Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 24)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
عصر کا.وقت قریب تھا…آج.شام.چھوٹی.سی ڈھولک.رکھی.گئی تھی….صرف گھر کے سب افراد تھے زیادہ.تر. اور کچھ آس پاس کے.پڑوسی…کل.منگنی کے فنگش پر زیادہ لوگوں کو.مدعو کیا.گیا تھا…
وہ سب کزنز خوش.گپیوں میں مصروف تھے..اسماء بھی آچکی.تھی..اور اسکا لہجہ.اور رویہ.نارمل.تھا….
چائے بنی.تو آمنہ.بیگم.سب.کو.دینے.لگیں. …
وہ بچوں کی.طرف آئیں تو.نمرہ.فوراً ان.کے پاس آئی…
لائیں آنٹی.میں دے دیتی.ہوں. .آپ بیٹھ.جائیں. ..
اسنے ان.سے.ٹرے پکڑ کر کہا.تھا..
جیتی.رہو…وہ مسکراتی ہوئی.واپس.عورتوں میں جاکر بیٹھ گئیں. ……
نمرہ نے.سب کو.چائے.دی..فرحان کسی کال کو.سننے وہاں سے.ہٹا ہوا.تھا..اشعر اور.برہان بیٹھے.تھے…
اشعر.اور فرحان کے درمیان.دیوار اب تقریباً گر چکی.تھی.جسکی.بڑی.وجہ.اشعر کی.شوخ طبیعت.تھی…وہ فرحان سے خائف ضرور تھا مگر ناراضگی اس.کے.بس میں نا.تھی….
نمرہ نے ان.دونوں کو چائے سرو کی..اتنے.میں فرحان بھی کال سن کر واپس اگیا. ……
وہ کرسی پر بیٹھنے.لگا….
نمرہ واپسی کو پلٹی تھی….
نمرہ.بیٹھو تم.بھی چائے پیو..اشعر نے.کہا.تھا…
تھینک.یو بھائی….لیکن میں ہر ایک کے ساتھ بیٹھنا پسند نہی.کرتی..صرف بھائی.ہوتے تو.ضرور.بیٹھتی….
اسنے مسکرا کر جواب دیا تھا..جبکہ.اسکی بات سن.کر فرحان کو تو.جیسے کانٹا چبھ گیا تھا..جبکہ.اشعر اسکی بات کے مطلب سے بخوبی واقف تھا سو وہ خاموش رہا…
برہان کو اسکی بات کی.رتی برابر سمجھ نا آئی…
فرحان جو.کہ.بیٹھنے لگا تھا …وہ فوراً کرسی کو ٹھوکر غصے سے ادھر سے چلا.گیا…
جبکہ.اشعر اور برہان اس ساری کاروائی کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے..نمرہ واپس آئی تو سب چائے بعد اٹھنے.لگے..تیاری بھی.کرنی.تھی مغرب کے بعد ڈھولکی شروع ہو جانی تھی..عریبہ کو بھی تیار کرنا تھا….
فنگشن انکے گھر کے بجائے وجاہت آفندی کی حویلی میں رکھا گیا تھا….
کچھ.دیر ہی گزری تھی کہ ملک وجاہت آفندی نے اشعر کو.بلایا تھا…
کیوں ؟؟.وہ.نہی.جانتا تھا…
فرحان شدید طیش میں وہاں.سے.نکلا تھا…
تم ابھی تک.نہی.سدھری نمرہ.سیال….ِخود کو.سمجھتی.کیا.ہو….اسان زبان.تمہیں سمجھ.نہی.آتی…اتنی.ہمت.کہ.ہر بار دوسروں کے.سامنے.مجھے ذلیل کرتی پھرو…..
اسکا.بس.نہی.چلا.رہا.تھا وہ.سامنے.ہو اور وہ اسکو.سبق.سکھا.دے….دیکھتا ہوں آج تمہیں. ..
وہ خود کلامی.کرتے.ہوئے.بولا…
اسنے.آج.صاف بات.کرنے.کی.ٹھانی.تھی…. جبکہ.نمرہ.اس.سے بات کرنا تو دور اسکی.شکل.دیکھنے.کی.رودار.بھی.نا.تھی…اس.گزرے وقت.نے صرف.ایک.جذبے.کو.نمرہ.کے اندر پختہ کیا تھا اور وہ.تھی نفرت!!!…
فرحان شاہ.سے شدید نفرت…
کہتے ہيں جب عشق شدت سے ہو نفرت بھی شدید ہوتی ہے…اور اس کے ساتھ بھی یہی تھا….
جبکہ.فرحان آج اس کو دھمکانا چاہتا تھا..وہ.اسکو.صاف الفاظ میں باز آجانے کی وارننگ دینا چاہتا تھا….
اسکو اسے اکیلے میں بات کرنی تھی جو اس وقت ممکن نا تھا…اسکا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا. …
اور بالآخر وہ ایک نتیجے پر پہنچ چکا تھا!!!!!…..
