Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 31) Part - 3
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 31) Part - 3
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
دن.گزرتے جا رہے تھے…. انکی.شادی کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس پورے ہفتے میں نمرہ مشکل سے تین چار بار ہی فرحان شاہ سے مخاطب ہوئی تھی وہ بھی.کڑے تیوروں کے ساتھ…… دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا.تھا..پچھلے دو تین.دن.سے لگاتار کہیں نا.کہیں دعوت ہوتی تھی انکی….. جبکہ عریبہ کی.شادی بھی بہت قریب تھی..گھر میں اسکا بھی.ہنگامہ شروع ہو چکا تھا…دو تین.دن بعد سے ڈھولک بھی شروع ہو جانی تھی…..
شادی کے کچھ دن بعد نمرہ کے فائنل ائیر کے پیپرز تھے…. اسکو وہ ٹینشن الگ کھا رہی.تھی ..کیونکہ وہ چاہ.کر بھی.پڑھ نہی پا.رہی تھی….جبکہ اسکے.لئے اپنا کریئر بنانا … انڈیپینڈنٹ ہونا.اب بہت ضروری ہو چکا تھا…وہ کسی دوسرے ہر ہر گز.انحصار.نہی.کرنا.چاہتی تھی اور خاص کر.جب وہ دوسرا فرحان.شاہ ہو….اسکو عزتِ نفس کو.یہ گوارہ نا.تھا…..
سو آج وہ کتابیں لے کر بیٹھی تھی…ِ. سرخ اور سبز رنگ کا پرنٹڈ فراک پہنے , بالوں کا اونچا جوڑا بنائے , جہازی سائز بیڈ.ساری کتابیں اور نوٹس پھیکائے, ایک ٹانگ اوپر تھی جبکہ.دوسری بیڈ سے.نیچے لٹک رہی.تھی… اس وقت وہ بہت مصروف تھی….جبکہ.دوپٹہ آدھا بیڈ پر اور آدھا نیچے کو ڈھلکا ہوا.بیڈ کے.کونے ہر اپنی نا.قدری پر رو رہا تھا….
کب عصر سے مغرب ئو.گئی.اسکو پتا ہی نا.چلا…فرحان. اور برہان آج کچھ نیو انویسٹمنٹ کے.لیے سائٹ وزٹ.کرنے گئے تھے….
وہ انہماک.سے تیز تیز نوٹس.بنانے.میں مصروف تھی کہ.ایک.دم دروازہ کھلا تھا…
نمرہ.نے منہ.میں پین.دبائے , نگاہ اٹھا کر سامنے.دیکھا تو فرحان تھا….. وہ ایک.دم.سیدھی ہوئی کیونکہ اسکی.کیپری ٹخنوں سے چھ سات انچ اوپر سرکی ہوئی.تھی….اسنے آگے جھک کر دوپٹہ اٹھا یا اور شانوں پر ڈالا….
جبکہ.فرحان اپنے بیڈ کی حالت دیکھ.کر غش کھاتا رہ گیا….جا بجا کتابیں, پیپرز, نوٹس, ڈارئنگز ….بیڈ.ہر ہاؤں دھرنے.کی.جگہ.نا تھی….
نمرہ اسکی پرواہ کئے بغیر دوبارہ مصروف ہو چکی تھی…جبکہ.فرحان کو.اسکی یہ بے نیازی ایک آنکھ.نا.بھائی تھی….وہ صبح کا.گیا اب آیا تھا.مھر ان.محترمہ.نے.جھوٹے.منہ.سلام تکا.نا کیا…
ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا وہ صوفے پر بیٹھ.گیا…اور اسکا جائزہ.لینے.لگا…سافہ سے حلیے میں چہرے ہر معصومیت لیے وہ.بہت بھلی لگی.تھی اسکو مگر وہ کتنی معصوم تھی یہ وہ بھی جان.چکا.تھا….
اہم اہم…اسنے ذرا اونچا سا.گلہ.کھنکارا..مگر بے سود.ِ….
پانی.ملے گا؟؟ اسنے.بلند آواز.میں کہا.تھا…وہ.جو لکھنے میں مصروف تھی اسنے سوالیہ نگاہ اس.پر ڈالی اور پھر.ہین رکھ.کے اٹھ گئی…ہر بات اپنی.جگہ مگر اتنی.تمیز اس میں تھی کہ اٹھی, اور کمرے سے نکل.گئی…کچن میں جا کر جگ سے پانی ڈالا اور ٹرے میں نفاست سے گلاس رکھ.کر اس کو.پیش کیا…
تھینک یو…فرحان نے گلاس لے لیا….
