Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 25)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
وجاہت آفندی نے اشعر کو بلایا تھا….اشعر انکے حکم کی تعمیل کرتا ہوا ان کے پاس پہنچا….
آپ.نے بلایا داداجان؟؟؟
اس.نے احترام سے پوچھا تھا….
ہاں…بیٹھو. .کچھ ضروری بات کرنی.ہے…
ملک وجاہت نے.کسی گہری سوچ سے نکل کر کہا تھا…
اشعر ان.کے.سامنے.موجود صوفے پر برجمان ہو.گیا…
جی! !؟؟؟
اسنے.بیٹھتے ہوئے.پوچھا…
نمرہ اور فرحان کے درمیان کیا چل رہا ہے؟؟؟
ملک.وجاہت نے.بغور اشعر پر نظریں ٹکائے پوچھا تھا….
جبکہ.انکی بات.سن.کر ایک.دم.اشعر. چونکا.ضرور تھا..اسکے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک.گیا…
کیامطلب؟؟ میں سمجھا نہی…ان کے.درمیان.کیا چلنا ہے داداجان؟؟
اشعر نے.فوراً خود.کو انتہائی نارمل رکھتے ہوئے ایسے کندھے اچکائے جیسے وہ ہر چیز.سے بے خبر ہو….
جبکہ.اسکے تاثروت.دیکھ کر ملک.وجاہت کے.چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی…
اشعر میرے بچے..میں تمہارا دادا ہوں…تم میرے نہی!!!!!
انھوں نے اسے یاد.دلانے.کی.کوشش کی تھی…جبکہ.اشعر انکی بات کا مطلب سمجھ کر کشمکش میں مبتلا.ہو.گیا…وہ جانتا تھا ملک وجاہت سے جھوٹ بولنا ناممکن.ہے..وہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے تھے تو اسکے لہجے سے میل نا کھاتے الفاظ اور اسکے ایک.دم.چونکنے کو.کیسے نظر انداز.کر دیتے….مگر دوسری طرف بھی فرحان.تھا…اسکا دوسرا بازو..وہ کیسے اس طرح اس کا.راز فاز کر کے.اسے دوسروں کی.نظر میں نیچے ہونے دیتا…مگر وہ.یہ بھی بھول.رہا تھا کہ.جس سے وہ فرحان کو بچا.رہا تھا وہ انسان.تو فرحان کی.رگ رگ سے آشنا تھا…اس کے دل میں آئی ہر خواہش وہ زبان پر آنے سے پہلے ہی پوری کر دیتے تھے..وہ اسکی آنکھوں کا ایک ایک رنگ, اسکے. ہر لہجے کا.مطلب اچھی طرح جانتے تھے….یہی.وجہ تھی کہ پچھلے ڈیڈھ دو سال سے اسکی بےچینی انکو اذیت.اور فکر میں مبتلا کر رہی تھی….جیسے وہ خود سے کوئی جنگ لڑ رہا ہو….
اشعر نے با مشکل.تھوک نگلا تھا…چھپانے کا کوئی.فائدہ نا تھا…
تم بتاؤ یا نا بتاؤ پتہ میں
پھر بھی.کر لوں گا…مگر میں باہر والے کسی شخص کو انوالو نہی کرنا چاہ رہا تھا…
وجاہت آفندی نے کہا تھا…
دادا جان وہ…اصل میں. …فرحان. ..اور.نمرہ ایک دوسرے کو پسند ….. نہی انکی لڑائی چل رہی ہے….
اشعر نے بتانے کی کوشش کی تھی….
کیسی لڑائی؟؟ ملک وجاہت نے آبرو اچکا کر پوچھا تھا….
وہ…اشعرنے بولنا شروع کیا اور شروع سے آخر تک ایک ایک بات ان کے گوش گزر کر دی….اسکی بات سن کر وجاہت آفندی کو جیسے دھچکا لگا تھا شدید…انکا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا….وہ با مشکل ضبط کر رہے تھے….
تم مجھے اب یہ سب بتا رہے ہو؟؟
انہوں نے شدید غصے سے دانت پیس کر اشعر کو کہا تھا …
داداجان وہ…
اشعر سے بات نا بن پڑی ….
کیا تم.لوگ اتنے.بڑے ہو گئے ہو کہ اب ایسی سنگین باتیں بھی چھپاتے پھروگے؟؟؟ یہ اب تم لوگوں کو ہماری ضرورت نہی….