نمرہ کپڑے وغیرہ استری کرنے اور تیار ہونے اپنے نانا کی حویلی جا چکی تھی…عریبہ اس وقت اپنے کمرے میں تھی…فرحان اس کے پاس گیا تھا….
واش روم سے نکلی تو.فرحان کو کھڑے پایا…
بھائی آپ؟؟؟
اسنے فرحان سے سول کیا تھا..شاید کوئی.کام ہو..
ہاں مجھے ذرا تمہارا فون چاہیے. ..میرے میں تھوڑا مسئلہ ہو گیا.ہے…
اسنے عریبہ.کو.کہا.تھا…
اوہو…میں اپکو دے دیتی ہوں. .یہ کہہ کر عریبہ آگے بڑھی اور بڑے سے ڈریسنگ سے اپنا فون اٹھا کر اسکو تھما دیا….اور.پھر اہنے.کپڑے لیے دوبارہ واش روم کی طرف چینج کرنے بڑھ گئی…
فرحان فون.تھام کر باہر آگیا…وہ یہ بات اچھئ طرح جانتا تھا کہ عریبہ کے فون میں نمرہ کا نمبر تھا اور اسکا نمرہ سے رابطہ بھی تھا….
اسنے نمرہ کا نمبر سرچ کیا اورمیسج کا اپشن کلک کیا..سامنے نمرہ اور عریبہ کے پہلے کے میسج بھی تھے..اسکا کام آسان ئو چکا تھا…
اسنے میسج لکھنا شروع کیا..اور سینڈ کر دیا….پھر رپلائی کا انتظار کرنے لگا..بامشکل دو منٹ ہی گزرے تھے کہ نمرہ کا
Ok
کا.رپلائی آیا…
فرحان نے اپنا کیا گیا میسج ڈیلیٹ کیا اور واپس.فون عریبہ کو دینے چل دیا. …..
رات کا.اندھیرا ہر طرف چھا چکا.تھا….ہوری حویلی کو دلہن کی.طرح سجایا گیا تھا…. ہر چیز کا.بھرپور اہتمام کیا گیا تھا…..
ملک آزر آفندی, بلال.آفندی, علی آفندی اور ارشد سب لوگ حویلی میں موجود.تھے..بچے کھیل کود میں مصروف تھے…
آس پاس کے.سارے.بنگلے.بالکل.خالی.تھی…
کیونکہ سب ادھر.ہی جمع.ہو.رہے تھے. ..
نمرہ تیار ہو.چکی.تھی..ڈھولکی.کی.مناسبت سی اسنے پیلے رنگ کی نیٹ کی میکسی پہنی تھی…بال ادھے کیچر میں مقید تھے اور ادھے کسی آبشار کی طرح اسکی نازک کمر کو ڈھانپے ہوئے تھے…پاؤں میں ہیل تھی…میک اپ کے نام پر اسنے تھوڑی سی فاؤنڈیشن لگا کر. .آنکھوں پرمسکارا لگایا تھا اور ہونٹوں پر شاکنگ پنک لپس ٹک..وہ ڈارک لپسٹک میں انتہائی پرکشش لگ رہی تھی….ہاتھوں میں تازہ موتیے کے دو گجرے ڈالے..وہ تیار.کھڑی تھی…..
وہ حویلی آئی تھی..بڑی.بوڑھیاں ڈھولک لے کر گانے گانا شروع کر چکی تھیں. .اشعر کو.بھی بٹھایا جا.چکا تھا…سفید کرتے.میں اپنی تمام تر وجاہت اور ہشاش.بشاش.سا.چہرہ لیے وہ سب کے دل.موہ.رہا تھا…اسکی خوشی اسکے چہرے سے.عیاں تھی….
اہمم..لگتا ہے اشعر بھائی.سے.مزید انتظار نہی ہو.رہا…پھر کیا.کہتے ہیں لے آئین عریبہ کو؟؟نمرہ.نے شرارت.سے.اسکے قریب جا کر.کہا.تھا…..
ہائے بہن ہو تو ایسی..کسی کو تو مجھ.معصوم پر ترس آیا..ورنہ.یہاں تو.سب کو اپنی اپنی پڑی ہے…دیر کس.بات.کی لے بھی آؤ ظالمو…
اشعر نے نمرہ.کی.بلائیں لی.تھی.جس.ہر سب ہنس پڑے…
اپنے میں نمرہ.کے.موبائل.کی.بیپ.بجی…اسنے.میسج.کھول کر دیکھا تو عریبہ.کا.تھا
نمرہ پلیز آذر چاچو کے.گھر آجائیں…ماما.بھی.نہی.ہے..مجھے.
