا گیا…
اسے اہنا اپ ذرا بدلا.بدلا.اور پیارا لگا تھا…
ہممم…تھینکس..
اسنے جواب.دیا…
My pleasure..u like it
جواب آیا.پھر.گلے میں دوہٹہ اڑائے , جیکٹ بازو پو.دالے وہ چل.دی تیاری کے ساتھ ایسے چل.دی جیسے جنگ کے.محاذ پر روانگی ئو….
باہر آکر ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو سامنے گاڑی کھڑی تھی..پیر پٹختی وہ گاڑی تک پہنچی..فرحان نے سر اٹھا کر دیکھا تو مبہوت رہ گیا…وہ بدلی بدلی سی بہت خوبصورت لگ رہی تھی..
لائیٹ براؤن لو لائیٹس اس کے نکھرے صاف کومپلیکشن کو.مزید جازب.بنا رہے تھے….
فرحان.نے دروازہ ان.لاک.کیا…
پر وہ نا بیٹھی…
فرحان نے سوالیہ نظریں.اٹھائیں. .
I am not coming with u…
نمرہ.نے جواب دیا.اور ایک.طرف چلنے.لگی..فرحان کو.ہنسی آئی تھی اس کے.نروٹھے.انداز پر..وہ جلدی سے کار.سے.نکلا…
اور اس تک پہنچا..
What happened? ?
انتہائی معصوم سوال.آیا تھا..نمرہ نے کھا جانے والی.نظروں سے اسے.گھورا….
Dont u try to talk to me…
اسنے.وارن.کیا.تھا…
یار اچھی خاصی تو.لگ رہی.ہو…
فرحان.نے.مسکراہٹ دبا.کر.کہا.تھا…
پر آپ اس وقت زہر لگ رہے ہیں مجھے….
وہ دانت.پیس.کر.بولی تھی..اور پھر پیدل چل.دی…
اچھا سر پھاڑ لینا تم گھر جا کر..ناؤ.کم…
فرحان.نے اسکا پسندیدہ کام.اسے بتایا…
اور اسکی نازک کلائی تھامی تھی….
اتنے میں پاس.سے کچھ سٹوڈنس کا گروپ گزرا…
شاید وہ ہائی سکول.کے لڑکے لڑکیاں تھے…
ان.میں سے ایک لڑکی بولی تھی…
Wow..beautiful couple ![]()
جبکے ساتھ کی دوسری لڑکی جو.شاید سترہ اٹھارہ کی بچی تھی وہ مسلسل فرحان.کو.پسندیدہ نظروں.سے دیکھنے لگی…
نمرہ نے تیوری چڑھا کر اسے گھورا تھا…
تو وہ ایک.دم آنکھیں گھما.گئی…
نمرہ نے اپنا ہاتھ فرحان کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا…
نہی.آؤنگی میں …خود جا.سکتی ہوں…
اسنے غصے سے فرحان.کو.کہا تھا…
اتنے کی دیر تھی کہ فرحان آگے بڑھا اور ایک دم اسے باہوں میں اٹھا لیا…یہ سب اسنے ایک لمحے میں.کیا تھا…
نمرہ ئڑبڑا.گئی…
نیچے اتاریں …وہ زور زور سے ٹانگیں ہلانے.لگی..جبکہ آس پاس موجود لوگ اس پیارے سے کپل کو دیکھ کر مسکرا دیئے اور ینگسٹرز باقائدہ ہوٹنگ کرنے لگے تھے…
I said put me down…
نمرہ دبی دبی آواز میں چیخی تھی…
What made you think that i will do it?? )
تمہیں ایسا کیوں.لگ رہا ہے کہ میں تمہاری مان لوں گا؟
(یعنی تمہیں نےچے اتار دوں.گا)
وہ مسکراتے ہوئے اسکو.کار تک لایا..دروازہ کھول کر اندر بٹھایا پھر اپنی جانب آکر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کی…
نمرہ کا.موڈ سخت بگڑ گیا.تھا….گال لال ہونے لگے تھے اور ناک بھی…وہ رخ پھیر کر بیٹھ گئی..اس بات سے انجان کہ
فرحان کے دل کے تار بری طرح چھیڑ چکی تھی وہ…![]()
گاڑی بلڈنگ کے سامنے رکی تھی..فرحان.نے ہاتھ بڑھا کر نمرہ کا گود میں رکھا ہاتھ تھاما…
وہ.ایک.دم.کرنٹ کھا کر دبکی.تھی…ِ
میں اپکو گنجا کر دو……
ابھی وہ اتنا.ہی چیخ پائی.تھی کہ.فرحان.نے اسکا باذو اپنی جانب کھینچا تھا…وہ آگے کو کھولی ہی تھی کہ وہ اپنی سیٹ سے اسکی جانب آگے بڑھا اور.دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ تھامے اپنے لب اسکی لبوں سے جوڑ دیئے….
