Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 7)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
سالگرہ کے بعد وہ لوگ گپوں میں ایسے پڑے کہ وقت کا پتہ ہی نا چلا….
نمرہ آپی آپکا سٹار.کونسا ہے؟؟
ریان.نے تجسس.سے پوچھا تھا..
میرا..Libra. ہے…
نمرہ.نے.بتایا تھا…
واو..ہماری گھر.میں بھی ایک. Libraہے…
ہاہا اچھا.کون؟؟نمرہ.نےے جاننا.چاہا
فرحان بھائی …
عریبہ بولی.تھی..
اوہ..اچھا.ِِِِِِنمر اتنا.ہی.کہہ سکی..وہ
اتنا ہی کہہ سکی.ِِِِِِِِِ وہ.کونسا.جانتی تھی اسکو.کہ کچھ کیہتی.
گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی…
اوکے اب چلنا چاہیے مجھے کافی دیر ہورہی ہے…ایسے نا ہو حویلی والے گیٹ ہی لاک کر دیں. …
نمرہ نے آخری بات شرارت سے کہی تھی….
آمنہ بیگم نے اسکی مسکراہٹ دیکھی تھی….انکی نظروں نے اسکا.سر سے پہر تک جائزہ لیا تھا….
بلا شبہ وہ بالکل پھول کی طرح تھی…انہوں نے دل میں ماشاءاللہ کہا تھا….
ایک خیال انکے ذہن کو چھع کر گزرا تھا..وہ.دھیرے سے مسکرائی تھیں. …
جاؤ عریبہ برہان اور اشعر کے ساتھ نمرہ کو حویلی چھوڑ آؤ….اشعر نے بھی ساتھ.اپنیے گھر جانا تھا..جو دوسری حویلی کے ساتھ تھا…
جی امی!!
عریبہ اٹھ کھڑی ہوئی…
اس کے بعد نمرہ سب سے ملی اور چل دی…
رضیہ بیگم نے حارث کو کال کی ….
جو اسنے کوئی دسویں بیل پر اٹینڈ کی تھی…
ہیلو!!! وہ بدتمیزی سے بولا
مہور!!!
رضیہ بیگم بھی اسکی ہی ماں تھیں. .وہ بھی فوراً پھول برسا چکی تھیں. ..
کدھر ہو تم ؟؟؟ کوئی شرم حیا ہے یا.نہی…
وہ شروع ہو چکی تھیں. ..
کیا مسئلہ ہے موم؟؟؟ آجاؤنگا…..بچہ نہی ہوں میں…
وہ پھر سے بولا تھا…
وہ نرم پڑیں کیونکہ اس وقت یہ انکی مجبوری تھی…
بیٹا ہزار بار کہا ہے ادھر یہ حرکتیں نا کرو…کسی کو خبر ہوگئی تو بدنامی ہوگی..کچھ دن گزار لو پھر چلے جانا واپس… بتایا بھی تھا شادی ہے …کل ولیمہ ہے جانا ہے ہم نے..تم بس صبح سے پہلے گھر موجود ہو…
فرحان. اور برہان بھی تو ہیں. .تمہاری ہی پھپھو کے بیٹے تو ہیں ..اتنے سلجھے ہوئے…بزنس بھی دیکھتے ہیں پڑھتے بھی ہیں. .زمہ داریوں کا بھی احساس ہے….
وہ سمجھاتے ہوئے بولیں. .پر حارث کے کان پر تو جوں تک نا رینگنی تھی…
اچھا سٹاپ اٹ پلیز…لیکچر مت دیں آجاؤنگا…..
اور اسنے کھٹاک سے فون بند کر دیا…
رضیہ بیگم آمنہ بیگم کی بڑی بھابھی تھیں. .انکے دو ہی بچے تھے..حارث اور تالیہ..دونوں ہی انتہا کے آزاد خیال اور بگڑے ہوئے تھے…وہ شروع سے لندن میں مقیم تھے وجہ انکے ابو کی جاب تھی وہ لندن میں اچھی پوسٹ پر تھے…
جب تک باپ کا سایہ تھا وہ دونوں چھپ چھپ کر اپنے برے کام کرتے..کیونکہ باپ کا ڈر انکے سر پر تلوار کی طرح منڈلاتا تھا…پر کچھ عرصہ پہلے دل کا دورہ.پڑنے سے وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو چکے تھے ….
