Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 36) Part - 3
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 36) Part - 3
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
آج سالار اور.ایمن.کا.ولیمہ تھا….
ایمن.کے.ساتھ ساتھ ان.دونوں کا میک اہ بھی مکمل ہو چکا تھا…
پستہ ککر کا لہنگا پہنے ,بالوں کو رول کیئے وہ ولیمہ برائیڈ بنی حسن کے جلوے بکھئر رہی تھی…
مہمان آنا.شروع ہو چکے تھے…
نمرہ کو بھی گھر والوں.کا.انتظار تھا….
مگر اسے زیادہ دیر انتظار.نا کرنا.پڑا تھا…جب.نگاہ داخلی دروازے ہر اٹھی تو.اسکی آنکھوں.میں.واضح خوشی ابھری تھی جہاں عریبہ خوبصورت لیمن کلر کا نگوں.کے کام سے مزین.فراک اور کیپری پہنے اشعر کر ساتھ داخل ہوئی تھی…
نمرہ انکی.جانب لپکی تھی…
اور.عریبہ اور اشعر سے ملی تھی….
نمرہ مے انکے پیچھے دیکھا تو کالے خوبصورت کرتے میں.اپنی شاندار پرسنالٹی لیے برہان کھڑا تھا…
نمرہ مسکرا کر اس سے ملی تھی..
اسنے نگاہیں.دوڑائیں.مگر اور.کوئی.نا.تھا…ِ
اہممم…آپ کے جلاد شوہر گاڑی پارک.کر کے.تشریف آوری کا.ٹوکرا.لائیں.گے…
اشعر.نے.شرارت سے.کہا.تھا…
جبکہ اسکا ایسے کہنے سے.نمرہ جھینپ.سی گئی تھی..اور نگاہوں.کا.زاویہ بدلہ.تھاِ..
نہی..میں..تو ویسے ہی….
اسنے.جلدی سے بات بنائی تھی….
ہاہاہا… کووئی.نہی.ہو.جاتا.ہے.ویسے ہی…
اشعر بعض نا.ایا تھا….
چلیں.آپکو ایمن اور سالار.بھائی.سے ملواؤں…
نمرہ انکو.لیے.سٹیج.کی.جانب.بڑ گئی تھی…
دلہن.دلہا سے.ملوا کر وہ مقدس کے پاس آئی تھی…
ہائے.نمی…بھوک لگ رہی ہے بہت… چوہوں.نے.کشتی شروع.کی.ہوئی ہے پیٹ میں یار….
مقدس.نے.بے چاری شکل بنا کر کہا تھا…
ابھی تو.ناچتہ کیا.تھا تو.نے…
نمرہ نے حیرت سے ہوچھا تھا…
تو ایک چیز.ہوتی ہے جسے ہم
Digestion
کہتے ہیں..شاید.کبھی سائنس یا بائیو.سے واسطہ پڑا.ہو.تیرا…
مقدس نے.منہ بنا کر کہا تھا….
اور ایک چیز.ہوتی ہے جسے ہم صبر کہتے ہیں…مگر یقیناً تیرا.کبھی اس.سے واسطہ تو دور کی بات , سنا.بھی نہی.ہو.گا…
نمرہ نے جواب دیا تھا…
چل.بے.سر نا.کھا… وہ ایکھ آگئے فرحان.بھائی…
اب برائے.مہربانی.جا کر اپنی پتی دیو کا سواگت کریں ورنہ. ایسا نو.ہو.انسے تیری دوری برداچت نا.ہو.اور ادھر بھی وہ کوئی “بد.تمیزی ” نا.کر دیں…
مقدس نے بد.تمیزی ہر خصوصی زور دے کر کہا تھا… نمرہ.تو اس.کے آگے.بات کر کے پچھتائی ھی…
دفا ہو..نکل…
نمرہ نے اسکی بازو پر چٹکی کاٹی اور فرحان.کی.جانب.دیکھا تھا…
بلیک تھری پیس پہنے اسکا لمبا چوڑا وجہہ.جسم نمایاں.تھا…. خوبصورت چہرہ, کھڑی ناک , شاندار آنکھیں, عنابی ہونٹ وہ.نا.سرف جسمانی.اعتبار سے سحر انگیز پرسنالٹی رکھتا تھا بلکہ اسکا چہرہ بھی نہایت خوبصورت تھا…. مانو کوئی یونانی.دیوتا کھڑا ہو…. بے شمار لڑکیوں کی نظریں فرحان.ہر اٹھی تو.پلٹنا بھول.چکی تھیں. ..
جبکہ وہ ہر چیز.سے بے نیاز اس.دشمنِ جان کو پوری محفل میں.کھوج.رہا تھا….