نمرہ کے منہ کو یک دم بریک لگی تھی…
فرحان
نے اسکے پیچھے سیٹ کے ساتھ لگا یا تھا.مگر خود نا ہٹا تھا…
نمرہ کو ایک پل.لگا تھا سمجھنے میں اور جباسے سمجھ آئی کہ ہو.کیا رہا ہے تو وہ ششدہ.رہ گئی تھی….ِاسکی موٹی آنکھیں پھٹ کر اور موٹی ہوئی تھیں. … جبکہ سامنے والے وہ پرواہ کب تھی… اسکے دونوں.ہونٹ اپنے ہونٹوں.میں لیے وہ اس پر جھکا تھا…. جیسے اپنے جزبات اسکے وجود میں منتقل کر رہا ہوِِمگر اس میں.کب سکت تھی اسکی شدتوں کو.سہنے کی…اسنے سختی سے اپنی آنکھیں بھینچی تھیں
…اور ایک دم.اپنے مخروطی ہاتھوں میں . سامنے سے اسکی شرٹ جکڑی تھی….
مٹھیوں میں.شرٹ لیے سختی سے بھینچی تھی ا سنے جیسے برداشت کی حدوں کو چھو رہی ہو…
فرحان ئولے.سے اسکے لب آزاد کرتا تھوڑا..بہت تھوڑا سا پیچھے ہوا تھا…گرم.سانسیں.نمرہ کے چہرے کو چھونے لگی تھیں. …جبکہ لب آزاد ہوتے ہی اسنے زور زور سے سانس لینا شروع کر دیا تھا..مگر نگاہیں…وہ اٹھا ہی نا سکی تھی وہ…وہ یک ٹک بہت قریب سے زور زور سے سانس لیتی موم کی گڑیا.جیسی اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا….
جو ابھی تک اسکی شرٹ سختی سے جکڑے بیٹھی تھی…شاید وہ.اس لمحے سے باہر نا آپائی تھی ابھی یا اسکا ذہن اسے قبول کرنے کی کوشش کر رہا تھا شاید….
نمرہ نے.دو پل بعد نگاہ اٹھائی …فرحان ویسے ہی اسے دیکھ رہا تھا..وہ یک دم.دوبارہ نگاہ جھکا گئی کیونکہ.وہ انتہائی قریب تھا اسکے….
نمرہ کے.لب پھڑپھڑائے تھے
Dont kiss a woman u dont love!!
اسنے کچھ گبھرائے اور کچھ تنبیہہ کرنے والے لہجے میں جیسے کہا تھا….
اور آہستہ سے اسکی شرٹ پر نظر پڑتے ہی اسے مٹھیوں.سے آزاد کر دیا….
فرحان کی آنکھوں میں پہلے الجھن پھر غصہ.ابھرا تھا….
وہ یک دم.ہیچھے ہوا تھا…
وہ اب بھی یہی سمجھ رہی تھی کہ.وہ اس سے محبت نہی کرتا…. پھر یہ سب کیوں؟؟؟
شاید یہ دبے لفظوں میں دور رہنے کا اشارہ تھا..کیونکہ پہلےوالے انداز میں وہ دوبارہ اسے تھپڑ مار کر تو روکنے سے رہی تھی اب….
اور یہ بھی سچ تھا کہ کہیں.نا کہیں فرحان.کا شدید غصہ دیکھ کر وہ اس رات سہم.گئی تھی …کیونکہ وہ غصے کی عادی تھی ہی.نا..نا کبھی گھر میں کدی نے اتنا شدید غصہ کیا تھا.نا.کبھی سکول.کالج میں ایسا.موقع آیا تھا اوع نا کہیں.اور یا شادی کے بعد..مگر اس رات فرحان کی دھاڑ…اسکا دروازے پر زبردست مکا رسید کرنا… وہ اسے اندر تک دہلا ہی تو گیا.تھا…
ہاں اس سے پئلے ایج.بار وہ سہمی تھی …اس رات جب فرحان.نے حارث کو پیٹا تھا… اسنے اسکی جنونیت دیکھی تھی…جیسے اس کے سر پر کون.سوار تھا…اسے لگا تھا وہ.اسے مار ہی دے گا…تب بھی وہ سہمی تھی…
اسکی بات سن.کر فرحان.نے.مٹھیاں بھینچی تھیں. … اس سے پہکے کوئی اور بات ہوتی وہ گاڑی سے نکک.کر بھاگنے کے سے انداز میں اندر بڑھ گئی تھی…
فرحان نے اسے جاتے دیکھا تھا….