اس کے بعد تو جیسے انکو کھلی چھوٹ ہی مل گئی تھی…رضیہ بئگم شروع سے ہر معاملے میں ایک مکار عورت واقعہ ہوئے تھیں. ….
انہے ہر ایرے غیرے کے معاملات میں تو دلچسپی تھی ہی سوائے اپنی اولاد کے… ادھر کی ادھر لگانا..بدگمانیاں پھیلانا .. انکا پسندیدہ مشغلہ تھا یہی وجہ تھی کہ شادی کے بعد زیادہ دن وہ سسرال.میں نا رہ.سکیں ..سب انسے عاجز.آنے لگے تھے..اسی دوران انکے شوہر فیملی کو باہر لے گئے اور وہیں سیٹل ہوئے تو سب نے سکون.کا.سانس لیا…
اولاد بھی.انہی پر گئی تھی…وہ.دونوں تو.باپ.کے بعد.ماں کی بات کو.بھی کوئی خاص خاطر.میں نا.لاتے تھے…باپ کی موت.کے.بعد ان.دونوں نے.انکی ناک.میں دم کر دیا…
جاب.بھی ختم.ئو چکی.تھی..حارث نے کبھی بھی پڑھائی پر توجہ نا دی تھی نا اسکے.پاس کوئی.خاص ڈگری تھی…اسنے تعلیم کے.نام.پر بس ٹوٹل پورا.کیا تھا…حالانکہ لندن میں دنیا کی ٹاپ.موسٹ یونیورسٹیوں اور کالجوں کا امبار ہے…پر وہ فائدہ نا.اٹھا سکا..ایسا ہی حال تالیہ کا.تھا…
انکو ماں کدی طرح منا کر پاکستان لے آئی تھی…کچھ عرصے کا کہہ کر..پر یہاں بھی دونوں میں کوئی خاص تبدیلی نا آئی تھی…پاکستان ہے تو مشرقی ملک.مگر یہ جان کر تو انکی باچھیں ہی کھل.گئیں کہ.یہاں بھی ایک.سے بڑھ کر ایک کلب اور جوا خانے.موجود.ہیں. .بس یہاں لوگ زرا چھپ چھپا.کر ان جگہوں کا.رخ کرتے ہیں جبکہ.مغربی معاشرے میں یہ سب سرے عان.ہوتا تھا..بس اتنا سا فرق تھا…
آج ولیمے کی تقریب تھی…نمرہ حویلی سے ہی خود تیار ہو کر شادی والے گھر پہنچی تھی…
آج تو لگتا تھا مہمانوں کا.سیلاب اُمڈ.اآیا تھا….سب باہر کے رشتہ دار اور دوست وغیرہ کو ولیمے پر ہئ بلایا گیا تھا…
پیر دھرنے کی جگہ تک نا تھی…
نمرہ کو.کوفت ہوئی تھی…اسے زیادہ رش وغیرہ کی جگہیں الجھن دیتی تھیں. …اوپر سے لوگوں کی اس پر نظریں….
وہ ابھی بچ کر نکل ہی رہی تھی کہ اسکا دوپٹہ ایک ٹیبل.سے اڑ گیا…وہ اسے چھڑوانے لگی…جیسے ہئ دوپٹہ آزاد کروا کر وہ مڑی..اسکا تصادم کسی سخت سے انسان.سے یے ہوا…
سامنے والا بھی اسکی طرف متواجہ ہوا…
نمرہ نے غیض و غضب سے نظریں اٹھائی تھیں. ..
سامنے والے شخص کو دیکھ کر اسپر حیرتوں کے جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے….
جبکہ سامنے والے کی کیفیت بھی کچھ جدا نا تھی…
حارث کو بھی شدید دھچکا لگا تھا….
اگلے ہی لمحے دونوں کے جزبات بیک وقت بدلے…نمرہ کی حیرت کی جگہ اس کے غصے اور نفرت نے لی تھی…
جبکہ حارث کی حیرانگی کی جگہ اسکی طنزیہ اور خبیث مسکراہٹ نے لی تھی….