ہیلپ چاہیے…
عریبہ نے اسکو بلایا تھا
دیکھیں یاد کیا اور.میسج.بھی آگیا ..مجھے.بلایا.ہے..میں یوں گئی.اور ساتھ لے کر یوں آئی…
نمرہ.نے.چٹکی.بجا کر مسکراتے ہوئے.کہا.اور اٹھ کھڑی ہوئی…
وہ حویلی کے گیٹ کی طرف چل.دی..کافی.گہما گہمی ئو چکی تھی…
اک تیز ہوا کے جھونکے نے اسکو.چھوا تھا….اسنے اپنا فراک دونوں ہاتھوں سے سنبھالا…آسمان کی طرف دیکھا تو.بادل.تھے…ہوا تیز تھی.یعنی.کچھ دیر میں بارش کا امکان.تھا..حویلی.کی چکا.چوند کے برعکس باہر کافی اندھیرا تھا…
وہ آذر آفندی کی حویلی کی طرف بڑھنے.لگی..وہ گیٹ کے قریب ہی تھی.کہ.ایک کام والی پھولوں کا ٹوکرا.لیے وہاں.سے نکلی..وہ.حویلی کی.کافی.پرانی ملازمہ.تھی اور نمرہ.سے اچھی طرح واقف تھی…
نمرہ بیٹا آپ؟؟کدھر جا.رہی.ہیں ؟؟
انھوں نے.پوچھا تھا……
میں اندر عریبہ.کے پاس..اس نے.بلایا.ہے…نمرہ.نے.انکو بتایا.تھا…
پر اندر تو عریبہ.بیٹی نہی.ہے…
انھوں نے.نمرہ.کو بتایا تھا…
نہی.اسنے.مجھے ابھی.میسج.کیا.ہے…
نمرہ.نے انکو.بتایا…
بیٹا.میں اندر سے ہی آرہی.ہوں. .کوئی.بھی. نہی ہے ادھر…شاید ارشد صاحب کے گھر.ہوں. .آپ ادھر دیکھ.لیں…
اسنے نمرہ.کر ساتھ والے بنگلے میں دیکھنے.کا.کہا.تھا..
چلیں ٹھیک ہے میں دیکھ.لیتی ہوں. ..
نمرہ.نے جواب.دیا اور ارشد آفندی کے بنگلے کی طرف برھ.گئی..ہوائیں شدت اختیار کے آندھی کا.روپ.دھار رہی تھیں. …
وہ بنگلے کے گیٹ سے داخل.ہوئی …باہر پورچ کی لائٹ آن تھی..وہ لاؤنج کی طرف بڑھ گئی…لآؤنج میں داخل ہوئی تو اندھیرے نے اسکا استقبال کیا…. اسے حیرت ہوئی…اسنے آواز دی..
عریبہ..کہاں.ہو…
اتنے.میں اسکی نظر اوپر کے کمروں کی طرف اٹھی تھی..سامنے.کونےکے کمرے میں روشنی.تھی..ِِ..
اوہ اچھا وہاں ہو.گی..وہ اوپر کو چل.دی تھی….
وہ سیڑھیاں چڑھنے.لگی….ہیل کی مرہم سی ٹک ٹک خاموشی کو توڑ رہی تھی….
وہ سیدھا کمرے میں داخل.ہو.گئی….ابھی وہ اندر.دیکھنے.بھی.نا.پائی تھی.کہ.ایک.دم لائٹ چلی.گئی…ہو.طرف گھپ اندھیرا چھا گیا تھا….
اسے ایک دم وحشت ہوئی تھی..اسے خوف آیا تھا اس اندھیرے سے…..باہر بارش شروع ہو چکی.تھی..بجلی.کڑکنے کی آواز أئی تھی…
عریبہ…
اسنے پھر سے آواز.دی..
ایک دم سے لائٹ.آگئی. …
وہ کمرے میں آگے بڑھ چکی.تھی…اچانک روشنی ہونے سے اسکی آنکھیں چندھیا گئی تھی. .دو تین لمحے لگے اسکو سامنے.کا منظر صاف دکھنے میں. …
اسکی نظریں اوپر اٹھی تو سامنے حارث تھا…. وہ عجیب نظروں سے نمرہ کو.دیکھ رہا تھا..نمرہ کو اسکی حالت پر شبہ.ہوا جیسے وہ.ہوش میں نا.ہو…حارث بھی ادکو وہاں دیکھ.کر چونکا.تھا مگر پھر ایک دم اسکے چہرے پر گندی مسکراہٹ ابھری تھی…
ذہے نصیب..ڈاکٹر صاحبہ…آج تو آپ تشریف لائی.ہیں
ہم غریبوں پر اتنی عنایت….
وہ بولا.تھا…
نمرہ.کے چہرے پر ایک.دم غصہ ابھرا تھا…
عریبہ.کہاں ہے؟؟
اسنے.غصے سے.پوچھا تھا…..