مگر اسکو زیادہ ریاضت نا کرنی ہڑی تھی…کھوجتی نگاہ کو منزل مل چکی تھی…
وہ مقدس کے ساتھ کھڑی اسے ہی ایکھ رہی تھی مگر اسکے دیکھتے ہی جلدی سے نگاہ گھما گئی تھی…
سکن اور کریم سے رنگ کا گھیردار فراک پہنے جس پر ڈیپ میرون کلر کا کام تھا …دوہٹے ہر میرون کناری تھی….
فراک. بازو اور کمر سے فٹنگ.میں.تھا.جبکہ.نیچے سے خاصہ کھلا تھا….لمبے بالوں کو چھوٹا سا کیچر اٹکائے ,
نازک.سے.بازو.اور.کمر.., لمبی شفاف صراحی.دار گردن.لیے وہ اپسرا اسی کی تھی….
وہ.سر شار سا.ہوگیا تھا… وہ بے.پناہ حسین لگ رہی تھی…
شادی کے بعد وپ.دوبارہ شاید اتنی فرصت سے بیوٹیشن.کے.ماہر ہاتھوں.سے تیار ہوئی تھی…
وہ اسکی.تشنگی دن.بدن بڑھا رہی تھی…
اسے پانے کی چاہ , اسکی گھنی زلفوں میں ڈوب جانے کو.دل.جیسے بے تاب ہونے لگتا تھا…
جبکہ اس تمام سے انجان.وہ دور کھڑی اب عریبہ کر ہمراہ فرحان کی.جانب ہی چل دی تھی…
فاصلہ طہ کرتے وہ دونوں.اس تک آئی تھیں..
فرحان.تک اتے ہی عریبہ نا مھسوس.انداز میں کھسک کر یہ جا وہ جا….
نمرہ نے نگاہ ہنوز.جھکا رکھئ تھی…
بیوٹیفل…
فرحان.نے ذرا اگے ہو کر کہا تھا…نمرہ کی سماعتوں ک
میں.اسکی آواز با.آسانی.گئی.تھی..
اسکا.دل.زور.سے دھڑکا تھا…
جبکہ.اسے قریب ہا.کر وہ.دوبارہ اس.کے ہوش ربا.حسن.سے اپنی آنکھیں.ٹھنڈی کر رہا تھا…
خاصی گہری نگاہ تھا فرحان.شاہ آفندی کی…
پورے حق.سے وہ اسکا جائزہ لینے میں.محو.تھا..
مداخلت کے لیے معزرت پر میرے بھائی تو ادھر سالار کی شادی میں آیا ہے….
فرحان.کو.اپنے قریب سے اشعر کی شوخ و.چنچل اواز.آئی تھی….
ایک دم سحر ٹوٹا تھا جیسے…..
فرحان.نے گھوری سے اشعر.کو نوازا.تھا….
اور نمرہ کے ساتھ اشعر اور ایمن کو مبارک باد.دینے چل.دیا….
بہت بہت مبارک ہو آپ دونوں.کو…
فرحان.نے اشعر.سے مصافحہ کیا تھا اجبکہ ایمن کے سر پر ہاتھ رکھا تھا…
تھینک یو فرحان بھائی…ایمن نے مسکرا کر جواب دیا تھا…
جبکہ فرحان کو دیکھ کر سالار کہیں ماضی میں.کھویا تھا…اسے یہ شہزادہ جانا پہچانا.سا.لگا تھا…
اشعر نے.ذہن پر ذور ڈالا تھا…
اور ایک دم اسکے دماغ میں لاہور میں.ہونے والا یونیورسٹی کا فٹ بال میچ گھوما تھا…
وہ کیسے بھال سکتا تھا فاتح ٹیم.کے چارمنگ سے کیپٹن کو جس نے اپنی انوکھی انوکھی ٹرکس سے سبکو.نا صرف اپنا گرویدہ کر لیا تھا بلکہ.ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا تھا….
If I am not wrong, Malik Farhan Shah Afandi? The Football Captain??
اشعر نے اس.سے سوال کیا تھا.جبکہ.فرحان.کو یہ لہجہ ایک.دم.جانا.پہچانا سا لگا تھا…
Yah.. Right..
فرحان.کو.خوشگوار حیرت ہوئی.تھی…
ساکار سے ہونے والی.ملاقات اس کے ذہن.کے پردے ہر بھی ابھری تھی…
U Mr.salaar? The comperer?
فرحان.نے.مسکراتے چہرے سے پوچھا تھا..
Ofc.Captain…
سالار کو.خوشی ہوہی تھی کہ.وہ.اسکو.بھولا نا تھا…
جبکہ.ایمن.اور.نمرہ.نے حیرت سے ایک.دوسرے کو.دیکھا تھا
تو. کیا وہ ایک دوسرے سے پہلے سے واقف تھے؟؟
U guys know each other??
نمرہ.نے.پہلی بار مداخلت کی.تھی…
Yah..we met once before. .. In Uni match..