ارے ارے ذہے نصیب!!!وہ ذرا آگے کو ہوا تھا…
نمرہ نے نفرت سے منہ پھیرا تھا…
امید نہی تھی اپ اتنی جلدی دوبارہ اپنا دیدار نصیب کرینگی…
آپ کو تو مجھ سے بھی زیادہ جلدی تھی…ہٹلر باجی…
وو بکے جا رہاتھا….
بکواس بند کرو اپنی … نا منہ نا متھا جن اتو لتھا….
وہ غصے سے پھنکاری تھی…
اتنے میں ایک.دم ایمن سامنے سے آئی تھی..
نمرہ !!اسنے آواز دی تھی…
نمرہ نے مڑ کر دیکھا تو.ایمن اسی کی طرف آرہی تھی اور اسکے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی…
عام سی شکل و صورت کی وہ لڑکی جس نے میک اپ سے منہ کو رج کے پیسٹری بنایا ہوا تھا..شولڈر تک آتے روکھے.سے بال ڈائی کروائے ہوئے تھے..نمرہ کی نظر اب اسکے تن پر پڑی تھی…
اسنے کالے رنگ کی انتہائی تنگ قمیض پہن رکھی تھی جس کے نیچے ٹخنوں سے کافی اوپر آتی تنگ سی کیپری تھی…گلہ کفی گہرا سا تھا اور قمیض کے کندھے چھوٹے ..ساتھ اسنے دوپٹا برائے نام بس گلے میں پٹی کی طرح لٹکا رکھا تھا…وہ کافی بے باک لگی.تھی نمرہ کو..نمرہ نے اپنا دوپٹہ مزید پھیلا لیا…اور ایک ہاتھ سے ٹھوڑی کے نیچے سے پکڑ لیا تھا…
عریبہ اس کے پاس
آچکی تھی..
نمرہ نے سوالیہ نگاہ اس کے ساتھ کھڑی تالیہ پر ڈالی.تھی…
اوہ یہ!!یہ میری کزن.ہے تالیہ..ماموں کی بیٹی ہے..کچھ عرصہ پہلے لندن.سے آئی ہے…ا
اسنے تعارف کرایا…
جبکہ تالیہ سامنے کھڑی اس اپسرا.سی لڑکی کا جائزہ لے رہی تھی… سر تا پیر وہ تالیہ کو.پرکشش لگی تھی…
تالیہ یہ نمرہ ہے امروزیہ پھپھو. کی بیٹی..انکی.ماما اور میرے بابا کزن.ہیں. ..
اسنے تالیہ کو بتایا…
نمرہ!!
حارث. بڑبڑایا.تھاِ.نمرہ.نے فوراً مڑ کر اسکی طرف دیکھا تھا..
اور یہ حارث بھائی..تالیہ کے بڑے بھائی ہیں. .
عریبہ فوراً بولی تھی…
نمرہ کو تو صدمہ ہی ہو گیا…اسکا منہ حیرت سے کھلا تھا…
اتنے میں عریبہ کو اسکی امئ نے آواز دی تھی..وہ دو منٹ کا.کہہ کر. آگے بڑھ گئی تھی…تالیہ کا فون آنے لگا تھا اتقاق سے اسی وقت…
وہ بھی ذرا شور سے سائیڈ پر ہونے کی خاطر ہٹی تھی…
نمرہ بھی سائیڈ سے نکلنے لگی تھی جب حارث کی آواز.نے اسکے قدم روکے..
آپ تو ہماری رشتہ دار نکلیں. ….
کیا آپ.لوگ مہمانوں کو ایسے ٹریٹ کرتے ہیں. .؟؟
حارث اس سے مخاطب تھا جبکہ.نمرہ.کو.اسجی نظریں اپنی آر پار ہوتے محسوس ہوئی تھیں. …
ہنہ رشتہ دار…. تم جیسے کو میں منہ لگانا گوارہ نہی کرتی..تو رشتہ داری نبھانا تو دور کی بات…
نمرہ نے ایک حقیر نگاہ اس پر ڈالی تھی..