ہم جو.ہیں ہمیں دیکھو.نا…حارث خباثت سے کہتا.ہوا.اسکی طرف بڑھا.تھا…نمرہ اسکی چال کی
لڑ کھڑاہٹ. دیکھ.کر.ایک الرٹ ہوئی تھی…وہ.سمجھ چکی تھی وہ نشے میں تھا…اسکی چھٹی حس.نے اسکو.خطرے کی بو.سنگائی تھی…
وہ ایک.لمحہ ضائع کیے بغیر مڑی تھی…اور دروازے کی طرف لپکی تھی..مگر اس کے ایسا کرنے.سے مقابل بھی ہو شیار ہو چکا تھا. ..وہ کسی صورت اپنے اس شکار سے دستبردار نہی ہونا چاہتا تھا…نمرہ کے ایک.دم بوکھلا کر مڑنے سے لمبی ہیل.کی. وجہ.سےاسکا پاؤں مڑا.تھا….
اور یہی لمحہ اسکے لیے کمزور ثابت ہوا تھا…اور حارث کے لیے مفید…وئ فوراً بھاگ کر آگے بڑھا.تھا..اور دروازہ بند.کر دیا تھا اسنے…نمرہ کا پاؤں بری طرح مڑا.تھا اور سینڈل ٹوٹ چکا تھا..اسے شدید.تکلیف کا.احساس ہوا.تھا..وہ اٹھ نا.پا.رہی تھی….
حارث دروازہ بند کر کے اسکی جانب لپکا تھا…نمرہ.کے اوسان خطا ہونے لگے تھے….وہ.قریب آرہاتھا..اب صرف دو قدم کو فاصلہ بوقی رہ گیا تھا..نمرہ زمین پر گری ہوئی تھی…
بدتمیز انسان پیچھے رہو..پاس مت آنا میرے…
نمرہ غصے سے پھنکاری.تھی…. اور اسکی.یہی.پھنکار مقابل.کو اشتعال دلا گئی.تھی…
ارے میں تو ڈرگیا. …
حارث نے.ڈرنے.کی اداکاری کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا….
کیاکروگی؟؟تھپڑ ماروگی؟؟ ہاں تھپڑ مروگی پہلے کی.طرح. ..آج.تمہاری ساری اکڑ نا.نکال.دی تو بتانا…
وہ اسکے اوپر جھکا.تھا اور نمرہ کے.بال.اپنی.مٹھی.میں جکڑے تھے…. نمرہ.کو اسکے منہ سے شدید گندی بو آئی تھی..شاید وہ شراب پی رہا تھا…
چھ..چھوڑو…نمرہ بامشکل بولی تھی….
ارے جان من ایسے.کیسے..آج تو اس حسن.کا خراج لے.کر جاؤ….اپنے اس.معصوم حسن.کا.حرجانہ تو بھرنا پڑے گا جس.کے بل.بوتے پر تم اتنا اتراتی ہو….
حارث نے اپنی.نظر.اس.کے.نازک اور دلکش سراپے پر فوکس.کی.تھیں. ..نمرہ اندر تک کانپ اٹھی.تھی….اچانک اسی نظر.نیچے پڑی..اسکا.دوسرا پاؤں تو.ابھی.تک آزار تھا اور بلکل.ٹھیک.تھا. ..اسنے ایک دم تانگ اٹگائی اور ہیل زور سے حارث کے پاؤں پر دے ماری…ہیل باریک تھی..اور وہ اس حملے کے لیے تیار نا تھا..ایک دم بلبلا کر وہ پیچھے.ہواتھا….
اور اسی چیز کا.فائدہ اٹھاتے ہوئے نمرہ پھرتی سے. ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں کھڑی ہوئی…. اور فوراً دروازے پر لپکی.تھی…اسنے لاک کھولا.تھا….بہت جلدی…جبکہ حارث اسکو.ایسا کرتے دیکھ کر سیدھا ئوا تھا….
وہ آگے بڑھا تھا مگر تب تک.دروازے کا لاک کھولنے میں وہ کامیاب ہو چکی تھی….
وہ باہر کو بھاگی تھی…جبکہ حارث اسے پکڑنے کے چکر میں اسکی.پیچھے ہوا..اسنے ہاتھ آگے بڑھا.کر اسکو پکڑنا چاہا..اور اس کوشش میں نمرہ.کو اڑتا دوپٹہ اس کے.ہاتھ آچکا تھا…نمرہ کی.گردن.ایک دم پیچھے.کو کنھچی تھی….
اسکا دوپٹہ ایک طرف سے حارث کے ہاتھ میں تھا…اگر وہ دوپٹہ چھڑاتی تو عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی….
اسے فوراً گردن.کو دوپٹے سے آزاد کروا دیا تھا…اور دیوانہ وار بھاگنے.لگی….
بچاؤ…کوئی مدد کرو…
وہ حلق کے بل پوری قوت سے چلائی.تھی….اسکی پکار پورے ارشد ولا میں گونجی تھی….
وہ لگاتار چیخنے.لگی تھی.کہ کوئی اس کی آہ و زاری سن.لے….
