Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 11)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
ملک وجاہت کی طبیعت چونکہ اب بہتر ہو چکی تھی لہذا وہ لوگ اگلے دن اتوار کو ہی لوٹ آئے…..
اور سب آج اپنے.اپنے کام دھندوں میں مصروف ہو.گئے…نمرہ اس.وقت یونی میں بیٹھی کچھ نوٹس بنا.رہی تھی ساتھ ایمن اسکی مدد.کر رہی تھی جبکہ مقی چکن رولز سے بھرپور انصاف کرنے میں مگن تھی… ساتھ اس پاس کا.جائزہ لینا اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا…اسی دوران اسکی نظر دور سے گزرتے نومان پر پڑی..وہ جا رہا.تھا..کہ اتنے میں لاریب اسکے پاس آئی اور.کچھ بات کیِ.اسنے اپنے ہاتھ میں کچھ لیے ہاتھ نومان کی طرف بڑھایا جسے نومان نے لینے سے انکار کر دیا..اور لاریب کی شکل بن گئی…مقی ایک دم ہنسنے لگی. …جس پر نمی اور ایمن نے سر اٹھا کر اسکو دیکھا…
کیا ہوا؟؟ ایمن نے الجھے سے لہجے میں استفسار کیا
جس کے جواب میں مقی نے انکھوں سے اشارہ کیا..نمرہ اور ایمن نے اسکا تعاقب کرتے ہوئے نظر اس طرف کی تو سامنے لاریب غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی..
ارے اسکو کیا ہوا؟؟ نمرہ نے فوراً سوال کیا…
محترمہ انکے پیچھے تھیں جو.اپکے پیچھے ہوتے ہیں ِ.خاص لفٹ نہی کروائی گئی سو….
اسنے بڑے مزے سے دانتوں کی نمائش کر کے دونوں کو بتایا…
اوہ..یعنی.نومان…ایمن فوراً بولی جبکہ نمرہ کے منہ کا زاویہ بگڑا…
مرجا..تجھے بڑا پتہ ہے وہ میرے پیچھے ہوتا ہے یا کسی اور کے…اور کوئی نہئ ہوتا میرے پیچھے اچھا نا…ہی از جسٹ اے کلاس.فیلو فار می…
نمرہ نے اپنی چھوٹی سی ستواں ناک سکیڑ کر کہا…
ہاہاہا…میڈم لفٹ کس کو ملی تھی اس دن؟؟
مقی نے پھر دانت نکالے…
ہان تو لفٹ کا کیا ہے..کاشان بھائی نہی آرہے تھے اور بارش تھی سو اسنے کہا مینے مان لیا..دیٹس اٹ…
نمرہ نے گویا بات ہی ختم کرنا چاہی…
نمی ٹو بی سیریس..مجھے بھی لگتا ہے وہ انٹرسٹڈ ہے تجھ میں. ..ایمن نے سیدھی بات کی..
بالکل اندھا بھی سمجھ جائے جیسے وہ آپ کے اردگرد منڈلاتے ہیں اور کرم نوازیاں کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں. ..بندہ اچھا.ہے یار. پرے بات ڈن کر تاکہ ہمیں بھی کوئی نکاح کے چھوارے نصیب ہوں …اپنے نا سہی چل تیرے سہی…ایک عدد جیجا جی بھی مل جائیں گے….
مقی مے آنکھ دبا کر بڑے مزے سے اسکو مستقبل پلان کر دیا….
بکواس نا.کر…اتنا.اچھا لگ رہا.ہے تو خود کر لے تو نکاح….چھوارے بھی نصیب ہو جائیں گے اور جلد ہی “نِکا”![]()
بھی…
نمرہ نے چڑ جر اسکی بات اسکی کے سر پہ دے.ماری..
منہوس.شرم کرِ.مقی اسکی بات سن کر بولی…
یار یہ لاریب لائیک کرتی اسکو..اس سی کرلے اللہ کرے…میری تو یہی دعا ہے..