اور تم.جیسے زبردستی کے مہمانوں کی تو میں ایسی خاطر مدارت کرتی ہوں کہ چاہ.کر نا.بھول پاؤگے..ایک جھلک تو تم ریسٹورنٹ میں دیکھ ہی چکے ہو…
نمرہ نے اسے یاد دلانا.ضرودی سمجھا تھا…
جبکہ حارث اسکی بات سنتے ہی ادھر ادھر دیکھنے.لگا….
میرے خیال سے تم بالکل نہی چاہوگے کہ ویسی مہمان نوازی میں ادھر بھی کر ڈالوں تمہاری؟؟؟؟اتنا تو اندازہ ہے ہی کہ.میں صرف زبانی کلامی کہتی نہی.ہوں بلکہ بھاہور عمل بھی کر کے دکھاتی ہوں……
نمرہ نے تمسخر سے مسکرا کر جتایا تھا…
جبکہ.حارث نے غصے سے اسکو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا…
دیکھ لونگا تمہیں تو….
حارث نے ضبط سے آنکھیں دکھائیں. ..
شور …لاسٹ ٹائم بھی ایسا ہی.کچھ کہہ کر گئے تھے نا.تم…
نمرہ.نے.پھر سے.مزاق.آڑایا تھا….
یہ کہہ کر وہ.آگے بڑھ گئی..اس.بات سے انجان.کہ.حارث جیسے سطحی سوچ کے.ما لک.لوگ کس حد تک گر سکتے ہیں. ..
جبکہ.حارث. انتقام کی آگ میں جھلس رہا تھا…
ٹیم.واپس یونی پہنچ چکی.تھی..آج سنڈے تھا..ساری یونی.تقریباً خالی.ہی.تھی ….
سب.کھلاڑی ایک.دوسرے.سے.مل.کر اب واپسی کی.راہ.پکڑ.رہے تھے..یونی.کی طرف سے کوسٹر سبکو لاہور.لے.کر گئی.تھی اور.واپس.بھی.لائی.تھی..
فرحان بھی.ملنے ملانے.کے بعد اب پارکنگ کی.طرف بڑھ گیا.تھا جہاں اسکی.کار پارک.تھی…
جوشی اسکے وجیہہ اور خوبصورت چہرے سے جھلک.رہی.تھی..
اسنے کار سٹارٹ کر کے زن سے آگے بڑھا دی..
یونی.کا.راستہ حویلی.سے تقریباً گھنٹے کے فاصلے پر تھا…یونی اسلامآباد.کے احاطے میں آتی تھی…
عصر ہو چکی تھی…
مسلسل ایک گھنٹے کی فاسٹ ڈرائیونگ کرکے وہ گاؤں کے احاطے میں داخل.ہوا تھا…
گاؤں صرف نام.کا.گاؤں تھا وعنہ.وہ.کہیں سے گاؤں لگتا نا تھا..لوگوں کے پکے گھر جس.میں سے اکثریت.ڈبل.سٹوری ہی تھے…
مغرب کے سائے ڈھل رہے تھے..چرند پرند گھروں کو.لوٹ رہے تھے…سورج بھی آخری مراحل طے کر کر اب تقریباً ڈوب چکا.تھا..کھیت.بالکل شانت تھے…
وہ ابھی حویلی کے باہر کے بڑے دروازے کے اندر مڑنے والا.تھا کہ.ایک اور گاڑی باہر.نکلی تھی…
وہ حویلی کا مین گیٹ تھا جس کے اندر سب کے گھر اور دونوں حویلیاں تھیں. ..
اسنے گاڑی تھوڑی سائیڈ پر کر.کے روکی تھی..سامنے والی کار میں ملک سیال.اور امروزیہ بیگم تھے..انکو.دیکھ.کر فرحان اترا تھا…
امروزیہ بیگم بھی فرحان کو پہچان.کر ملنے.خاطر اتری تھیں. ..
فرحان آگے بڑھ کر تھوڑا جھکا.تھا…
جیتے رہو…کیسے ہو بیٹا…
انہوں نے اسکا کندھا چوما تھا..
