Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 33) Part - 3

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

اسنے دانستہ طور.پر اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنا گال چھوا تھا جہاں.وہ اپنی انگلیوں کی چھاپ چھوڑ کر گئی….

اگلے ہی لمحے شیدید ترین لاوہ ابلا.تھا ان کے اندر…. اسنے یہ سب کیوں.کیا.تھا؟ محض اس لیے کیونکہ.اسنے.اس.پر اپنا حق جتایا تھا… شوہر ہونے کا چھوٹا سا حق…اپنی محبت اور جذبات کا ابھار اس.پر ظاہر کیا تھا…. ہاں.اسے نہی پتا تھا.کیسے.اظہار کرنا.ئوتا ہے… اسنے.تمام ایموشنز.کے زیرِ عصر ایسا کیا تھا…وہ روک نہی پایا تھا خود کو….اسے محسوس کرنا.چاہتا تھا…خود کو.یقین دھانی کروانا.چاہتا تھا کہ وہ واقعی اس کے سامنے تھی سہی سلامت…ورنہ گزشتہ ایک گھنٹے نے اسکی زندگی گھما کر رکھ دی تھی…. کن کن.تکالیف سے نا گزرا تھا وہ…اسے کھونے جا ڈر شدید تھا….

اور کیا ہی کیا تھا اسنے ایسا؟؟؟ وہ اسکی شرعی اور قانونی بیوی تھی… وہ اس سے بھی بہت زیادہ کا حق رکھتا تھا مگر اسکی عزت کرتا تھا…اسکی بات کی ویلیو کرتا تھا….

انا اپنی جگہ مگر اسنے کبھی بھی ایک کم ظرف مرد کی طرح محض عورت کا غرور توڑنے اور عقل ٹھکانے لگانے کے لیے خود کو مسلط نا کیا تھا اس پر…. اسکی نسوانیت کو مہرہ بنانے کا وہ سوچ بھی نہی سکتا تھا….

مگر وہ محبت کرتا تھا اس سے…اسے بھی اپنے محبوب کر قرب کی چاہ تھی خاص کر جب وہ اپکا محرم ہو….

مگر اب اسے اندازہ ہوا تھا اس انا کی جنگ نے شاید بہت دور کر دیا تھا ان دونوں کو….انکے رشتے کو وہ دیمک کی طرح کھانے لگی تھی….

ان میں فاصلے لا رہی تھی….

مگر وہ اپنا دور ہو چکے ہوں گے اس بات کا ادراک تو ابھی ہوا تھا اسکو….وہ ادراک کروا کر گئی تھی…..مگر قصور وار کون تھا؟؟؟

فرحان شاہ…اندر ے ایک آؤاز آئی تھی…

ہاں کس حد تک وہی تو تھا … وہ اس سے بڑا ہو کر بڑا پن نا دکھا پایا تھا …. اسنے بھی تو کوئی کسر نا رکھ چھوڑی تھی… مگر…

وہ پھر شاید اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہو

ا تھا….

وہ غصے سے روم کی طرف لپکا تھا…اسنے زور سے دروازہ بجایا تھا….

وہ جو اندر بیٹھی ابھی تک منہ پر ہاتھ رکھی سسک روکنے کی کوشش کر رہی تھی ایک دم خوفزدہ ہوئی….مگر خاموش رہی…

فرحان.نے دوبارہ دروازہ پیٹا تھا….

دروازہ کھولو.نمرہ!! وہ دھاڑا تھا….مگر بے سود…اسکا میٹر مزید آؤٹ ہوا تھاِ..

I said open the door dammit!!

اسنے دروازے پر مکا دے مارا تھا….

If you will not open it right now, i will not restrain my self!!!!

(اگر تم.نے ابھئ اسے نا کھولا تو میں خود کو روک نہی پاؤں گا)

اسنے دھمکی دی تھی…جبکہ اسکی دھمکی سن کر اندر بیٹھی نمرہ کا دل ڈوبا تھا….

کیا کرے گاوہ؟؟ اگر اسنے کوئی انتہائی قدم اٹھا یا تو!!!!