نمرہ نے دور کھڑی لاریب کو دیکھ کر کہا تھا…
وہ جانتی تھی لاریب اس سے خار صرف اس لیے رکھتی تھی کہ وہ نومان کو پسند کرتی تھی جبکہ نومان اسکو خاص خاطر میں
نا لاتا تھا. .وہ نمرہ کے آگے پیچھے پھرتا تھا جبکہ نمرہ کو اس وجہ سے وہ ایک آنکھ نا بھاتا تھا…
ہممم..چلو اللہ کرے…
ایمن نے بھی اسکی تائید کی…
نمرہ کو واپس گئے ہفتے سے اوپر ہو چکا تھا..فرحان کی یونی ختم ہو چکی تھی..اور رزلٹ تک وہ صرف آفس کو ٹائم دینا چاہتا تھا…وہ ,اشعر اور برہان ساتھ ہی آفس کے لیے نکلتے تھے…
ابھی ابھی وہ میٹنگ سے فارغ ہوا تھا…کالی پینٹ کے اوپر صف وائٹ شرٹ اور کوٹ پہنے..پاؤں میں مہنگے برینڈ کے جو
تے اور ہاتھ میں انتہائی قیمتی سونے کی گھڑی …وہ بے حد ڈیشنگ لگ رہا تھا..
اب وہ اپنے آفس میں آ بیٹھا ریلیکس کرنے کی غرض سے…. اسنے کوٹ اتار کر چیئر کے پیچھے لٹکایا اور راکنگ چیئر پر آرام.سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں…
اسنے جیسے ہی آنکھیں بند کیں بمرہ کا.حسین سراپا اسکی نظروں میں گھوم گیا…
اسنے آنکھیں کھول دیں…ایک لمبی سانس کھینچ کر کچھ سوچتے ہوئے اسنے موبائل اٹھایا تھا….
عریبہ کے ذریعے وہ اتنا تو جان چکا تھا کہ وہ ساشل ایپس یوز کرتی ہے…اسکے دماغ میں ائیڈیا آیا..
اسنے پہلے فیس بک کھولی اور کچھ سوچتے ہوئے سرچ بار میں
Nimra siyaal
ٹائپ کرکے سرچ پے کلک کر دیا کہ شاید ہوا میں چھوڑا ہوا تیر نشانے پر لگ ہی جائے…
اور اسکی توقع کے برعکس سامنے پہلی آئی ڈی ہی اس دشمنِ جاں کی تھی…ڈی پی میں اسنی ایک سائڈ پر دیکھتے ہوئے لی گئی تصویر لگائی تھی اس طرح کے اسکا چہرہ کافی چھپا ہوا تھا..اگر فرحان کے دل میں اسکا ایک ایک نقش رقم نا ہوتا تو شاید وہ نا پہچان پاتا..
جبکہ آئی ڈی میں اسکے میڈیکل کالج کا.نام اور بائیو میں
Future Doctor InshaAllah
لکھا.ہوا تھا سو.اسے ذرا دیر نا.لگی تھی اسکو پہچاننے میں. ..
اسنی اسکی آئی ڈی کھولی..سب پوسٹس دیکھیں اور پکچرز بھی…لیکن ڈی پی کے علاوہ اسکی کوئی تصویر نا تھی اور پوسٹ بھی بس ایک دو گنی چنی…اسکی.پرائیویسی لگی.ہوئی تھی کافی سڑانگ…
فرحان کے دل کو.جیسے اطمینان ہوا…
کچھ سوچ کر اسنے میسج کے آپشن کو.کلک.کیا..سامنے میسج ٹائپ کرنے کی جگہ آئی..وہ سوچنے لگا.کیا.یہ ٹھیک ہے؟؟
کبھی.دل ہاں کرتا تو کبھی نفی کرتا..اسی کشمکش میں کافی وقت گزر گیا…
برہان ایک دم سے اسکے آفس.مین آیا…
باہر مغرب کی اذانیں شروع ہو.چکی تھیں. .