فرحان.نے.اسے.بتایا تھا…
دونوں.نے.سمجھنے کے سے انداز.میں.سر ہلایا تھا…
یہ وہی فٹ بال.میچ تھا جب فرحان شادی چھوڑ کر لاہور گیا تھا ٹیم کو.لیڈ کرنے …اور اس دوران.نمرہ.نے اپنی انیسویں.سالگرہ اسکے گھر میں, اس کے گھر والوں کے درمیان منائی تھی..
Once again heartiest congratulations to both of you !![]()
فرحان.نے انکو مبارک.دی…
اور.نمرہ کے ہمراہ سٹیج.سے اترا تھا…
ایمن نے.ان.دونوں.کو.دیکھا تھا…کتنے.مکمل لگتے تھے وہ دونوں.ایک.ساتھ…جیسے ایک.دوسرے کے لیے ہی بنایا گیا ہو…اسنے.دل.سے.انکی خوشیوں کی.دعا کی.تھی..
اسکی.نگاہ غیر اردی طور پر اٹھی تو.سامنے وہ بیٹھی تھی….
ہاتھ میں مٹن پلاؤ کی بھری پلیٹ جس سے وہ بھر پور انصاف کر رہی تھی..
اسے کھانے میں اتنا مگن دیکھ کر وہ ہنسنے پر مجبور ہو.گیا تھا…
ہولے ہولے قدم اٹھاتا وہ اس تک آیا تھا….
بہت دھیان سے کھاتی ہیں آپ…..
نچلا ہونٹ دانتوں میں.دبا کر مسکراہٹ روکے وہ مخاطب ہوا تھا..
جبکہ مقدس کو قریب سے جانی پہچانی آواز آئی تو سر اٹھا کر دیکھا…
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا..
سونے پے سہاگہ یہ کہ اسے کوئی کھانے کے دوران ڈسٹرب کرے, مقدس صاحبہ کو کہاں.برداشت تھا. اور پھر سامنے کھڑا شخص تو ویسے ہی اسکا ضبط آزماتا تھا…
مسٹر آپ اپنی پلیٹ پر نظر رکھیں..دوسروں کی بوٹیاں.مت.گنیں…
تنک کر جواب آیا تھا…
برہان کے چہرے کی.مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی….
کیا ایسا ممکن نہی.کہ.کبھی آپ.سے بات کی.جائے اور آپ زہر اگلنے کے.بجائے تمیز کا.دامن.تھامنے.کی..غلطی کر بیٹھیں. ..
اسنے.نہایت ناگواری سے ہوچھا تھا…ایک.آنکھ.نا.بھایا تھا مقدس کا منہ.پھٹ.لہجہ….
وہ ایک سلجھا ئوا سنجیدہ مزاج.مرد تھا جو محبت میں.بھی بد تمیزی کا روادار.ہرگز.نا تھا….
مقدس نے.اسکی بات سن.کر ایک ادا سے کایاں یاتھ ٹھوڑی کے.نیچے ٹکایا تھا…
اور اسکا جائزہ لیتے ہوئے گویا ہوئی تھی..
اول تو میں.غلطی کرتی ہی نہی..اور دوسری بات, جیسا منہ .ویسا تھپڑِِِ..
اسکی.جواب.میں.طنز کا.عنصر نمایاں.تھا…
برہاں.نے بامشکل ضبط کے گھونٹ حلق سے اتارے تھے…
کیا آپ جانتی ہیں آپ انتہائی اول.درجے کی بد تمیز اور منہ پھٹ. ہونے کے ساتھ.ساتھ
ill-mannered
بھی واقع ہوئی ہیں مس.مقدس…
جواب ایا تھا..
اور کیا آپ جانتے ہیں مسٹر برہاں.کہ آپ انتہائی درجے کے بھوکے اور.ندیدے انسان.ہیں…
مقدس نے اسی کے.انداز میں.جواب لوٹایا تھا..
ندیدہ؟؟![]()
برہان کا تو.منہ.کھل گیا..ایسا بھی.کیا.کر گیا تھا کہ وہ.اسے ندیدہ ہی کہنے لگی…
جی سہی سنا ندیدہ….ظاہر ہے دوسروں.کی.پلیٹوں میں.تانکا جھانکی.کریں.گے تو.لوگ ندیدہ ہی کہیں گے نا..
اسنے برہان کی.مشکل سلجھائی تھی..
ایکس کیوز.می…میں.کوئی.پلیٹ ولیٹ ہرگز نہی جھانک.رہا …وہ تو یہاں.سے گزراتو آپ.نظر.آئیں.کہ…….
ابھی اسکی.بات مکمل نا ہونے پائی تھی کہ.مقدس.نے.فوراً بات کاٹی…
ایک منٹ ایک منٹ….اب.سمجھ آئی… یعنی.آہ نے.دیکھا.لڑکی اکیلی بیٹھی ہے تو…
سب سمجھتی ہوں.بہانے.ہوتے ہیں.آپ.مردوں.کے…کہ لڑکی دیکھی نہی اور رال.ٹپکنے لگ.گئی….