جب وہ پانی پی چکا تو اسنے.پوچھا “اور لاؤں”؟؟
نہی …اسنے.بس اتنا.جواب.دیا..شاید وہ تھا ہوا تھا…
نمرہ گکاس واہس رکھ.آئی جبکہ بیڈ کی حالت دیکھ دیکھ.کر فرحان کو کوفت ہو رہی تھی وجہ تھی اسکی نفیس طبیعت….بکھری چیزیں اسکو ایک آنکھ نا.بھاتیں….. نفاست ہسند تو.نمرہ.بھی بہت تھی مگر پڑھائی کے وقت اسکو.ئوش نا.ہوتا….البتہ بعد میں ہمیشہ وہ اہنا کمرہ چمکا دیتی تھی….ابھی بھی وہ یہی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی..کیونکہ.اسکے ذہین میں تو تھا ہی نہی کہ فرحان آجائے گا…
یار یہ.سائیڈ پر کرو…
فرحان نے.بکس کو دیکھ کر کہا…
میں پڑھ رہی ہوں..نمرہ.نے ٹکا سا جواب.دیا…
تو میں نے.پڑھنے سے.کب.روکا…ایٹ لیسٹ سمیٹ کر رکھو نا….پورا بیڈ گھیر رکھا ہے…
فرحان نے کوفت سے کہا تھا….
سوری بار بار سب سے کام.ہوتا ہے سو سمیٹ نہی سکتی اور ویسے بھی بیڈ میرا بھی ہے…
اسنے جتانا ضروری سمجھا تھا کیونکہ گزشتہ چند دنوں سے وہ صوفے پر ہی سوتی تھی اور فرحان نے.بھی کچھ نا کہا تھا..مگر اب نجانے.کیوں اسکو.ملکیت کا احساس ہوا تھا…
فرحان اٹھا اور ایک ایک.کر کے ساری بکس سمیٹنے.لگا..اور ایک سائیڈ خالی کر.لی..جبکہ.نمرہ.نے اسکی کاروائی دیکھ تو ٹھپ سے کتاب بند کر.دی…
فرحان ایک برف نیم دراز ہو.گیا..نمرہ اسی لمحے اٹھی اور ساری کتابیں (جو وہ.سمیٹ کر اکٹھی کر چکا تھا) , اٹھا.کر صوفے پر چل.دی…
پہلے.کچھ کتابیں رکھی پھر دوسری بار باقی اٹھانی بیڈ پر جھکی ہی تھی کہ فرحان نے ہاتھ بڑھا.کر اسکی کلائی تھامی تھی….
نمرہ.نے ایک دم شدید حیرت سے اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ آگ بگولا ہو گئی…… ولیمے سے پچھلی رات کے بعد وہ دوبارہ اسکی طرف نا.بڑ ھا تھا مگر اسکی حرکت نمرہ کو تپا گئی تھی….
اسنے.کلئی کھینچنا چاہی مگر بے سود….
تمہارا یہ ایٹیٹیوڈ کب.ختم.ہوگا؟؟
فرحان نے گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا تھا…
کبھی نہی…
اسنے جواب دیا….. اب ادھر.کیوں جارہی ہو؟؟
اسنے.صوفے کی طرف اشارہ.کیا…
ککیاکہ.یہاں “آپ” آگئے ہیں. ..
نمرہ.نے تلخی سے کہا.تھا….
جبکہ.وہ.اسکی بات کا.مطلب.سمجھ چکا.تھا…
فرحان نے جھٹکے سے اسکی.کلائی آزاد کی..
جاؤ…. جیسے حکم دیا گیا ہو……
وہ اسکی ذات کی.نفی.کرتی تھی, تو وہ کیسے اتنے آرام.سے برداشت کر لیتا…
نمرہ.نے اپنی.کلائی دیکھی جہاں انگلیوں کے نشان واضح تھے….
اسنے ایک.بار بھی اسکو.نا.روک تھا..یہ سوچ ہی اسے اندر تک جھلسا گئی تھی….