بھائی گھر چلنے کا ارادہ نہی ہے کیا؟؟
اسنے اسکو ارام سے بیٹھا پایا تو پوچھا..
ہاں چلو.بس نکل.ہی رہا تھا…فرحان نے اپنا ارادہ ملتوی کر کے موبائل جیب میں رکھا ..اور اٹھ کھڑا ہوا…کوٹ اتار کر بازو پر ڈالا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر چل.دیا…
پارکنگ میں اشعر اپنی کار سٹارٹ کر چکا تھا..
تمہاری گاڑی کہاں ہے؟؟..
برہان کی گاڑی نا پا کر فرحان نے پوچھا تھا…
وہ دن.کو.سروس ٹیشن پر بھیجی تھی..گھر ہی آجائیگی…
اسنے فرحان کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بتایا…
سہی..چلیں پھرِِ.
فرحان نے ڈرائونگ سیٹ سنبھال لی…اور گاڑی آگے بڑھا دی…
وہ اپنے.کپڑے نکال.کر.سب جوڑوں کا.جائزہ لینے میں مگن تھی…
اففف کیا.ہے کوئی جو اچھا ہو…
اسنے خفگی سے سب کپڑوں کو.دیکھتے ہوئے خود.کلامی کی تھی…
اتنے میں اسکی نظر.سائیڈ پر رکھے فیروزی جوڑے پر پڑی تھی…
سٹائلش.سا.شرٹ.نما فراک اور ساتھ فیروزی ہی کیپری تھی…وہ ایک دم مسکرا
اٹھی…
دس ون….اسکا خوبصورت چہرہ مسکرانے سے اور جاذب نظر آنے لگا تھا..
ایمن کو کل اپنی پھپھو کے بیٹے کی منگنی میں شریک ہونے کے لیے گاؤں جانا تھا..منگنی کا ڈریس وہ خرید چکی تھی..پر اسکو یہ سمجھ نا آرہی تھی کے سفر کے دوران کیا پہن کر جائے…
وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھی کہ اسکا سامنا سالار سے بھی ہو گا اور پچھلی ملاقات کا تو سوچ کر ہی وہ شرمندگی سے پانی پانی ہو جاتی…
نہی میں اس بار کوئی غلطی نہی کرونگی..نا ہی کانفیڈنس لوذ.کرونگی…
خود کلامی کرتے ہوئے اسنے ایک گہری سانس اندر.کھینچی جیسے خود.کو.ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہی ہو.
نمرہ کتابیں بکھیرے ساتھ لیپ ٹاپ میں مصروف بیٹھی تھی..جب وہ کتابوں سے اکتا گئی تو اسکو اپنا آدھا چھوڑا ہوا کورین ڈرامہ یاد آیاِ. جو مقی نے اسکو پورا دیکھ کر آنے.کا کہا.تھاِ..
اسنے.کتابوں کو.ذرا سائیڈ پر سرکایا اور.لیپ ٹاپ کھول کر ڈرامہ دیکھنے.لگی…ایک کے بعد ایک قسط وہ دیکھتی چلی گئی…اسے وقت کا اندازہ ہی نا.ہوا…..
آخری قسط دیکھ کر اسنے انگڑائی لی…اور اپنا.موبائل.اٹھایا کہ.مقدس کو میسج.کر.کے.بتائے…
اسکی گھڑی ہر.نظر پڑی تو رات کے بارہ بجنے.میں چند منٹ.باقی تھے
اوہہ مائے گاڈ..مجھے صبح جاگ ہی نہی آنی…
پر تھبی اسکو یاد آیا اگلے دن ہفتہ تھا یعنی چھٹی..