وہ ایک دم کھڑی ہوئی تھی…کیونکہ اسنے دروازہ کھولنا تھا… انجانے میں اس سے غلطی ہوئی تھی …. اور وہ مان بھی رہی تھی…

اسنے مرے ہوئے ہاتھوں سے لاک کھولا تھا اور خود دروازے سے چپک کر کھڑی ہو گئی…

دروازہ کھکتے ہی وہ اندر کو لپکا تھا…

کمرے میں نگاہ دوڑائی تو وہ کہیں نا تھی…

ننرہ نے.منہ پر ہاتھ رکھے بامشکل اپنی ہچکی روکنی چاہی …فرحان کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اور وہ مڑا تو بامشکل چار قدم کے فاصلے پر وہ کھڑی تھی…

وہ ایک دم آگے بڑھا تھا…نمرہ کو اس سے بے انتہا خوف آیا تھا….

وہ مزید دروازے کو چپکی تھی….

فرحان نے شاید زندگی میں پہلی.بار کسی سے تھپڑ کھایا تھا..اسے یاد نا پڑتا تھا بچپن میں کبھی شرارت کی وجہ سے بھی اسے تگپڑ مارا گیا ئو.کیونکہ وہ.شروع سے سمجھدار اور سنجیدہ تھا…. یہی چیز اسے خاص کر گئی تھی…سب اس سے.متاثر ئوتے تھے….

اور آہستہ آہستہ اسکی اہمیت اسے انا پرست بناتی گئی…وہ عادی ئونے لگا تھا اہمیت کا… جہاں جاتا اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا…. وہ کبھی کوئی غلط حرکت.نا.کرتا جس سے اسکی ذات کو نقصان ئو… مگر اسکی ” میں” پخت. ہوتی گئی تھی…

میں..میں…..

اس سے پہکے وہ کچھ کہتا نمرہ کے کانپتے لب ہلے تھے….

غا..غلطی سے ہوا…. وہ پھر بولی…

اگر فرحان نے وہ حرکت منہ توڑ جذ بات کے اثر آکر کی تھی تو.نمرہ سے بھی تو ایسا ہی ہوا تھا…

دونوں.میں سے کوئی بھی سہی طریقے سے خود کو “ایکسپریس” نہی کر پایا تھا….

اور دونوں کی.حرکت ایک دوسرے کے چودہ طبق روشن.کر گئی تھی….

نمرہ نے ہولے سے دونوں ہاتھ ملائے تھے..فرحان نے چونک کر اسکی حرکت کو دیکھا….

اسنے دونوں ہاتھ معافی مانگنے کے سے انداز میں ملا.کر تھوڑے اوپر اٹھائے اور اپنے تھوڑی تک لائی تھی…..

اور یہی بات….یہی تو ساری بات تھی….جو.انکو مختلف بناتی تھی …ایک دوسرے کے الٹ….

دونوں انا پرست تھے..دونوں ھڈ دھرم بھی تھی..کسی حد تک ضدی بھی….

مگر…. نمرہ کو جب احساس ہوتا کہ اس سے خطا سرزد ہو چکی ہے تو وہ معافی مانگنے میں زیادہ دیر نہی کر پاتی تھی…ہاں وہ مان جاتی تھی….جیسے پچھلی بار مانی تھی… جب اسے احساس ہوا.اس نے شاید غلط کیا فرحان کے ساتھ…اسنے معافی مانگی….اور آج پھر وہ مانگ رہی تھی حالانکہ اسکا ذہن منتشر تھا….

مگر فرحان…وہ کب جھنجھوڑتے ضمیر کی سنتا تھا….ضمیر نے تو تب بھی ملامت کیا تھا جب وہ اسکو توڑ کر نکلا تھا دو سال پہلے…ضمیر تو تب بھی جاگا تھا جب وہ اسے نکاح کے وقت بےبس دیکھ رہا تھا….. ضمیر تو تب بھی چپ نا رہا تھا جب اسے جتا گئی تھی کہ وہ اسے کتنی تکلیف دے چکا ہے…مگر وہ کب مانا؟؟؟

آج اگر اسکی گمشدگی نے اسکو ماننے پر مجبور کیا بھی تھا تب بھی وہ اس کے سامنے کب بولا؟؟؟

ہوا تھا اسکو احساس مگر اس احساس کا فائدہ تب ہوتا نا جب وہ ابھی کہہ دیتا…..

مگر وہ تو پھر دل کی آواز دبانے لگا تھا…

یہ سچ ہے کہ الفاظ کی.مار وہ تکلیف نہی دیتی جو انسان کی خاموشی دیتی ہے….