الحمدللہ آنٹی …آپ کیسی ہیں ؟؟
اسنے بھی ادب سے پوچھا تھا…
بہت بٹرے ہوگئے ہو ماشاءاللہ. ..
امروزیہ نے اسکے اونچے لمبے.قد کاٹھ کو.دیکھ.کر.کہا…
جی..بس.اور.کوئی option ہی نہی.تھا..
فرحان نے شرارت. سے کئا.تھا…
جس پر امروزیہ بھی.مسکرا دیں
اتنے میں ملک.سیال.بھی اس سے بغل.گیر ہوئے…
آپ لوگ؟؟ فرحان نے جا ننا.چاہا..
بس.اب واپسی بیٹا…
ملک.سیال نے بتایا تھا..
اتنی.جلدی.کیوں. .رکیں کچھ دن تو…
اسنے.رکنے کی.دعوت دی..
پھر آئیگے بیٹا…
نمرہ ,کاشان اور ارسلان پیچھے کاشان.کی گاڑی میں تھے…
انکی گاڑی ابھی.تک.نا نکلی تھی حویلی کے اندرونی گیٹ سے…
ملنے کے بعد فرحان اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا.اور.ملک سیال اور امروزیہ بیگم اپنی کار میں بیٹھے اور.کار زن سے بڑھا.دی..اتنے.میں پیچھے سے کاشان اپنی کار لے.کر نکلا.تھا ..فرحان کی نظر ان.پر پڑی تھی..کار کی فرنٹ سیٹ پر کاشان اور ارسلان تھے جبکہ.نمرہ.پیچھے بیٹھی سکون سے دنیا.و.مافیا سے بے خبر چپس سے انصاف کرنے میں مصروف تھی….
انہوں نے فرحان کو.نا دیکھا تھا اور گاڑی روڈ پر ڈال.دی…فرحان کی نظر صرف کاشان اور ارسلان پر.پڑی تھی…جب گاڑی اس کے قریب سے نکلی.تو.اسے پچھلی سیٹ پر کوئی بیتھا ضرور دکھائی دیا تھا پر اندھیرے کے.باعث وہ چہرہ نا دیکھ.سکا..
اسنے.گاڑی حویلی کی طرف موڑ دی تھی…
ایک ہفتہ کیسے گزرا پتہ ہی نا چلا تھا….
شادی کے جھمیلے بھی.مکمل طور پر اب ختم ہو چکے تھے…
آج نیکسٹ سنڈے تھا وہ سب بہن بھائی لاؤنج میں بیٹھے تھے..
اشعر اور زریاب بھی ادھر ہی.تھے….
وہ تینوں بیٹھے آفس کی جوئی.فائل دیکھ رہے تھے…
اتنے.میں آمنہ بیگم چائے وغیرہ لے کر آئی تھیں. …
عریبہ کے ہاتھ میں اسکا ٹیب.تھا…..
ثوبان.نے شادی اور دوسری تصویریں کیمرہ.سی اپنے لیپ ٹاپ میں کی.تھیں. اور.اب عریبہ اس سے وہ پکس ٹیب میں بھی بھجوا رہی تھی…
آمنئ بیگم کی نظر لیپ ٹاپ پر پڑی…
ارے یہ تصویریں کر لیں تم نے لیپ ٹاپ میں. .دکھاؤ ذرا….
وہ بیٹے سے مخاطب ہوئی تھیں. ..
فائل کمپلیٹ ہونے کے بعد اب اشعر اور برہان اندر. پی ایس ایل کا میچ دیکھنے چل.پڑے تھے…
عریبہ ٹیبلٹ میں مگن.تھی
ثوبان.نے.لیپ ٹاپ ماں کو.تھما.دیا اور خود.ٹی وی کے خیال لگ.گیا تھا…
آمنہ بیگم نے لیپ ٹاپ لیا ….
فرحان صوفے پر بیٹھا فون میں مصروف تھا…
آو فرحان تمہیں پکس دکھاؤں شادی کی…
انھوں نے بیٹے کو بھی.بلایا تھا..