Damnn!!!
اسنے سٹیرنگ پر مکا رسید کیا.تھا…
وہ اس وقت کمرے کی کھڑکی میں.کھڑی چاند کو.تک.رہی تھی…
دو ہفتے بعد شادی تھی..کافی ساری شاپنگ بھی باقی تھی..وہ نمرہ کا انتظار کر.رہی تھی کیونکہ آج رات اسکی واپسی کی.فلائٹ تھی…
اسک دل بے چین.تھا…
وہ چاہ کر بھی سالار کی وہ نظریں اور.باتیں.بھلا.نہی پا رہی تھی…
وہ اس سے محبت کرتی تھی..اور یہی محبت وہ اس سے بھی چاہتی تھی مگر اسنے تو جیسے اسے نا مراد کر دیا تھا…
سالار سوچ بھی کیسے سکتے ہیں.ایسا؟؟ انھوں.نے.میرے کوئی بات تک.نا.سنی..بس اپنی کہی اور چل.دیئے…
اساک دل سخت پریشان تھا…
کیا انکو.میرے کردار پر شک.ہے؟؟
اسنے خود.سے سوال.کیا تھا اور اس.سوال.کی.دیر تھی کہ.اسکو اپنا دل ڈوبتا محسوس.ہواِِ.
نہی اللہ میاں ِ…میں نے.ایسا.تو.کچھ.نہی.کیا.کبھی بھی…ہمیشہ خود.کو.بچا.کر رکھا…کسی پر. بھرپورنگاہ تک نا.ڈالی..انکے سوا کسی کو سوچا تک نہی..
وہ.رو.دی.تھی…
اسے.ننرہ.اور.مقدس کی بات یاد آئی.کہ.وہ.صرف جیلس ہو.گیا ہو گا…
اگر اتنی.بات ہے تو سہی..اگر انھوں.نے.مجھ ہر.شک.کیا تو میں.بھی.چپ نہی رہوگی..میں.کیوں.وضاحتیں.دوں… انھیں.خود خیال نا آیا وہ.کیا.سوچ رہے ہیں…اتنا.ا
عتبار تھا بس….
اسنے آنسو.ہونچھے تھے…
گھر.بات نہی.کر.سکتی تھی.کیونکہ اب تاریخ طہ ہو.چکی تھی سب تیاریاں.جاری تھیں… اور سب بہت خوش بھی تھے..سالار سے کبھی اسکا خاص رابطہ نا.رہا تھا.اور نا.اس.بار اسنے کوئی.رابطہ کیا تھا..تبھی تو.وہ اتنی.پریشان.ہو.چکی.تھی…
رات کو اندر.گیا تو وہ سو.چکی تھی.یا شاید سونے.کی.ایکٹنگ.کر.رہئ تھی…
دونوں.میں.دوبارہ.ضاص.بات نا.ئوئی.تھی صبح…
آج انکی واپسی تھی..اس وقت وہ ایئر ہورٹ تھے ..انکی فلائٹ اناؤنس ہو.چکی.تھی…
سفر بخریت گزرا اور بالآخر وہ اپنی.سر زمین.پر.واپس.پہنچے…نمرہ کو.ایک.دم.خوشی سی.ہوئی.تھی… جیسے اپنے گھر آ گئی.ئو…..
لگیج.وغیرہ لے کے جب.وہ نکلے تو برہان.انھیں.پک.کرنے آچکا تھا…
نمرہ خوشی سے اس سے ملی.تھی… نمرہ کے بال.دیکھ.کر.اسنے.کومپلیمنٹ دیا تھا.جس.پر.وہ.محض پھیکا.سا.مسکرا کر.رہ گئی…
فرحان آگے برہان.کے.ساتھ.بیٹھا تھا جبکہ.نمرہ.پیچھے تھے… ایئر ہورٹ سے حویلی کا پچاس منٹ کا.سفر تھا….