آنسوؤں کسی ندی کی طرح آنکھوں سے رواں تھے….وہ.رو.رہی تھی ساتھ.پکار رہی تھی.ساتھ بھاگ رہی تھی….ایک پیر میں اونچی ہیل تھی جبکہ.دوسرے.پیر میں توٹا ہوا جوتا..اسے سخت مشکل ہو رہی تھی…مگر وہ کسی طرح بھاگ رہی تھی..اسی اثناء میں اسکا پاؤں مڑو تھا اور وہ پھر سے زمین بوس ہو چکی تھی…بری طرح گری تھی وہ…..لگتا تھا ہڈی توٹ گئی ئو….
مگر اسکو گرنا نہی تھا…وہ وقت نہی ضائع کر سکتی تھی..وہ درندہ اس کے بالکل پیچھے تھا..اگر وہ اس تک آجاتا اور وہ اس کے ہتھے چڑ جاتی تو وہ اسے نوچ کھاتا….
وہ ہمت کر کے دوبارہ اٹھی. …پیر مڑنے کی وجہ سے موچ اچکی تھی…شدید درد کا احساس ہوا. ..پر وہ ہمت نہیں ہار سکتی تھی. ..اگر آج ہمت ہار گئی تو پھر کبھی سر اٹھا کے جینے کی ہمت نہیں کر سکے گی…
وہ دیوانہ وار بھا گنے لگی…رو رہی تھی..چیخ رہی تھی. .!
وہ مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتی تھی. .
بالآ خر. وہ سیڑھیوں تک پہنچ گئی. ..وہ اب بھی اس کے پیچھے تھا..وہ گر تے پڑتے سیڑھیاں اترنے لگی
اللہ رحم..
“بیشک عزت اور ذلت تیرے ہاتھ میں ہے”
اللہ. مدد….اپنی اس گناہ گار بندی کو بچا لے اپنے حبیب کے صدقے!عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف اور صرف اس اللہ کی ہے.اگر کسی چیز کی ضرورت ہے “تو وہ ہے یقین..”یقین کامل”
خدا پر مکمل یقین..
کہتے ہیں دعا کی قبولیت کی شدط ہے یقین. .
اور بیشک خدا سننے والا مہربان ہے.
وہ پاگلوں کی طرح گرتی پڑتی سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ ایک دم لاؤنج کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی.
کوئی آرہا تھا یا اسکا وہم تھا؟تو کیا اس کے رب نے اسکی سن لی تھی؟
دروازہ کھلا اور کسی کےتیز قدموں کی آواز سنائی دی. .یعنی آنے والا شاید اسکی چیخ و پکار سن چکا تھا.
لیکن ان بڑھتے قدموں کی آواز سے اس کے پیچھے آنے والے شخص کے قدم ڈگمگائے تھے.
وہ آخری سیڑھی اتر چکی تھی جب کوئی سامنے نمودار ھوا اور وہ بے ساختہ. دیوانہ واراس کو جا کے لپٹ گئ..اسنے یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ سامنے کون ھے..کیونکہ وہ بس یہ جانتی تھی کہ اس وقت وہ شخص اس کے لیے فرشتہ ہے
وہ اس سے لپٹتے ہی سسکی..”بچا…بچائیں” اور اسکی شرٹ زور سے.مٹھیوں میں بھنچ.لی.تھی…جیسے کبھی نا چھوڑنے کا.تہہ کر لیا.ہو..جیسے اگر وہ چھوڈ دے.گی تو واپس اس کے ہاتھ لگ جائے گی….
فرحان حیرانی سے نمرہ کو دیکھتے ہوئے صورتحال سمجھنے کی کوشش کرنے لگا. ..
لمبے سیدھے بال بکھرے ہوئے, خوبصورت نازک پاؤں کی ایک. پینسل ہیل توٹی ہوئی اور دوپٹہ ؟؟؟…….وہ دوپٹے سے عاری تھی….. اسکی.اتنی.عبتر حالت دیکھ کر اسکے ذہن.میں کئی سوالات ابھرے تھے..
اتنے میں اسکی نظر یکدم اوپر اٹھی
سامنے حارث کھڑا تھا. .. چہرے پر خبیث مسکراہٹ سجائے…
.لیکن اسکو اپنی طرف دیکھتا پا کر ایک لمحے میں اس گھٹیا انسان کی مسکراہٹ غائب ہو ئی. اس کے ھاتھ میں نمرہ کا دوپٹہ دیکھ کر ایک لمحہ لگا تھا اسکو ساری بات سمجھنے میں! !!!!!!! سارے سوالوں کے جواب واضح ہو.چکے.تھے…
غصے سے اسکی رگیں تن گئیں. ..
اسکی آنکھیں یک دم بے تحاشا سرخ ہوئی تھی. …… اسکا بس نہی چلا تھا کہ وہ اس سامنے کھڑے انسان کی جان.لیے لیتا…
اسنے.مٹھیاں زور سے بھینچی تھیں. ….
اسنے نمرہ کو آرام سے خود سے الگ کر کے اپنے پیچھے کیا کہ وہ نازک سی لڑکی پوری اس کے لمبے قد اور وجہہ جسامت کے پیچھے چھپ گئی.