وہ غصے کی انتہا.کو چھونے.لگے تھے…اشعر انکو اتنے شدید طیش میں دیکھ کر یک.دم گھبرایا تھا…وہ کبھی بھی غصہ تو دور کی بات بلاوجہ اونچی آواز میں بات نا کرتے تھے ….مگر اب…انکا غصہ جائز تھا….
انکو یقین نا آرہا تھا کہ.انکے.لاڈ نے فرحان کو اس قدر خود پسند.بنا دیا ہے کہ اسنے اپنے ہی خاندان کی سب سے من موہنی اور معصوم لڑکی کو اپنی ضد اور ہڈ دھرمی سے توڑ کر رکھ دیا….
اب انکو سمجھ آئی تھی نمرہ کی آنکھوں کی ویرانی..اسکا سنجیدہ پن…اب وہ اتنا چہکتی نا تھی پہکے کی طرح…آور فرحان کو.لے کر اسکی لاتعلقی…
انکی نظروں میں فرحان کا چہرہ گھوما..جب جب وہ اسے نظرانداز کر کے جاتی تھی تب تب اسکی آنکھوں میں اترنے والی.بےچینی. …اسکا.ایک دم غصہ کرنا..بپھر جانا… بگڑ جانا..جیسے وہ.برداشت نا کر پاہ رہا ہو…اسکی اندر آگ لگ جاتی ہو…..
دادا جان میں جانتا ہوں اسنے غلط کیا بہت غلطِ….مگر میں آج بھی دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ…وہ نمرہ کو.بھلا نہی پایا…اگر اسکا چین چھینا تھا تو وہ آج تک خود بے چین.ہے…وہ….وہ اب بھی اسکی محبت…نہی.محبت نہی..اب وہ شاید محبت سے آگے بڑھ چکا.ہے…وہ اس سے عشق کرنے لگا ہے. اور اس کے اندر سلگتی آگ اس بات کی.گواہ ہے….وہ.اج بھی خود کو.نمرہ کی.طرف سے نظر انداز کرنا برداشت نہی کر پاتا…ورنہ.ہم سب جانتے ہیں وہ شروع سے بہت مضبوط اعصاب کا مالک.رہا ہے مگر اس معاملے میں جیسے اسکا خود پر اختیار نہی…وہ..وہ نہی رہسکے گا اس لے بغیر…وہ مانے گا نہی..کبھی کہے گا نہی مگر میں جانتا ہوں وہ اندر ہی اندر سلگتا ہے… کہیں نا کہیں اسے پچھتاوا ہے ضرور مگر وہ.اس پچھتاوے کو دباتا ہے..اندر ہی دفن رکھنے کی کوشش میں ہے…اسکی انا آڑے آتی ہے…اسکی “میں” اسکو جھکنے نہی.دے رہی….
اشعر نے جیسے بالآخر دل کی.بات کسی ہمراز کو.بتا کر دل.ہلکا کیا ہو…
جبکہ.اسکی بات سن کر دادا جان کا شک یقین میں بدل چکا تھا…
ہوں…اور نمرہ؟؟وہ.کیا سوچتی ہے ؟؟؟
انھوں نے اگلا سوال کیا تھا..
نمرہ کو میں بہت شورٹی سے نہی کہہ سکتا مگر اتنا جانتا ہوں اسنے خود کو بہت محنت اور ہمت سے سنبھالا ہے…میں اسے داد دیتا ہوں. .میں نے اپنی.آنکھوں سے اسکی لرزتی حالت دیکھی تھی جب فرحان وہ بکواس اتنی سفاکی سے کیے جارہا تھا… لیکن ہاں وہ بھولی نہی ہے فرحان کو..اسکی آنکھیں ویران ہوئی ہیں مگر ان.میں عکس جھلکتا.ہے آج بھی اسکا….وہ اس وقت معصوم تھی اور فرحان پہلا لڑکا ہے اسکی زندگی میں آنے والا اور اسکے معصوم ذہن پر اپننی چھاپ چھوڑنے والا…مگر وہ بھی کبھی اس بات کا اقرار نہی.کرے گی…اب بات اسکی بھی عزت نفس سے ہو کر انا تک.آ پہنچی ہے…وہ بھی اپنی انا میں ہے…ورنہ ایسے فرحان کے سامنے اتنی.آسانی.سے نا.پھر سکے…اسنے بھی جیسے ضد پال لی ہے….لیکن اگر زخم دینے والا ہی.مرہم رکھے تو تکلیف فراموش کروائی جا سکتی ہے…شاید اسکی زندگی.میں کوئی اور آجائے اور بے شک وہ نمرہ.کو بہت محبت بھی دے.مگر کہیں نا کہیں کسک ضرور رہے گی…لیکن اگر کانٹے نچانے والا ہے راہ کو پھولوں کی سیج بنائے تو زندگی حسین ہو سکتی ہے…
مگر یہ دونوں ڈھیٹ ہیں ایسے کوئی…ایک بھی جو ذرا بات سن کے.