دونوں کو اپنی “میں” عزیز تھی…
نمرہ صوفے ہر چل.دی..اب پڑھائی کیا خاک.ہونی تھی…..وہ کتابوں کے صفحے پلٹنے لگی…فرحان اٹھا اور.ڈریسنگ.کی طرف چل.دیا…کہڑے لے.کر وہ شاور لینے چلا گیا…نمرہ جانتی تھی اسکو.اندھیرے میں سونا ہسند ہے..لائٹ میں اسکو.نیند.نہی آتی تھی….
ایک خیال اسکے.ذہن.کو چھو.کر.گزراِ…..اسے زچ کرنے کا خیال…..
وہ کچھ سوچتے.ہوئے اٹھی اور باہر چل دی…
ڈنر کا.وقت بھیی ہونے والا.تھا سو اسنے سوچا کچن.کا.چکر ہی.لگا لے…
ایمن کے ماموں کے بیٹے کی شادی تھی….. لہذا وہ گاؤں جانے کی.تیاریاں کر رہی تھی…..اس کے بعد.فائنل.پیپرز..اور پھر اسکی اہنی.شادی متوقع.تھی… اسے سالار سے مزید جھجک ہونے لگی تھی….ابھی بھی اسکا سامنا کرنے کا.سوچ کر وہ لال ہونے.لگی…مگر جانا.تو تھا…. نمرہ تو تھی نہی اب سو وہ صرف مقی.کو لے.کر شاپنگ پر چل دی…نمرہ.کو انھوں نے خود ڈسٹرب نا.کیا.کیونکہ.وہ دعوتیں بھگتا رہئ تھی..اگر وہ کہتیں تو وہ دوڑی چلی آتی مگر فلحال وہ دونوں چاہتی تھیں کہ وہ فرحان کے ساتھ رہے ..شاید دونوں کے تعلقات میں تبدیلی ہی آجائے….
وہ دونوں شاپنگ کر رہی تھیں. ….
کیا ہے ایمن…بس بھی.کر.نا.اب…مقدس اب.تھکنے.لگی تھی….
اچھا.بس.لاسٹ…بائے دا.وے تو.بڑی جلدی تھک.گئی آج….ایمن.نے.اسکو.دیکھ کر کہا…
ہاں.بس.ویسے…میں نمی.کو.مس.کر رہی.ہوں یار…
اسنے.لاچاری سے کہا تھا…
مس تو میں بھی.کر رہی ہوں..بس اللہ اسکو خوش.رکھے …ایمن.نے دعا.کی..
آمین… مقدس بولی.تھی…
مقی اب تو.بھی.کوئی ڈھونڈ ہی.لے…
ایمن.نے.شرارت سے.کہا.تھا…
نا بھئی…میں ابھی سنگل لائف انجوائے کرونگی….
یہ کیا پہلے بندہ پڑھتا.ہے کہ چلا.یونی جا.کے مزے کرینگے…. پر یہاں میڈیکل کالج نے تو پانچ سال تگنی کا.ناچ نچایا ہے…میں تو ویٹ کر رہی کب پیہرز ہوں..اسکے بعد ہاؤس جاب..ہائے ایمن.پے بھی ملے گی …وہ.ساری.میں کھلی اڑاؤنگی…اس کے بعد سوچونگی…
اسنے جعس کو سپ لیتے اپنے مستقبل کے.پلینز سے اسے آگاہ کیا…
ہاں یہ.بات بھی.سہی.ہے تیری….
خیر چلا.کھاتے ہیں کچھ…
وہ دونوں ریسٹورنٹ کی طرف بڑھ گئیں. …
فرحان شادی کے فوراً بعد تالیہ اور رضیہ بیگم کو بلال ولاء سے جانا پڑا…..اب وہ اسلامآباد میں ایک فلیٹ میں مقیم.تھیں. …..جبکہ حارث کا کچھ اتا پتا.نا.تھا….
I can’t live here anymore…
تالیہ نے ماں سے کہا تھا…
تو اور.کہاں.جائیں ؟؟ اچھی خاصی کوٹھی تھی..حویلی تھی…گاؤں کے.وڈیرے تھے ہر تجھ سے ایک لڑکا نہی پھنسایا.گیا…
رضیہ بیگم.نے.ملامت کی تھی….