وہ اس وقت سہمی ہوئی اس کے سامنے تھی جیسے اپنی سزا سنائے جانے کا انتظار کر رہی ہوِ…..

اس غلطی کی سزا جسے اگر محض ایک “ریفلیکس ایکشن ” کہا جائے تو زیادہ بہتر ئو گا….

ہاں وہ ریفلیکس ایکشن ہی تھا…سوچے سمجھے بغیر ہو جانے والا عمل….

وہ کیا کرتا اب اس کے ساتھ؟؟ بےبس ہوا تھا وہ شاید….

اسنے شدید غصے میں ہاتھ کا مکا دروازے پر دے مارا …. وہ اسکے بہت قریب تھا. بئت زیادہ قریب…اور ایسا کرنے سے وہ جو دروازے کو چپکی کھڑی تھی وہ پھر سے کانپ کر رہ گئی….

وہ ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوا. اور دروازہ کھولا تھا..نمرہ فوراً دروازے سے دور ہوئی….اور دروازہ کھولتا وہ باہر نکل گیا….

اور وہ وہاں بیٹھتی چلی گئی….ٹھنڈے فرش پر ….

یہ ہو کیا رہا.تھا آخر اسکی زندگی میں ؟؟

اسنے تو گمان تک نا کیا تھا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا…. بہت مشکل لگی تھی اسکو زندگی…..

پہلے وہ ٹوٹی بکھری, پھر اپنی ذات کی کرچیاں سمیٹتے,خود تو مضبوط کرتے اسکی زندگی کے دوسال لگے…اور جب وہ اپنی پیوند لگی ذات کے ساتھ جینا سیکھنے لگی تو قسمت کی ایک اور ستم ظریفی !!!

اللہ کی ایک اور آزمائش….

وہ پھر بے بس ہوگئی…عزت بچ جانے پر لاکھ شکر ادا کیا…. والدین کا مان رکھنے کے لیے مان گئی…حاضر کر دیا خود کو…..اس انسان کا ہاتھ تھاما جو اسے ٹھکرا کر گیا تھا….

اور اب وہ چاہتا تھا کہ وہ سب بھول جائے؟؟ ایک دم سے سب ٹھیک ہو جائے؟؟ کیا وہ اپنا غصہ اور ناراضگی جتانے کا حق بھی نا رکھتی تھی؟؟ وہ شروع سے ایکس پریسو تھی..جذبات کو دباتی نا تھی….جو دل میں ہوتا.وہی زبان پر…

اور آج ایک بار پھر اسکو تکلیف ہو رہی تھی..درد ہو رہا تھا…قصور وار کون تھا؟؟؟ شاید قسمت کا کھیل تھا…ِیا شاید وہ دونوں خود قصوروار تھے…. اپنی ان تکالیف کے….

وہ تھکنے لگی تھی… بکھرنے لگی تھی… کوئی نا تھا اس وقت جو اس کو سینے سے لگاتا …تن تنہا فرش پر بیٹھی بلکتی ہوئی….

میرے ساتھ ہی کیوں آخر؟؟ وہ خدا سے شکوہ کر بیٹھی تھی….

میں..میں آج بہت تھک گئی ہوں اللہ…

کیوں ؟؟؟ اسکا جواب نا تھا..اور ایسا ہوتا ہے…کہ آپ تھک جاتے ہیں..حالانکہ نا تو آپ نے کوئی جسمانی مشقت کی ہوتی ہے نا ذہنی..مگر پھر بھی زندگی بے معنی لگتی ہے… جینا مشکل لگتا ہے… اور اپنا آپ سنبھالنا بھی ایک بوجھ لگتا ہے….

اللہ میاں نے میری زندگی اتنی کٹھن کیوں بنا دی؟؟

سوال تو تھا مگر جواب….

جواب کہیں نا تھا….

بدتمیز تو وہ ہبھی تھی ہی نہی پھر وہ ایسی کیوں ہوتی جا رہی تھی؟؟؟

ہوتا.ہے نا.کبھی کبھی آپ نا امید ہو جاتے ہو, زندگی سے, اسکے رنگوں سے , اس دنیا سے, اپنے رشتوں سے اور خود سے….

آپ کا دل چاہتا ہے پھوٹ پھوٹ کر رونے کو….