اسنے.سجون.کا.سانس لیا…
چلوکوئی.نہی…اسنے.خود کو تسلی دی…
اور موبائل میں لگ گئی…ابھی.وہ مقدس کو میسج کر ہی رہی تھی کہ اسکو میسنجر پر نوٹیفیکیشن آئی…
Farhan Shah has sent you a message.
اسنے اگنور کی کیونکہ وہ جانتی تھی لوگ اوٹ پٹانگ.میسج کرتے رہتے ہیں. .کبھی ہائے تو کبھی بات سنیں وغیرہ..اکثر تو.ایسے میسج کرتے کہ.وہ سب ہس ہس کی پاگل.ئو.جاتیں. ..سو ابھی بھی اسنے سوچا.بعد.میں دیکھ.لے.گی…
مقی.کو.میسج کیا…اور رپلائی.کا.انتظار کرنے.لگی..اسی اسنا میں اسنے.میسج ریکوئیسٹ کھول.لیں…
لیکن.سامنے جس انسان.کا.میسج.تھا وہ.اسکے خواب.و خیال میں بھی نا.تھا…
اسکو شدید حیرت ئوئی تھی اور فوراً اسنے میسج.کھولا تھا…
ہاں.سامنے.فرحان شاہ.کا.میسج.تھا..
اسنے تو.ایک.بار.بھی.نا.سوچا تھا فرحان شاہ.کونسا..وہ فرحان شاہ….
سامنے.ڈی پی.میں وہ بلیک قمیض شلوار ذیب تن کئے شانے ہر شال ڈالے اپنی خوبصورت مسکان لیے کھڑا تھا..اسکی وجہہ چہرہ..نمرہ.نے. ذرا.غور.سے دےیکھا ہر وہ ایک دم نظریں ہٹا گئی…جانے.کیا.تھا اسکی آنکھوں میں ِ.جیسے وہ.سامنے کھڑا اسی جو دیکھ رہا.ہو…نمرہ اسکی آنکھوں میں نا.دیکھ ہائی تھی نا اس رات اور.نا ہی آج اسکی تصویر میں. ..
اسکو عجیب جھجک سی ہوئی تھی…
نمرہ نے نظر سامنے میسج.پر ڈالی..
Nimra?
How are you?
اسے سمجھ نا.آئی کہ.کیا.کرے..کیونکہ وہ کسی بھی لڑکے سے کبھی فرینک نا.ہوئی تھی..یونی.کے بھی لڑکوں کو وہ آئی ڈی میں ایڈ نا.کرتی تھی..بس اپنے بیچ.کا.گروپ جوائن کر رکھا.تھا.جہاں ضروری باتیں ہوتیں. ..
ابھی بھی اسکو.سوجھ نا.آئی جواب دے یا.نا.دے…
دی.دیتی ہوں یہ تو عریبہ کے بھائی ہیں. ..شاید.کسی وجہ.سے.کیا.ہو …
اسنے.سوچاِ.
نہی..جب پہلے.کبھی کسی لڑکے سے.بات نہی کی تو انسے کیوں کروں ؟؟
اسنے.دوبارہ سوچا….
پر بھائی ہیں. ِہو بھی سکتا ہے کام.ہو..
دل میں عجیب تجسس.ابھرا تھا کہ.کیوں کیا.ہو.گا.مجھے میسج..ہم.تو.جانتے تک نہی ایک دوسرے کو…اور اس وقت بات کرنا …
اسے تھورا عجیب لگا تھا یوں تقریباً. آدھی رات کے قریب کسی لرکے سے بات کرنا
ہاں اس قوت مناسب نھی نہی لگتا..
اور بالآخر اسنے موبائل.رکھ دیا…
صنح ماما.کو بتاؤں گی…ہاں یہ ٹھیک ہے..ماما.کو.دکھاؤں گی پھر جو انھوں نے.کہا…
سب خیالوں کو.جھٹک کر وہ.سونے کے لیے لیٹ گئی تھی…
فرحان نے بئت سوچا اور بالآخر دل.کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسنے نمرہ.کو.میسج کر.دیا…
ابھی وہ.سوچ ہی رہا تھا کہ آگے کیا بات کرے گا کہ.اسکا.میسج سین ہوا…وہ ایک دم.سیدھا.ہوا…اور.رپلائی کا.انتظار کرنے.لگا…جیسے وہ اسی کے میسج کا.انتظار کر رہی ہو اور بھاگ کر اسکو رپلائی دے گی..