آپکے لاڈلے نے جو.کارنامہ کیا.ہے.نا اسکی.وجہ.سے ہوا.ہے.سب..میری.وجہ.سے.نہی…ورنہ فرحان کو پھنسانا.کونسا.مشکل.تھا…
اسنے.سارا ملبع حارث کے سر تھونپا تھا….
ہائے.میرا بچہ.پتا.نہی.کہاں ہوگا کس حال میں ہوگا…
انھیں اپنے.بیٹے کی.فکر.نے.ستایا…
آپ تو ایسے کہہ رہی.ہیں جیسے بے چارا پتہ نہی کدھر بھٹک.رہا ئوگا…
جہاں بھی.ئوگا فل عیاشی.میں ہی ہوگا…میری طرح کڑھ تو.نہی.رہا ئوگا…
تابیہ.نے.منہ.بنا.کر.کہا تھا…
وہ لڑکی مجھے پہلے دن.سے ایک آنکھ.نہی.بھائی تھی…اسی کی.وجہ.سے سارا کام خراب ئوا…
رضیہ بیگم.کی توپ کا منہ اب نمرہ کی طرف تھا….
اب وہ لڑکی بن گئی بہو…تالیہ نے جواب دیا…
اتنے آرام.سے کیسے..میں بھی دیکھتی ہوں. ..سکون.سے رہنے دیا تو.میرا.نام بھی رضیہ نہی…
انھوں نے شیطانی انداز.میں کہا.تھاِ
رات کے.کھانے.کے.بعد. وہ عریبہ کے ساتھ بیٹھی.رہی…ساڈھے گیارہ بجے.وہ اٹھی تھی…
جانتی تھی فرحان گیارہ بارہ بجے سوتا تھا….
وہ.کمرے.میں گئی تو.فرحان موبائل میں مصروف تھا…..نمرہ.کے.آنے.کا.کوئی.نوٹس نا.لیا.اسنے….
نمرہ نے وضو کر کے.نماز.پڑھی…وہ.نماز پڑھ چکی تو.فرحان لائٹ آف کرنے.لگا…
I have to study…
مجھے پڑھنا.ہے…
But i can’t sleep in light…
لیکن میں لائٹ میں نہی.سو سکتا…
Thats ur problem nit mine…
یہ آہکا مسئلہ ہے.میرا.نہی..انداز.کافی روڈ تھا…
تم.کل.صبح میرے جانے کے.بعد بھی پڑھ سکتی ہو…
فرحان جھنجلایا تھا…
اور.یہی تو.وہ.چاہتی تھی…
نہی گھر میں میں .رات میں پڑھتی تھی..اٹس.مائے ہیبٹ…
اسنے مسئلہ بتایا…اسکی بات سن.کر فرحان نے لائٹ آف کرنے کا.ارادہ.ترک کر دیا..نمرہ.کو ہاگز امید نا.تھی وہ فوراً مان جائے گا……
جبکہ اسکی بات سن.کر فرحان آکر بستر پر لیٹ گیا…وہ نی چاہتا تھا اسکی.کسی بھی بات سے نمرہ.کو یہ احساس.ہو.کہ اب.وہ.اپنے گھر میں نہی.ہے…. یا وہ کسی غیر کے ساتھ.ہے….
اسکو اس.بات کا.اندازہ تھا کیونکہ باارات والے دن.بھی جب.وہ.روئی تھی تو فرحان کو تکلیف ہوئی تھی….اپنی نیند کا خیال.کئے بغیر وہ لیٹ چکا تھا…جبکہ وہ دوبارہ پڑھنے میں مشغول.ہو چکی تھی…
عریبہ. اور اشعر کی ڈھولکی شروع.ہو چکی.تھی….. حویلی میں بہت رش.تھا….ہر طرف چہل.پہل تھی…پوری حویلی.کو, بلال ولاء کو اور اشعر کے گھر کو سجایا.گیا.تھا… سب.کی.چہروں پر واضح خوشی تھی….. اشعر اور عریبہ کا ہردہ.کر.وا.دیا گیا تھا….