بلاوجہ رونے کو…انسان.ضود.ترسی کا شکار ئونے.لگتا ہے….ایسے لمحات آجاتے ہیں زندگی میں. … ہر انسان.کی زندگی میں کبھی نا کبھی …

🌸کبھی ہمسفر لگے منزلیں,کبھی راستوں کی خبر نہی

کبھی بے سبب لگے زندگی,کہیں چاہتوں کا ثمر نہی

نا ہے راستہ ,نا ہے منزلیں, کیسے زندگی کو.سنبھال لوں

میری چاہتیں کیوں بنی سزا ؟؟ کیوں ہوئیں غموں کی یہ بارشیں ؟؟ 🌸

وہ اٹھ گئی تھی کیونکہ اسے نماز ادا کرنی تھی…

وہ شدید طیش اور بے بسی.کے عالم میں فلیٹ سے باہر نکلا تھا..اسکو گھٹن.ہو رہی تھی… اسکا آنسوؤں سے تر چہرہ سامنے دیکھ کر….اسکی سوجی سرخ آنکھیں دیکھ کو…. اسکی.بے بسی سے پھڑپھڑاتے لب دیکھ کر…

ئاں اسکو.تکلیف ہوئی تھی…اور پھر اسکا.معافی مانگنا..ہاتھ جوڑنا…

فرحان شاہ کو ششدہ کر گیا تھا….

وہ ایسا.کچھ کرنے کی.امید.کب رکھتا تھا اس.سے..مگر وہ کر گئی تھی..جو وہ نا.کر سکا ووہ نمرہ سیال کر.گئی…. اگر وہ نا.جھک سکا تو وہ جھک گئی..وہ معافی نا.مانگ سکا تو وہ مانگ گئی…وہ غلطی نا مان سکا مگر وہ مان گئی….

وہ. حساس لڑکی ایک بار پھر فرحان شاہ کو چو نکا گئی تھی…. جیسا وہ پہلی ملاقات سے کرتی آرہی تھی..

کبھی اپنے حسن اور معصومیت سے اسکی دل کے تار چھیڑ گئی تو کبھی اسکی انا پر ضرب لگا کر اسکو اشتعال دلا.گئی مگر اسکا ہر روپ اسکو.چانکا ہی تو جاتا تھا….

وہ جھکی تھی اس کے آگے… مگر وہ پھر بھی خوشی سے محروم تھا….اسکو پھر اپنا دامن خالی لگا تھا…بالکل اسی طرح جیسے دو سال پہلے اس دن لگا تھا جب وہ فتح یاب ئو کر نکلا تھا مگر خوشی نا اس دن تھی نا ابھی تھی….

میں سکون چاہتا ہوں..میں اسے خوشیاں دینا چاہتا ہوں…اسے لبوں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں..زندگی کا.سفر اسکی ہمراہی میں طے کرنا چاہتا ئوں…اپنے ہاتھوں میں اسکا ہاتھ تھامے…ہر فکر سے آزاد…ہر غم سے دور…

اسکا دل بول اٹھا تھا…

پر کیا اب بھی ایسا.ممکن ہے ؟؟ کیا اب بھی میں اسے منا سکتا ئوں؟؟ کیا اب بھی وہ لوٹے گی؟؟ اعتبار کرے گی میرا؟؟

سوال آیا تھا….

ممکن ہے…ہاں تم اسے.منا سکتے ہو…ہاں تم.اسے لوٹنے پر مجبور کر سکتے ہو… اسکا اعتبار.جیت کر.. اگر اسے توڑ سکتے ہو تو جوڑ کیوں نہی سکتے….

ہاں میں یہ کر سکتا ہوں.اور میں یہ کروں گا….

میں جیتوں گا اسکا بھروسہ… سمیٹ لونگا اسکو …مزید بکھرنے سے….مزید توڑ پھوڑ کا شکار ہونے سے بچا لوں گا….

وہ ایک عزم کر چکا تھا..ایک وعدہ جو اسے اب نبھانا تھا..جس کا پاس ضروری تھا….