پر نا جی…
مر جائیں گے تڑپ جائیں گے مگر بولنا کچھ نہی..ماننا.نہی..انکی.اس انا کا تو بندا حلوہ بنا کر بیچ دے….
اشعر نے آخری بات برا.سا منہ بنا.کر.کہی تھی…
جبکہ.اسکی.بات سے وجاہت آفندی کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی…
تم نے تو دونوں کا ایکسرے کر رکھا ہے برخوردار. ..
انھوں نے.مسکرا.کر کہا تھا..انکو.اچھا لگا تھا اشعر کا فرحان کی.اتنی.کیئر کرنا..نمرہ.کے.بھی متعلق سوچنا…
اپنے بارے میں کیا خیال.ہے؟؟ کب بارات لے کر جائی جائے؟؟
انھوں نے.اب اس کے متعلق پوچھا تھا….
بس.جب آپکو مجھ معصوم پر پیار آجائے…
اشعر نے.دانت نکال.کر کہا تھاِ…
چلو آج ڈھولکی انجوائے کرو آگے کا بندوبست بھی جلد کرتے ہیں. ..
انھوں نے اسے امید دی تھی…
اشعر جب تیار ہونے چلا گیا تو وہ سب سوچنے لگے..فرحان پر انھیں شدید ترین.طیش آنے.لگا…وہ.انکے لاڈ کا اس قدر نا جائز فائدہ اٹھائے گا یہ.انکے گمان.میں بھی نا تھا. …وہ تو ہمیشہ سے بہت سلجھا ہوا اور ذمہ دار بچہ رہا تھا..بڑا ہونے کے.سبب وہ.سب کا.خیال.بھی رکھتا.پھر کیوں وہ اس قدر انتہا پر گیا؟؟؟
شاید اسکو.عادت تھی ہر چیز فوراً پا لینے کی مگر اس بار معاملہ.اور تھا…اب کی بار ایک.جیتی جاگتی انسان کی بات تھی جس پر اسکی دھونس نا چلی تو وہ بگڑ گیا تھا…
جب.وہ.واقہ.ہوا.اور.فرحان اور.نمرہ پر بات آئی تو انھیں بالکل.سہی.موقہ لگا وہ انکو ایک کرنے.کا…شدید طیش ہر گز اس.بات کا نا.تھا کہ.فرحان. اور نمرہ حارث کے بقول غلط تھے…بلکہ.طیش.تو.اسکی.حرکت.پر تھا جو اسکے.سامنے.آتے.ہی.پھر.سے.وجاہت.آفندی.پر حاوی ہوا…وہ اچھے.سے جانتے تھے حارث جھوٹ بک.رہا تھا مگر فلحال اسکے جھوٹ کو انھوں نے.استعمال کیا.تھا..ورنہ.جو.وہ.کہہ.رہا تھا وہ اگر اپنی نظروں کے سامنے بھی اگر کہیں وہ دیکھ لیتے تو یقین نا.کرتے. .کیونکہ وہ جانتے تھے ان کے نچے ایسا کر ہی.نہی سکتے تھے. .انکی اولاد.ائسی تھی ہی نہی…فرحان اور نمرہ دونوں انکی اولاد تھے.اور اپنی تربیت پر انکو اندھا.بھوسہ تھا. …![]()
اخلاق.سے گری ہوئی حرکت کرنا.تو.درکنا وہ کہیں ہوتے نا دیکھ.پاتے تھے …تو.پھر کیسے وہ خود.غلط ہو سکتے تھے…اس.معاملے میں انکی معصومیت پر انکو پورا اعتبار تھا…
نکاح کے بعد انھوں نے اس.بات کی پوری خبر.رکھی تھی کہ.حارث کہیں ادھرادھر.نا.ہو.پائے…تاکہ.وہ.ہاتھ سے نا.نکلے….