وہ اٹھ کر انکے ساتھ ہی صوفے پر آبیٹھا تھا…
وہ اسے تصویریں دکھانت.لگیں. .دلہن.دولھا کی اور باقی سب بھی تھے…
انھوں نی اگلی تصویر کھولی تو سامنے نمرہ تھوڑی سی جھکی ہوئی تھی…وہ اپنا ڈوپٹہ ٹیبل.سی نکالنے کی کوشش.کر رہی.تھی جب ثوبان نے شرارتً اسکی تصویر لے لی تھی….
ڈوپٹہ ٹیبل.سے الجھ کر اتر چکا تھا جسکی وجہ.سے نمرہ.کے.لمبے سیدھے.بال.بھی.جھکنے.کے باعث ڈھلک.رہے تھے….
اسکا چہرہ صرف سائیڈ. سے آےا.تھا…. لیلکن.فرحان کو.ایک لمحہ نا.لگا تھا اسکو.پہچاننے.میں. .اس چہرے کو وہ لاکھوں چہروں میں بھی پہچان سکتا تھا..نمرہ.کی ستواں ناک.میں ننھی.سی نوز.پن چمک رہی تھی…
چہرے پر کوفت.نمایاں تھی…
تھبی.تو ثوبان نے اسکو.تنگ کرنے.کی.نیت.سے تصویر لی.تھی…
فرحان کے دل ایک دم زور سے دھڑکا.تھا…شور اٹھا تھا اندر…
اتنے.میں آمنہ.بیگم آگلی تصویر پر پیہنچ چکی.تھیں. ..
سامنے دلہن دولہا کے.ایک. طرف. عریبہ اور آمنہ بیگم تھیں اور دوسرای طرف امروزیہ اور انکی.بیٹی…یعنی وہی دشمنِ جاناں……
فرحان کو.ایک بار پھر حیرت ہوئی…
وہ سامنے تمام ہتھیاروں سے لیس.اپنی.بھرہور.مسکراہٹ لئے ہوز.کر.رہی تھی…
دوپٹہ سر.پر. جما ہوا تھا…..اسکی شاراتی آنکھیں بال.رہی.تھیں. ..
فرحان تو.پہلے ہی اسکی مسکراہٹ پر.دل ہارا.ہوا.تھا…وہ پلک جھپکائے بغیر اسکو تکنے لگا…
~جو تیری خاطر.تڑپے پہلے سے ہی کیا اسے تڑپانا,,او ظالما..او ظالما…
یہ ..یہ.کون.ہے؟؟
اسنے ایک.دن سے بے خودی.میں سوال کر دیا تھا…
آمنہ.بیگم نے ایک دم بیٹے کو.دیکھا..
وہ تب تک.خود.کو نارمل.کر.چکا.تھا…
یہ امروزیہ اور.انکی.بیٹی نمرہ…
انھوں نے فرحان کو بتایا.تھا….
تم ہوسٹل میں ئوتے تھے نا.تو.نہی.جانتے..یہ.لوگ بھی کبھی کبھار ہی آتے ہیں. .وہ بتائے جا رہی تھیں. جنکہ.فرحان پر تو گویا حیرت کا پہاڑ ٹوٹا تھا…
امروزیہ آنٹی.کی.بیٹی….ِ.نمرہ…وہ سوچ.کر.رہ.گیا…
اوہ تو یہ ہے نمرہ…بورڈ کی ٹاپر…
اسنے انداز ہلکا.پھلکا.رکھا تھا…
ئاہاہا ہاں ماشاءاللہ. پہت پیاری بچی ہے…ڈاکٹر بن.رہی.ہے..
آئے تھے شادی پر یہ.لوگ بھی…ولیمے والے.دن.واپسی تھی..
وہ.بیٹے کو بتا رہی تھیں. ساتھ ساتھ بغور.انھوں نے فرحان کے چہرے کا جائزہ لیا..
اسکا اےک دم نمرہ.کو.دیکھ.کر مبہوت ہونا.اور.پھر بلا.ارادہ سوال کر دینا انسے چھپ.نا سکا.تھا….
حالانکہ اسنے بھرپور جوشش.کی تھی اپنے آپ.کو.بارمل ظاہر کرنے.کی پر وہ.بھی ماں تھیں. ….