برہان.نے.میوزک پلیئر آن کیا تھا. جس پر ساحر علی بگا کی آواز میں.کوک.سٹوڈیو.کا.گانا.لگا تھا…
ایسے چھوڑنا , دل.توڑنا.
یہ.کوئی مذاق تو.نہی..ِ
روئے روئے.نینا.میرے.
روئے روئے نینا میرے![]()
. خاموشی میں.تیزی.سے بھاگتی گاڑی اور یہ.آوازِِوہ.دونوں.اس میں.کھونے.لگے تھے….
اپنا تم.نے.کیا.مگر, اپنے.نا.تم ہوئے
کیوں سینے سے لگایا تھا, کیوں اجنبی.ہوئے انج نہی کر دے , جیڑے پیار کر دے![]()
وہ دونوں. ہی.باخیالی میں ماضی میں.اترنے.لگے تھے..
روئے روئے نینا.میرے
تھی محبت جو.تیری,
وہی.قسمت.میں.نا تھی
تو.جدا.ئونا.بھی تو ضروری تھا
بے وفا.ئونا.نھی تو.ضروری تھا
اووو.ربا تیرے ہی ہاتھ میں
تھے وہ.سارے ہی.راستے
کیا.میرا ہاتھ چھوڑنا ضروری تھا
کیا میرے دل.کو.توڑنا ضروری تھا![]()
![]()
جذبات.سے بھرپور آواز پیک ہر گئی…اور بس.یہیں.ہر.اسکا ضبط جواب.دے گیا…
اسے.لگا وہ.رو.دے گی…
جبکہ.اداس تو فرحان.کا.دل.بھی ہو.چکا.تھا…اسکی.کیفیت. مختلف.نا.تھی…
برہان بھائی پلیز اسے.بند.کر.دیں…
اسنے.بلند.آواز.میں.کہا.تھا…گاڑی میں.موجود.سکوت.ٹوٹا تھا..وہ.تینوں نفوس.جو.کھوئے ہوئے تھے.جیسے جاگے تھے…
اسکی.آواز.میں.بھگا ہن فرحان.کو.محسوس.ہوا.تھا…
برہان نے چونک کر فرنٹ مرر.سے اسے دیکھا تھا…
ننرہ کو.فوراً احساس.ہوا.تھا کہ.شاید.وہ.زیادہ.ہی تلخی.سے بولی.ہے یا.کہیں برہان.کو کچھ عجیب فیل نا.ئوا.ہو…
وہ ایکچولی تھوڑا.سر میں.درد.ہے.سفر کی.وجہ.سے تو.میوزک اچھا نہی.لگ رہا…
اسنے فوراً بات.بنائی تھی…
نو.پروبلم…
برہان.نے نرمی.سے.جواب.دیا….
کچھ کھاؤگی؟؟ اسے ایک.دم.فکر ہوئی.تھی…اسکے لیے.نمرہ.بالکل.عریبہ جیسی ہی تھی… وہ اس.سے چار. ساڈھے چار.سال آرام سے چھوٹی تھی..جبکہ.فرحان.سے تقریباً چھ سال چھوٹی تھی…
نہی..تھینک.یو..
نمرہ.نے.بامشکل.مسکرا کر جواب دیا…
برہان واہس ڈرائیونگ پر اپنی توجہ.مرکوز کر چکا تھا جبکہ.فرحان.نے سائڈ.مرر.سے اسے دیکھا.تھا ..نمرہ نے ہاتھ اٹھا کر آنکھ کا.کنارہ ہلکے سے رگڑا تھا..شاید آنسو.صاف کیا.تھا جو ابھی باہر.نا.آپایا تھا …
اسکے.دل مین.ٹھیس سی اٹھی.تھی…
وہ جو کر چکا تھا اس.کے.ساتھ وہ.واقعی تکلیف دہ تھا….کتنا بے ھس ہو.گیا تھا وہ…
ممگر.کیئے.کو.طبدلا.نا.جا.سکتا تھا..اسے.افسوس.تھا.اب… اور اب وہ آئندہ زندگی کو خوشگوار بنا.سکتا تھا اور ایسا کرنے کا وہ پہلے.ہی.سوچ چکا تھا…
لیکن.طاہر ہے وقت لگنا تھا..سب ایک دم سے نہی.ہو.سکتا تھا کہ.ادھر وہ سوچتا اور ادھر.سب ٹھیک ..وقت لگتا ہے…