ایمن اور سالار کی شادی کی تاریخ تہ کر دی گئی تھی..تین ہفتے بعد کی تاریخ رکھی گئی.تھی… مگر ایمن کو سالار کی بات بھولی نا.تھی… اسکو دکھ ئوا تھا… دبارہ اسکو سالار سے امنا سامنا بھی نا.ئوا تھا…اور پھر اچانک سے تاریخ تہ ہو جانا…

وہ شدید ناراض تھی اس سے …

وہ فلیٹ میں داخل ہوا…. رات کے دو بجے.کا.وقت تھا..اندر سناٹا کاٹ کھانے کو.دوڑ.رہا تھا…

وہ اس وقت باہر.نکل.گیا تھا کیونکہ.شاید اس.وقت وہی.بہتر تھا

کمرے کا دروازہ بند.تھا …نمرہ یقیناً اندر تھی..

اسنے گلاس میں پانی ڈال کر حلق.میں انڈیلا ..صوفے ہر بیٹھ کو پاؤں.کو.جوگرز.سے آزاد کیا…

پھر لیدر.جیکٹ اتار کر سائیڈ پر رکھی..ٹی.شرٹ سے اسکے کسرتی بازو.جھلک.رہے تھے….

فرش پر پاؤں پڑا تو وہ ٹھنڈا لگا اسکو…اسنے تھوڑے فاصلے پر پڑے سلیپرز.پہنے اور روم کی طرف چل.دیا…

دروازہ کھولا تو وہ کھلتا چلا گیا. ..سامنے نظر اٹھی تو وہ کمبل لپیٹے آ

ڑھی ترچھی بیڈ پر سو رہی تھی…

وہ بھی آکر دوسری طرف لیٹ گیا ..دوسرا کمبل کھول کر اوپر لیا

.اور آنکھیں موند لیں…

صبح وہ نماز کے لیے جاگی تو نظر ساتھ سوئے

وجود پر پڑی. .نجانے رات کو کب آیا وہ…نمرہ کو اندازہ نا تھا…

وقت دیکھا تو ابھی فجر میں وقت تھا…..

اسکو.اپنا.سر بوجھل لگا….

وہ اٹھی اور سٹائلش سا شیفون کا پیکے رنگ کا.سوٹ نکالا.اور شاور لینے.چل دی…

وہ شاور لے کر نکلی تو کھٹ پٹ سے فرحان کی آنکھ کھل.گئ…

نمرہ تہجد پڑھنے لگ گئی…فرحان.نے کمرے میں نگاہ دوڑائی تو وہ جائے نماز بچھائے پیلے رنگ میں فریش سی نماز پڑھ رہی تھی…

فرحان نے اسکا بھرپور جائزہ لیا تھا…

یلو کیپری کے اور یلو قمیض جس پر نیلے اور سرخ پھولوں کی ایک بیل تھی…

پاکیزہ سے چہرے کے گرد یلو دوپٹہ. .. اور گلابی ہونٹ…

اتنے میں نمرہ نے سلام.پھیرا.تھا…. اسنے فرحان کی.جانب نا دیکھا تھا کیونکہ وہ.اتنی محو تھی اللہ سے باتیں کرنے میں کہ.خود پر پڑتی نظروں کی تپش کو بھی محسوس.نا.کر پائی… ابھی وہ.دعا.مانگ رہی تھی کہ فجر کی آذان کا وقت ہو.گیا…

فرحان بھی اٹھ بیٹھا تھا….

اسے کچھ بھی کہے بنا وہ واش روم چل دیا…

جب باہر.نکلا.تو وہ نماز پڑھ چکی تھی..فرحان.نے بھی گھر میں نماز ادا کی…

نمرہ کا دوبارہ سونے کا موڈ نا تھا یا شاید فرحان کی موجودگی کا احساس تھا جو وہ پھر نا سوئی بلکہ لاؤنج میں آگئی…شاید وہ بات کرنا چاہ رہی تھی..یا شرمندہ تھی…

وہ نماز پڑھ کے لاؤنج میں آیا …وہ صوفے پر بیٹھی تھی..فرحان اس کے ساتھ آگر بیٹھ گیا..نمرہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور تھوڑا دور کھسکی تھی…

فرحان نے اسکا چہرہ نظروں میں لیا… وہ انگلیاں چٹخا رہی تھی…

نمرہ میں…

فرحان نے بولنا.شروع.کیا …

اسنے.سوالیہ نگاہ فرحان.پر ڈالی..مگر اس سے پہلے وہ اپنی بات جاری کرتا وہ بول اٹھی..