ایک کے.بعد.ایک منٹ گزرتا چلا گیا…رات کو ایک بجنے کو تھا ہر اسکا رپلائی نا آیا تھا…
انتظار کس قدر مشکل ہوتا ہے اب اسکو اندازہ.ہو.رہا تھا…
اسنے رپلائی کیوں نہی.دیا؟؟ اسے ماتھے ہر بل پڑے تھے…اسے کسی کے انتظار کی عادت.نا.تھی…
اسنے مجھے جواب تک دینا ضروری.نا.سمجھا….
اسنے وقت دیکھا..
اسے وقت کا.احساس ہوا..ہاں شاید وقت کی وجہ سے نا.دیا.ئو..8 بجے سے وہ.اس.کشمکش میں تھا اور بالآخر 11 بجے اسنے ہمت کر کے.میسج کردیا تھا…
اب اسجو.اپنی غلطی کا حساس.ہوا..کیونکہ وہ جانتا تھا.وہ اسی.خاندان.کی.ہے.اور انکے خاندان کے طور طریقوں سے واقف…
سو وہ مضطرب دل لے.کر.سونے.کی کوشش کرنے.لگا..
صبح نمرہ.نماز.کے بعد دوبارہ سو گئی…رات والی.بات تو وہ.بالکل.فراموش.کر چکی.تھی…
اسے گمان.تک.میں یہ بات نا تھی جوئی بے صبری سے اسکے جواب کا.منتظر تھا….
فرحان کی.آنکھ کھلی تو.7 بجنے والے.تھے..اسنے سب سے.پہلا کام جو کیا وہ.تھا مونائل چیک.کرنا…ہر وہاں خالی.موبائل.کی.سکرین اسکو.منہ.چڑا رہی تھی…
وہ اٹھ کر فریش ہوا اور باہر آگیا..چونکہ ہفتہ تھا سو سب.گھر والے.سو.رہے تھے…آمنہ.بیگم اپنی نگرانی میں لان کی صفائی کروا.رہی تھیں. .جبکہ.ملک.وجاہت صبح کا.اخبار دیکھنے میں مشغول.تھے…
اسلام علیکم دادا.جان…
فرحان نے ادب سے سلام.کیا..
وعلیکم اسلام. ..جاگ.گیا ہمارا.بیٹا…
وہ پیار اور شفقت سے چور لہجے میں مخاطب ہوئے…انکے اس.ہوتے میں انکی جان.بستی تھی…وہ.تھا ہی ایسا.سب کا.دل.موہ.لینے والا..اب تو.اسے عادت سی ئو چکی.تھی سب جو اپنے آگے لگانے کی…سب سے منفرد نظر آنے کی…
جی..
وہ جواب دیتے ہوئے ان.کے ساتھ ہی ڈائننگ. پر بیتھ.گیا.اور اپنے.لیئے.جوس.ڈالنے.لگا…وہ چھٹی.والے.دن لیٹ ہی اٹھتا تھا…
آج جلدی کیسے آنکھ کھل.گئی بھئی؟؟
ملک.وجاہت نے اسے دیکھتے.ہوئے پوچھا
بس آج نیند جلدی.پوری ہوگئی…
وہ جوس کاسپ لیتے ہوئے بولا
اب انکو کیا.بتاتا کہ.
آپکی لاڈلی نواسی کے انتظار میں تارے گنتے ئوئے رات گزاری ہے..نیند.پوری جلدی ہوئی یا نیند آئی ہی.نہی…
وہ خود ہی مسکرا.اٹھا..