اتنے میں سامنے سالگرہ کی تصویریں آگئی تھیں. ِ.وہ پیزا.کاٹ رہی تھی..یہ کیا.یہ.تو اسکے اپنے گھر کا ڈرائینگ روم تھا….
اسے پھر سے حیرت نے آن گھیرا تھا…
ساتھ سب ہی تو کھڑے تھے..اشعر, زریاب ,برہان,ریان ,عریبہ,اسکی امی…(ثوبان.اس وقت فوٹوگرافر کے فرائض سر انجام دے رہا تھا)
…
یہ تو گھر کی ہیں نا؟؟؟
وہ استفسار کیے بغیر نا رہ.سکا…
ہاں. .بتایا تھا.نا اس.دن نمرہ.کی برتھ ڈے تھی…عریبہ لے آئی تھی گھر اسکو.بارات کے بعد..پھر سب نے مل کر سیلیبریٹ کی تھی…
انہوں نے اسجو یاد دلایا…
اسکے ذہن میں جھماکا ہوا تھا…
اسے یاد آیا اس نے اس دن گھر کال.کی تھی تو پیچھے سے شور کی آوازیں. …
ایک.کے بعد ایک تصویر میں وہ.تھی…کہیں سنس رہی کہیں پیزا.لھلاتے ہوئے…
وہ اٹھا تھا..
امی ذرا کام.ہے میں روم.میں جا.رہا.ہوں…وہ انکے جواب.کا.انتظار کیے بغیر چل دیا ..آمنہ.بیگم کو تھوڑی حیرت ہوئی.یوں اسکے ایک.دم.جانے پر…
وہ.کمرے.میں آکر سوچوں میں گم ہوا….
تو وہ امروزیہ آنٹی کی بیٹی ہے….
وہ سوچنے.لگا…
نمرہ!!نمرہ سیال. وہ زیرِ لب.بولا تھا…
ہنہ..نائس.نیم ..نمرہ سیال…وہ مسکرا دیا..
اسے.خوشگوار حیرت ہو ئی تھی…
وہ..وہ میری کزن.ہے یعنی…اوہ.نوِ..کتنا بدھو ہوں میں بھی…
وہ میرے گھر.آئی.تھی..اور.میں لاہور نکل.گیا..
اتنا اچھا موقعہ اس.نے.ضائع کر.دیا.تھا..اسے خود.ہر.غصہ آیا…
یعنی محترمہ انیس سال کی.ہو.چکی.ہیں ……
وہ پھر سے مسکرا دیا…
اسکا نو عمر حسن فرحان کے حواسوں پر چھا.چکا.تھا….
اسے اچانک یاد آیا جب وہ.حویلی.کے باہر امروزیہ اور سیال سے ملا تھا اس شام. پیچھے کاشان.کی گاڑی تھی..جس میں کوئی لڑکی تھی..
تو وہ.نمرہ.تھی…..وہ سوچنے.لگاا….اسے لگا اسکا.دل خوشی سے باہر اچھل.آئے گا..
وہ جو یہ سوچی بیٹھا تھا کہ تھیسس کے بعد وہ کچھ بھی کرکے پتا لگائے گا.اس لڑکی کا… دو ماہ سے تڑپ رہا تھا…
وہ اسے یوں بغیر کسی تگ و دو کے اسے سامنے آجائیگی….
یعنی وہ اسکی دسترس میں آسکتی تھی..اتنا.مشکل بھی.نا تھا اسے پانا…وہ ہنس دیا..
سونے ہر سہاگا یہ کہ وہ وجاہت کے.منہ.سے بھی بارہا.بار اسکی تعریف سن چکا تھا…
اور وجاہت آفندی اسکی کوئ خواہش رد.کر.ہئ نا سکتی تھے….
اسے خود.میں سکون سا اترتا محسوس ہوا…
You will only be mine…Nimra Siyaal…
Na Mrs.Nimra Farhan!!
وہ سوچنے.لگا….
پر.کیا.واقعی سب اتنا آسان.تھا؟؟
کیا وہ اتنی آسانی سے اسلی.ئو.جائئگی؟؟؟