خوامخواہ فری ہونے کی.کوشش.کرتے ہیں..ہر مسٹر یہاں آپ کی.دال.نہی گلے گی…
مقدس نے.باور.کروایا تنھا…
آپ کو.کچھ زیادہ ہی خوش فہمی نہی ہے اپنے.متعلق ؟؟؟
برہان نے بغور اسے دیکھتے ہوئے.تمسخر سے کہا تھا…
مقدس سے کہاں.برداشت تھا …فوراً منہ.کھولا تھا…
جائیں.جائیں میں منہ.بھی.نہی.لگاتی آپ.کو…
وہ اٹھتے ہوئے بولی تھی…
آپ منہ.لگنے.کے.قابل ہی.کب ہے…
برہان.نے.ترکی.با ترکی جواب دیا تھا…یہ لڑکی اسکا.ضبط.آزاما رہی.تھی
.
او ہیرو… کبھی اپ اپنی شکل دیکھیں.. ایسا.محسوس.ئوتا.ہے.جیسے چمگادڑ کا.فرنٹ پوز…..
غیض.و.غضب.سے وہ.بولی.تھی…
ایسے دس.جانوروں کے.نام میں.اپ کے لیے بھی لے سکتا ہوں..
آپ بات.کو.طول دے رہی.ہیں..
برہان نے اسے جتایا تھا…
ہاں.تو اپنے کام سے کام رکھیے.نا…ایسے مشورے تب.دیجیئے گا کہ دھیان.سے کھاؤ کم کھاؤ جب.میں.آپ کی جیب سے پیسے خرچ کر.کے.کھاؤں..
مقدس نے بات.کی.جڑ سے اسے اگاہ کیا تھا…
اسی بات برئان.کو.بے ساختہ مسکرانے پر.مجبور کر گئی…
ہوں..یعنی اس.دن.کا.انتظار.کرنا.پرے گا جب آپ میری جیب پر ہاتھ صاف کر سکیں…
کچھ سوچتے ہوئے وہ بالا تھا…
جبکہ وہ اس پر.لعنت.بھیجتی آگے جا چکی تھی….
ہو تو.تم بدتمیز حسینہ..مگر تمہارا دماغ میں ہی درست کروں.گا…
برہان نے دور جاتی میرون رنگ کے ڈریس.میں.اس.لڑکی کو.دیکھ.کر سوچا تھا…
بےتحاشا.گوری دودھیا رنگت, اس پر غضب میروں.ڈریس اور.میک اپ…
وہ لڑکی اپنے دو آتشہ حسن.سے کسی کو بھی.دیوانہ بنا.سکتی تھی لیکن….
لیکن.صرف تب تک جب تک وہ خاموش رہے…
جب منہ کھولتی تھی تو وہ حسینہ زہر اگلتی تھی جو مقابل کہ چودہ طبق.روشن کر دیتا تھا..
اچھے خاصے انسان کے دماغ کا.دہی کر جے رکھ دیتی تھی جیسے کہ اس وقت ملک برہان شاہ آفندی…..
لیکن وہ بھی برہان تھا… جو.چیز من.کو.بھا گئی اسے پا لینا اس کی.عادت تھی…
پھر چاہے اس کے.لیے اسے.مقدس کا.دماغ ہی کیوں.نا.ٹھکانے لگانا پڑتا….
بالآخر ولیمہ خیرو عافیت سے اختتام کو پہنچا تھا…
سب سے مل کر اور ایمن.کو ڈھیروں.پیار اور.دعا دے کر وہ لوگ واپسی کے لیے.نکل پڑے تھے…
عریبہ اور اشعر اپنی گاڑی میں.تھے…برہان.دوسری گاڑی ڈرائیو کر.رہا تھا.جبکہ نمرہ اور.فرحان , فرحان.کی.گاڑی میں..
ان.کے ساتھ مقدس بھی تھی جس.کو پہلے اسلام آباد ڈراپ کرنا تھا اس کے.بعد حویلی جانا تھا…
مقدس کی.موجودگی میں.نمرہ کا.سفر اچھا گزرا تھا… اسنے.نمرہ کے ساتھ ساتھ فرحان کو بھی اپنی.پٹر پٹر سے کمپنی دی تھی….
بالآخر اسکو ڈراہ کر کے اب وہ گھر کے لیے.نکل پڑے تھے….
انکو سفر رتے.مسلسل دوسرا تیسرا گھنٹہ ہونے کو تھا اب تو.نمرہ.کو.بھی بھوک اور پیاس ستانے.لگی تھی…
اسکی مسکین شکل دیکھ کر فرحان.شاہ نے ایک نہایت بڑی سی بیکری کے آگے گاڑی روکی تھی…. یہ نیو.ڈیویلہڈ ایریا تھا جہاں.تعمیراتی کام تیزی سے جاری تھا..نئے ہوٹلز,کیفے, آئیس کریم پارلرز.اور کلبس بھی تھے جس کا.اندازہ فرحان.کو گاڑی سے باہر نکلنے کے نعد.ہوا تھا…
قریب ہی ایک کلب تھا… عصر کا وقت گزرتا جا.رہا تھا…مغرب قریب تھی…
نمرہ گاڑی سے اترنے.لگی تو فرحان.نے.روک دیا تھا…
تم.بیٹھو میں لے آتا ہوں…
نمرہ مے.کندھے اچکائے اور واپس.بیٹھ گئی….اور آس پاس کا جائزہ لینے لگی….