اور اٹھ کھڑا.ئوا…
میں روم.میں ہی ہوں کچھ کا.م کرنا.ہے..
ناشتہ سب.کے.ساتھ ہی.کروں.گا…
وہ.یہ کہہ کر اٹھ کھڑا.ہوا…
روم میں آکر پھر اسنے موبائل چیک.کیا..فید.بک.کھولی مگر وہاں کوئی.میسج.نا.تھا…
دل میں آیا دوبارہ میسج.کر.دے..
صرف سوالیہ نشان ہی بھیج دے
“؟؟؟””
پر ایک دم ارادہ جھٹک دیا..
میں کیوں ..تب کر دیتا جب اسے ہتا نا.ئوتا ہر وہ.میسج دیکھ.چکی.ہے..مطلب.وہ.جانتی ہے اس.کے.باوجود.وہ.اگنور کر رہی ہے…ذہن امادہ.نا.ہوا تھا…
کوئی لڑکی ایسی.نہی.جو مجھے اگنور کرے…یہ میسج کرے گی تو خود.کرے.گی.بس..میں نے پہل کر دی.نا.یہی.کافی ہے…
اسے عادت تھی کیونکہ شروع.سے سجول میں پھا.کالج میں اور اب یونی میں ہمیشہ سے ہی لڑکیاں خود اسکی.طرف بڑھی.تھیں. .اسکا.ساتھ چاہتی تھیں. ..اسکے آگے پیچھے ہی گھومتی پائی.جاتی تھیں. .اسکے.خاندان.کی.لڑکیوں کا.بھی کچھ یہی حال.تھا مگر وہ یہ نا.جانتا تھا.جس.سے اس.بار اسکا.پالہ.پڑا ہے وہ بھی نمرہ تھی…
اگر.فرحان کے.آگے پیطھے سب.بچھتی.تھیں تو.نمرہ.بھی.کم.نا.تھی..اسکو بھی ہا.محفل میں سر آنکھوں ہر بٹھایا.جاتا.تھا…
مگر اس سب سے ہٹ کر وجہ اسکی تربیت بھی.تھی کہ.وہ.کبھی لڑکوں سے گھلتی ملتی نا.تھی..اےسا نا.تھا.کہ.وہ تنگ نظر.تھی…وہ.بس.اپنی.حد.بہت اچھی طرح جانتی.تھی اور.اگلے.انسان.کو.بھی اسی حد.میں رکھتی.تھی…اور یہ چیز امروزیہ بیگم نے اسکو بہت پہلے بہت اچھے سے سمجھا.چھوڑی تھی…
نمرہ آرام.سے.نیند.پوری.کر کے تقریباً 10 بجے جاگی تھی…
اتھ کر.فریش ہوئی…
پھر ئچن کا.رخ.کیا..وہ.اکثر ویک اینڈ.پر ناشتہ بنا دیا کرتی.تھی.سو آج.بھی اسنے ناشتہ بنانے.کا.سوچاِ.بھائی ابھی.سو.رہے تھے اور.ماما بابا.بھی.کمرے.میں تھے..
اسنے.سبکا اچھا.سا.ناشتا.بنایا..پراٹھوں کی.خوشبو.سے ارسلان فوراً اٹھ کر کچن.میں آیا..
ارے واہ..آج تو آہ نے کچن.کو.عزت بخشی.ہے..
اسنے.نمرہ.کے کبھی.کبھار.کچن میں آنے.ہر چوٹ.کی…
ہاں تو.تم پڑھ لو.میڈیکل ذرا..میں چھوڑ دیتی ہوں پھر روزانہ عزت بخشوں گی..
نمرہ.نے چڑکر کہا…
ہاہاہا..آاا میلی پالی شی بہنا..اسنے.نمرہ.کے گال.کھینچے.تھے…
اففف چھوڑ..لمبے.گھوڑے…
وہ نمرہ.سے تین چار سال چھاٹا ہونے کے باوجود اب لمبا.ہو گیا تھا…میڑک میں آکر ایک.دم اسکا قد.نکلا تھا…
ہاہاہاہا…جلو تو.مت…چھوٹے میاں. ..