وہ بھرپور غصہ لیے آگے بڑھا اور لمحا لگائے بغیر سیڑھیاں چڑھتا حارث تک پہنچ گئ…
زلیل انسان!!وہ دھاڑا.
یہ تو.جانتا تھا تو.کمینہ.ہے مگر اس قدر گر جائے.گا یہ نہی.پتا تھا…. وہ اسکے گریبان سے پکر کر دھارا تھا…..اور ساتھ ایک بھرپور مکا اس کے جبڑے پر ماراِابھی وہ سنبھل نہ پایا تھا کہ اسنے مکوں اور لاتوں کی برسات کر دی..
وہ اسے پیت رہا تھا جیسے اس.پر کوئی جنون سوار ہو…اسکی پیٹ میں لگاتار اپنی.ٹانگیں مار رہا تھا ..ایسے جیسے وہ ہوش میں نا.ہو..ہر چیز سے بے گانہ ہو..جیسے وہ اسکی جان لے.کر ہی.دم لے گا..
..اسے اپنے آس پاس کی پرواہ.نا.تھی..حارث کی چیخیں اور کراہتیں شدت اختیار کرنے.کگی تھی…مگر وہ.تو جیسے سن.ہی.نا.رہا تھا…وہ.اس.وقت انسان.نہی.لگ رہا تھا..وہ.شدید وحشی ہو.رہا تھا…. وہ اسکی ایک ایک ہڈی پرکاری ضرب لگا رہا تھا…
حارث کی ناک اور.منہ.سے خون بہنے.لگا تھا…
جب اس کو پھر بھی سکون.نا ایا تو اسے.سنبھلنے کا.موقع دئیے بغیر اسنے اسکا سر پکرا اور دیوار سے دے مارا….ایک دم اس کے ہاتھ سے دوپٹہ جھپٹا اور نیچے بڑھا حارث کو وہ کھینچتا ہوا سیڑھیوں سے.نیچے لایا تھا..آخری سیڑھی سے.قریب اسنے.اسکو.چھوڑ دیا….
خود وہ دوپٹہ لئے نمرہ کی طرف بڑھا تھا…اسے دوپٹے سے عاری دیکھ.کر اسنے.نظریں ہنوز.جھکائی ہوئی تھیں. …..ابھی اسنے اآدھا لاؤنج بھی عبور نا کیا تھا کہ کچھ لوگ لگاتار شور سن کر. لاؤنج میں داخل ہوئے…
وہ ایک طرف سہمی ہوئی چڑیا کی مانند کھڑی تھی..لٹھے کی طرح سفید رنگ. .کاٹو توجسم میں لہو نہیں.. …..
وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا کہ ایک زوردار گرج نے اسے رکنے پر مجبور کر دیاِِ…..
دادا اس کے ہاتھ میں نمرہ کا دوپٹہ دیکھ کر دھاڑے تھے
“!!!!!!!!فرحان”
وہ ملک.وجاہت کی گرج دار دھاڑ سن.کر ایک دم رکا تھا…..
اسنے ایک.طرف چہرہ موڑ کر دادا کو.دیکھا جو شعلہ.انگیز نظروں سے اس کو دیکھ رہے تھے..نظریں تھیں کہ قہر برسا رہی تھیں. …
کیا.ہو رہا ہے یہ.سب؟؟؟
انھوں نے دھاڑ کر پوچھا تھا…کہ اتنے میں کاشان آگے برھا تھا…
تمہاری اتنی.جرات..بے غیرت انسان….
وہ اسکا گریبان پکر چکا.تھا..جبکہ.باقی سب بھی فرحان کے ہاتھ میں نمرہ.کا دوپٹہ دیکھ کر حیران.تھے…. وہ سب غلط سمجھ چکے.تھے اسکو….
دوسری طرف حارث سیڑھیوں پر پڑا.کراہ رہا تھا…
تو.ایک طرف ڈری.سہمی.نمرہ دیوار کو.چپک.کر.کھڑی تھی….وہ سن حواس.سے پھٹی پھٹی نظریں لئے سب دیکھ رہی تھی…
فرحان نے آنکھوں میں الجھن لیے ان.سب کو دیکھا تھا جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہا یو….
اسنے ایک.دم اپنا گریبان کاشان کے ہاتھ سے آزاد کروایا تھا….
وہ کچھ کچھ انکی.بات.کا.مطلب سمجھنے.لگا تھا….
چھوڑو مجھے..تم غلط سمجھ رہے ہو…
اسنے.غصے سے اسکو پیچھے کیا تھا….
ابھی وہ کچھ کہنے.ہی لگا تھا کہ اندر گھستی رضیہ بیگم کی نظر سامنے گرے حارث پر پڑی جو اب بامشکل دیوار کا سہارا لیے اٹھنے لگا تھا…وہ بھاگ کر اسکی طرف لپکی تھیں. ..