فرحان بیکری کی جانب طل.دیا..ابھی وہ واپس ہو ہی رہا تھا کہ بے اختیار طور پر.نگاہ دائیں. جانب آٹھی تھی …
اور اسے اپنی آنکھوں.ہر یقین نا آیا…
اسنے.دوبارہ غور کیا.تو وہ سچ.تھا…
وہ حارث ہی تھا اپنے.چند اوباش.دوستوں کے ساتھ….کھڑا سموکنگ کرتا…
ابھی فرحان کی.نگاہ اسے دیکھ ہی رہئ تھی کہ.حارث کی نظر.سامنے.کھڑی چمکتی ہوئی کالی پراڈو.پر پڑی تھی…
اور کار کے اندر بیٹھی وہ اپسرا اسے حیران کر گئی تھی…
ادھر ادھر نگاہ.دوڑاتی, اپنے دو.آتچہ حسن.سے بے خبر وہ.فرحان.کا.انتظار کر رہی تھی…اس بات سے مکمل انجان.کہ.کوئی بڑی خبیث نظروں سے اسکا.مکھڑا دیکھ رہا تھا…
فرحان.کا.خون.اسے.دیکھ.کر ویسے ہی سر ہر چڑھنے.لگا تھا…
اس پہکے وہ ضبط کرتا اسنے حارث کے تعاقب میں نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہ.نمرہ تھی جسے وہ مسلسل اپنی بے باک نظروں.کا نشانہ.بنا رہا تھا…
سر ہر دوپٹہ ٹھیک کرتی وہ ہر بات سے انجان تھی…
فرحان.کا خون.کھول اٹھا تھا..وہ انسان.اس.کے.سامنے اسکی بیوی کو اپنی گندی نظروں.نشانہ.بنا.رہا تھا…
اسکی غیرت نے جوش مارا تھا…وہ تو ویسے ہی.اسکی درگت بنانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اب تو خود کو.روکنے کا جواز ہی نہی بنتا تھا
وہ ہوا کی.سی تیزی.سے بے تحاشا.سرخ ہوتی انکھیں لیے اسکی.جانب لپکا تھا…
نمرہ کی.نظر.دانستہ طور ہر اٹھی تو وہ سامنے فرحان تھا مگر وہ اسکی جانب تو نہی آرہا تھا بلکہ دوسری سمت جا رہا تھا..
ایک پل کو اسکی تیز چال اور انکھیں دیکھ کر اسے کسی انہونی کا احساس ہوا تھا…
اسے دیکھ.کر لگا تھا جیسے وہ ہوش میں.نا.تھا…
فرحان.نے لپکتے ہی ایک زبردست گھونسا.حارث کے.منہ پر جڑ.دیا تھا…
وہ جو اس بات سے مکمل انجان.تھا ایک دم اس حملے پر بوکھلا کر رہ گیا تھا…
اسے سنبھلنے کا موقعہ دئیے بغیر ایک اور
مقہ اسکے جبڑے پر جڑا تھا…
اسنے.منہ پر ہاتج رکھے.بامشکل اوہر دیکھا تھا اور سامنے.کھڑے.شخص.کو.دیکھ کر اس.کے اچھوں کو.بھی نانی.یاد آئی تھی…
فرحان کسی کا لحاظ کیے.بغیر پھر اس پر جھپٹا تھا…اور اب کی بار اس.کے.وار کی زد.میں.حارث کا پیٹ آیا تھا…
نمرہ کی ایک.دم.یہ ہاتا پائئ دیکھ کر ہاتھ پیر. پھولنے لگے تھے..یہ سب اتنا اچانک ہوا.تھا کہ اسکا سر چکرانے.لگا تھا….
فرحان وحشیوں کی طرح حارث کو پڑ چکا تھا…
جبکہ حارث کے اوباش ممی ڈیڈی ٹائپ آوارہ دوست , سب سہم کر پیچھے کھڑے تھے..کوئی بھی نا.لپکا تھا اس کو.آزاد کروانے…
فرحان.قد کاٹھ اور جسمانی.لحاظ سے ان.سب.سے بے.حد مضبوط تھا…
نمرہ کو.سمجھ.نا آئی وہ کیا.کرے….
فرحان کے مسلسل مقوں کی.وجہ سے حارث کے منہ.سے خون.بہنے.لگا تھا…
وہ جنانی.ہو چکا تھا..ہر شے سے بے خبر..اس کے سر پر.خون سوار تھا..جیسے وہ اس کے لہو کا پیاسا ہو….