اسنے.نمرہ کو.پھر سے چڑایا…
اتنے.میں امروزیہ بیگم بھی جاگ.گئیں. .سب نے.مل.کر ناشتا.کیا..اسجے بعد.نمرہ.اپنے کمرے کی.صفائی میں لگ گئی…اس.سے فارغ ہو.کر وہ.نہائی..
1بج چکا.تھا..
تھوڑی دیر میں اذانیں یو.گئیں تو.اسنے.نماز پڑھی.اور.پھر موبائل.اٹھایا..
مقدس اور ایمن سے بات.کرنے.ہی لگی تھی.کہ.اسکو.فرحان یاد آیا..
اوہ..ماما کو تو بتایا.ہی.نہی…
وہ سر پر ہاتھ مار کر.بولی.تھی…
پھر.موبائل اٹھا کر کچن میں چل.دی جہاں امروزیہ دن.کا.کھانا.بنا رہی.تھیں. .
ماما..ایک.بات.بتانی.تھی…
اسنے تھوڑا دھیان سے.بات شروع.کی..نجانے.کیوں اسکو.عجیب لگ رہا تھا..کہ.ماما کی.سمجھیں
جی.میرا.بیٹا بتاؤ..
انھوں نے اسکی حوصلہ افزائی کی..وہ.ایسی ہی تھیں بچوں کو اعتماد.دینے والی..
بچوں کو اگر والدین اعتماد.دیں اور دوستانہ رویہ رکھیں تو.وہ ہر بات والدین سے شیئر کریں. نا کہ.باہر.کسی سے…
نمرہ کو حوصلہ.ہوا..
اسنے.فرحان کا.میسج.کھول کر.سامنے.کی..
ماما یہ.وہ.فرحان بھائی..بلال ماموں کے.بیٹے..انکا.میسج.آیا تھا مجھے میری پرسنل آئی.ڈی ہر رات.کو…
اسنے موبائل.انکو دیا..
امروزیہ بیگم نے.موبائل.تھاما..
فرحان. . انکی.آنکھوں میں الجھن ابھر بھلا اسجو.کیا.بات کرنی.نمرہ.سے…
تو.آپ ایک.کام کرو.رپلائی کردو..
انھوں نے.نمرہ.کو کہا..
کیا..وہ.کافی حیران.ہوئی..
ایسے کیسے..مطلب میں کسی سے بھی.بات نہی.کرتی ہو.نو ماما…اور.میں انسے کیا کہوں ؟؟
اسنے.معصومیت سے پوچھا
بیٹا شاید کوئی ضروری بات ہو..
آپ بس بات ہوچھ.لو.مزید بات.نا.کرنا
انھیں ضود.بھی.تشویش ہوئی..
ہمم اچھا…
نمرہ مے منہ.بنایا..
بھائی.ہے.بیٹا..اور کیا.پتا برا.مان جائے وہ..بلا.وجہ.کے.نہی.کیا.ہوگاِِاچھا. بچہ ہے..اگر نہی دوگی تو.کیا سمجے. ..نخرہ.ہے
ہاں..یہ نھی ہے..
نمرہ.نے.کچھ سوچتے ہوئے.کہا..
اور رپلائی ٹائپ.کرنے.لگی
Yes .I m Nimra
Ap Farhan bhai??Bilal maamu k bete??
اسنے.ہوچھ لینا بہتر سمجھا.
فرحان اب انتظار کرتے کرتے امید چھور.چکا.تھا..ایک.دم میسج.کی.بیپ پہ موبائل دیکھا تو.سامنے اس دشمنِ جاں کا.نام جگمگا رہا تھا…
اسکو.تو.یقین.ہی.نا.آیا..وہ.بنع پلک جھپکائے سکرین کو دیکھ رہا.تھا گویا یقین کرنا.چاہ.رہا.ہو..