ہائے میرا.بچہ..یہ کیا ہو گیا…کس نے کیا ایسا…
وہ زارو قطار رو کم.رہی تھیں اور.بول.زیادہ رہی تھیں. … چونکہ فنگشن میں صرف گھر کے افراد تھے اور کچھ ہمسائے جن میں سے کافی موسم کی خرابی کے باعث جا چکے تھے…سو اس وقت وہاں پر تقریباً سب خاندان.کے لوگ تھے…فرحان کسی بھی بات.کی پرواہ کیے بغیر نمرہ کی طرف برھا تھا…اس کی قریب جا کر وہ رکا تھا اور اکا دوپٹہ اس کے سر پر پھیلا کر ڈال دیا تھا….
اتنے میں حارث. سیدھا ہو چکا تھا…
آپ سب میری بات سنیں…
فرحان نے مر کر سب کو.مخاطب کیا تھا…
اب سننے کو کیا بچا ہے..سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں تمہارے کرتوت….توبہ توبہ….
رضیئ بیگم فوراً اس پر چرھ دوڑی تھیں. …
میں. ..میں. اندر آیا تو یہ…یہ.دونوں. …
اتنا کیہ کر حارث رکا تھا…
یہ…دونوں ایک دوسرے.کے ساتھ….میں نے منع کیا تو فرحان مجھے پیٹنے لگا….
اس نے سارا ملبع اس پر ڈال دیا تھا..جبکہ سب چہ مگوئیاں کرنے.لگے تھے…
توبہ کیا زمانہ.آگیا ہے….
اپنے گھر میں ہی اب…
کسی عورت نے کان کو ہاتھ لگا کر کہا تھا….
جبکہ فرحان دوبارہ حارث کی.جانب لپک.گیا تھا….
تیری تو…کیا بکواس.کر رہا ہے بے غیرت انسان…تجھے.چھوڑ کر غلطی کی.میں. ..
وہ دوبارہ اس پر چڑھ دوڑا تھا…
اشعر اور برہان.اسی وقت اندر آئے تھے. انھوں نے فوراً آگے نرھ کر فرحان کو پکڑا تھا ورنہ.وہ.اس وقت جس غضب اور جلال.میں تھا کچھ بعید نا تھا وہ اسکا قتل کر کے ہی دم.لیتا…..
یہ ..یہ جھوٹ بولتا ہے….
نمرہ اس کاروائی میں پہلی بار بولی تھی…..
کون کتنا سچ کہہ رہا ہے یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں. .اندھے لگتے ہیں تجھے ہم لڑکی؟؟؟
اب کی بار رضیہ بیگم نمرہ پر چڑھ دوڑی تھیں. …
ہائے.میرا معصوم بچہ….انھوں نے حارث کو پچکارا تھا….اپنے اس معصوم بیٹے کے کارناموں سے وہ اچھی طرح واقف تھیں. .مگر اس وقت انکو اسے یہاں سے بچانا تھا..کیا کرتیں اولاد تو انہی کی.تھی….
دادا جان.یہ کمینہ بکواس کرتا ہے….
فرحان خود کو اشعر اور برہان کی گرفت سے آزاد کرنے کی سعی کرتے ہوئے دھاڑا تھا….
بس.خاموش…
ملک وجاہت نے ہاتھ اٹھا کر اسکو مزید کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا….نمرہ کو تو لگا تھا وہ مزید برداشت نہی کر سکتی..کوئی اس کے دامن پر داغ لگانے پر تلا تھا….اسکا پاک.دامن سب کی.نظروں میں سوالیہ نشان بن رہاتھا….
ابھی کہ.ابھی نکاح کرو نمرہ سے….
ملک.وجاہت نے ضبط کا.مظاہرہ کرتے ہوئے کہا.تھا جبکہ.انکی بات سن.کر ان.دونوں سے سروں پر جیسے آسمان ٹوٹ کر آن گرا تھا…..
نن..نہی..نہی ….
نمرہ بے یقینی سے کہتی پیچھے کو قدم بڑھا رہی تھی جیسے سماعت پر یقین نا آیا ہو…..
فرحان نے کرنٹ کھا.کر اپنے دادا کو دیکھا تھا…وہ.اسکی..فرحان شاہ کی بات کا اعتبار نا کر رہے تھے؟؟؟ اپنے اس پوتے کی بات کا جس پر وہ خود سے زیادہ بھروسہ کر سکتے تھے…..
دادا جان..اسنے حیرت اور بے یقینی سے انکو پکارا تھا…دکھ.نکاح کا نا تھا دکھ تو اس بات.کا تھا کہ.وہ کسی اور کی بات سن کر اس پر اپنا فیصلہ سنا رہے تھے….
نہی…نہی نانا جان…وہ جھوٹ بکتا ہے…وہ خود …خود غلط ہے وہ….بکواس کر رہا ہے…
نمرہ نے.بلک.بلک کر کہا تھا….
پر انھوں نے تو.جیسے سنا ہی ناتھا…
آمنہ بیگم کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھیں. .جبکہ امروزیہ بیگم کے حواس ہی بحال.نا.ہو رہے تھے…
آذر فوراً نکاح خواں کو.بلاؤ…..