نمرہ اس.وقت عریبہ کے ساتھ بیٹھی سب فنگشنز.کے.ڈریسز.فائنل.کروا.رہی تھی….ہر جوڑے کے ساتھ.جیولری اور جوتوں کو.ملا.کر سیٹ بنا.کر رکھ.رہی.تھی وہ..کیونکہ.شادی والا.گھر تھا اور چیزیں.آگے.ہیچھے ہو جانے کا.خطرہ تھا……
فرحان.کی. دونوں پھپھو بچوں سمیت اور نمرہ.کے بھی سارے ماموں وغیرہ آچکے تھے….ان.سب.کے بچے ابھی چھوٹے تھے…
نمرہ فارغ ہو کر اپنے کمرے.میں آئی تو ثوبان(فرحان کا چھوٹا بھائی) کمرے میں داخل.ہوا…
بھابھی بھائی کہاں ہیں ؟؟ ثوبان نے نمرہ سے پوچھا…
اممم..پتہ نہئ..ناہر دیکھ لو….نمرہ نے جواب.دیا…
نمرہ کے گھر والے بھی دو.دن.سے آئے.ہوئے تھے..نمرہ.کو سب کے.ساتھ گھلتا ملتا دیکھ کر امروزیہ بیگم کو تسلی ہوئی تھی….
آمنہ بیگم.نے اس پر کبھی کوئی روک ٹوک نا کی تھی… اور نمرہ بھی ایسا کوئی.کام.نا.کرتی جن.سے انکو شکایت ہوتی…..فرحان کے ساتھ دشمنی.اہنی.جگہ لیلکن وہ باقی سب سے پیار سے پیش آتی..جب وہ سب اسکو عزت.دے رہے تھے تو اسے کیا.پڑی تھی خوامخواہ بگاڑنے کی….
ہاں ٹھیک ہے!!
نہی.فلحال صرف نظر رکھا کچھ دن.اور…..جب تک میں نہی آتا …
اسنے حکم دیا تھا….
مجھے شکایت کا موقع.نا.ملے…
ایمن گاؤں آچکی تھی…. وہ.سب سے.ملی تھی…ساکار سے بھی وہ مل.چکی تھی…
شادی پر سب کزنز اکٹھے ہوئے تھے….وہ سب کے ساتھ آکر بیٹھی ہی تھی کہ معاذ, جو کہ اسکے بڑے ماموں کا بیٹا تھا اور ہائئر سٹڈیز کے لیے گزشتہ چار سال.سے آسٹریلیا میں تھا, ادھر آگیا….وہ ایمن.کا.ہم عمر تھا اور انکی اچھی گپ.چپ رہتی تھی…
کیسی ہیں ڈاکٹر ایمن؟ اسنے اسے.مخاطب کیا تھا..
میں الحمداللہ تم.سناؤِ…… پکے آسٹریلیا کے ہی ئو گئے ئو…
نہی.اب سوچ رہا.ہوں.پاکستان کا.ہو جاؤں…
معاذ.شرارت سے بولا تھا…
ہاہاہہا..اچھی سوچ ہے….
ایمن.نے جواب.دیا…
جبکہ کچھ فاصلے پر کھڑے سالار کو انکی یہ بے تکلفی ہرگز نا.بھائی.تھی…
آج مہندی کا فنگشن تھا….پوری حویلی میں موتیے کے پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی…
اشعر کی تو خوشی کا ٹھکانا نا تھا….
بتیسی اندر کر لے اب تو….
برہان نے لگاتار دانتوں کی نمائش پر اس ٹوکا تھا….
کیوں تو جل رہا ہے ؟؟؟
اشعر نے جواب دیا تھاِِ….
نہی..تیرے دانتوں پر کیڑا لگا ہے…
برہان.نے جواب دیا تھا….
نا کر…میں خود کولگیٹ ہربل سے صاف کر کے آیا ہوں…
اشعر نے صدمے سے کہا تھا….
جبکہ اسکی بات سن.کر برہان ہنس دیا…
اتنے میں فرحان ان.تک آیا تھا….
کدھر ہوتا ہے تو …اور یہ فون پر کس سے لگا ہوا ہواتا ہے…جہاں تک مجھے یاد ہے بھابھی گھر پر ہی ہوتی ہیں. …کوئی دوسری تو نہی پکڑ لی باس….
اشعر نے رازدارانہ انداز اپناتے ہوئے پوچھا. …
یار ایک تو سنبھلے پہلے….فرحان نے چڑ کر کہا تھا….
لگتا ہے نمرہ نے تیرے دماغ کا دہی کر رکھا ہے…اشعر نے شرارت سے کہا….