اسنے.فوراً میسج.کھولا…اور پڑھنے.لگا…چہرے پر دلفریب مسکان. چمک.رہی تھی…
کچھ سوچتے کے بعد وہ.لکھنے.لگا
G bilkul..ap k.bilal maamu ka beta..yakeen nae kia apko?
نمرہ کو.امید نا.تھی.فوراً جواب.آئیگا..وہ جو کمرے.میں آچکی.تھی.ِایک.دم.میسج.دیکھ کر بیڈ.ہر.بیٹھ.گئی..
Nae easi koi bat nhi…i was confirming..
اسنے.جواب.دیا
Alright. ..
Ghar mae kese hain sb aapkey?Aunty uncle bhai??
فرحان نے.پوچھا تھا..وہ آرام سے بیڈ پر.لیٹ چکا تھا…
G Alhamdullilah sab theek hain bilkul…
نمرہ نے.جواب دیا…
Or janab ap??
فرحان نے.دلفریب مسکراہٹ لیئے پوچھا.تھا..
Mae…mae b fit and fine bhai..
نمرہ.نے.جواب.لکھا….
فرحان نے.میسج.پڑھا تو.دل.کیا.سر.دے.مارے.دیوار.میں ِِ
کیسے بتاتا اسکو بھائی.نہی بننا.تمہاراِ.![]()
Tm mujhy sirf “Farhan” keh skti ho..
فرحان نے.دوبارہ.میسج.ٹائپ.کیا..گویا اسکو ڈھکے چھپے الفاظ میںاشارہ دے.رہا ہو..
اسنے.جیسے ہی میسج.بھیجا ایک دم.سے.کمرے.کا.دروازہ.کھلا .ِ
آنے والا.اشعر.تھاِ..
وہ جی.بھر کے.بدمزہ.ہوا
مینرذ.نہی تجھے کسی کے روم میں ایسے منہ اٹھا کر نہی گھستے…
اسنے اشعر کو کہا..
چل.اوے..مینرذ تو اپنے بچوں کو سکھانا..
ابھی.فائل دے وہ خان
بلڈرز کے ساتھ جو.نیا.پروجیکٹ سٹارٹ.کرنا.ہے.اسکی…
اشعر اسکو کسی بھی خاطر میں کائے بغیر.بولا..
فرحان.نے موبائل.سائیڈ ہر.رکھا.اور الماری کی.طرف چل.دیا…
جانتا تھا اشعر ایسے.جان.نہی چھوڑنے.والا…
وہ اندر ڈریسنگ روم میں گیا…اور فائل.دیکھنے.لگا..
اسکا کمرہ خاصا بڑا تھا جو.اسکی.مرضی کے.مطابق ڈیزائن.کیا.گیا تھا…
کمرے کے اندر.ایک.طرف ڈریسنگ روم.تھا جہاں ایک طرف دیوار.ہر بہت بڑا قد آور.شیشہ تھا.اور.دوسری طرف تین بہت اونچی اور بڑی الماریاں…
ابھی وہ اندرد.ہی.تھا.کہ.موبائل میں میسج کی.بیپ.سنائی.دی..چونکہ.فرحان محو تھا کام میں اسکا دھیان نا.گیا..جبکہ.اشعر بیڈ ہر.ہی بیٹھا تھا..اسکی نظر بے خیالی میں سکرین پر پڑی تھی..حالانکہ.اسکا.ایسا کوئی ارادہ.نا.تھا.اور نا.ہی.اسکی عادت.تھی ..فرحان بھی.اس.بوت سے واقف تھا تبھی.وہ.موبائل وہیں چھوڑ گیا.تھا…مگرسامنے چمکتا.ہوا.نام.دیکھ کر اشعر کو حیرت کا.شدید.جھٹکا.لگا.تھا…