اس قدر وحشت, جنونیت اور.درندگی تھی اس کے انداز.میں.کہ نمرہ سہم کر رہ گئی تھی…
جیسے اسکی جنونیت کی آگ سب کچھ اہنی لپیٹ میں لے لے گئی…ہر شے جل.کر بھسم ہو جائے گی..راکھ.کر دے گی سب….
اس پاس رش نا.ہونے.کے برابر.تھا…
نمرہ.جلدی سے گاڑی سے اتری تھی….
اور تقریباً بھاگتے ہوئے اس تک آئی تھی..ِ
فر..فرحان…
اسنے بولا تھا مگر وہ سن ہی کب رہا تھا…
فرحان…
وہ چیخی تھی مگر بے سود…
وہ اگے کو لپکی تھی اور ایک دم فرحان کا بازو تھاما تھا…
حارث کی حالت مرنے والی ہونے.لگی تھی…وہ اسے.بچاؤ.کا.موقع ہی کب.دے رہا تھا…
اسکا.بازو.تھام کر.نمرہ.نے جھنجھوڑا تھا..
فرحان چھوڑیں..وہ.مر.جائے گا…
فرحان.کو.نمرہ.کی.آواز.آئی تو وہ ایک.دم.اسکی.جانب.مڑا تھا…ِ
اسکی آنکھیں دیکھ کو نمرہ کو خوف آیا تھا بے تحاشا.خوف…
گاڑی میں جاؤ… وہ دھاڑا تھا…
کوئی.بھی.اس.وقت اسے.دیکھ.کر یہ نہی کہہ.سکتا تھا وہ اتنا ہائی.ایجوکیٹڈ, ویل آف اور.نہایت تہزیب یافتہ مرد تھا ….
اس وقت وہ صرف ایک انتہائی.جنونی اور.وحشی انسان.تھا….
واقعی جب عزت اور غیرت ہر بات آتی.ہے تو ساری تعلیم , تہذیب اور تمیز کہیں پیچھے رہ جاتی ہے….
فرحان چھوڑ دیں.پلیز.
..نمرہ.نے.اسکی بات نا.سنی.تھی..وہ اب رونے.لگی تھی….
اگر حارث کو ہچھ ہو جاتا تو فرحان کے ساتھ کیا.ہو.سکتا تھا….اس.سے آگے وہ.نہی سوچنا چاہتی تھی…
تمہیں سمجھ.نہی آئی میں.نے.کیا.کہا… گاڑی میں.جاؤ …ِ.
وہ بے تحاشا غضب.سے دھاڑا تھا…
وہ.تو کانپ.کر.رہ.گئی.تھی اسکے.غضب.کے آگے….
اسکی ٹانگیں.شل.ہونے.لگی تھیں. … قدم اٹھانے کئ سکت نہی رہی تھی….
فرحان.نے.مرتے کراہتے حارث کا گریبان.چھوڑ کر اسے پیچھے.دھکا دیا تھا…اور نمرہ کا بازو.دبوچے کھینچنے کے سے انداز.میں گاڑی تک.لایا اور.دروازہ کھول.کر نہایت جارحانہ انداز میں اندر پٹخا تھا…
اگر دوبارہ باہر.قدم.نکالا تو. ان.ٹانگوں.کو.سلامت.نہی ہاؤگی…
شدید طیش میں.دھمکی.دیتا اسنے بہت زور سے دروازہ.بند.کیا تھا ا..جو کہ ایک دم.نمرہ کی.ٹانگ پر.لگا تھا…
پر وہ بند.کر.کے جا چکا تھا…
وہ شدید درد سے بلبلا اٹھی تھی….
آنسو.رواں.ہو.چکے تھے.شدت سے….
وہ.دوبارہ حارث کی.جانب گیا تھا..اگر ابھی.نا.روکا جاتا تو یقیناً وہ اسکے لہو سے اپنے ہاتھ رنگ.لیتا…
نمرہ نے جلدی سے خود.کو.سنبھالا.تھا…
اور جو پہلا خیال آیا اس ہر.فوراً عمل کیا تھا.
اسنے جلدی سے اپنے بیگ سے موبائل نکالا.تھا اور.اشعر کا نمبر ڈائل کیا.تھا….
دوسری بیل پر ہی کال اٹھا لی گئی تھی…
ہیلو…اشعر بھائی…میں نمرہ…
اسنکے.رونے.میں.روانی آئی تھی…
اسکی ایسی آواز سن کر اشعر کو.ایک دم تشویش ہوئی…وہ جو حویلی داخل ہو چکے تھے اور اب گاڑی پارک کرنے لگا تھا ایل دم اسنے.بریک پر پاؤں رکھا تھا…
کیا.ہوا نمرہ؟؟ تم ٹھیک تو ہو؟؟
اشعر نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا..