اچھا خاصا…
فرحان نے بیچاری شکل بنائی…
ہاہاہا..علاج ہے تیرا…دیکھا میں کہتا تھا فرحان شاہ نا ظلم کر مجھ معصوم پر…جینے دے مجھے پر تو نا مانا…اب دیکھ وہ تجھے نہی جینے دیگی..میرا شراب ہے تجھے…
اشعر نے بھرپور ڈرامائی انداز میں کہا تھا…
کیا چاہتا ہے مہندی کرواؤں تیری یا ایسے ہی واپس بھیج دوں؟؟ فرحان نے اسکی اداکاری دیکھ کر کہا تھا…
تو مجھے دھمکی دے رہا ہے…تیری تو…اشعر ایک دم ایکشن میں آیا….
کیا؟؟؟ فرحان نے آبرو اچکا کر پوچھا….
داڑھی بہت پیاری ہے….اشعر نے دانتوم نکالتے ہوئے اسکا چہرہ چھانا چاہا مگر فرحان پیچھے ہو گیا ..جبکہ برہان کا قہقہہ بلند ہوا…
اتنے میں انکی نظر سامنے اٹھی جئاں سے عریبہ اینٹر ہو رہی تھی….پیلے, سرخ اور اورنج رنگ کے انگرکھا فراک میں, پھولوں کے گجرے پہنے, ہلکے سے میک اپ میں وہ لڑکیوں سے گھری ہوئی تھی… وہ نازک سی مہکتی کلی کی طرح لگی تھی اشعر کو..
..ایک طرف نمرہ تھی پیلا لہنگا اوپر پرپل چولی پہنے گلے میں پیلا دوپٹا ڈالے, بال سارے رول کر رکھے تھے..جبکے چہرے پر نیچرل پنک لپسٹک. اور آنکھوں میں کاجل لگائے وہ بہت جاذب لگی تھی فرحان شاہ کو….
انکو دیکھتا ہا کر برہان بڑبڑایا تھا……………. یہ دونوں تو گئے کام سے…
عریبہ کو لا کر اشعر کے ساتھ بٹھا یا گیا….
اس کے بعد باقائدہ رسم کی گئی….نمرہ اور فرحان سب کے سامنے ساتھ ساتھ ہی رہے تھے….
فرحان.نے دوبارہ اس پر توجہ نا.دی تھی…نمرہ.نے شکر جیا تھا..ورنہ اسکی.نظروں.کی تپش اسے نروس کرتی تھی…
ہلا.گلا.کرتے کافی وقت گزر گیا..رات کے ڈیڈھ بجے سب رخصت ہوئے. .عریبہ کو کمرے میں چھوڑ کر وہ اپنے.کمرے.میں آئی تو فرحان کہیں نا.تھا..شاید.وہ.ابھی آیا ہی.نا.تھا.. اسے سخت نیند آرہی تھی……الماری کھولی تو جو کپڑا ہاتھ لگا اٹھا لیا….چینج کر کے وہ صوفے کے بجائے انجانے میں بیڈ پر لیٹ گئی اور.نیند میں غرق ہوتی چلی گئ….
فرحان کچھ دیر بعد.کمرے.میں آیا تو لائٹ آف.تھی..اسنے.دروازہ.لاک.کیا.اور مڑا تو دیکھا وہ بیڈ کے درمیان میں آڑھی ترچھی لیٹی.ہوئی تھی…..بال کھلے ہوئی تھے…نمرہ کو بندھے.بالوں میں سونے.کی عادت.نا.تھی اور وہ یہ بات دیکھ چکا تھا…وہ ہمیشہ بال.کھول کر اور دوپٹہ اتار کر سوتی تھی…ابھی بھی ہلکا.سا کمبل لے رکھا تھا……
ایک تو ان.مھترمہ کا موڈ…وہ.سوچتا ہی رہ گیا…چینج کر کے آیا اور اپنی سائیڈ کا لیمپ آف کر کے وہ لیٹ گیا..نمرہ ایک طرف ہونے کے بجائے درمیان میں تھی….فرحان نے.آئستہ سے اسکا سر اٹھا کر اپنے بازو پر رکھ دیا…اسکے ایسا کرنے سے وہ پوری فرحان کی طرف مڑ گئی اور ایک ہاتھ اکے اوپر رکھ لیے….اسکے اس طرح “چپکنے” سے فرحان زیرِلب مسکرا دیا…
اسے اپنے حصار میں قید کیے وہ بھی نیند کی وادیوں میں اترنے.لگا…