نمرہ کو وقت کی ضرورت کے مطابق کچھ سجا سنوار.کر فرحان کے.کمرے.میں بھیج دیا گیا…
نکاح کے بعد.ہر طرف ایسے چہل قدمی شروع.ہوئی تھی جیسے کچھ.دیر پہلے تو.کچھ.ہوا ہی.نا.ہو….سب اس بات کو مکمل.طور پر جیسے فراموش کر بیٹھے ہوں…سب کی خوشی.دیدنی.تھی اور ہوتی.کیوں نا…آمنہ بیگم کی دلی خواہش پوری ہو چکی تھی…اشعر کاتو بس نہی.چل.رہا تھا وہ بھنگڑے ڈالے…جبکہ عریبہ اپنی من پسند دوست کو بھابھی کے روپ میں دیکھ.کر نہال ہو.گئی.تھی…برہان بھی خوش اور مطمئن تھا…کاشان کا غصہ اب ٹھنڈا ہو چکا تھا…فرحان سے اسی کوئی ذاتی خار تو تھی نا پھر فرحان ہر.لحاظ سے نمرہ کے قابل تھا…امروزیہ بیگم کا دل تھوڑا اداس ضرور تھا.مگر وہ جانتی تھیں وقت سب سہی کر دے گا…نمرہ.کے اندر کا.غم انکی.نظروں سے اوجھل نا تھا….
اگلے.دن ہونے والی.اشعر اور عریبہ کی.منگنی کینسل کر کے ایک مہینے بعد ڈائریکٹ شادی رکھ دی گئی.تھی…اشعر کی تو باچھیں کھل فئی تھیں. .بتیسی تو ابدر جانے کا.نام نہی.لے رہی.تھی…جبکہ.یہ.خبر سن کر عریبہ کے تو.جیسے.ہاتھ پاؤں پگول گئے…وہ اتنا جلدی اس سب کے بارے.میں نا سوچ پا.رہی.تھی…اشعر کو.اسنے ہمیشہ بھائی ہی.سمجھا تھا..پھر اچانک رشتہ طہ پا جانا.وہ ابھی تک.اس جھٹکے کو ایکسیپٹ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی.کہ ایک نہی خبر نے اسکے.اوسان.خطا.کر دیئے….مگر وہ کر بھی کیا.سکتی تھی.سب.بڑوں کی خوشی اور رضامندی اسی میں تھی سو وہ بس چپ رہی….
اشعر ہر لحاظ سے بہت.اچھا تھا…کیئرنگ, ہنس مکھ, ہینڈسم, اور سب کے.ساتھ بنا کر رکھنے.والا..وہ دوسروں کے دل موہ لینے کے ہنر سے اچھی طرح واقف تھا….عریبہ.کی.پریشانی اس سے چھپی.نا.تھی.مگر وہ جلد سے جلد اسکو.اپنا.بنانا.چاہتا تھا ………کیا کرتا دل کے.ہاتھوں مجبور تھا..مگر وہ ہرگز زبردستی کرنے کا روادار.نہی تھا…سو وہ عریبہ کو وقت دینے کا.سوچ چکا تھا….
سب جب رات کو. واپس چلے.گئے اور گھر والے بھی سونے.کی تیاری میں تھے تو وجاہت آفندی نے آمنہ بیگم. اور امروزیہ بیگم.کو.بلایا….وہ امروزیہ بیگم کی فکر بھی اچھے سے سمجھ رہے تھے….
انھوں نے دونوں کی طرف دیکھا تھا…امروزیہ.بیگم.سے رہا.نا گیا تو بولیں. ..
چچا جان..سیال…وہ آئیں گے تو….
ملک.وجاہت ان.کی بات سمجھ چکے تھے..
میں اس سے بات کر لوں گا….
انھوں نے.تسلی دی…
مگر نمرہ…وہ کیسے یہ سب …
وہ پھر سے بولیں. ..
ملک وجاہت نے انکی طرف دئ
یکھا.پھر آمنہ بیگم کو…
کیا آپ دونوں اپنے بچوں کے دلوں کے حال.سے نا واقف ہیں؟؟؟
انھوں نے سوال.کیا تھا…دونوں نے نظریں چرائی تھیں. …
ہوں. .وہ مسکرا دئے..ِ
یعنی آپ لوگ جانتی ہیں. ..
انھوں نے کہا.تھا….