آئی ایم.سوری…

اپالوجی آئی تھی…

شاید وہ اس.سے خوفزدہ.تھی…مگر.نہی اب.خوف.تو.نا.لگ رہا تھا…

وہ سر گرائے مجرموں کی طرح بیٹھی تھی…

آئی ایم.سوری ٹو…

فرحان.نے.بات.شروع کی تھی…

نمرہ نے.جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا…

وہ معافی مانگ رہا تھا مگر کس بات کی؟؟ یا پھر

“کس کس” بات.کی؟

فار؟؟

نمرہ نے سوال کیا تھا..

فار ایوریتھنگِِ.

فرحان.نے.جواب.دیا…

تو.بالآخر وہ کہہ ہی چکا.تھا..

آئی نو سوری چھوٹا لفظ.ہے مگر.مجھے احساس.ہے اپنی غلطی کا…

فرحان نے بات جاری رکھی…

صرف غلطی؟؟ یا.غلطیوں ؟؟

نمرہ نے.تصحیح کئ تھی…

غلطیوں کا….

میں شرمندہ ئوں.ہر چیز.کے لئے…تمہیں ہرٹ کرنے کے لیے… غلط کیا تھا میں نے… خود.کو.بے وقوف بنا.رہا تھا شاید…

فرحان.نے کہا تھا…نمرہ نے جانچتی نظروں.سے اسے.دیکھا…

اور اگر.میں اپکا سوری ایکسیپٹ نا.کروں.تو؟؟

نمرہ.نے.نجانے.کیوں.سوال کیا تھا…

غلطی تمہاری بھی تھی پر حساب برابر ہو.سکتا ہے…

فرحان.نے.جواب.دیا…

مطلب؟؟ نمرہ.نے.سوال کیا…

تم میرا سوری ایکسیپٹ کر.لو..آئی ول.ڈو یورز…

جواب آیا تھا…

وہ غلط وقت پر غلط الفاظ بول.گیا.تھا…یا شاید ابھی.الفاظ ہی نا تھے اس کے پاسِ..

.

نمرہ.نے.تاسف سے اسے دیکھا تھا..یہ کیسی شرمندگی تھی…. کہ میری.مانو گی تو تمہاری بھی مانی.جائے گی….وہ اس سے معافی.مانگ رہا تھا یا شرطیں رکھ رہا تھا؟؟؟

یہ شرمندگی دور کرنے کا.طریقہ تھا یا کوئی ڈیل؟؟؟

وہ ایک.دم.کھڑی ہوئی تھی….

تو آپ یئ چاہتے ہیں کہ میں آپکو معاف کر دوں.اگر میں خود کو معاف کروانا.چاہتی ہوں؟؟؟

سوری مگر.مجھے یہ منظور نہی ….

ارے آپ تو ڈیل کرنے لگے… اگر مجھے معافی ملنے کی.یہی شرط ہے

تو نہی چاہی مجھے معافی… میں.اپنا سوری واپس.لیتی ہوں… اپکو سزا.دینی ہے تو ضرور دیں..آپ دس تھپڑ.لگا.دیں مجھے…

مگر ایسی معافی کی.امید مجھ سے مت.رکھیے گا…..

فرحان بھی ایک.دم.کھڑا ئوا تھا…

تم….

فرحان.نے اپنئ مٹھی بھینچی تھی….

کیا میں؟؟ ہاں ؟؟ یہ کیسی شرمندگی ہے؟؟ یا شرمندگی ہے ہی نہی؟؟؟

میں نے.جو غلطی کی.میں اس.کی سزا بھگت سکتی ئوں…آپ ماریں پیٹیں…یا “کچھ اور” ….

جو اپکا دل چاہے….

نمرہ کی زبان پھسلی تھی اور وہ بہت بڑی بات کہہ گئی تھی… مگر احساس تب ہوا جب وہ بول گئی..اسکا دل ایک دم.جیسے مٹھی میں جکڑا گیا…

فرحان دو قدم آگے ئوا تھا… اسکے ” کچھ اور ” کو مطلب وہ دونوں.جانتے تھے…

“بات وہ کرو مسسز جسے پورا کرنے کی ہمت بھی رکھتی ہو”

فرحان.نے جیسے اسکا مذاق اڑایا تھا….