جبکہ.اسکے اس طرح بریک لگانے سے پیچھے آتی برہان کی گاڑی بھی یک دم رکی تھی جبکہ.عریبہ گرنے کے سے انداز میں سامنے ڈیش بورڈ پر گئی تھی مگر اشعر نے.بر وقت ہاتھ بڑھا کر اسے تھام لیا تھا ورنہ.اسکا سر بری طرح زخمی ہو جاتا…
ایک.ہاتھ سے عریبہ کو.تھام.کر قریب کرتا وہ نمرہ سے پوچھ رہا تھا…
اشعر بھائی…فرحان..وہ فرحان..
وہ بلک کر بتانے لگی..
کیا ہوا.فرحان کو؟؟
اشعر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا….فرحان کی بات کیسے برداشت کر سکتا تھا جو.اسکا جگری یار, اسکا دوسرا.بازو.اس.کے.جگر کا.گوشہ تھا….
وہ فرحان ..حا…حارث کو.بہت مار رہے ہیں..وہ اسے مار دیں.گے اشعر بھائی…وہ اسے زندہ نہی چھوڑیں گے…
نمرہ نے.اسے بتایا تھا…جبکہ حارث کا نام سن کر فرحان کی.جنونیت کا اندازہ لگانا اس کے لیے زرا.مشکل نا تھا…
یقیناً معاملہ سنگین تھا…
کہاں ہو تم لوگ؟؟ جگہ بتاؤ…
نمرہ نے اسے جگہ کا نام بتایا تو اسنے جلدی سے جی ائس پی سے فاصلہ طیک کیا.تھا…
وہ جگہ حویلی سے پینتیس منٹ کے فاصلے پر آرہی تھی…
اگر وہ تیز چلاتا تو پچیس منٹ میں بھی فاصلہ طہ ہو سکتا تھا…
اوکے رو نہی..میں آرہا ہوں…اب رونا نہی…ہم.بس ابھی پہنچ جائیں.گے…
اسنے اسے تسلی دی اور کال.کاٹ دی..
کیا ہوا.ہے اشعر؟؟
عریبہ.نے.فکر مندی سے پوچھا.تھا…
عریبہ تم جلدی سے اترو…مجھے.واپس جانا.ہوگا..
اسنے اسے کئا تھا…
پر ہوا.کیا ہے ؟؟؟
عریبہ کو سکون نا آیا تھا…
واپس آکر سب بتاتا ہوں میری جان…ابھی وقت نہی.. بی کوئیک….
اسنے اسے گاڑی سے اتارا پیچھے اتے برہان.کو اشارہ کیا اور. اپنی گاڑی میں.بٹھایا.اور.وہ دونوں نکل پڑے….
ہاتا.پائی دیکھ کر کچھ دکان.دار.باہر نکل آئے تھے اور.فرحان کو.روکنے کی کوشش کر رہے تھے…
نمرہ کی.دوبارہ جرات نا.ہوئی تھی باہر نکلنے کی..ورنہ بعید نا.تھا وہ اسے بھی ایک آدھ تھپڑ تو لگا ہی جاتا….
انتہائی ریش ڈرائیونگ کرتے برہان اور اشعر پورے بیس منٹ میں.وہاں.پہنچے تھے اور سامنے کا ہولناک منظر.دیکھ کر انکا سر.گھوم.کر رہ گیا….
فرحان.کو روکنا.اتنا.اسان.نا.تھا…
بہت.مشکل.سے اسے قابو.کرنے کے جتن.کیے جا رہے تھے….
وہ دونوں.بھاگ کر اس.رک آئے تھے اور اسے پکڑا تھا جسے ابھی بھی.سکون.نہی.آرہا تھا…
کسی.طرح انھوں.نے اسکو.قابو.کیا اور. گاڑی تک.لائے تھے…وہ بپھرا ہوا.شیر لگ رہا تھا…
حارث کو.فوراً اٹھا کر ہسپتال لے جایا گیا تھا…
بالآخر تنگ آکر اشعر نے ایک.زبردست تھپڑ اس.کے.منہ پر رسید.کیا تھا…
تب جا کر وہ قابو.آیا تھا…
پاگل ہو گیا ہے تو…دماغ سے فارغ ہو گیا ہے کیا..؟؟
اشعر دھاڑ اٹھا تھا..
ہاں.پاگل.ئو.گیا ہوں.میں….تم.لوگ کئوں.ائے..میں.اس.خبیث کی انکھیں .نکال.دوں.گا…
وہ پھر سے بپھرا تھا..
فرحان.ہوش.کر…وہ مرنے.والا.ہو.گیا.ہے…
اشعر نے اسے جھنجھوڑا تھا….
بیٹھ گاڑی میں…
اور زبردستی اسے اپنی گاڑی میں بٹھایا تھا….
وہ.ڈرائیو کرنے کی حالت میں.بالکل نا تھا….
اشعر اسکی.گاڑی کی.جان.گیا تھا…
اندر.نمرہ تھی… ایک طرف انتہائی سہمی ہوئی ہرنی کی طرح بیٹھی…اسکا گھٹنہ زخمی ہو چکا تھا…. جبکہ انسو تھم گئے تھے….