ابھی.نکاح ہو گا..اور جس کو مسئلہ ہو وہ سکتا ہے ادھر سے…
انھوں نے انتہائی سفاکی سے کہا تھا…
امروزیہ بیگم آگے آئی تھیں. .
چچا جان..ایسے کیسے…
وہ کچھ بولنے.لگی تھیں کہ انھوں نے ہاتھ اٹھا کر انکو خاموشی اختیار کرنے کا کہا. …
میں تیار ہوں. ..فرحان کی آواز پورے لآؤنج میں گونجی تھی…یہ.احساس نداِمت تھا یا کچھ اور؟؟؟؟کہ وہ آج.اسکی.وجہ.سے ہی تو اس حال.کو تھی…
ان سب کے فیصلے شروع سے وجاہت آفندی کرتے آئے تھے…احمد آفندی بھی ہر معاملہ بھائی کے ہی سپرد کرتے تھے…یہی وجہ تھی کہ انکے بچوں کے فیصلے بھی وہی کرتے تھے….انکے فیصلے.ہمیشہ سہی ثابت ہوئے تھے تبھی آج تک کوئی ان.کے آگے نا بولا تھا…
نمرہ کو یقین نا آرہا تھا…وہ تو جیسے سکتے میں آچکی تھی…ملک سیال ان کے ساتھ نا آئے تھے..انھوں نے کچھ کام نپٹا کر اگلے دن آنا تھا…..
نمرہ کو کب اندر لایا گیا..کب اس پر چادر ڈالی گئی..کب نکاح خواہ آیا اور کب اسنے اس شخص کو.ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قبول کر.لیا…کب وہ نمرہ سیال سے نمرو فرحان بنی…وہ کچھ نا جانتی تھی…اسے کوئی حوش نا تھا…ہاں خیال تھا تو.صرف اتنا.کہ.آج وہ ایک بار دوبارہ ٹوٹ. چکی تھی..وہ پھر سے آج بکھر گئی تھی…آج وہ پھر دو سال پیچھے جا چکی تھی..اسی ساری محنت جیسے رائیگاں ہو چکی تھی….
تو.کیا دوبارہ کرچی کرچی.ہونا ہی اسکا مقدر تھا؟؟؟؟
فرحان نے عریبہ کے فون سے نمرہ کو میسج کیا اور اسے آذر آفندی (اپنے تایا) کے گھر بلایا….جو بالکل حویلی کے ساتھ تھا…
آج تو تمہیں میری سننی.ہو گی…سمجھا ہوا کیا.ہے آخر….
وہ سوچ رہا تھا…
نمرہ کے رپلائی کے بعد وہ سیدھا.آذر کے گھر کی طرف چل دیا..جانتا تھا سب حویلی میں ہو ں.گے….
عریبہ جو حویلی لے جایا گیا…..
اسکے اور اشعر کے درمیان ایک جالی.کا.پردہ ڈالا گیا تھا…
فرحان آذر آفندی کے گھر اسکا انتظار کرنے لگا…. پانچ سے دس منٹ گزرے…پھر پندرہ..مگر وہ نا آئی….
فرحان کا.غصے سے برا حال تھا….
اتنے میں اسے ارشد چاچو.کی.کال آئی…
فرحان کہاں ہو؟؟
انھوں نے.پوچھا تھا…
بس حویلی آرہا
ہوں چاچو…
اسنے.بتایا تھا…
اچھا یار میرے گھر.جا .. میرا والٹ رہ گیا ہے ادھر….کمرے میں ہو.گا…اتھاتا لانا..
انھوں نے اس سے کہا تھا…
جی.لے.آتا.ہوں. .اسنے.فرماں برداری سے جواب دیا…
ذرا جلدی پلیز…کچھ کام.ہے…دیر نا کرنا فوراً لے آؤ…
انھوں نے.اجلت سے جواب دے کر فون.بند کر دیا….ڈھولک.اپنے عروج.پر تھی…
فرحان کو مزید انتظار کرنا بے کار لگا …اور وہ نکل کر جلدی سے ارشد آمندی کے گھر کی طرف بڑھا…
اندر داخل.ہو.کر وہ لمبے.لمبے ڈاگ بھرتا لان سے گزر رہا تھا کہ اسکو.لگا.کوئی چیخا تھا…
اسکو اپنا وہم.لگا..وہ فوراً لاؤنج.میں داخل.ہوا…مگر یہ کیا.ِواقعی وہاں کوئی چیخ رہا تھا…
اسکو شدید حیرت نے آن.گھیرا…
یہ کون تھا؟؟ آواز کدھر سے آرہی تھی؟؟؟
ابھی وہ سمجھنے.کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ ایک دم چیختی چلاتی روتی نمرہ سیڑھیوں پر نمودار ہوئی تھی..ایک پل سے پہلے وہ سیڑھیاں اتر چکی تھی…اور آکر سیدھا اس سے لپٹی تھی….