جبکہ اسکی بات سن.کر.نمرہ کا چہرہ ایک دم سفید پڑا تھا… وہ دو قدم پیچھے کھسکی تھی اور فرحان.دو قدم.مزید آگے بڑھ گیا تھا….

جانتا تھا وہ دل سے نہی کہہ.رہئ تھی…

فرحان.نے.ہاتھ بڑھا کر اسکے گلے ہر لگی ڈوری کھینچی تھی…. ایسے کے وہ بھی ساتھ.آگے کو کھنچی تھی ..ورنہ ڈوری نکل جاتی….

نمرہ کو ا0نی سانسیں رکتی ہوئی محسوس.ہوئی تھیں. .اسکی روح فنا ہونے.لگی تھی….

اسنے زور زور سے سانس لیا تھا جیسے اکسیجن کی.کمی ئو گئی ہو….

“میری ذرا سی قربت پر تم آپے سے اس قدر باہر ہو.گئی…. جب تم اسے برداشت کرنے کی ہمت نہی رکھتی تو مزید ظلم کیوں کروانا چاہتی ہو اپنی ذات پر”

مم…میں..آپکو معاف نہی کرونگی….

رندھی ہوئی آواز.میں جواب آیا تھا ہر لہجے میں بلا کی.سختی تھی….

اک پل کو وہ ششدہ رہ گیا..اتنے اٹل لہجے ہر….

کیوں؟؟ تمہارا دل.تو.بہت بڑا ہے…

فرحان نے چہرہ مزید قریب کی تھا…

نمرہ نے نگاہ اٹھا کر اسکو دیکھا تھا..انتہا سے زیادہ قریب تھا وہ… ِاگر وہ اسکے قربت میں پگھلنے لگی تو؟؟ اگر وہ کمزور پڑ گئی تو؟؟؟

نہی…بالکل نہی..ابھی نہی….

وہ ایک دم پیچھے ہوئی تھی…

نہی ہے میرا دل بڑا..نا ہی اتنا ظرف ہے میرا…عام انسان ہوں.میں.بھی ….

وہ بپھر کر بولی تھی….

وہ اس سے معافی کا خواں تھا …. مگر آج پہلی بار نمرہ کو احساس ہوا تھا

“معافی مانگنے سے کئی زیادہ کٹھن کام کسی اور کی معافی قبول کرنا ہے”…

بہت ظرف, بہت ہمت, بہت مضبوطی چاہیے ہوتی ہے ایک ایسے شخص کو معاف کرنے کے لیے جو اپکی تکلیف کا ذمہ دار ہو…

معافی مانگ کر آپ اپنا بھلا کرتے ہیں کیونکہ آپ خود کو.ایک گلٹ اور پچھتاوے سے رہائی دلاتے ہیں ….

مگر دوسرے کو معاف کرنا… یعنی خود کو.دوبارہ ان تکالیف کی یاد.دلانا.جو.اپکو ملیں… تبھی تو معاف کرنے والے کو اللہ نے عظیم انسان کہا ہے..اسے اپنا دوست کہا.ہے…

فرحان نے اسکا ہاتھ تھاما تھا….

تو تم معاف نہی کر سکتی مجھے؟؟؟

سوال آیا تھا….

نہی!! وہی جواب….

تو چلو ٹھیک پھر تمہیں بھی سزا.ملنی چاہیے نا…

اسپے جھک کر وہ سرگوشی نما آواز.میں بولا تھا….

نمرہ نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں…

کک..کیسی سزا؟؟ اسکی زبان لڑکھڑا.گئی…کہیں جو وہ کہہ گئی تھی وہ واقعی اس پر عمل تو نہی کرنے والا تھا…

وہی سزا جو تم.نے خود اپنے لیے چنی ہے ڈارلنگ…

فرحان.نے دو انگلیوں سے اسکا گال چھوا تھا…ِ

جبکہ نمرہ پر جیسے ساتویں آسمان ایک دم آکر گرے تھے….

لمحے کی تاخیر کیے بغیر وہ جھکا اور اسکو اہنی باہوں میں بھر لیا…..

وہ تو اس افتاد کے لیے تیار بھی نا تھی….

مم..مینے وہ…نہی…

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر سمجھ نہی آئی کیسے کہے…

وہ اسے لیے کمرے کی جانب بڑھ گیا….