اشعر نے اسے ساتھ لگایا تھا اور اس.کے سر پر ئاتھ رکھ کر حوصلہ.دیا تھا….
وہ پھر سے رونے لگی تھی…
اشعر کو.وہ ٹھیک نا لگی تھی…
اشعر اسکو بھی اپنی گاڑی تک لے آیا اور پچھلہ دروازہ کھول کر بٹھا دیا…
برہان تم فرحان کی گاڑی لے آؤ..میں.ان کو لے کر جاتا.ہوں..
اشعر نے کہا.تھا…
برہان.نے حکم کی تعمیل کی تھی جبکہ اشعر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا چل.دیا تھا….
عریبہ کی گھبراہٹ اور برہان.اشعر کی اس طرح کی اچانک.واپسی نے سب کو پریشان کر دیا تھا…حویلی.میں یہ خبر پھیلی تو سب فوراً ملک وجاہت کے پاس فکر مندی سے اکٹھے ہو گئے تھے…
اب ان. چاروں.کا ہی انتظار تھا…
آدھے گھنٹے بعد گیٹ کھلا اور اشعر کی گاڑی داخل ہوتی دکھائی دی تھی…اور.اس کے پیچھے فرحان.کی گاڑی جس میں برہان تھا…
فرحان کا غصہ کم.نا ہوا تھا البتہ جنون کچھ اترا.تھا….
اشعر بے تحاشا.غصے میں.تھا….
وہ زور سے دروازہ بند کیے.نمرہ کی جانب آیا..آرام.سے اسے اتارا اور ابدر لے گیا…
فرحان پر نگاہ تک نا ڈالی تھی….
بمرہ.اندر گئی تو آمنہ بیگم اسکی جانب لپکی.تھیں….
انتہائی خوبصورت فراک پہنے مگر چہرہ بالکل.ویران اور راتا ہوا…انھوں.نے اسے.خود میں.بھینچ لیا تھا….
اور وہ پھر سے رونے.لگی….
عریبہ مے اسے چہ.کروایا اور پانی.ہلایا تھا…
جبکہ.فرحان.کی.طلبی ملک.وجاہت کے ہاس ہو چکی تھی.جہاں اس کے تایا.اور چچا وغیرہ سب موجود تھے….
اشعر انکو.اسکا.کارنامہ بتا چکا تھا….
یہ کیا حرکت تھی برخوردار ؟؟؟
دادا جان نہایت طیش میں.تھے….
یہ تربیت کی ہے کیا.ئم.نے.تمہاری. … آخر کیا ضرورت تھی یوں اس کے.منہ لگنے اور سر.
ِ عام پیٹنے کی؟؟؟
وہ ہھر سے بولے تھے اور فرحان.کی.بس ہو گئی تھی….
ضرورت تھی دادا جان..بالکل ضرورت تھی…اسکو.سبق.سکھانا لازمی تھی….
وہ بول اٹھا تھا…آواز میں طیش نمایاں تھا…
سکھا.دیا اب سبق؟؟ مل گیا سکون؟؟
انھوں.نے بھی اسی انداز میں پوچھا تھا
یہ لوگ بیچ میں.نا کودتے تو منہ نوچ لیتا میں اس بے غیرت.********.انسان.کا…
فرحان نے اسے گالی سے نوازا تھا ساتھ اشعر اور برہان پر طیش بھری ناگوار.نگاہ ڈالی تھی…
میں.ہر.اس انسان کی جان.لے.لوں گا جو.میری بیوی میری عزت پر نگاہ.غلط ڈالنے کی.غلطی کرے گا….خان.پی جاؤں.گا میں اسکا…. کسی.کی جرات نہی.ہو.گی فرحان.شاہ آفندی کی.عزت پر انگلی اٹھائے ایسا.عبرت کا.نشان بنا.دوں.گا اس.شخص.کو…
منہ نوچ.لونگا …اس بار تو.نچ گیا مگر اگلی بار نہی بچے گا….وہ حالت کروں.گا اسکی سات تو کیا اکیس.نسلیں.بھی نہی.بھولیں.گی..
اپنی.عزت کی حفاظت کرنا.جانتا ہوں.میں….
ہر بڑھنے.والے.ہاتھ کو.کاٹ پھینکوں.گا…. ہر.اٹھنے.والی آنکھ کو.نوچ ڈالوں.گا…. ہر.کھلنے والی.زبان.کو.کھینچ نکالوں گا…اور ہر بڑھتے قدم.کے.نیچے سی زمیں کھینچ لوں.گا..
یہ.وعدہ ہے.میرا…
وہ کہہ کر رکا.نہی بلکہ چل.دیا..
جبکہ.اسکے الفاظ یہ جنونیت, وہاں.کھڑے نفوس.کو.جیسے سانپ.سنگھا گیا تھا…