میں جانتی ہوں فرحان نمرہ کو پسند کرتا ہے مگر بات کرنے پر وہ بگڑ گیاتو.میں بھی چپ.ہو گئی…
آمنہ بیگم نے کہا تھا…ِ
وہ کیوں بگڑا یہ میں بتاتا ہوں. ..
ملک.سیال نے جواب دیا تھا..لہجہ نارمل تھا…
اورپھر انھوں نے ساری بات آمنہ بیگم کو بتا دی…ِانکی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں. .انکا بیٹا, انکا.غرور وہ ایسی حرکت کیسے کر سکتا تھا…
انہیں بے تحاشا طیش آیا…
میں فرحان کو دیکھ لیتی ہوں ذرا…وہ غصے سے بولی تھیں. ..
نہی آمنہ ابھی نہی…کچھ نہی کہنا آپ نے اسکو ابھی….کہنے کو.میں بھی کہہ سکتا تھا مگر فلحال خاموشی بہتر ہے…ان دونوں کا.نکاح ہو چکا ہے..اب وہ جڑ چکے ہیں ایک دوسرے سے…انکو وقت دینا.ہو گا…تاکہ وہ کھل سکیں ایک دوسرے کے اگے..خود اس مسئلے کو سلجھائیں. ..کوئی تیسرا.نہی بولے گا…فرحان کو بالکل نا.پتا چلے کہ ہم ساری بات جانتے ہیں اور نا ہی.نمرہ کو بھنک پڑے..آپ بس خاموشی آختیارکیے
رکھیں. …
پھر وہ آمروزیہ. بیگم.سے مخاطب ہوئے…
میں جانتا ہوں نمرہ.کے لیے یہ.وقت مشکل ہے مگر وہ میرے لیے فرحان سے.کم نہی..اگر وہ میرا پوتا ہے تو نمرہ بھی.میری پیاری نواسی ہے..میں اس کے ساتھ اس گدھے کو. مزیدکوئی زیادتی نہی کرنے دوبگا..بے فکر رہو….
انھوں نے انکو.یقین.دلایا تھا…
اب کی بار آمنہ بیگم امروزیہ بیگم سے مخاطب ہوئیں. ..
میں جانتی ہوں کہ جو فرحان کر چکا وہ قابلِ معافی ہرگز نہی..مگر ہو سکے تو.مجھے معاف کر دین…
انھوں نے ہاتھ جوڑے تھے…انکے ایسا کرنے سے امروزیہ تو تڑپ اٹھیں. ..
نہی.بھابھی..کیا.کر رہی ہیں. ..آپکا.کیا قصور …آپ پکیز شرمندہ مت کریں…یہ.دونوں بچوں کی. ہڈ دھرمی کا نتیجہ ہے…نمرہ بھی اگر فرحان کی سن.لیتی بجائے اسکو سنانے کے تو…
اس سے آگے وہ.نا بولیں. ..
آپ بے فکر رہیں. ..نمرہ میری.بہو نہی.بیٹیوں سے بھی بڑھ کر ہے..وہ مجھے عریبہ سے بھی پہلے ہو گی یہ.میرا وعدہ.ہے آپ سے..اور دوبارہ اسکو.کوئی دکھ نا.پہنچے گا…ہو.سکے تو اعتبار.کريں. ….
انھوں نے.بہت اپنائیت سے انکو یقین دھانی کروائی تھی….امروزیہ بیگم.کو.اپنے اندر سکون.اترتا محسوس ہوا…
ایک.اور اہم.بات امروزیہ بیٹا…
ملک.وجاہت بولے تھے..
جی چچا جان..
انھوں نے سعادت مندی سے جواب دیا. ..
نمرہ جب باپ سے.ملے گی یا شاید آپ.سے بھی وہ نکاح کو ختم کرنے کی بات کر سکتی ہے…مگر آپ اسکا ساتھ نہی دیں.گی اس معاملے میں ہرگز…
انھوں نے اہنا خدشہ ظاہر کیا تھا…
جی جیسا آپ کہیں. .
امعوزیہ بیگم نے جواب دیا…
مجھے.یقین ہے ہماری بیٹی اس گدھے کو.سیدھا کر کے ہی دم لے گی…ہار ماننے والوں میں سے وہ بھی نہی… ہاں کچھ عرصے شاید ہم.سب کو انکے تماشے.دیکھنے.کو ملیں مگر دس ول بھی دا.موسٹ انٹرسٹنگ کپل $!!!!!!
انھوں نے.بہت جاندار.مسکراہٹ سے کہا تھا…
